24 May / 2018

fs8-2

آٹھواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۲؍۲۳؍۲۴؍رجب المرجب ۱۴۳۲؁ھ مطابق ۲۴؍۲۵؍۲۶؍جون ۲۰۱۱؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۲– کھانے بعد یا استنجا ء کے لئے ٹشو پیپر کے استعمال کا حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

تہذیب جدید اور نئی روشنی جس کو نئی اندھیری کہنا زیادہ زیبا ہے، اس نے اقوام دنیا کے آئین ، تمدن و معاشرت اور اخلاق و اعمال، سیرت و صورت میں جو نظر فریب، مگر مہلک انقلاب پیدا کیاہے، اس کی تباہی و بربادی اہل بصیرت پر تو پہلے ہی سے واضح تھی، اور وہ لوگوں کو اس پر متنبہ بھی کرتے رہے، لیکن نو خیز طبائع پر ایک نیا نشر چڑھا ہوا تھا، جس نے نہ کوئی نصیحت سنی اور نہ سننے دی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس نئی تہذیب کو سرمایہ سعادت سمجھتے ہیں، اور اسی کی نقل اتار نے کو قوم کی فلاح و بہبود تصور کرتے ہیں۔

مثلاً اسلامی طریقہ یہ ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے پیئے، اﷲ کے رسول ﷺ نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا، حضرت قتادہ کہتے ہیں، ہم نے کہا یا رسول اﷲ جب کھڑے ہوکر پینا منع ہے تو کھڑے ہوکر کھانے کا کیا حکم ہے؟ فرمایاـ: ’’ذلک اشد وأخبث‘‘ (مسلم) شرح معانی الاثار میں ہے: قال ابو جعفر فذھب قوم الی کراہۃ الشرب قائمأ واحتجوا فی ذالک بھذہ الآثار وخالفہم فی ذالک آخرون فلم یروا بالشرب قائما باسا‘‘۔ شرح معانی الآثار ج۵؍ص۳۹۸)
اس تعلق سے امام احمد رضا قدس سرہٗ رقمطراز ہیں:

سوائے زمزم شریف وبقیۂ وضو کھڑے ہوکر پینا مکروہ ہے اس کی حدیثیں وفقہی بحث کتب علماء میں موجود ہیں‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ج دہم نصف آخر ص ۳۰۴)

جب کہ آج شادی بیاہ کے موقع پر کھڑے ہوکر کھانے کو موڈرن تہذیب کا حصہ سمجھا جاتا ہے، ان بلاؤں کا شکار ایک تو وہ طبقہ ہے جس کو شریعت کی موافقت و مخالفت کی طرف کوئی التفات ہی نہیں لیکن ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو کچھ نہ کچھ اس کی فکر رکھتا ہے، مگر نا واقفیت یا غفلت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہے ، ایسے لوگوں کے لئے ضرورت ہے کہ ان کو صحیح احکام سے آگاہ کیا جائے۔اسی تناظر میں کھانے کے بعد یا استنجا کے لئے ٹشو پیپر کے استعمال کا مسئلہ زیر بحث ہے، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا سنت اور حدیث سے ثابت ہے۔ امام ترمذی نے سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہتے ہیں ’’ میں نے تو ریت میں پڑھا تھا کہ کھانے کے بعد رضو کرنا یعنی ہاتھ دھونا اور کلی کرنا برکت ہے، اس بات کو میں نبی کریم صلی سے ذکر کیا حضور نے ارشاد فرمایا’’برکۃ الطعام الوضو قبلہ و الوضو بعدہ‘‘ کھانے کی برکت اس سے پہلے ہاتھ دھونے کو سنت قرار دیتے ہیں، چنانچہ فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں:

’’سنت یہ ہے کہ قبل طعام و بعد طعام دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے جائیں بعض لوگ صرف ایک ہاتھ فقط انگلیاں دھولیتے ہیں بلکہ صرف چٹکی دھونے پر کفایت کرتے ہیں ، اس سے سنت ادا نہیں ہوتی‘‘

(بہار شریف ج۱۶؍ص۱۸)

عالمگیری میں ہے:

’’والسنۃ غسل الایدی قبل الطعام وبعدہ قال نجم الائمۃ البخاری وغیرہ غسل الید الوحدۃ او اصابع الیدین لایکفی لسنۃ گسل الیدین قبل الطعام لان المذکورۃ غسل الیدین وذالک الی الرسغ کذا فی القنیۃ۔

(عالمگیری ج۵؍ص۴۱۰)

البحرائق میں ہے:

’’ویستحب غسل الیدین قبل الطعام فان فیہ برکۃ وفی البرھانیۃ والسنۃ ان یغسل الایدی قبل الطعام وبعدہ‘‘۔

(البحرائق ج۸؍ص۷۳۷)

المحیط البرہانی میں ہے:

’’ویستحب غسل الیدین قبل الطعام وبعدہ فان فیہ برکۃ‘‘۔

( المحیط البرہانی ج۵؍ص۲۰۴)

