تذکرۂ مفسر اعظم ہندحضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خان بریلوی ﷫

ازقلم : علامہ عبدالمجتبیٰ رضوی علیہ الرحمہ

بہرِ جیلانی میاں جو پر تو ِ فاروق تھے

امتیازِ حق وباطل دے گدا کے واسطے

 

ولادت شریف:

آپ کی ولادت با سعادت ۱۰ ؍ربیع الآخر ۱۳۲۵؁ھ مطابق ۱۹۰۷؁ء بریلی شریف میں ہوئی سنت کے مطابق دونوں کانوں میں اذان واقامت کہی گئی اور آپ کے دادا امامِ اہلسنت قدّس سرہ نے چھوہارے چبا کر تالو اور زبان میں ملا اور آپ کے منجھلے دادا استاذ ِ زمن علامہ حسن رضا خبر پا کر جھوم اٹھے اور بے ساختہ آپ کی زبان مبارک سے یہ مصرعہ نکلا جو مادہ تاریخ ولادت قرار پایا:’’علم وعمر اقبال وطالع دے خدا ‘‘ (تذکرہ علمائے اہلِ سنت۔ص۔۵۶)

عقیقہ:

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے آپ کے عقیقہ کا شاہانہ طور پر اہتمام فرمایا ،عزیز واقرباء کے علاوہ دارالعلوم منظر اسلام کے تمام طلباء کو عام دعوت دی اور ناظم مطبخ کو اس بات کی خاص ہدایت فرما دی کہ جن ممالک یا صوبہ جات کے طلباء دارالعلوم میں ہیں ان سب کی خواہش کے مطابق انہیں وطنی کھانا ملنا چاہئے ۔چناں چہ افریقیوں کے لئے افریقی طرز کا کھانا تیار کیا گیا اور ہندوستانیون کے لئے ہندوستانی طرز کا ،پھر کابلیوں کے لئے بڑی بڑی چپاتیوں اور بھنے گوشت کا اہتمام ہوا،تو بہاریوں ، یوپی والے طلباء کے لئے پلاو ٔ زردہ اور قورمہ کا۔اس طرح بنگالی طلباء کے لئے بدایونی چاول کا بات اور مچھلی کا انتظام کیا گیا ۔گویا کہ اپنی نوعیت کی یہ بے مثال دعوت تھی ۔جس کا اہتمام آپ کی ولادت پر مجدد اعظم قدس سرہ العزیز نے بنفس نفیس خود فرمایا تھا ۔ (حیات مفسر اعظم ہند۔ص۱۰)

اسم شریف:

آپ کا عقیقہ کا نام ’’محمد‘‘ رکھا گیا ۔غالباً یہ خود اعلیٰ حضرت نے رکھا ،والد ماجد نے دین حنیف کی طرف نسبت کرتے ہوئے آپ کا نام ’’ابراہیم رضا ‘‘ تجویز فرمایا ۔آپ کی جدّہ محترمہ نے پکارنے کا نام ’’جیلانی میاں ‘‘ رکھا اور لقب آپ کا ’’مفسر اعظم‘‘ قرار پایا ۔ (حیات مفسر اعظم ہند۔ص۱۱)

تعلیم وتربیت:

خاندان کے دستور کے مطابق جب آپ کی عمر شریف چار سال چار مہینے چار دن کی ہوئی تو ۱۴ شعبان المعظم بروز چہار شنبہ ۱۳۲۹؁ھ کو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے خاندان وشہر کے معزز بزرگوں کی موجودگی میں آپ کی بسم اللہ خوانی کرائی اور تمام حاضرین میں شیرینی تقسیم ہوئی ۔ اس کے بعد اپنی والدہ مکرمہ وجدّہ معظمہ سے گھر ہی میں قرآن عظیم ناظرہ اور اردو کی ابتدائی کتابیں آپ نے پڑھ لیں ۔
جب آپ کی عمر شریف سات سال کی ہوئی تو آپ دارالعلوم منظر اسلام کے اساتذہ کے حوالے کر دئیے گئے ۔کافیہ ، قدوری اور فصول اکبری آپ نے حضرت مولانا احسان علی صاحب محدث فیض پوری بہار سے پڑھیں ۔عربی ادب اور مشکوٰۃ شریف خود حجۃ الاسلام قدس سرہ نے پڑھائی ۔ کتب متداولہ حدیث وفقہ کی تکمیل حضرت مولانا سردار احمد صاحب محدث اعظم پاکستان سے فرمائی ۔صحاح ستہ کی بعض کتابیں اور علم کلام دارالعلوم کے دیگر اساتذہ سے پڑھیں ۔یہاں تک کہ مسلسل بارہ سال تک دارالعلوم کے نامور اساتذہ کرام سے علوم وفنون حاصل فرماتے رہے۔جب عمر شریف انیس سال چار ماہ کی ہو گئی تو ۱۳۴۴؁۔ھ کے جلسہ دستار فضیلت میں حضور حجۃ الاسلام قدس سرہ نے اساطین اسلام کی موجودگی میں آپ کے سر پر فضیلت کی دستار رکھی اور اپنی نیابت وخلافت سے بہرہ ور فرمایا ۔
آپ کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ :’’ایک وقت آئے گا کہ میرا یہ بیٹا وہابیوں ،دیو بندیوں کی مخافت میں وہ کرے گا کہ سب سے بڑھ جائے گا۔‘‘

عقد شریف:

ایام طفلی میں ایک دن اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی آغوش میں آپ اور فقیہ اجل مفتی اعظم ہند قدس سرہ کی صاحبزادی دونوں کھیل رہے تھے اور اعلیٰ حضرت باغ باغ ہو رہے تھے ۔اسی ساعت سعید میں اپنے دونوں نامور صاحبزادوں کو طلب فرمایا اور دونوں کمسن پوتا پوتی کے درمیان نکاح کر دیا ۔پھر فراغت علمی کے بعد سنت نبوی کے مطابق رخصتی ہوئی۔

عادات وصفات:

