22 May / 2018

fs7-3

ساتواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۸؍۱۹؍۲۰؍ رجب المرجب ۱۴۳۱؁ھ مطابق ۲؍۳؍۴؍جولائی ۲۰۱۰؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳-عوامی جگہوں پر لگی تصویروں کا حکم نماز کے حوالے سے

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کشی کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ خادمان شریعت پر روز روشن کی مانند عیاں ہے مگر یہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ آج تصویر وں کی دنیا نے کتنے حیرت انگیز طریقے سے تجارت و معیشت سے لے کر تفریح اور کھیل کود تک اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا ہے آپ جس طرف نظر اٹھا کر دیکھیں گے نت نئے انداز سے تصویروں کا ہجوم آپ کا خیر مقدم کر رہا ہوگا ۔

سامانوں کی پیکٹوں ،دواؤں کے ڈبوں، اخباروں، دیواروں ،اسٹیشنوں، اور ایئر پورٹوں پر جس طرف بھی دیکھئے تصویروں کے اژدہے منہ پھاڑے ہوئے ملیں گے۔ (العیاذباللہ تعالیٰ)اسی طرح اسٹیشنوں اور ایئر پورٹ وغیرہ پر ٹی وی فلم بھی چلتی رہتی ہے جب کہ تصویر کی تعریف اور عرف عام اور احکام فقہیہ کے اعتبار سے یہ بھی تصاویر ہیں ۔

ایک طرف تو دنیا کی یہ حالت ہے اور دوسری طرف شریعت مطہرہ کے وہ ارشادات عالیہ ہیں جن میں تصویروں کا بنانا تو درکنار بلا ضرورت اس کا رکھنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ پوری تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے ۔مگر راقم السطور اس وقت تصویروں کے متعلق جملہ احکام معلوم کرنے کے بجائے صرف نماز کے حوالے سے یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ نے مکروہات نماز کی تفصیل فرماتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ ’’یوں ہی مصلی کے سر پر یعنی چھت میں ہو یا معلق ہو یا محل سجود میں ہو کہ اس پر سجدہ واقع ہو تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی یوں ہی مصلی کے آگے یا داہنے یا بائیں تصویر کا ہونا مکروہ تحریمی ہے اور پس پشت ہونا بھی مکروہ تحریمی اگر چہ ان تینوں صورتوں سے کم اور ان چاروں صورتوں میں کراہت اس وقت ہے کہ تصویر آگے پیچھے داہنے بائیں معلق ہو یا نصب ہو یا دیوار وغیرہ میں منقوش ہو ‘‘

اور علامہ شامی قدس سرہ فرماتے ہیں:

’’وفی البحر قالوا وأشدہا کراہۃما یکون علی القبلۃأمام المصلی ثم ما یکون فوق رأسہ ثم مایکون عن یمینہ ویسارہ علی الحائط ثم مایکون خلفہ علی الحائط او الستر ۔اھ‘‘

(شامی۱؍۵۳۴)

اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے بھی عطایا القدیر میں اسی کے قریب لکھا ہے:

اورآج دوکان،مکان، ہوٹل ،اسٹیشن، ایئرپورٹ غرضیکہ تقریباً تمام عوامی جگہوں پر تصویریں آویزاں ملتی ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ان مذکورہ مقامات پر نماز پڑھے تو تصویر ہر حال میں یا تو اس کے سامنے ہوگی یا سر پر ہوگی یا پھر دائیں ،بائیں ہوگی جیسا کہ مشاہدہ شاہد ہے ۔

اس لئے مفتیان کرام سے سوال ہے کہ :

(۱)کیا ان مقامات پر نماز پڑھنا آج کے ماحول میں بھی مکروہ تحریمی قرار پائے گا یا دفع حرج ،عموم بلویٰ جیسے سبب تخفیف کے سہارے اس کے حکم میں کچھ تبدیلی ہوگی؟

(۲)کیا ویڈیو اور پردۂ سیمیں کی تصویریں نمازی کے سامنے ہو توکراہت نہیں ہے؟

امید ہے کہ اپنے تحقیقی جوابات قلمبند فرماکر جلد از جلد کونسل کو ارسال فرمانے کی زحمت کریں گے ۔

(مفتی)اختر حسین قادری
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ،ضلع بستی

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:عوامی جگہوں پرتصویروں کا حکم نماز سے متعلق