ان فقہی جزئیات سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد یا اس سے پہلے با قاعدہ گٹوں تک ہاتھ نہ دھونا بلکہ صرف انگلیوں کے دھونے پر اکتفاء کرنے سے سنت ادا نہیں ہوتی، ظاہر ہے کہ جہاں سے ہاتھ ہی نہ دھویا جائے، اور اس کی جگہ کاغذ استعمال کیا جائے اس سے سنت کیوں کر ادا ہوسکتی ہے، اس لئے فقہائے کرام اسے خلاف سنت اور مکروہ قرار دیتے ہیں،

چنانچہ فتاویٰ عالم گیری میں ہے:’’حکی الحاکم عن الامام ان کان یکرہ استعمال الکواغذی فی ولیمۃ لیمسح بھا الاصابع وکان یشدد فیہ ویزجر عنہ زجراً بلیغاً کذافی المحیط‘‘۔

(عالمگیری ج۵؍ ص۴۸۸؍)

مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہٗ رقم طراز ہیں:

’’کھانے کے بعد کاغذ سے ہاتھ نہ پونچھنا چائیے‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ج۱؍ص۳۰)

جب کاغذ سے ہاتھ صاف کرنا درست نہیں تو اس سے استنجاء حاصل کرنا کس قدر شنیع ہوگا، علما ء فرماتے ہیں کہ سادہ کاغذ بھی قابل احترام ہے، چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ’’کاغذ سے استنجا مکروہ و ممنوع و سنت نصاریٰ ہے ، کاغذ کی تعظیم کا حکم ہے، اگرچہ سادہ ہو، اور لکھا ہوا ہو تو بدرجۂ اولیٰ۔

درمختار میں ہے:

’’کرہ تحریماً بشئی محرم‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ج۴؍ص۶۰۳)

ان حالات میں درجہ ذیل سوالات حل طلب ہیں امید کہ جواب دے کر شاد کام فرمائیں گے۔
سوال (۱) ٹشو پیپر ، کاغذ کی قسم سے ہے یا کوئی اور شئی، بہر صورت وہ قابل احترام ہے یا نہیں؟
سوال(۲) کھانے کے بعد ٹشو پیپر کے ذریعہ ہاتھ صاف کرنا یا اس سے استنجاء حاصل کرنا مکروہ ہے یا حرام، اگر مکروہ ہے تو تحریمی یا تنزیہی؟
سوال(۳) علت کراہت کاغذ کی حرمت کی پامالی ہے یا کچھ اور؟
سوال(۴) کیا آج کے زمانے میں کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے کے لئے اس کے استعمال میں لوگوں کا ابتلایا تعامل متحقق ہے؟ اور اس میں کچھ گنجائش نکل سکتی ہے؟

قاضی فضل احمد مصباحی
مفتی ضیاء العلوم بنارس

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:عنوان :قرعہ اندازی کی وجہ سے ادائیگی حج میں تاخیر کا مسئلہ

(۱) و(۱) ٹشو پیپر کاغذ ہی کی ایک قسم ہے جیسا کہ اس کے نام سے بھی ظاہر ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۲) ٹشو پیپر کا استعمال کھانے کے بعد مکروہ ہے ،’’بہار شریعت‘‘ میں ہے: ’’کھانے کے بعد انگلیوں کو کاغذ سے پوچھنا مکروہ ہے‘‘۔

(ج۱۶؍ص ۱۱۹، مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی)

’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں ’’محیط‘‘ کی عبارت:

’یکرہ استعمال الکاغذ فی ولیمۃ یمسح بھا الاصابع‘‘

پر مفتی اعظم نور اﷲ مرقدہ نے حاشیہ پر لکھا: ’’ کھانے کے بعد کاغذسے ہاتھ پوچھنا نہ چاہئے‘‘۔

(ج۱؍ص ۳۰؍ رضا اکیڈمی)

’’عالمگیری‘‘ میں ہے :حکی الحاکم عن الامام أنہ کان یکرہ استعمال الکواغذ فی ولیمۃ یمسح بھا الأصابع وکان یشدد ویزجر عنہ زجرا بلیغا کذا فی المحیط۔واللہ تعالیٰ اعلم

(عالمگیری ج۵؍ص ۵۸۸ مکتبہ زکریا)

(۳) ٹیشو پیپر سے استنجا مکروہ تحریمی ہے کہ استنجا کے لئے منصوص اشیاء کے علاوہ ہر متقوم و محترم شئی سے استنجامکروہ تحریمی ہے علاوہ ازیں سنت نصاریٰ ہے اور ترک سنت مؤکدہ کی عادت خود کراہت تحریم کی موجب ہے۔

’’درمختار‘‘ میں ہے:

وکرہ تحریما بعظم وطعام و روث یا بس کعذرۃ یابسۃ وحجر استنجی بہ، الا بحرف آخر و آجر و خزف وزجاج وشئی محترم، علامہ شامی قدس سرہٗ السامی تحریر فرماتے ہیں:(قولہ وشئی محترم) أی مالہ احترام واعتبار شرعا فید خل فیہ کل متقوم الاالماء کما قدمنا ہ والظاھر أنہ یصدق بما یساوی فلسا لکراھۃ اتلافہ کمامر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

ۙ(درمختار و ردالمحتار ج ۱؍ص ۵۵۱و ۵۵۲ زکریا)

(۴)ٹیشو پیپر کے استعمال پر نہ تعامل ہے اور نہ اس میں عموم بلوی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم