17 Jun / 2018

fs10-2

دسواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۳؍ ۱۴؍ ۱۵ ؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ مطابق ۲۴؍۲۵؍۲۶؍جون ۲۰۱۳؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳-عنوان:ممالک بعیدہ میں عشا وفجر کے اوقات کا شرعی حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 اللہ تعالیٰ نے معراج کی شب مسلمانوں پر ہر شب وروز پانچ نمازیں فرض کیں اور انہیں اوقات کے ساتھ مشروط فرمادیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا (النساء:۱۰۳)

چنانچہ اسی روز حضرت جبریل امین علیہ الصلاۃ والتسلیم نماز کے اوقات لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔ اور دودن نماز پنج گانہ کی امامت کی ۔ پہلے دن اول وقت میں،اور دوسرے دن آخر وقت میں،پھر عرض کی:

ہذا وقت الانبیاء من قبلک، والوقت فیما بین ہذین الوقتین۔

نماز کی فرضیت کی علت حکم ربانی ہے ۔ اور اس کی فرضیت کا سبب اس کے مختلف اوقات ہیں۔ یعنی ان نمازوں کی فرضیت اس وقت ذمہ میں آئے گی جب کہ ان کا وقت آجائے۔ وقت سے پہلے کسی نماز کی فرضیت ذمہ میں نہیں آتی ۔

اس سے لازم کہ اگر کوئی ایسا خطہ ہو جہاں ایک یا چند نمازوں کاوقت ہی نہ آئے تو وہ نماز بھی ذمہ میں فرض نہ ہوگی۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ نماز کی فرضیت کی اصل علت تو حکم ربانی ہے اور وہ متحقق ہے ، اور یہ بھی ضروریات دین سے ہے کہ ایک شب وروز میں کل پانچ نمازیں فرض ہیں۔ لہٰذا غورطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا خطہ جہاں پورے چوبیس گھنٹے میں ایک یا چند نمازوں کا وقت بالکل ہی نہ آئے تو وہ نماز ذمہ میں فرض ہوگی یا نہیں؟ علت فرضیت متحقق ہونے کی وجہ سے فرضیت کاحکم ہونا چاہیے، اور شرط مفقود ہونے کی بناپر فرضیت کاحکم نہیں ہونا چاہیے۔ اسی بنا پر اس مسئلے میں فقہائے حنفیہ کے مابین اختلاف ہوگیا۔ اس اختلاف کو علامہ شامی نے رد المحتار میں پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ امام بقالی اور امام شمس الائمہ حلوانی نے عدم وجوب کا حکم دیا ۔ اور امام برہان کبیرنے وجوب کا۔اور جولوگ وجوب کے قائل ہیں ان کے نزدیک وجوب علی سبیل القضا ہے ، نہ کہ وجو ب علی سبیل الاداء ۔ لیکن وجوب کے لیے لازم کہ سبب (وقت) موجود ہو، اور وہ یہاں معدوم ، لہٰذا سبب کو مقدر ماناجائے گا۔

چنانچہ تنویر الابصار میں فرمایا :

’’وفاقد وقتہما مکلف بہما فیقدر لہما‘‘

یعنی جنھیں عشا ووتر کا وقت نہیں ملتا وہ ان کے مکلف ہیں تو ان دونوں نمازوں کے لیے وقت مقدر ماناجائے گا۔یہ اس لیے تاکہ سبب وجوب جو معدوم ہے اس کو موجود فرض کیاجائے تاکہ وجوب بلاسبب نہ ہو۔

رہی ’’تقدیروقت ‘‘کی صورت ! تو وہ یہ ہے کہ اگر چہ حقیقتاً عشا کا وقت ان دنوں نہیں پایاجاتا لیکن عشا کاوقت مقدر مان لیاجائے، یعنی (غروب شفق احمر اور طلوع فجر کے مابین ) وقت عشا کا وجود فرض کرلیاجائے۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ نماز کا سبب وجوب حقیقتاً پایاجائے یا تقدیراً دونوں صورتوں میں نماز فرض ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’تقدیر وقت‘‘ کی صورتیں جو بیان کی گئیں معقول نہیں۔

مثلاً :اقرب بلاد کے وقت کا اعتبار کیاجائے۔ یا یہ کہ طلوع صبح صادق کو فجر کا وقت نہ مان کر عشا کا وقت ماناجائے۔ یا یہ کہ طلوع فجر کا وقت وہ مانا جائے جب کہ اقرب بلاد میں طلوع فجر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یہاں عشا اور فجر کا وقت متحد ہوجائے گا۔ یا طلوع فجر سے صرف عشا کا وقت مانا جائے تو عشا رات کی نماز کے بجائے دن کی نماز ہوجائے گی ۔ اور لازم آئے گا کہ فجر کا وقت آفتاب طلوع ہونے کے بعد ہوگا۔ وغیرہ۔ یہ سب غیر معقول صورتیںہیں۔ لہٰذا تقدیر وقت کا وہی معنی متعین ہیں جو ہم نے ذکرکیا۔

اس مقام پر علامہ شامی نے امام کمال بن ہمام (جنھوں نے وجوب کے قول پر استدلال کیا ہے) اور علامہ برہان الحلبی اور شرنبلالی (جنھوں نے عدم وجوب پر استدلال کیا ہے) دونوں کے دلائل اور طرفین کے جواب کو اس مقام پر تفصیل سے ذکرکیا ہے پھر آخر میں علامہ کمال ابن ہمام کے دلائل کی تائید اور مخالف دلائل کے جوابات دیے ہیں۔ اورآخر میں فرمایا:

’’ہذا وقد أقر ما ذکرہ المحقق تلمیذاہ العلامتان المحققان ابن امیر الحاج والشیخ قاسم والحاصل انہما قولان مصححان ویتأید القول بالوجوب بانہ قال بہ امام مجتہد وہو الامام الشافعي کما نقلہ فی الحلیۃ عن المتولی عنہ‘‘۔ (ردالمحتار جلد ا صفحہ ۲۶۸ کراچی)

یوہیں ان علاقوں میں روزے کے بارے میں کیا حکم ہے: اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں:

’’تتمۃ: لم أر من تعرض عندنا لحکم صومہم فیما اذا کان یطلع الفجر عندہم کما تغیب الشمس أو بعدہ بزمان لایقدر فیہ الصائم علی اکل ما یقیم بنیتہ ولایمکن أن یقال بوبوجب موالاۃ الصوم علیہم لانہ یؤدي الی الہلاک فان قلنا بوجوب الصوم یلزم القول بالتقدیر وہل یقدر لیلہم باقرب البلاد کما قالہ الشافعیۃ ہنا ایضاً أم یقدر لہم بما یسع الاکل والشرب أم یجب علیہم القضاء فقط دون الاداء ، کل محتمل فلیتأمل ولایمکن القول ہنا بعدم الوجوب أصلاً کالعشاء عند القائل بہ فیہا لان علۃ عدم الوجوب فیہا عند القائل بہ عدم السبب وفی الصوم قد وجد السبب وہو شہود جزء من الشہر وطلوع فجر کل یوم ہذا ما ظہر لی واللہ تعالیٰ اعلم‘‘۔ (ردالمحتار ۱؍۲۶۹)

یہاں تک تو بحث وجوب اور عدم وجوب کی تھی ۔ اور ظاہر کہ وجوب کا قول ہی مرجح اور مفتیٰ بہ ہے۔

چنانچہ بہارشریعت میں ہے:

’’جن شہروں میں عشا کاوقت ہی نہ آئے کہ شفق ڈوبتے ہی یا ڈوبنے سے پہلے فجر طلوع کر آئے(جیسے بلغاریہ ولندن کہ ان جگہوں میں ہرسال چالیس راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ عشا کا وقت آتا ہی نہیں، اور بعض دنوں میں سکنڈوں اور منٹوں کے لیے ہوتا ہے) تو وہاں والوں کوچاہیے کہ ان دنوں کی عشا و وتر کی قضا پڑھیں‘‘۔ (بہارشریعت سوم صفحہ ۱۶)

اب سوال یہ ہے کہ جب وہاں عشا کا وقت ہوتا ہی نہیں توعشا کا وقت مقدر مان کر کس وقت عشا کی نمازپڑھی جائے گی ؟ شفق احمر کے غروب کے بعد ؟ یا شفق ابیض کی موجودگی میں؟ یا پھر طلوع صبح صادق کے بعد؟نیز یہ کہ عشا کی نماز بہ نیت ادا پڑھیں گے یا بہ نیت قضا؟

امام ابوحنیفہ کے نزدیک عشا کا وقت شفق ابیض کے غروب سے شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر تک رہتا ہے۔ یہی قول امام اور ظاہر الروایہ ہے، اور عامہ متون مذہب کا اسی پر اتفاق ہے۔ قول امام ہی اصل مذہب ہے اور اس کی موجودگی میں سارے اقوال مرجوح ہیں۔ لہٰذا شفق ابیض کے غروب سے پہلے نماز عشا قطعاً فرض نہ ہوگی، اور کسی نے اس سے پہلے نماز عشا اداکرلی تو نماز نہ ہوئی اور فرض ذمہ میں باقی رہے گا۔ لہٰذا ان خطوں میں بھی شفق احمر کے غروب کے بعد یا شفق ابیض کی موجودگی میں نماز عشا پڑھ لینے سے فرض ادا نہ ہوگا۔ کہ ابھی عشا کا وقت ہی نہ ہوا۔

فتاویٰ قاضی خاں میں ہے:

’’أول وقت العشاء حین یغیب الشفق لاخلاف فیہ وانما اختلفوا فی الشفق قال ابویوسف ومحمد والشافعی ہی الحمرۃ وقال ابوحنیفۃ رحمہ اللہ ہو البیاض الذی یلی الحمرۃ حتی لو صلی العشاء بعد ما غاب الحمرۃ ولم یغیب البیاض الذی یکون بعد الحمرۃ لاتجوز عندہ ‘‘۔ ( فتاویٰ قاضی خاں ۱؍۳۶)
 

لیکن صاحبین کے نزدیک عشا کا وقت شفق احمر کے غروب سے ہی شروع ہوجاتا ہے، جیسا کہ عام کتب فقہیہ میں ہے۔چنانچہ درمختار میں ہے:

’’ووقت المغرب منہ الی غروب الشفق وہو الحمرۃ عندہما، وبہ قالت الثلاثۃ‘‘۔ (درمختار ۱؍۲۶۵)

اس کے مطابق شفق احمر کے غروب کے بعد اور شفق ابیض کی موجودگی میں عشا کی نماز پڑھ لینے سے نماز ادا ہوجائے گی۔ ان علاقوں میں جہاں قول اما م کے مطابق عشا کا وقت ہوتا ہی نہیں تو عشا کا وقت مقدر مان کر طلوع صبح صادق کے بعد نماز عشا پڑھی جائے تو اس قدر دیر تک انتظار کرنے میں حرج بھی ہے اور بہت ممکن کہ لوگ نماز عشا چھوڑنے کے عادی ہوجائیں جیسا کہ فجر کی نماز میں سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے اس نازک صورت حال میں قو ل صاحبین پر عمل کرنے میں عشا کا وقت مل جاتا ہے اور نماز عشا آسانی سے پڑھی جاسکتی ہے۔ تو کیا ان بلاد کے لیے قول صاحبین پر فتویٰ دیاجاسکتاہے؟۔ اس طرح نماز ِعشا کی فرضیت اور عدم فرضیت کے اختلاف مذکور سے بھی چھٹکارا ہوگا۔ اور یوں عشا کا وقت موجود ہوگا نہ کہ موہوم ومفروض۔

دنیا کے ایسے علاقے جہاں سال کے کچھ ایام میں عشا کا وقت یا تو بالکل ہوتا ہی نہیں یا اتنا مختصر ہوتا ہے کہ فرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ایسے وہ تمام علاقے ہیں جن کا عرض البلد ۴۸ یا اس سے زائدہو۔ مثلاً : England, Holland, Norway, Finland, Alaska، وغیرہ۔ انھیں بلاد میں بلغار نامی شہر بھی ہے جو متاخرین فقہا کے درمیان اس مسئلہ کے حوالے سے مشہور ہے۔

آج کل ان خطوں میں بڑی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔ اور وہاں ان ایام میں عشا کی نماز کے لیے مختلف مذاہب فقہ اور مکاتب فکر کے علما نے نماز عشا کی ادائیگی کے لیے مختلف صورتیں بیان کی ہیں۔ مثلاً

(۱)کچھ علما نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ صاحبین کے قول پر عمل کیا جائے ۔ اور اسی کے مطابق شفق احمر کے غروب سے ہی عشا ءکا وقت مان کر اوقات صلاۃ کا کیلنڈر تیارکرلیاجائے۔

(۲)دوسرا موقف یہ ہے کہ عموماً ان خطوں میں مغرب کا وقت جتنی دیر تک رہتا ہے اتنا وقت مغرب کا قرار دے کر اس کے بعد عشا کا وقت مان لیا جائے اور عشا پڑھ لی جائے ۔ لیکن اس میں بھی چند اقوال سامنے آئے ۔

۔۔۔۔(۱) مغرب کے ابتدائی وقت سے دیڑھ گھنٹے کے بعد عشا پڑھ لی جائے۔

۔۔۔۔ (۲) مغرب کے ابتدائی وقت سے ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ کے بعد عشا پڑھ لی جائے ۔

۔۔۔۔(۳) مغرب کے ابتدائی وقت سے دو گھنٹے کے بعد عشا پڑھ لی جائے ۔ شیخ عثیمین نے یہ فتویٰ دیا کہ چونکہ مغرب کا وقت زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ بتیس منٹ ہوتا ہے لہٰذا مغرب کے ۹۰ منٹ کے بعد عشا پڑھ لیں۔

(۳)تیسرا موقف یہ ہے کہ اقربِ بلاد کے وقت ِعشا کی موافقت کی جائے ۔ یعنی ان بلاد سے قریب تر ایسا خطہ جہاں عشا کا وقت ہوتا ہواسی قت یہاں بھی نماز عشا پڑھ لی جائے۔ اور جو لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے اصل وقت میں نہیں پڑھ سکتے وہ جمع بین الصلاتین کرلیں۔

نیز کریمہ انسٹی ٹیوٹ ناٹنگھم کی طرف سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے جس میں مشہور عالم دین اور ماہر فلکیات مولانا یعقوب قاسم کے حوالے سے اس کا حل پیش کیا گیا ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جن خطوں میں وقت عشا اور سحور کے معاملہ میں کچھ ایام ایام حرج مانے جاتے ہیں وہاں متقدمین اور متاخرین فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں چار طریقے اختیار کیے گئے ہیں، جو تحقیقی نہ سہی تقریبی ضرورہیں۔ اور چونکہ ہمیں نصوص میں اس سلسلے میں واضح رہنمائی نہیں ملتی کہ کون سا طریقہ کار اختیار کیاجائے اس لیے ہمیں اختیار ہے کہ ان چار صورتوں میں سے جو صورت چاہیں اختیارکریں۔ وہ چار طریقے درج ذیل ہیں:

(۱)اقرب الایام : یعنی جن ایام میں وقت عشا نہیں ہوتا ان سے قریب ترین ایام جن میں وقت عشا ہوتا ہے ان کااعتبار کرکے اسی وقت نماز عشا پڑھ لی جائے۔ یہ حنفی طریقہ ہے۔

(۲) اقرب البلاد:یعنی جن مقامات پر وقت عشا نہیں ہوتا ان سے قریب ترین خطہ جہاں ان ایام میں وقت عشا ہوتا ہے ان کے وقت پر نماز عشا پڑھ لی جائے ۔ یہ شافعی طریقہ ہے۔

(۳) نصف اللیل : غروب آفتاب اور طلوع آفتاب کا درمیانی وقت نکال کر اس کی تنصیف کرلی جائے اور نصف سے پہلے پہلے نماز عشا پڑھ لی جائے اور سحری کرلی جائے۔

(۴) سبع اللیل : غروب آفتاب اور طلوع آفتاب کی درمیانی مدت کو سات برابر حصوں میں تقسیم کیاجائے ۔ سُبع اول کے بعد عشا پڑھ لی جائے ۔ اور سُبع آخر سے پہلے پہلے سحری کرلی جائے۔ (یہ طریقہ موجودہ فقہاکاہے۔)

آخر میں ناٹنگھم کے ان ایام میں ان چاروں طریقوں کو جاری کرکے ایک حساب پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق پہلا اور تیسرا طریقہ جاری کیا جائے تو روزہ تقریباً بیس گھنٹوں کاہوتا ہے اور دوسرا اور چوتھا طریقہ عمل میںلائیں توروزہ ۱۷ گھنٹے ۲۰ منٹ کا ہوتاہے اس لیے جس میںلوگوں کے لیے یسر اور آسانی ہو وہ صورت اختیار کی گئی ہے۔ (نوٹ : یہ فتویٰ انگلش میں ہے جس کی تلخیص پیش کی گئی۔)
مسئلہ دائرہ میں اہل سنت کے متاخرین فقہا اور موجودہ علماکے مختلف فتاویٰ:

اس سلسلے میںہم نے اپنی استطاعت کے مطابق تلاش وجستجو کی تو درج ذیل مفتیان کرام اور علمائے اہل سنت کے موقف سامنے آئے جو یا تو فتوے کی شکل میںہیں یا مضمون کی شکل میں یا محض بطور تائید :

حضور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہ ، حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ، مفتی افضل حسین صاحب مونگیری علیہ الرحمہ، فقیہ العصر مفتی شریف الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، فقیہ ملت مفتی جلال الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، تاج الشریعہ حضور ازہری صاحب قبلہ، محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ ، خواہ مظفر حسین صاحب فیض آباد،مفتی عبدالواجد صاحب ،مفتی نظام الدین صاحب رضوی ، مفتی شمس الہدیٰ مصباحی، مفتی آل مصطفیٰ مصباحی، قاضی شہید عالم صاحب، مفتی عالمگیر صاحب رضوی، مفتی شیر محمد خاں رضوی ، مولانا نظام الدین مصباحی انگلینڈ، مولانا زاہد حسین امجدی انگلینڈ۔

ان تمام فتاویٰ اور آرا کو اس مختصرسوال نامے میں پیش کرنا تقاضائے اختصار کے خلاف ہے اس لیے ان کے مطالعہ سے جو دومختلف موقف سامنے آتے ہیں ہم ان کا خلاصہ مع دلائل پیش کرتے ہیں۔دومختلف موقف یہ ہیں:

(۱) صاحبین کے قول پر عمل کرتے ہوئے شفق احمر کے غروب کے بعد نمازِ عشا بہ نیت ادا پڑھیں۔

(۲) عشا کا وقت مقدر مان کر طلوعِ فجر کے بعد عشا کی نماز بہ نیت قضا پڑھیں۔

مذکورہ دونوں موقف کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے:

(۱)پہلا موقف :قول صاحبین کے مطابق شفق احمر کے غروب کے بعد نماز عشا اداکریں۔

ان دِنوں میں قول صاحبین پر عمل کرتے ہوئے نماز عشا ووتر شفق احمر کے غروب کے بعد ادا کرلیں،کہ جو بلادخط استوا سے اتنی دوری پر واقع ہیں کہ وہاں بعض ایام میں قول امام کے مطابق عشا کی ادائے گی اتنی تاخیر سے کرنی پڑے کہ اس میں ضیق وحرج اور مشقت ہو، عام لوگ اس کا انتظار نہ کریں اور اس سے تقلیل جماعت لازم آئے ان بلاد میں ان مخصوص ایام میں بربنائے مشقت وحرج امام اعظم کے قول ظاہر الروایۃ سے امام کی اس روایت کی طرف جو اسد بن عمرو سے مروی ہے اور صاحبین کا قول ہے عدول کرنے کی ضروررخصت ہوگی۔

صبح صادق کے بعد نماز عشا ووتر کی قضا کا حکم دینے میں مشقت وحرج ہے۔ کیونکہ تہائی رات یا آدھی رات تک نماز عشا موخر کرنے میں مشقت نص سے ثابت ہے ۔ حدیث میں ہے :

’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لو لا أن أشق علی أمتي لأمرتہم أن یوخروا العشاء الی ثلث اللیل أو نصفہ۔ أخرجہ الترمذي عن أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ‘‘۔

اور دفع حرج ومشقت کے لیے قول امام سے صاحبین کے قول کی طرف رجوع کرنا درست ہے۔

(۲)دوسرا موقف: نماز عشا قضا پڑھیں اور قول امام سے عدول کی حاجت نہیں۔

ان دنوں بوقت فجر نمازِ عشا ووترکی قضا پڑھیں۔ کہ شفق ابیض کی موجودگی میں اگر عشا بطور ادا پڑھیں تو قول صاحبین پر تو ہوجائے گی لیکن قول امام پر نہ ہوگی اور پڑھی بے پڑھی برابر ہوگی۔ اور بعد میں پڑھنے سے سب کے نزدیک متفقہ طور پر ہوجائے گی۔ پھر ائمہ حنفیہ میں کسی امام سے یہ منقول نہیںکہ بلغاریہ اور لندن وغیرہ میں جب کہ شفق ابیض غروب نہ ہوتو صاحبین کے قول پرعمل کرتے ہوئے اسی وقت نماز عشا پڑھ لی جائے۔ لہٰذا حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب جو احتیاط پر مبنی ہے اسی کو اختیارکیاجائے، جیسا کہ درمختار وردالمحتار کے حوالے سے حضرت صدرالشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قول امام کواختیار کرتے ہوئے عشا ووترکی قضا پڑھنے کا حکم دیا۔

قول امام سے بے ضرورت عدول جائز نہیںاور ضرورت مفقود ۔کہ ان خطوں میں نماز عشا کو قضا ہونے سے بچانے کاعذرضرورت شرعیہ نہیں جس کے سبب امام اعظم کے مذہب مہذب سے عدول جائز ہوحالانکہ وہی من حیث الدلیل اقویٰ ہے ۔ اس لیے کہ وہی احوط ہے۔ اور اس سے عدول میں مقتضائے احتیاط کاخلاف لازم آتاہے، اور وقت سے پہلے عشا پڑھ لینے کا شبہہ قویہ موجودہے، جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ تو ثابت ہوا کہ ضرورت بھی امام اعظم کے قول پر عمل کی طرف داعی ہے۔ علاوہ ازیں اس مسئلہ میں جب امام حلوانی اما م بقالی اور امام برہان کبیر رحمہم اللہ سے سوال ہوا تو ان حضرات کے درمیان عشا کی فرضیت اور عدم فرضیت کااختلاف توہوا مگر کسی نے یہ نہ فرمایا کہ اس پیچیدہ صورت میںقول صاحبین پر عمل کیاجائے۔

ان حضرات کے بعد کے مشائخ میں بھی کسی سے یہ منقول نہیں ہے کہ جب قول امام پر وقت آتا ہی نہیںہے توفرض ساقط کرنے یا قضا پڑھنے کے بالمقابل راجح یہ ہے کہ قول صاحبین کے مطابق شفق احمر غروب ہوتے ہی عشا ووتر پڑھ لی جائے۔ معرض بیان میں قول صاحبین کاعدم ذکر اس امرکی دلیل ہے کہ مسئلہ شفق میں قول امام ہی معتمد اور معول علیہ ہے۔ جہاں تک دفع حرج اوریسر وسہولت کی بات ہے تو جہاں قول امام پر عشا کا وقت آتا ہی نہیں وہاں عشا وفجر دونوں نمازیں دومختلف وقت میں پڑھنے میں یسر نہیں ، بلکہ دونوں ایک ہی وقت میں(وقت فجر میں) پڑھنے میں یسر ہے۔

تفصیلات کے لیے درج ذیل کتب کی طرف رجوع کریں:

(۱)درمختار مع رد المحتار جلد اول مطلب فی فاقد وقت العشاء کاہل بلغار۔

(۲) جد الممتارثانی :مطلب فی فاقد وقت العشاء کاہل بلغار۔ (۳)فتاویٰ رضویہ ۱۰؍۶۲۳ مطبع برکات رضا پوربندر۔

(۴)بہارشریعت سوم صفحہ ۱۶۔ (۵)فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ۱۷۹۔

(۶)فتاویٰ یورپ ۱۷۸۔

(۷)صبح وشفق کی تحقیق ص۱۲۵،۵۰،۴۸،۴۷۔

(۸)فتویٰ حضور محدث کبیر مخطوطہ۔

(۹)فتویٰ مفتی شمس الہدیٰ صاحب مخطوطہ۔

ان تفصیلات کے پیش نظر مفتیان کرام کی بارگاہ میں درج ذیل سوالات حاضر ہیں۔ امید کہ محقق اور مفصل جوابِ باصواب عطا فرماکر عنداللہ ماجور ہوں گے۔

سوالات:

(۱) جن بلاد میں شفق ابیض غروب ہونے سے پہلے صبح صادق طلوع ہوجاتی ہے اور عشا کا وقت نہیں آتا وہاں کے مسلمانوں پر نماز عشا فرض ہوگی یا نہیں؟

(۲) اگر فرض ہوگی تو انھیں کس وقت ادا کیاجائے شفق احمر کے غروب کے بعد یعنی شفق ابیض کی موجودگی میں یا طلوع صبح صادق کے بعد ؟

(۳) کیا ان بلاد میں مذکورہ ایام میں صاحبین کے قول پر عمل کرتے ہوئے شفق احمر کے غروب کے بعد نماز عشا پڑھنے کاحکم دیاجاسکتا ہے؟

(۴) اگر لوگوں نے ان مخصوص ایام میں شفق احمر کے غروب کے بعد عشا پڑھ لی تو ان کافرض ادا ہوا یانہیں؟

(۵) شفق ابیض کی موجودگی میں یا طلوع صبح صادق کے بعد عشا پڑھی جائے تو بہ نیت ادا پڑھنی ہوگی یا بہ نیت قضا؟

(۶) جن خطوں میں غروب آفتاب کے ساتھ ہی صبح صادق ہوجاتی ہے یا جہاں غروب شفق احمر کے بعد ایک دومنٹ یا اس سے کم وقفہ سے صبح صادق ہوجاتی ہے وہاں نماز عشا کی کیا صورت ہوگی؟

(۷)طلوع صبح صادق کے بعدعشا پڑھی جائے تو فجرکی نماز سے پہلے پڑھی جائے یا فجر کی نماز کے بعد؟

(۸)روزہ رکھنے والے کس وقت سحری کریں گے؟ شفق ابیض چمکنے سے پہلے یا صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے؟۔

(۹)غروب شمس کے ساتھ صبح صادق طلوع ہوجائے ، یا غروب وصبح کے درمیان بہت قلیل وقفہ ہوتو سحری اور توالی صیام رمضان کی کوئی شرعی صورت ہے؟علامہ شامی علیہ الرحمہ نے تین صورتیں ذکر کی ہیں مگر اعلیٰ حضرت نے دو صورتوں کو رد کرکے صرف قضا کو تسلیم کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں آپ کا تحقیقی جواب مطلوب ہے؟

(۱۰)چونکہ ان ایام میں شفق ابیض اور صبح صادق ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں لہٰذا وقت کے اعتبار سے ان میں تمیز کی صورت کیا ہوگی؟

(۱۱) آج کل ان علاقوں میں جو تین موقف اختیار کیے گئے جن کا ذکر اوپر ہوا وہ شرع کے موافق ہیں یا نہیں؟اگر نہیں تو اس کی کیاوجہ ہے؟

(۱۲) کریمہ انسٹی ٹیوٹ ناٹنگھم کے فتوے میں مذکور چاروں صورتوں کی صحت یا عدم صحت کو فقہ حنفی کی روشنی میں واضح فرمائیں۔

از:فیضان المصطفیٰ قادری
جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی

 

ۘ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

 

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:ممالک بعیدہ میں عشا و فجر کے اوقات کا شرعی حکم

(۱)باتفاق مندوبین یہ طے پایا کہ دنیا کے جن علاقوں میں نماز عشا کا وقت نہیں ملتا وہاں کے مسلمانوں پر بھی نماز عشا فرض ہے۔

(۲-۳)اصل حکم یہ ہے کہ ان مقامات پر نماز عشا کی قضا کی جائے مگر تصریحات فقہاء میں اس کا ذکر نہیں کہ کب قضا کی جائے۔ مندوبین کرام نے بحث و تمحیص کے بعد یہ طے کیا کہ جو لوگ قول صاحبین کے مطابق بعد غروب شفق احمر نماز عشا پڑھ لیتے ہوں انہیں اصل حکم یعنی دربارۂ وقت عشا قول امام اعظم بتا دیا جائے اور اگر بتانے کے باوجود نہ مانیں تو ان سے تعرض نہ کیا جائے ۔

(۴)اگر لوگوں نے ان مقامات پر قول صاحبین پر عمل کرتے ہوئے نماز عشا پڑھ لی تو ان کے ذمہ سے قول صاحبین کے مطابق فرض ساقط ہو جائے گا اور اس نماز کے اعادہ کا حکم نہ ہوگا ۔

(۵)ان مقامات پر شفق ابیض یا طلوع صبح صادق کے بعد نماز عشا پڑھنے کے لئے قضا یا ادا کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں، مطلق نیت کافی ہے۔

۶،۷اور ۱۰؍نمبر کے سوالات مزید تحقیق طلب ہیں۔

(۸) ان مقامات پر روزہ کے لئے سحری کھانے والے بہرحال طلوع صبح صادق سے قبل سحری سے فارغ ہو جائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ‘‘۔ [البقرۃ:۱۸۷]

(۹) جن مقامات پر غروب شمس کے ساتھ ہی سورج طلوع ہو جائے وہاں ہر روزہ کی قضا ہے اور جن مقامات پرغروب وطلوع صبح صادق کے درمیان اتنا قلیل وقفہ ملتا ہو کہ بقدر بقائے صحت و قوت کھانا نہ کھا سکے تو جو شخص ناغہ کر کے روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو تو جتنے دن روزہ رکھ سکے رکھے بقیہ کی قضا کرے اور جو شخص ناغہ کر کے روزہ نہ رکھ سکے تو سب روزوں کی قضا کرے۔

(۱۱) تینوں موقف میں پہلا موقف یعنی قول صاحبین پر عشا پڑھ لینے کی رائے کے متعلق جواب نمبر ۲؍اور ۳؍ملاحظہ کریں۔ رہا دوسرا اور تیسرا موقف تو یہ فقہ حنفی کے مخالف ہیں لہٰذا یہ ناقابل قبول ہیں۔

(۱۲)کریمہ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چاروں مذکورہ صورتیں فقہ حنفی کے مخالف ہونے کی بنا پر ناقابل قبول ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