(۱)ایئرپوٹ،ریلوے اسٹیشن اور دیگر عوامی جگہوں پر جہاں ذی روح کی تصویریں آویزاں ہوتی ہیں وہ موجب کراہت نماز ہیں کہ وہ تصویریں اگرچہ عبادت کے لئے نہ ہوں، زینت و اشتہار یا دیگر مقاصد کے لئے آویزاں ہوں، جائے تحقیر کے سوا ہر صورت میں یک گونہ نوع تعظیم ہے۔اس مسئلہ میں تصویر آویزاں کرنے والے کی نیت کا اعتبار نہیں بلکہ ہیئت مصلی کا اعتبار ہے، تصویر موضع سجدہ میں ہو تو اشد کراہت ،آگے سمت قبلہ یا اوپر ہو تو اس سے کم ، اور دائیں بائیں ہوں تو اس سے خفیف، لیکن ان صورتوں میں کراہت تحریم ہی ہے اور پیٹھ کے پیچھے ہو تو کراہت تنزیہی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

(۲) مذکورہ عوامی جگہوں پر جہاں تصویریں آویزاں ہوتی ہیں مگر وہیں کچھ فاصلہ پر ہٹ کر ایسی جگہ ضرور مل جاتی ہے جہاں گرد و پیش تصویر نہیں ہوتی، لہٰذا ایسی جگہ نماز ادا کی جائے جیسا کہ ہماری جماعت کے اکابر علمائے کرام کا اس پر عمل ہے ۔اس میں ابتلائے عام نہیں اس لئے دفع حرج یا عموم بلویٰ کا سہارا لیکر نماز کو ناقابل کراہت قرار دینابالکل بے محل ہے۔ہاں ٹرین یا پلین چھوٹنا مظنون ہو تو جہاں موقع ملے وہاں نماز پڑھ لے اگر سامنے اوپر دائیں بائیں تصویریں ہوں تو بعد میں اعادۂ بے کراہت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۳) موبائل پر نظر آنے والی صورتیں تصاویر ہی ہیں اگر بحالت قیام موضع سجود کے فاصلہ پر ان کا چہرہ اور اعضاء نمایاں نہ ہوتے ہوں تو موجب کراہت نہیں ورنہ مستلزم کراہت ضرور ہے۔لیپ ٹاپ،ٹی وی، پردۂ سیمیں پر نظر آنے والی صورتیں بھی تصویر ہی ہیں اور ان پر تصاویر ہی کے احکام ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔

(۴)الکٹرانک ذرائع ابلاغ جن میں تصویریں نظر آتی ہیں ان کا استعمال بے تصویر صرف آوازوں کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا دنیا کے گوشے گوشے تک ہم اپنی آوازیں پہنچا کر کسی بھی سوال و جواب کا افادہ و استفادہ اور احقاق حق و ابطال باطل کر سکتے ہیں اسی طرح بے تصویر انٹرنیٹ کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ریڈیائی لہروں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے اسی لئے تمام مندوبین مفتیان کرام کا اس پر اتفاق ہوا کہ اس مسئلہ میں حاجت شرعیہ کااصلاً تحقق نہیں ہے۔ لہٰذا مووی بنانے اور دیکھنے دکھانے کی اجازت نہیں علاوہ ازیں ’’درء المفاسد اہمّ من جلب المصالح‘‘ کے تحت حکم حرمت ہی رہے گا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔

(۵) تصویر اگر اتنے فاصلے پر ہے کہ مصلی اور تصویر کے مابین اختلاف مکان ہو جائے تو باعث کراہت نہیں البتہ نماز جمعہ وغیرہ میں جہاں بہت بڑی جماعتیں ہوتی ہیں حتیٰ کہ مسجد کے باہر کئی کئی صفیں ہو جاتی ہیں دائیں بائیں سامنے اوپر بڑی بڑی تصاویر آویزاں ہوتی ہیں تو وہاں اعادۂ صلوٰۃ کا حکم ہے یانہیں؟

اس مسئلہ میں حضرت تاج الشریعہ نے فرمایا کہ اگر وہ خاشعین کی سی نماز پڑھتا ہو کہ گرد و پیش کی طرف نہ اس کی نظر جائے نہ دھیان تو ا سکی نماز بے کراہت ہو جانا چاہیئے۔ البتہ ان کے علاوہ کی نماز کا اعادہ واجب ہے یا نہیں اس پر دوبارہ غور کر لیا جائے۔

(۶) سترہ قائم کر دینے سے گرد و پیش تصاویر کے سبب نماز کی کراہت دفع نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(۷) عوامی جگہوں پر تصاویر سے احتراز متعذر ہو تو یہ عذر من جہۃ العباد ہی قرار پائے گا اور اعادہ صلاۃ واجب ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم