21 May / 2018

fs7-1

ساتواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۸؍۱۹؍۲۰؍ رجب المرجب ۱۴۳۱؁ھ مطابق ۲؍۳؍۴؍جولائی ۲۰۱۰؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱حق طباعت، حق تصنیف، حق ایجاد کی خرید وفروخت

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

ارباب علم اور اصحاب فقہ و افتاء سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ آج خرید و فروخت اور معاملات کی نوع بنوع شکلوں کی ایجاد سے کتنی ایسی اشیاء کو قیمتی سرمایہ اور مال و دولت کی فہرست میںشامل کر لیا گیا ہے جو بلا شبہ فقہ حنفی کے نقطہ نظر سے مال کی تعریف کا مصداق نہیں ہیں،کیوں کہ کتب فقہ میں بیع کی تعریف’’مبادلۃ المال بالمال بتراضی الطرفین‘‘ (ہدایہ۳؍۲) سے کی گئی ہے اور مال کی تعریف کرتے ہوئے علامہ شامی نے یہ رقم فرمایا ہے۔

’’المراد بالمال ما یمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لوقت الحاجۃوالمالیۃ تثبت بتمول الناس کافۃ او بعضہم‘‘ (شامی۴؍۳)

مال کی تعریف مذکور کے پیش نظر یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ مال کاقابل ذخیرہ اور مادی ہونا لازم ہے اسی بنا پر کتب فقہیہ میں حق تعلّی ،حق شرب ،حق تسییل وغیرہ حقوق کی بیع و شرا ء کو ناجائز قرار دیا گیا ہے کہ یہ منافع ہیں جو مادی نہیں ہیں ۔مگر ساتھ ہی بعض حقوق مثلاً حق مرور کی بیع کے جواز کی صراحت بھی موجود ہے ۔

چنانچہ ہدایہ میں ہے ’’واذا کان السفل لرجل وعلوہ لاٰخر فسقط او سقط العلو وحدہ فباع صاحب العلو علوہ لم یجز، اھـ‘‘ (ہدایہ ۳؍۰۴)

ماضی میں جن حقوق کے حوالے سے کتب فقہ و فتاویٰ میں گفتگو کی گئی ہے ان کو بنیادی طور پر دو قسموں یعنی حقوق مجردہ اور حقوق مؤکدہ میں تقسیم کیا گیا ہے اور بعض حقوق کی بیع یا اس کا معاوضہ لے کر دستبرداری کی تفصیل بھی لکھی گئی ہے مگر آج ان حقوق کے علاوہ کچھ اور بھی حقوق کی بیع و شرا کا رواج ہو چلا ہے اور با قاعدہ ان کی خرید و فروخت ہو رہی ہے مثلاً حق تصنیف، حق ایجاد ، حق تحقیق وغیرہ ۔

آج یہ ایک عام تصور ہے کہ جس کی فکری عرق ریزی اور عمل پیہم سے کسی شئی کا وجود ہوا ہے اسے اپنی ایجاد اور فکر کی جد و جہد پر ایسا حق حاصل ہے کہ وہ اس کی نشر و اشاعت کے ذریعہ سرمایہ جمع کر سکتا ہے چنانچہ مختلف تجارتی اداروں کے ٹریڈ مارک مختلف مصنوعات کی مخصوص نشانیاں اور علامتیں، رسائل و اخبارات، تصنیفات و تحقیقات اور ایجادا ت و فارمولے اسی نظریے کے تحت بیچے اور خریدے جا رہے ہیں ۔

بیع حقوق کے سلسلہ میں اس کی وضاحت بھی ہونی چاہئے کہ حق کیا ہے ؟اور کس قسم کے حقوق کی بیع و شراء کی شرعاً گنجائش ہے اور پھر آج جن حقوق کی بیع و شراء ہورہی ہے وہ کس قبیل سے ہیں؟

اس جگہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کسی حق کا معاوضہ حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں یا حقوق فروخت کرکے ان کی قیمت وصول کی جائے یا کوئی شخص کوئی عوض لے کر دوسرے شخص کے حق میںاپنے حق سے دستبردار ہو جائے اور پھر اس بحث میں خصوصاً یہ امر بھی واضح کیا جانا ضروری ہے کہ تصنیف کا تعلق اگر علوم دینیہ سے ہو تو اس کی خرید و فروخت اور پھر صرف مشتری کو یا صرف مصنف کو ہی اس کی اشاعت کا حق ملنا کیا کتمان علم دین کا موجب تو نہیں ہے ؟ جس کی وعید میں حدیث میں فرمایا گیا کہ

’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سئل عن علم علمہ ثم کتمہ الجم یوم القیٰمۃ بلجام من نار‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح ص۴۳)

ان گوشوں اور معاملوں کے پیش نظر چند سوالات پیش خدمت ہیں ۔

(۱) بیع کی تعریف میں مذکورہ مال کیلئے کیا مادی ہونالازم ہے؟

(۲) حق کی تعریف اور اس کے اقسام کیا ہیں ؟

(۳)حقوق مجردہ کی بیع اصل مذہب کے لحاظ سے ناجائز ہے تو کیا حق طباعت ،حق تصنیف ،حق ایجاد اور ٹریڈ مارک ، گڈوِل وغیرہ کی بیع اصل مذہب کے مطابق نا جائز ہے؟یا ان حقوق میں ہیں جن کی بیع کے جواز کا حکم ہے؟

(۴)حق سے دستبرداری کا معاوضہ اور حق کی بیع دونوں کا حکم یکساں ہے یا مختلف ہے ؟ اور بہر حال سوال نمبر ۳ میں مذکورہ حقوق سے دستبرداری کا معاوضہ لینا جائز ہوگا یا نہیں ؟

(۵)تصنیفات کا تعلق اگر علوم دینیہ سے ہے تو اس کی اشاعت کا حق کسی ایک کے لئے خاص کر لینا کیا کتمان علم میں آکر ناجائز ہوگا یا جائز رہے گا؟

امید کہ ان سوالات پر اپنا قیمتی وقت صرف فرما کر تشفی بخش جوابات سے نواز یں گے ۔اور امت مسلمہ کی راہ نمائی فرماکر عند اللہ مشکور ہوں گے ۔

(مفتی )اختر حسین قادری
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی (بستی)

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:حق طباعت و حق ایجادات کے احکام

(۱) تمام مفتیان مندوبین اس بات پر متفق ہیں کہ مال کا مادی ہونا ضروری ہے خواہ وہ عین ہو یا دین جیسا کہ تصریحات فقہائے کرام سے واضح ہے اور جن مشائخ بلخ نے حق شرب کی اصالۃً بیع کو جائز قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک حقوق مال ہیں بلکہ اس کی وجہ تعامل ہے ’’فتح القدیر ‘‘ میں ہے:

’’وجوزہ مشائخ بلخ کابی بکرالاسکافی ومحمد بن سلمۃ لان اھل بلخ تعاملوا ذالک لحاجتہم الیہ، والقیاس یترک بالتعامل‘‘

(فتح القدیرجلد ۶ صفحہ ۳۹۳،مطبع برکات رضا پوربندر گجرات) واللہ تعالیٰ اعلم۔

(۲)اس بات پر اتفاق ہوا کہ حق کی دو قسمیں ہیں اول حق مؤکد جس کی تعبیر حق ثابت و حق متقرر سے ہوتی ہے دوم حق مجرد۔
حق مجرد جو محل میں متقرر نہ ہو اور صاحب حق کو صرف ولایت تملک (نہ کہ ولایت تملیک)حاصل ہو اور اس کا ثبوت اصالۃ ًنہ ہو بلکہ صرف رفع ضرر کے لئے ہو۔

حق مؤکد وہ حق ہے جو محل میں متقرر ہو صاحب حق کو ولایت تملیک بھی حاصل ہو اور اس کا ثبوت اصالۃً ہو (نہ کہ محض دفع ضرر کے لئے) یہ تعریف ہدایہ و ردالمحتار وغیرہ کی عبارتوں سے ماخوذ ہے جو کتاب الشفعہ میں مذکور ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(۳)حقوق اشاعتِ تصانیف اور تجارتی گڈول نیز اشیاء کی نئی ایجادات اور دواؤں کے فارمولے وغیرہ کے حقوق سے متعلق بحثیں سامنے آئیں کہ یہ حقوق مجرد ہیں یا حقوق مؤکد ہیں۔

اس مسئلہ میں چند رائیں سامنے آئیں اول یہ کہ یہ حقوق مؤکدہ ہیں کہ تصنیف جو مال ہے اس سے متعلق ہیں یہ رائے مفتی انور نظامی اور مولانا فیضان المصطفیٰ کی تھی۔

دوسری رائے یہ تھی کہ یہ حقوق مجردہ ہیں کہ اگر کتاب وغیرہ کی طباعت صنعت کرکے کوئی دوسرا شخص تجارت کرے تو اس میں مصنف کے لئے ضرر ہے اور یہ حق حق شرب کی طرح ہے جو کسی مال یا شخص سے متعلق نہیں۔اکثرمندوبین کی رائے یہی ہے ۔

تیسری رائے محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب نے پیش کی کہ نہ یہ حق مؤکد ہے اور نہ مجرد بلکہ اسے بول چال میں حق کہا جاتا ہے۔جیسے مباحات پر قبضہ کا حق ،مسجد میں نماز پڑھنے کا حق نہ مؤکد ہے اور نہ مجرد ۔

چوتھی رائے یہ سامنے آئی کہ یہ حق مجرد تو ہے مگر حق شفعہ وغیرہ سے بھی ضعیف تر،یہ رائے حضرت تاج الشریعہ نے پیش فرمائی۔
بحث کے بعد طے ہوا کہ وہ حق مجرد ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۴) طے ہوا کہ تصنیف کا حق اشاعت ،اپنی ایجاد کا فارمولہ کتاب یا کسی مال کے ساتھ تبعاً فروخت کرنا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(۵) مصنفین و موجدین کا اپنی تصنیف و ایجاد کی رائلٹی کتاب کی اشاعت کرنے والے سے اور ایجاد کی صنعت و تجارت کرنیو الوں سے مقرر کرانا اور وصول کرنا جائز ہے یا حرام ؟

اس سلسلہ میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ مصنف یا موجد ایجاد نے جب ان کے مذکورہ بالا متعلقین کو تجارت کا رأس المال نہ دیا یا خود تجارت میں عملی طور پر شرکت نہ کی ہو تو وہ نہ مضاربت ہے اور نہ شرکت صحیحہ کی کسی قسم میں داخل ہے اس لئے رائلٹی کا لین دین شرعاً حرام و ناجائز ہے ۔لعل اللہ یحدث بعد ذالک امرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

حضرت تاج الشریعہ نے فرمایا :

’’رائلٹی میں اگر مصنف نے یہ کہہ دیا کہ میں کچھ نہیںلونگا اور طابع نے کہہ دیا کہ میں کچھ نہیں دونگا پھر بعد میں اپنی رضا و خوشی سے کچھ دے تو لینے میں حرج نہیں‘‘۔ واللہ تعالیٰ اعلم