آپ اپنے اسلاف کرام کے کامل نمونہ اور اخلاف کے لئے مشعل راہ ومقتداء تھے کیونکہ آپ نے اپنی زندگی کو اس مقدس سانچے میں ڈھالا تھا جس میں ڈھل جانے کے بعد مرد مومن میر کارواں بن جاتا ہے ۔جس کی ادائیں اہل دنیا کو دعوت صلاح وفلاح دیا کرتی ہیں اور جس کی عادت بھی اتباع رسول ﷺمیں روح عبادت بن جاتی ہے۔
آپ کی عادت کریمہ تھی کہ غسل کرنے کے بعد سر اور داڑھی کے بالوں میں ہلکا تیل لگا کر کنگھا فرمایا کرتے تھے اور اگر سفر یا دینی مشغولیت کی وجہ سے غسل کرنے کا موقع نہیں ملتا تو ہر ایک دن یادودن کے بعد کنگھا کرتے اور فرماتے تھے یہ سنت رسول ضرور ہے مگر بے ضرورت وحاجت فضول ہے۔
عام استعمال لباس میں ڈھیلا ڈھالاپنجابی کرتا جس کی آستین پہونچوں سے نیچے ہوا کرتی۔کبھی کبھی معمولی بادامی رنگ اور چکن بھی استعمال کرتے مگر اکثر سفید کرتا پہنتے اور فرحت وخوشی کا اظہار فرماتے ۔
کھانے میں روٹی ،بھنا گوشت ،کدو ،بھنڈی،گوبھی اور ساگ زیادہ فرماتے تھے ،جب کوئی عطر پیش کرتا تو فرماتے انگریزی سینٹ تو نہیں ہے ۔اگر وہ شخص نفی میں جواب دیتا تو بڑھ کر عطر لے لیتے ۔دونوں ہتھیلیوں سے مل کر سینے اور بغل میں لگاتے ،عطر ملتے وقت درود پاک کی کثرت کیا کرتے تھے ۔دائیں کروٹ سونے کا خاص اہتمام فرماتے ۔کبھی کبھی پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت بھی سوجایا کرتے تھے ۔سونے میں خراٹے کی ہلکی آواز ہوتی۔تکیہ ہونے کے باوجود دایاں بازو سر کے نیچے رکھ کر سویا کرتے اگر کسی کو اوندھے منہ سویا ہوا دیکھتے تو سخت نفرت وبیزاری کا اظہار فرماتے۔(حیات مفسر اعظم ۔ص۹۰)

اجازت وخلافت :

ایک دن حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ اپنے سہ درے میں فرمانے لگے کہ:’’جب مولانا (حجۃ الاسلام ) کا انتقال ہوا ،تو جیلانی میاں یہاں نہیں تھے جب واپس آئے تو لوگوں کو ان کی خلافت پر اعتراض ہوا ۔تو میں نے کہا کہ اگر مولانا کی دی ہوئی خلافت پر اعتراض ہے تو میں نے اس کو اپنی خلافت دی۔اب تو لوگوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔میری اس حمایت کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کی مخالفت سے باز آئے اور مدرسہ ا س کے حوالے کر دیا گیا۔‘‘(حیات مفسر اعظم ہند۔ص۲۳،۲۴)

چند خلفاء:

۱۔ریحان ملت مولانا ریحان رضا رحمانی بریلوی سابق مہتمم منظر اسلام بریلی
۲۔جانشین مفتی اعظم تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا ضاں ازہری قادری بریلوی
۳۔حضرت مولانا مفتی عبد الواجد قادری جیلانی مقیم حال ہالینڈ
۴۔مولانا شمس اللہ حشمتی رضوی بستوی مقیم حال محلہ بھورے خاں پیلی بھیت(ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی ؍ص۱۱؍بابت دسمبر ۱۹۲۳ء)
۵۔مولانا عبد الحلیم رضوی جیلانی انگس مہا فرح پور ضلع مظفر پور بہار(ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی؍ص۱۷؍فروری ۱۹۶۲ءبمطابق رمضان ۱۳۸۱ھ)
۶۔مولانا سید آفاق احمد رضوی جیلانی موضع کھاری پار ماتی کندہ اسلام پور بنگال(ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی؍ص۱۱؍اکتوبر ونومبر ۱۹۶۲ء)
۷۔شیخ المعلّمین حضرت جمال اللّیل مکّی
۸۔پیر طریقت ابن الولی حضرت مولانا حافظ شاہ حمید الرحمن صاحب رحمانی حامدی پوکھریروی
۹۔حضرت الحاج الحافظ عبد الاحد صاحب رضوی علیم آبادی
۱۰۔حضرت صوفی شاہ عبد الرحمن ہوڑہ مغربی بنگال

زیار ت حرمین طیبین:

۱۳۷۲ھ میں آپ زیارت حرمین طیبین سے مشرف ہوئے ۔حرمین طیبین کے درجنوں علماء ومشائخ نے احادیث کریمہ ،اوراد مختلفہ خصوصاً دلائل الخیرات شریف اور حزب البحر شریف کی اجازت مرحمت فرمائی اور نسبت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی وجہ سے خوب خوب آپ کا استقبال کیا گیا۔

سیاسی بصیرت:

حضور مفسر اعظم ہند قدس سرہ نے اپنے آباء واجداد کے نقش قدم پر رہ کر مسلمانوں کی سچی راہ نمائی فرمائی۔چناں چہ اس واقعہ کا بیان اس طرح آپ کی حیات میں مذکور ہے:
’’ہندوستان میں ہر طرف افرا تفری پھیلی ہوئی تھی۔انگریزوں کی دہشت گردی کی گرم بازاری تھی ۔لوگ جیلوں میں ٹھونسے جا رہے تھے،رعایا لرزاں وترساں تھی۔لیکن آپ اس ہمہ ہمی سے بے نیاز اور سیاست سے بہت دور تھے ۔لیکن تابکے ،آخر لیڈران قوم وملک نے آپ پر ڈورے ڈالے اور کسی طرح سیاسیات حاضرہ میں کھینچ لائے انگریزوں کی شدت سے مخالفت شروع فرمائی ۔سول نافرمانیوں کی راہیں ہموار کیں لوگوں کے دکھ درد میں کام آنے لگے ۔ ‘‘(ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی ؍ص۲۴؍اکتوبر ونومبر ۱۹۶۲ء)
انگریزوں نے ۴۵۔۱۹۴۶ء میں آپ کو گرفتار کرنے کی بے حد کوشش کی مگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی اورآپ بال بال محفوظ رہے بالآخر ۱۹۴۷ء کا تاریخی انخلاء شروع ہوا ۔جنگ آزادی کے مجاہدین سے آپ کو ہمدردی ہو گئی اور شب وروز اسی میں منہمک رہنے لگے ،انگریزوں کے انخلاء کے بعد جب ظلم وبربریت کا بازار گرم ہوا تو بہت سے بریلی کے مسلم باشندے بھی شہر کو خیر باد کہہ گئے لیکن آپ ثابت قدم رہے ،موجودہ حکم راں جماعت نے عہدوں کی لالچ دی مگر آپ نے قبول نہ فرمایا ۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی ؍اکتوبر ونومبر ۱۹۶۲ء)

ہندوستان گیر سیاحت:

مدرسہ کا تعلیمی نظام بڑی حد تک سدھر چکا تھا ،دیگر اساتذہ کے علاوہ حضرت مولانا احسان علی صاحب قبلہ ،حضرت مولانا محمد احمد المدعو جہاں گیر صاحب ،حضرت مولانا سید افضل حسین صاحب مونگیری اور خود آپ نہایت محنت ومحبت اور جانفشانی سے تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے ، تھوڑے ہی دنوں میں پورے ہندوستان کے اندر آپ کے زہدو تقویٰ اور زور خطابت کا چرچا ہونے لگا ۔بڑے بڑے جلسہ وجلوس اور کانفرنسوں میں صدارت و قیادت کے لئے بلائے جانے لگے ۔کلکتہ ،بمبئی ،یوپی،بہار،پنجاب ،گجرات اور راجستھان جہاں جہاں آپ گئے ،علم ووقار رضویت کا سکہ بٹھادیا ،آپ کے اس ہندوستان گیر سیاحت کی وجہ سے دارالعلوم کو بہت فائدہ پہنچا اور مالی اعتبار سے بھی اس کی زبوں حالی دور ہونے لگی ،تقریباً دوسو بیرونی طلباء نے دارالعلوم میں داخلہ لیا اور حجۃ الاسلام کا دور دورہ لوٹ آیا ۔(حیات مفسر اعظم ہند ؍ص۲۷،۲۸)
یہاں تک کہ مذکور شہروں کے علاوہ مظفر پور ،سیتا مڑھی ،ترائی نیپال میں بھی سلسلہ کا کافی فروغ ہوا اور سلسلہ رضویہ کا سکہ بٹھایا۔

درس وتدریس:

آپ ایک کامیاب مدرس بھی تھے ،چنانچہ آپ کا معمول تھا کہ فجر کی نما ز کے بعد تھوڑی دیر اور اورادوظائف میں مشغول رہتے ،بعدہ‘ ناشتہ لیتے اور درس گاہ میں چلے جاتے ۔اکثر صلوٰ ۃ وسلام کے ترانہ سے قبل دارالعلوم میں آجاتے اور والہانہ انداز میں لڑکوں کے ساتھ ترانہ سلام میں شریک ہوتے ۔اختتام سلام پر نہایت اخلاص و گریہ وزاری کے ساتھ دعا فرماتے ۔پھر اپنی درس گاہ میں آجاتے۔مسلم شریف،ترمذی شریف ،مشکوٰۃ شریف اور کتاب التوحید للنجدی بہت ہی انشراح صدر اور مناظرانہ ڈھنگ سے پڑھاتے ،مسلم شریف اور شفا شریف پڑھاتے وقت عموماً آپ پر وجدانی کیفیت طاری رہتی اور کبھی کبھی وارفتہ ہو جاتے ۔کبھی کبھی آپ کتب متو سطات بھی بہت ذوق وشوق سے پڑھاتے ۔شافیہ لابن حاجب اور کافیہ تو ایسا پڑھاتے کہ نحو کی متداولہ کتب سے طلباء کو یکسربے نیاز کر دیتے ۔عربی ادب پڑھاتے وقت صرف عربی زبان ہی میں گفتگو فرماتے ۔اور طلباء کو بھی مجبور کرتے کہ وہ عربی ہی میں ہر قسم کی باتیں کریں۔(حیات مفسر اعظم ؍ص۳۱)

مشاہیر تلامذہ:

۱۔حضرت علامہ سید محمد عارف رضوی نانپاروی

۲۔حضرت مولانا مظفر حسین قادری رضوی بدایونی
۳۔مولانا عبد الرحمن موضع بگڈا نٹر پورنیہ بہار

۴۔مولانا شمس الدین ساکھوا ہاٹ مغربی دیناج پور بنگال
۵۔مولانا مفتی عبد الواجد قادری ۶۔مولانا محمد داؤد باڑہ مظفر پور
۷۔مولانا حافظ راحت علی نانپاروی ۸۔مولانا جرار حسین ملک کندر کی مراد آباد
۹۔مولانا برکت اللہ رضوی نانپارہ ضلع بہرائچ ۱۰۔مولانا معین الدین اندر چک دمکا
۱۱۔ریحان ملت حضرت مولانا شاہ ریحان رضا خاں صاحب عرف رحمانی میاں
۱۲۔جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا شاہ اختر رضا خاں صاحب ازہری میاں
۱۳۔حضرت مولانا غلام مجتبیٰ صاحب اشرفی شیخ الحدیث منظر اسلام (حالاً)
۱۴۔حضرت مولانانعیم الدین احمد گورکھپوری شیخ المعقولات براؤں شریف (فیض الرسول)
۱۵۔مبلغ اسلام مولانا مفتی عبد الحلیم ناگپور مظفر پوری ۱۶۔حضرت مولانا محمد عباس صاحب رودولوی
۱۷۔حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب باتھوی
۱۸۔حضرت مولانا محبوب رضا صاحب روشن القادری ،سابق پرنسپل دارالعلوم المشرقیہ حمیدیہ دربھنگہ
۱۹۔حضرت مولانا قاری عبد المنان صاحب مظفر پوری ،انگلینڈ
۲۰۔حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب خوشتر مونگیری ،بانی رضوی سوسائٹی موریشش ،افریقہ
۲۱۔حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب آل ولی ،پوکھریروی
۲۲۔حضرت مولانا عبد الصمد صاحب سینا مڈھی ۲۳۔حضرت مولانا حسیب الرحمن صاحب اسلامپوری مدھو بنی
۲۴۔حضرت مولانا محمد خلیل الرحمن صاحب اشرفی برنپور ۲۵۔حضرت مولانا عبد الحلیم انگس
۲۶۔حضرت مولانا عبد اللہ صاحب باتھوی ۲۷۔حضرت مولانا سید آفاق احمد صاحب اسلام پوری
۲۸۔حضرت مولانا شاہ منان رضا خاں صاحب منانی میاں (خلف اصغر حضور مفسر اعظم)

مفسر اعظم اور ان کے معاصرین:

حضرت نے اپنے زمانہ میں عظیم الشان ہستیوں کی زیارت کی ،بعض ان میں سے اعلیٰ حضرت عظیم البرکۃ کے شاگرد یا خلفاء تھے اور بعض جماعت اہلسنت کے وہ محسن ورہنما تھے جن کی فیاضیوں سے آج بھی برّ کوچک ہندو پاک کی سرزمین مالامال ہے ،یہاں میں ان بزرگ علمائے دین میں سے بعض کا تذکرہ کرتا ہوں جن کا وصال آپ کی جوانی میں ہو گیا اور بعض کا وصال آپ کے بعد ہوا ہے۔
استاذ الاساتذہ حضرت مولانا رحم الٰہی صاحب مظفر نگری صدر المدرسین دارالعلوم منظر اسلام بریلی۔ م۱۹۴۴ء
استاذ العلماء تاج المحققین حضرت مولانا ظہور حسین رامپوری ۔م۱۳۴۲ھ
حضرت مولانا وبکل مجد اولینا شاہ عبد الکریم درس النوری الرضوی کراچی ۔م۱۳۴۴ھ
محدث ابن محدث حضرت مولانا عبد الاحد صاحب محدّث پیلی بھیتی ۔م۱۳۵۲ھ
حضور صدر الشریعہ استاذ الاساتذہ مولانا حکیم شاہ امجد علی صاحب اعظمی صدرالمدرسین منظر اسلام ۔م۱۳۶۷ھ
حضرت شاہ عبد الباری صاحب فرنگی محلی لکھنوی ۔م۱۳۴۴ھ
مرجع العلماء حضرت مولانا الحاج شاہ مصطفیٰ رضا خاں صاحب خلف اصغر اعلیٰ حضرت (مفتی اعظم ہند) م۱۴۰۲ھ
مخدوم ملت حضرت شاہ محمد اشرفی الجیلانی کچھو چھوی محدث اعظم ہند
ملک العلماء حضرت مولانا شاہ ظفر الدین بہاری (صاحب صحیح البہاری)سابق پرنسپل جامعہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ
برہان الملت والدین حضرت علامہ مولانا برہان الحق صاحب جبلپوری
سید العلماء رأس الخطباء حضرت مولانا سید آل مصطفیٰ صاحب مارہروی
حضرت مولانا حبیب الرحمن خاں صاحب شیروانی
حضرت علامہ تحسین رضا خاں صاحب بریلوی

حضرت علامہ ابرار حسن صاحب صدیقی تلہری
شیخ القرآن حضرت مولانا عبد الغفور صاحب ہزاروی ،پاکستان

ضیاء الملت حضرت مولانا ضیاء الدین احمد صاحب مہاجر مدنی
حضرت مولانا محمد علی صاحب آنولوی

مدیر یاد گار رضا بریلی حضرت مولانا حسنین رضا خاںصاحب بریلوی
حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی خاں صاحب ،پاکستان

حضرت مولانا غلام جیلانی ،مانسہرہ،پاکستان
جامع معقول ومنقول مولانا غلام جیلانی اعظمی

حضرت صدر العلماء مولانا غلام جیلانی میرٹھی
حافظ ملت حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث مبارکپوری
شیر بیشہ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی خاںصاحب لکھنوی پیلی بھیت
مجاہد ملت حضرت مولاناحبیب الرحمن اُڑیسوی
امین شریعت سلطان المناظرین حضرت علامہ الحاج شاہ رفاقت حسین صاحب مفتی اعظم کانپور
امین شریعت دوئم حضرت علامہ شاہ مفتی انیس عالم صاحب بستوی(مفتی اعظم نانپارہ)
شمس العلماء حضرت مولانا شمس الدین صاحب جعفری زینبی جونپوری (صاحب قانون شریعت)
محقق زماں حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب بھاگلپوری

پیر طریقت حضرت مولانا عبد الرشید صاحب فریدی بنارسی
محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد صاحب لائلپور

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا سید احمد سعید کاظمی ،پاکستان
حضرت مولانا عبد المصطفیٰ ازہری (صاحبزا دۂ صدر الشریعہ )

حضرت مولانا مفتی وقار الدین صاحب قادری ،پاکستان
یاد گار سلف حضرت مولانا احسان علی صاحب محدث فیض پوری

حضرت مولانا قاری مصلح الدین صاحب صدیقی قادری،پاکستان
حضرت مولانا مفتی عبد العزیز خاں صاحب فتحپوری
پیر طریقت حضرت مولانا شاہ عبد الوحید صاحب فریدی فاروقی بنارسی
اجمل العلماء حضرت مولانا مفتی اجمل حسین صاحب سنبھلی

مناظر جلیل حضرت مولانا مفتی محمد حسین صاحب سنبھلی
شیخ طریقت حضرت سیدنا تیغ علی شاہ مظفر پوری

اسم بامسمیٰ حضرت مولانا ولی الرحمن صاحب پوکھریروی
بحر العلوم حضرت مولانا مفتی سید افضل حسین صاحب مونگیری

فیضان العلوم حضرت مولانا حکیم مفتی نظام الدین صاحب الہٰ آبادی
حکیم الامت حضرت مولانا مفتی احمد یار خاں صاحب نعیمی

مبلغ اسلام حضرت مولانا عبد العلیم صاحب صدیقی میرٹھی
مجاہد جلیل حضرت مولانا احمد مختار صاحب میرٹھی

پیر طریقت حضرت مولانا شاہ حمد اللہ صاحب پشاوری
مجاہد کبیر حضرت مولاناسیدنا پیر جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری
خطیب اعظم حضرت مولانا عبد الحفیظ حقانی مفتی آگرہ

حضرت مولانا مفتی رضوان الرحمن صاحب مفتی اندور
حضرت مولانا مفتی محمد علی صاحب رائے پوری۔رحمہم اللہ تعالیٰ
ان کے علاوہ بھی علمائے کرام اور مشائخ عظام کی صف میں درجنوں ایسی شخصیتیں تھیں جن سے حضرت والا سے نشست وبرخاست محقق ہے لیکن طوالت کے خوف سے یہاں ترک کر دیا ،ویسے مذکورہ حضرات گرامی کے اسمائے مبارکہ کودیکھنے کے بعد یہ اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قدر مقدس اور با فیض وقت تھا ،جب یہ اکابر اہلسنت وجماعت ہر طرف موجو د تھے ،اور اپنی علمی وروحانی فیاضیوں سے طالبان حق کو نہ صرف مستفیض فرمارہے تھے بلکہ انہیں ہاتھ پکڑ پکڑ کر منزل حق پر پہنچا رہے تھے ،لیکن حضرت والاکے پردہ فرمانے کے بعد ہی سے ہندوستان کے اندر علماء میں افرا تفری کا ماحول شروع ہو گیا ،اکابر کی عزت واحترام اور اصاغر پر شفقت وانعام کی کمی ہونے لگی ،جس کے ثمرات بد ظاہر بھی ہونے لگے۔

بے مثال مبلغ:

حضور مفسر اعظم ہند قدس سرہ اپنے وقت کے بے مثال خطیب اور مسلک رضویت کے بے نظیر نقیب تھے آپ کی خطابت میں بلا کی تاثیر تھی ۔چنانچہ ایک مرتبہ آپ باڑہ ہندو راؤ دہلی میں تشریف لے گئے ۔دو روزہ اجلاس تھا آپ نے پہلے دن بڑی ہی دلائل وبراہین سے مرصع تقریر کی اور بریلی شریف واپس آئے ۔دوسرے روز حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی قدس سرہ کی تقریر تھی ،حضرت محدث اعظم ہند کچھوچھوی قدس سرہ کا بیان ہے کہ:’’صبح کو میرے پاس باڑہ ہندو راؤ دہلی کے بیس سے زائد وہابی آئے اور کہا کہ رات کی تقریر سن کر ہمیں پوری طرح اطمینان ہو گیا کہ آج تک ہم گمراہی میں تھے اور اپنے عقیدہ باطلہ سے توبہ کی اور مسلمان ہوئے۔‘‘
نیز فرماتے ہیں کہ میں نے بارہا یہ واقعہ آپ کی تقریر کے اثر کا دیکھا ،جوکسی کی تقریر میں ،میں نے نہیں دیکھا۔ (ماہنامہ اعلیٰ بریلی؍حضرت دسمبر ۱۹۶۰)

ماہنامہ اعلیٰ حضرت کا اجراء:

فروغ سنیت کی خاطر ہی آپ نے ماہنامہ اعلیٰ حضرت کا اجراء فرمایا جس سے تبلیغ سنیت کا بیش بہا کارنامہ انجام پایا ،اور پوری تندہی کے ساتھ آپ نے دیگر امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ماہنامہ میں اپنے مضامین کی بھی اشاعت کا اہم بار اپنے کاندھوں پر اٹھایا ،جس کو پڑھ کر اردو نثر میں آپ کا مقام ومرتبہ سمجھ میں آتا ہے ،یہ ماہنامہ اس دور میں اردو ادب کی بھی بے پناہ خدمت انجام دیتا رہا او ر اردو میں کار آمد اور مفید باتیں عوام الناس تک پہنچاتا رہا ۔
’’امن واماں ‘‘ اس عنوان سے آپ کے نثری شہ پارے برابر ماہنامہ اعلیٰ حضرت میں آتے رہے،چنانچہ فرماتے ہیں:’’عوام مسلمین کو ’’امن واماں ‘‘کی ضرورت ہے اور وہ مفقودہے ۔جیسا کہ حدیث رسول ﷺ میں پیش گوئی موجود ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علامات قیامت کے ضمن میں فرمایا ،الحرج والمرج پھر خود ہی بیان فرمایا ای القتل (یعنی حرج اور مرج بہت ہو گا یعنی قتل)ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ صالحین موجود ہوں گے تو بھی ایسا ہو گا (دیکھو برکت صالحین ثابت ہوئی)تو حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا ،اذا ظہر الخبیث اور دوسری حدیث ہے اذا اکثر الخبیث کہ جب خبیث ظا ہر ہو گا ،دوسر ی حدیث میں ہے جب خبیث بہت ہو جائیں گے اس خبیث سے کیا مراد ہے ؟اس کو سمجھئے ،تو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا ،کیا صالحین موجود ہوں گے تب بھی ایسا ہو گا؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب خبیث پیدا ہو گا یا کثرت سے ہو جائیں گے تو ایسا ہو گا وہ خبیث جو صالحین اور اولیائے کاملین سے جلتے ہیں اور برکت صالحین کا انکار کرتے ہیں حدیث شاہد ہے کہ برکت صالحین سے ایسا نہیں ہو نا چاہئے تو رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں کہ ایسا جب ہو گا کہ برکت صالحین کے منکر خبیث پیدا ہوں گے یا بکثرت ہوں گے اورتفاسیر میں بھی خبیث سے مراد منافق کو لیا ہے اور خبیث کے عدد ہیں ۱۱۱۲ تو شیخ نجدی جب مرا تو تاریخ لکھی اذا ہلک الخبیث اس تاریخ کو حضرت احمد زینی دہلان مکی نے لکھا ہے اپنی کتاب الدررا لسنیہ میں اب اس عدد کو بغور دیکھو ۱۱۱۲ دو کا زوج حاصل ہوا ایک عدد کا زوج ۱۱ ہے اور دوسرے کا ۱۲ تو وہ برکت صالحین کا منکر معاند رسول سن۱۱۰۰ھ میں پیدا ہوا اور ۱۲۰۰ھ میں مرا ۔
اسی طرح اور بھی مختلف عنوانات کے تحت آپ برابر دینی خدمات واصلاح وعقائد پر بھر پور روشنی ڈالتے مضا مین میں معارف القرآن ،سبیل مؤمنین ،اشعار مثنوی مولانا روم کی تشریح وعمدہ نکات ،معارف الحدیث ،ہفوات مودودی جیسے عنوانات پر آپ کی قلمی وعلمی یاد گاریں ہیں ۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی؍ اپریل ومئی ۱۹۲۴ء)

کشف وکرامات :

حضور مفسر اعظم ہند قدس سرہ کی زندگی بے شمار کشف وکرامات سے پُر ہے ،جس شعبہ حیات پر نگاہ ڈالئے ،عارفانہ عجائب وغرائب کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ،قدرت نے زبان میں خاص اثر ودیعت فرمایا تھا ،ذیل میں چند کرامتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

پیدائشی گونگا زبان والاہو گیا :حضور مفسر اعظم ہند قدس سرہ کی خدمت با برکت میں ایک ایسے آدمی کو لایا گیا جو پیدائشی گونگا تھا ،حضرت نے دعا فرما دی بفضلہ تعالیٰ وہ زبان والا ہو گیا ،آپ کی اس روشن کرامت کو دیکھ کر گاؤں کے بکثرت دیو بندی حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔(تذکرہ علمائے اہلسنت؍ ص۵۶)

قید سے رہائی:کانپور کے قیام کے دوران ایک عورت ومرد حا ضر خدمت ہوئے اور روتے ہوئے عرض کرنے لگے کہ حضور!یہ میری بہن ہے جس کے دو بچے ہیں ان سب کی زندگی کا سہارا ہمارا بہنوئی تھا جو بلا قصور خون کے مقدمہ میں ماخوذ ہو گیا ہے آئندہ پیشی میں فیصلہ ہے دعا فرما دیجئے کہ وہ رہا ہو جائیں ۔
آپ نے دریافت فرمایا ،کیا وہ سُنّی ہے ،جواب ملا ہاں تو آپ نے ایک کاغذپر

’’اللہُ ربُّ محمدٍ صلَّ علیہِ وسلماً      نحنُ عبادُ محمدٍ صلَّ علیہِ وسلماً ‘‘

لکھا اور فرمایا اس کی بیوی سے کہو کہ اس درود اسم اعظم کو زبانی یاد کر لے اور کثرت سے اسے پڑھا کرے ۔پھر جیل میں جہاں اس کا شوہر ہے ملنے کے لئے جائے تو یہ پرزہ اسے دے کر ہدایت کر دے کہ دائیں بازو پر باندھ لے ۔خدا نے چاہا تو وہ بے داغ رہا ہو جائے گا ۔تقریباً دس دنوں کے بعد بہت سی مٹھائیاں اور پھو ل وعطر لے کر وہی عورت ومرد ایک نئے چہرے کے ساتھ حا ضر ہوئے اورعرض کرنے لگے ،حضور ! آج ہی یہ شخص مقدمہ سے بری الذمہ کر دیا گیا ۔جب کہ اس کے دوسرے دو ساتھیوں کو حبس دوام کی سخت سزا دی گئی ہے ۔آپ نے تینوں کو داخل سلسلہ فرمایا اور نما ز ودرود اسم اعظم کی پابندی کی تاکید فرمائی ۔(حیات مفسر اعظم؍ص۷۱،۷۲)

بارش موقوف:پوکھریرا ضلع سیتا مڑھی جو بہار کی مردن خیز آبادی ہے ۔علاقائی اعتبار سے سنّیت کا مرکز اور شمس العلماء حضرت محب الفقراء وقمر العارفین حضرت مولانا شاہ ولی الرحمن صاحب قدس سرہماکی تعلیم وتربیت کا سرسبز وشاداب گلشن ہے ۔حضرت اکثر وہاں تشریف لے جاتے اور سالانہ عرس میں پابندی کے ساتھ شرکت فرماتے کہ کرہر گاؤں کے کچھ لوگ جو آپ کے غلاموں میں سے تھے ۔حاضر خد مت ہوئے اور اپنے گاؤں چلنے پر اصرار کیا ۔حضرت نے وعدہ فرما لیا اور کہا کہ آپ لو گ جاؤ کل محفل کا انتظام کرو ۔ میں انشاء اللہ ضرور آؤں گا اور میرے ساتھ دیگر لوگ بھی ہوں گے ۔حضرت کو پوکھریرا اورا س کے گردونواح سے بے پناہ محبت تھی شاید باید ہی کسی گاؤں والے کی دعوت کو رد فرماتے تھے۔حالانکہ گاؤں کے سفر میں آپ کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاتھا ۔
دوسرے دن بعد نما ز ظہر پوکھریرا سے کرہر کے لئے روانگی ہوئی ۔ایک بیل گاڑی پر حضرت کے ہمراہ دو تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے ۔جب کہ چالیس پچاس آدمی گاڑی کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے ۔نعرہ تکبیر ورسالت کی صداؤں کو سن کر پوکھریرا باتھ اور رائے پور کی آبادیاں سڑک کے کنارے امنڈ پڑیں اورزیارت سے مشرف ہونے لگیں ۔عصر کی نما زرائے پور میں پڑھی گئی اب گاڑی ایک ایسے میدان سے گزر رہی تھی جس کے دائیں بائیں آبادی نہیں تھی ۔سامنے دو ڈھائی میل کی دوری پر کرہر تھا اور پیچھے رائے پور ۔اسی اثناء میں شمال سے گھنگھور گھٹائیں بلند ہوئیں ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری فضا پر محیط ہو گئیں ۔جب ترشح ہو ا تو میرے بغل میں بیٹھے ہوئے مولوی عبد الوحید خاں صاحب مرحوم گنگٹوی نے چھاتا بلند کیا ،حضرت اس وقت کچھ پڑھ رہے تھے ، ہاتھ کے اشارے سے منع فرمادیا اور چند لمحوں کے بعد اپنی انگشت شہادت پر کچھ دم کیا،پھر آسمان کی طرف اشارہ کر کے چکر دیا ۔ ادھر دائرہ بنانے کا سلسلہ ختم نہیں ہو اتھا کہ بادل پھٹااور دائرہ کی شکل میں صاف ہو گیا ۔ ہم لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ہر چہار جانب بارش ہو رہی ہے کہیں کوئی آبادی نظر نہیں آرہی ہے لیکن درمیان میں جہاں بیل گاڑی چل رہی ہے جس کے ساتھ پندرہ بیس آدمی پیدل چل رہے ہیں وہ بارش سے قطعاً محفوظ ہیں ۔اس عالم میں حضرت نے فرمایا ۔درود اسم اعظم سے بارش کو روک بھی سکتے ہو اور بارش کو بلا بھی سکتے ہو ۔ہم لوگ گفتگو کرتے ہوئے مغرب کے وقت کرہر پہنچے ۔شفیق صاحب کے دروازہ پر گاڑی لگی پوری بستی بارش سے شرابور تھی ۔ مگر بیل گاڑی بالکل سوکھی ہوئی تھی حضرت نیچے تشریف لائے ،سامان اتارا گیا ، دریاں بھی گاڑی سے اتار لی گئیں ۔اس کے بعد گاڑی پر بھی بارش شروع ہو گئی ۔ہم لوگوں نے خدا کا شکر ادا کیا ۔مغرب کی نما زادا کی اور اسی دالان میں حضرت کی تقریر شر وع ہوگئی۔چونکہ بارش کی وجہ سے بستی کے تمام لوگ تقریر سے فیضیاب نہیں ہو سکے ۔ اس لئے حضرت نے دوسرے دن بھی قیام فرمایا ،پھر با ضابطہ محفل کا انتظام ہوا۔(حیات مفسر اعظم ؍ص۷۹،۸۰)

تصانیف:

مفسرا عظم ہند نے اپنی گو نا گوں مصروفیتوں اور دوروں کے باوجو د مختلف موضو عات پر قلم اٹھایا اور چھوٹے چھوٹے درجنوں رسالے لکھے اورایک گراں قدر سرمایہ قوم کو عطا کیا ،منظر اسلام کے اہتمام کی وجہ سے کوئی زیادہ تصانیف نہیں چھوڑیں مگر وقتاً فوقتاًاپنے جریدہ ماہنامہ اعلیٰ حضرت میں ضرور علمی مضامین شائع کرتے رہے۔
۱۔ترجمہ تحفۂ حنفیہ مصنفہ مولانا اشرف علی گلشن آبادی علیہ الرحمہ

۲۔ترجمہ الدرالسنّیہ مصنفہ علامہ احمد زین دحلان مکّہ مکرمہ علیہ الرحمہ

۳۔ذکر اللہ

۴۔نعمت اللہ مطبوعہ دارالعلوم منظر اسلام

۵۔حجۃ اللہ مطبوعہ دارالعلوم منظر اسلام ۶۔فضائل درود شریف مطبوعہ جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف

۷۔تفسیر سورۂ بلد ۸۔تشریح قصیدہ نعمانیہ

۹۔معارف القرآن مرتبہ راقم محمد شہاب الدین رضوی غفر لہ غیر مطبوعہ

۱۰۔معارف الحدیث مرتبہ راقم محمد شہاب الدین رضوی غفرلہ غیر مطبوعہ

۱۱۔انتخاب مثنوی مرتبہ محمد راقم شہاب الدین رضوی غفر لہ غیر مطبوعہ

۱۲۔مقالات مفسر اعظم مرتبہ راقم محمد شہاب الدین رضوی غفر لہ غیر مطبوعہ

اولاد وامجاد:

آپ کے کل پانچ صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں ۔
۱)حضرت علامہ الحاج شاہ محمد ریحان رضا خاں عرف رحمانی میاں علیہ الرحمۃ
۲)حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی شاہ اختر رضا خاں صاحب جانشین حضور مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی
۳)ڈاکٹر قمر رضا خاں صاحب مد ظلہٗ العالی
۴)حضرت مولانا منان رضا خاں عرف منانی میاںدامت برکاتہم
۵)ایک صاحبزادہ صاحب جو حضرت ازہری میاں قبلہ سے بڑے تھے جن کا نام تنویر رضا تھا حضرت انہیں بہت پیار کرتے تھے وہ بچپن ہی سے جذبی کیفیت میں غرق رہتے تھے بالآخر مفقود الخبر ہو گئے ۔
اور صاحب زادیوں میں
۱)ایک پیلی بھیت میں جناب شوکت علی خاں (حال مقیم کراچی) سے بیاہی گئیں ۔(آپ وصال فرما گئیں۔)
۲)دوسری بدایوں میں شیخ عبد الحبیب کے نکاح میں آئیں ۔
بحمدہ ٖتعالیٰ ان دونوں صاحبزادیوں سے لڑکے ولڑکیاں موجود ہیں ۔
۳)تیسری صاحبزادی کا عقد نکاح خاندان ہی میں جناب یونس رضا خاں صاحب سے ہو ا جو لاولد ہیں۔

حضرت مفسر اعظم کے مفید ارشادات:

حضرت جب بھی دو چار شاگردوں یا مریدوں کے ساتھ بیٹھ جاتے یا سفر وحضر میں ہوتے تو وعظ ونصیحت کی محفل شروع ہو جاتی ،یہاں تک کہ دستر خوان پر بھی نصیحتوں کی شمع جلتی رہتی ،ان پُر مغزنصائح کے دفتر سے چند سبق آموز نصیحتیں درج کی جاتی ہیں کہ ناظرین اپنے حسب حال ان میں سے بعض نصیحتوں کو ذریعۂ فلاح ونجات سمجھ کر اپنانے کی کوشش کریں۔
۱۔اگر ہم اپنے عیوب کو دیکھتے رہیں تو دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہیں گے۔
۲۔جب بھی کسی کے عیب کی طرف تمہاری ایک انگلی اُٹھے گی تو تمہاری طرف تمہاری ہی تین انگلیاں ہوں گی جو تمہارے کثرتِ عیوب کی نشاندہی کرتی ہیں ۔
۳۔خدائے حکیم ودانا نے دو کان اور ایک زبان دی کہ سنو زیادہ بولو کم۔
۴۔زبان کلمۂ طیبہ کا پہلا جز پڑھنے کے لئے ہے جب کہ ہونٹ کلمۂ طیبہ کا دوسرا جز پڑھنے کے لئے ہیں یقین نہ آئے تو پڑھ کر دیکھ لو ۔
۵۔اگر کوئی شخص صرف لاالہ الااللہ کا ورد کرے اور محمد رسول اللہ نہ کہے تو گویا اس کی زبان تو ہے مگر ہونٹ نہیں ہیں ۔اور جس کے ہونٹ نہ ہوں اس کی زبان باہر نکل آتی ہے اور یہ صفتِ خصوصی کُتے کی ہے۔
۶۔لاالہ الااللہ میں اللہ کی ہائے ہوّز کا دائرہ مومن کی ایک آنکھ ہے اور محمد رسول اللہ میں میم کا دائرہ مومن کی دوسری آنکھ ہے ،اگر یہ دونوں آنکھیں روشن نہ ہوں تو آدمی اندھا کہلاتاہے ،یہی حال روحانی آنکھوں کا ہے ،اگر روحانیت کی دونوں آنکھیں روشن ہیں تو وہ مومن وسالک اور اگر ایک روشن ہے دوسری اندھی ہے تو خادع (دھوکہ باز ) ومنافق ہے۔
۷۔لاالہ الااللہ (کلمہ ٔ طیبہ) بے شک جنت کی کنجی ہے ،مگر کنجی کے دندانے ہوتے ہیں اور دندانے عقائدِ صحیحہ ،اعمال ِ صالحہ ہیں بغیر دندانے کی کنجی کے تالانہیں کھلتا ہے۔
۸۔کوئی عالمِ دین (اہلسنت وجماعت) اگر چہ فی نفسہٖ برا ہو پھر بھی اس کے متعلق برے گمان سے بچو۔
۹۔بزرگوں کے بہت سے افعال مصالح وحکمت پر مبنی ہوتے ہیں لہٰذا ا س کی اچھی تاویل کرو۔
۱۰۔استاد اور پیر سے کبھی کبھی یوں بھی ملتے رہنا چاہئے کیوں کہ زیادہ جدا ئی محبت کو ختم کر دیتی ہے۔
۱۱۔مذھب ومسلک کی نسبت کبھی کبھی مقامات وشخصیت کے ساتھ بھی ہوتی ہے جیسے بصری وکوفی ،حنفی وشافعی،معتزلی وماتُریدی اور دیو بندی وبریلوی وغیر ہم۔
۱۲ ۔عقل مند وہ ہے جو لذیذ غذاؤ ں کو کھاتے وقت دوا کی کڑواہٹ کو یاد رکھے۔
۱۳۔جو آئندہ کل کو آج کے آئینے میں نہیں دیکھتا وہ پچھتاتا ہے۔
۱۴۔انسان سَہو ونسیان اور ظلم وجہل سے مرکب ہے مگر غلطیاںصادر ہو جانے کے بعد خداوند ِ کریم ورؤ ف ورحیم سے معافی طلب کرنا اہلِ ایمان کا شیوہ ہے اورا س پر اکڑ جانا شیطانی وطیرہ ہے ۔
۱۵۔ہر قوم وملک کی عزت وذلت ،ترقی وتنزلی کا دارو مدار اس کے علماء اور اُمراء پر ہے۔
۱۶۔جب عزت وآبرو کے آئینے کو ٹھیس لگ جاتی ہے تو کوئی کاریگر اس کی مرمت نہیں کر سکتا ۔
۱۷۔جس کو باتیں کرتے ہوئے زیادہ دیکھو سمجھو کہ وہ کم ظرف ہے۔
۱۸۔بسا اوقات رعب ودبدبہ سے وہ کام نہیں نکلتا جو عجز وانکساری سے ۔
۱۹۔علمائے دین اورنا شرانِ شرعِ متین کوعامۃا لمسلمین کے سامنے عجز وانکساری کی کثرت سے بچنا چاہئے ،ہاں علمائے عظام کے سامنے اور بارگاہِ احدیت ورسالت (جل جلالہ و ﷺ)میں خوب خوب عجز وانکساری کرے ۔
۲۰۔تکبر وغرور اور بد خُلقی سے بچو کہ مخلوق میں بد ترین آدمی وہ ہے جس سے لوگ خدا کی پناہ چاہتے ہوں۔
۲۱۔نسب و خاندان بزرگی کا ذریعہ نہیں وہ تو صرف تعارف کے لئے ہے ،اصل میں بزرگی علم وعمل اور اخلاقِ فاضلہ کا نام ہے۔
۲۲۔اگر کوئی عالم اپنے علم کی برتری کا اظہار کرے اور کس عالم ِ اہلسنت کو اپنے سے کمتر جانے تو وہ جاہل بلکہ جاہل سے بد تر ہے۔
۲۳۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ مردِ مومن کو جواں مرد اور صاحبِ درد بنا دیتا ہے۔
۲۴۔جو شخص خدا کا دوست نہیں وہ تمہارا دوست کیسے ہو سکتا ہے۔
۲۵۔جو خداوند ِ کریم کے فیصلوں پرراضی ہو جائے اصل میں وہی غنی ہے۔

وصالِ باکمال:

آپ نے۱۱ صفر المظفر ۱۳۵۸ھ مطابق ۱۲ جون۱۹۶۵ء بروز دوشنبہ کو صبح سات بجے بعمر ۶۰ سال داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ دوسرے دن ۱۲ صفر المظفر کو صبح ساڑھے چھ بجے حسب ِ مجوزہ پروگرام میت کو نماز ِ جنازہ کے لئے نعت خوانی کرتے ہوئے مسجد نومحلہ لے جایا گیا ۔ مسجدِمذکور کا حصہ نمازِ جنازہ کے لئے ناکافی تھا اس لئے اسلامیہ کالج کے میدان میںنماز صبح ۸بجے ہوئی اور حضرت مولانا مفتی سید محمد افضل حسین صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی ۔قبر ِ اطہر میں جناب مفتی سید محمد افضل حسین صاحب،جناب مولانا محمد احسان علی صاحب ،جناب مولانا سید عارف علی صاحب نانپاروی،جناب سجاد حسین صاحب اور سید حمایت رسول قادری نے جسدِ مبارک کو جناب مولانا حافظ محمد احمد صاحب جہانگیری ، جناب سید اعجاز حسین صاحب ،جناب محمد غوث خاں صاحب جو قبرِ منور کے اندر تھے اُتارا اور آرام سے لٹا دیا۔

مزار شریف:

آپ کا مزار شریف دائیں جانب جوار ِ اعلیٰ حضرت قدس سرہ مرجع خلائق ہے ۔
تاریخ ِ وصال ازحضرت علامہ مولانا ابو الظفرمحبوب علی خاںصاحب رضوی بمبئی۔۔۔۔۔

’’سیدنا ابراہیم رضا رفعت جنت نبیرۂ مرشدی‘‘

Read more

حیات و خدمات حضور مفسر اعظم علیہ الرحمہ

↓↓↓↓↓

قلمی نگارشاتِ حضور مفسر اعظم علیہ الرحمہ

↓↓↓↓↓

نام:مناقب مفسراعظم ہند

مرتب:عبدالنعیم عزیزی علیگ

ناشر:ادارہ سنی دنیا ،بریلی شریف ،ہند

 

نام :   ذکر اللہ

از:مفسر اعظم حضرت علامہ ابراہیم رضا خان المعروف جیلانی میاں علیہ الرحمہ

ناشر:ضیاء اکیڈمی ،کراچی ،پاکستان

 

نام:مفسراعظم رحمۃ اللہ علیہ

از: محمد شہاب الدین رضوی

ناشر:رضا اکیڈمی ،ممبئی،ہند

 

نام :   زیارتِ قبور

از:مفسر اعظم حضرت علامہ ابراہیم رضا خان المعروف جیلانی میاں علیہ الرحمہ

ناشر:مکتبہ نوریہ رضویہ ،سکھر،پاکستان