25 May / 2018

fs8-3

آٹھواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۲؍۲۳؍۲۴؍رجب المرجب ۱۴۳۲؁ھ مطابق ۲۴؍۲۵؍۲۶؍جون ۲۰۱۱؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳– میموری کارڈ،سی ڈی اور کمپیوٹر میں آیات قرآنیہ و دینی معلومات وغیرہ کے محفوظ کرنے اور ایسی سی ڈی وغیرہ کا حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

قرآن کریم اللہ رب العزت کی وہ مقدس کتاب ہدایت ہے جو ایمان کی اصل اور دین کی اساس ہے جس کی حفاظت اللہ رب العزت نے اپنے ذمہ کرم پر فرما لیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ‘‘ (الحجر:۹)

نبی سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام نے اپنے مبارک سینوں میں اس عظیم و جلیل امانت کو محفوظ فرماکر اس کی حفاظت فرمائی ۔لکڑیوں ، پتیوں ، ہڈیوں ، چمڑوں اور کاغذ وغیرہ پر تحریر فرماکر اس کی حفاظت کو محکم فرمایا ۔ حفظ و جمع کے یہ راہ نما نقوش شارع امت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد میمون سے آج تک دنیائے اسلام میں قائم و دائم ہیں ۔ جیسے جیسے تحقیقات و اکتشافات کا دائرہ وسیع ہوا ، آلات و اسباب نے عروج و ارتقا کی منزلیں طے کیں ، حفظ وجمع کا طریقہ بھی ترقی پذیر ہوا ، ایک دور آیا کہ مونو گرام کی پلیٹوں اور کیسٹوں کی ریلوں میں حفظ و جمع کا اہتمام ہوا اور انسانی عقل کے لئے حیرت انگیز ثابت ہوا ۔

آج ایک مختصر سی میموری میں وافر مواد اور معانی کو محفوظ کرلیا جاتا ہے اور اس میموری کو لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ میں ڈال کر ان مواد و معانی کو دیکھا اور سنا جاتا ہے ۔ قرآن کریم جو اللہ رب العزت کا کلام معجز نظام ہے جس کی تعظیم واجبات دین سے ہے اور اہانت و استخفاف کفر ہے،اسے اس مختصر سی میموری میں محفوظ کر لیا جاتا ہے ،خوش الحان قاری کی قراء ت بھی محفوظ کر لی جاتی ہے ،    قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر اور اسلامی ذخائر کے دفتر ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میموری سے وہ سارے کام لئے جا سکتے ہیں جو مصحف شریف اور اس کے ترجمہ و تفسیر وغیرہ سے لئے جاتے ہیں، اس میموری میں دینی مضامین کے ساتھ میوزک کے ساتھ نعتیں، منقبتیں، غزلیں ، فلمی گانے ، قوالیاں ، فحش مناظر، مخرب اخلاق حکایات و واقعات اور ذی روح کی تصویریں بھی محفوظ کی جاتی ہیں ۔ جنہیں بنانا، بنوانا، موضع تعظیم و تکریم میں رکھنا اور نگاہ شوق سے دیکھنا سخت حرام ہے ، جن کی اہانت و ترک تعظیم پر شارع امت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روشن نصوص وارد ہیں ۔

اس مقامپر غورطلب یہ ہے کہ جس میموری و سی ڈی میں اللہ عزوجل کا مقدس کلام محفوظ ہے ، جس کی تعظیم ایمان مومن ہے ، جسے ابتذال و استخفاف و اہانت سے بچانا واجبات دین اور فرائض ایمانیات سے ہے ، اس میں ان ساری چیزوں کو محفوظ کرنا اور اسکرین پر نگاہ شوق سے دیکھنا ،اس کے اوپر کسی چیز کو رکھنا ، اس کی طرف پشت و پائوں کرنا ، بے طہارت اسے چھونا ، کافر و مرتد کا اسے فروخت کرنا ،جہاں چاہے جس طرح رکھنا، اس میموری کے آلہ کو (جس میں ہے ) پیشاب خانہ و پا خانہ وغیرہ میں لے جانا اور اس میں لہو و لعب کو لانا کس شرعی نقطہ نظر سے جائز و درست ہے ؟

ہمارے فقہائے کرام رحمہم المتعال نے مصحف شریف کے بارے میں فرمایاکہ اس کے اوپر کسی چیز کو رکھنا، اس کی طرف پشت اور پائوں کرنا ،پائو ںکو اس سے اونچا کرنا ، بے طہارت اسے چھونا ،اس میں لہو و لعب لانا ، جس کاغذ پر اسم جلالت مکتوب ہو اس میں کوئی چیز رکھنا، قرآن کریم کے آداب کے خلاف ہے۔فقہائے کرام نے اس بارے میں صاف اور کھلی تصریحیں فرمائیں ۔

فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں :

’’قرآن مجید جس صندوق میں ہو اس پر کپڑا وغیرہ نہ رکھا جائے ،اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے، نہ پائوں پھیلائے جائیں ،نہ پائوں کو اس سے اونچا کریں، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہو اور قرآن مجید نیچے ہو ‘‘

(بہار شریعت ۱۶؍۱۱۸و۱۱۹)

نیز فرماتے ہیں :

’’ جس کاغذ پر اللہ کا نام لکھا ہو اس میں کوئی چیز رکھنا مکروہ ہے اور تھیلے پر اسمائے الٰہی لکھے ہوں اس میں روپیہ ، پیسہ رکھنا مکروہ نہیں ۔‘‘

(بہار شریعت۱۶؍۱۱۹)

فقیہ اسلام مجدد اعظم سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں :

’’جس انگوٹھی پر اللہ عزوجل یا اس کے حبیب پاک کا نام مکتوب ہو اس کو پہن کر بیت الخلا جانے کی ممانعت ہے ، اور شک نہیں کہ وقت استنجا اس انگشتری کا جس پر اللہ عزوجل یا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام پاک ہو یا کوئی متبرک لفظ ہو اتار لینا صرف مستحب ہی نہیں قطعاً سنت اور اس کا ترک ضرور مکروہ ہے ، بلکہ اسا ء ت ہے ، بلکہ کچھ لکھا ہو حروف کا ادب چاہیے۔ردالمحتار میں ہے :’’نقلوا عندنا ان للحروف حرمۃ ولو مقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الہجاء قرآن نزل علی ہود علیہ الصلاۃ والسلام ‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۱؍۱۷۱و۲؍۱۴۴)

نیز فرماتے ہیں :

’’غیر مسلم کو آیات قرآنی لکھ کر ہر گز نہ دی جائیں کہ اساء ت ادب کا مظنہ ہے بلکہ مطلقاً اسمائے الٰہیہ و نقوش مطہرہ نہ دیں کہ ان کی بھی تعظیم واجب، بلکہ دیں تو اعداد لکھ کر دیں‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۲۳؍۳۹۷)

فتاویٰ بزازیہ میں ہے :

’’وکرہ ان یجعل فی قرطاس کتب فیہ اسم اللہ تعالیٰ شیء کانت الکتابۃ فی ظاہرہ او باطنہ بخلاف الکیس لان الکیس یعظم والقرطاس یستہان‘‘

(۶؍۳۵۴)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

’’واذا کان فی جیبہ دراہم مکتوب فیہا اسم اللہ تعالیٰ او شیء من القرآن فأدخلہا مع نفسہ المخرج یکرہ وان اتخذ لنفسہ مبالا طاہرا فی مکان طاہر لا یکرہ۔ وعلیٰ ہٰذا اذا کان علیہ خاتم وعلیہ شیء من القرآن مکتوب او کتب علیہ اسم اللّٰہ تعالیٰ فدخل المخرج معہ یکرہ وان اتخذ لفسہ مبالا طاہرا فی مکان طاہر لا یکرہ‘‘۔

مراقی الفلاح میں ہے :

’’وکرہ الدخول للخلاء ومعہ شیء مکتوب فیہاسم اللہ‘‘

(مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء ص ۳۰)

فتح القدیر میں ہے :

’’ولو کانت رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز عن مثلہ افضل ‘‘۔

(فتح القدیر کتاب الطہارات باب الحیض والاستحاضہ ۱؍۱۷۳مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات )

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

’’گرامو فون سے قرآن مجید سننا ممنوع ہے کہ اسے لہو و لعب میں لانا بے ادبی ہے ‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۱۰؍۱۳۴نصف اخیر )

بہت سے موبائل ایسے ہوتے ہیں جن پر اسمائے مقدسہ، اسم جلالت ورسالت، کلمات طیبہ اور مقامات مقدسہ کے نقوش و اشکال ثبت ہوتے ہیں اور گھنٹی کے مقام پر اذان و نعت پاک اور صلاۃ و سلام وغیرہ اذکار طیبہ کی سیٹنگ ہوتی ہے اور انہیں مواضع استنجا وغیرہ میں لے جاتے اور بسا اوقات گھنٹی کی جگہ یہ اذکار طیبہ وہیں شروع ہوجاتے ہیں ۔

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں :

’’ہمارے علما تصریح فرماتے ہیں کہ ! نفس حروف قابل ادب ہیں اگر چہ جدا جدا لکھے ہوں ، جیسے تختی یا مصلیٰ پر خواہ ان میں برا نام لکھا ہو جیسے فرعون ، ابو جہل وغیرہما تاہم حرفوں کی تعظیم کی جائے گی اگر چہ ان کافروں کا نام لائق اہانت و تذلیل ہے ۔فی الہندیۃ:’’اذا کتب اسم فرعون او کتب ابو جہل علی عض یکرہ ان یرموا الیہ لان لتلک الحروف حرمۃ کذا فی السراجیۃ ‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۹؍ ۲۵ نصف اوّل)

مزید فرماتے ہیں :

’’ قرآن عظیم ہی کے حکم میں اشعار حمد و نعت و منقبت و جملہ عبارات و کلمات معظمہ دینیہ کہ نہ ان کو نجس چیز میں لکھنا جائز یہ وجہ اول ہو ئی، نہ انہیں کھیل تماشہ بنانا جائز یہ وجہ دوم ہوئی، نہ انہیں لہو و لغو بتانے کے جلسے میں شریک ہونا جائز اگرچہ اپنی نیت لعب کی نہ ہو یہ وجہ سوم ہوئی ، نہ ان کی خریداری و استعمال سے لہو بنانے والوں کی مدد جائز یہ وجہ چہارم ہوئی‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۱۰؍۲۶)

ان حقائق کے روشن ہو جا نے کے بعد درج ذیل سوالات خاص توجہ کے طالب ہیں ۔ امید کہ جواب با صواب سے شاد کام فرماکرہمارے دست و بازوکو قوت ، عزم کو استحکام اور حوصلہ کو بلندی بخشیں گے اور امت مسلمہ کی راہ نمائی میں تعاون فرمائیں گے ۔

سوالات:

(۱)سی ڈی کی وضع گرامو فون کی طرح لہو و لعب محفوظ کرنے کے لئے ہے یا مطلقاً کسی قسم کی معلومات محفوظ کرنے کے لئے ہے ؟

(۲)جس سی ڈی و میموری میں قرآن کریم محفوظ ہوتا ہے ، مرسوم ہوتا ہے یا غیر مرسوم بہر صورت اس کے آداب کیا ہیں ؟کیا اس کی تعظیم تقاضائے ایمان مومن ہے جسے بے طہارت چھونا ، غیر مسلم کے ہاتھوں فروخت کرنا اور اس پر غیر قرآن کریم کو رکھنا نا جائز ہے ؟

(۳)جس سی ڈی و میموری میں قرآن کریم محفوظ ہے اس میں میوزک کے ساتھ نعتوں، منقبتوں، قصیدوں، غزلوں، فلمی گانوں، فرضی حکایتوں، ذی روح کی تصویروں کو محفوظ کرنا تعظیم کے ساتھ ان کا دیکھنا اور ان سے تلاوت قرآن پاک و اذکار طیبہ سننا،اور اس کے نقوش سے وضو، بے وضو تلاوت قرآن کرنا ،دینی مضامین پڑھنا کیسا ہے ؟

(۴)سی ڈی و میموری وغیرہ میں قرآن کریم اور اسلامی مضامین محفوظ کرنے پر مالی عوض لینا کون سا عقد شرعی ہے ؟ معقود علیہ از قبیل اعیان ہے یا اعراض ہے بہر حال یہ عقد اور اس کا عوض لینا کیسا ہے ؟

محمد عسجد رضا قادری
ناظم اعلیٰ : مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا
ناظم اعلیٰ:شرعی کونسل آف انڈیا ، سوداگران ، بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:عنوان :میموری کارڈ ،سی ڈی اور کمپیوٹر میں آیات قرآنیہ و دینی معلومات وغیرہ کے محفوظ کرنے اور ایسی سی ڈی وغیرہ کا حکم

(الف) میموری کارڈ اور سی ڈی، ہارڈ ڈسک گراموفون کی طرح لہو ولعب کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ایسا آلہ ہے جس میں کسی قسم کی معلومات و آوازیں محفوظ کی جاسکتی ہیں اور کی جاتی ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم

(ب)مذکورہ با لاچیزوںکو جائز کاموں کے لئے استعمال کرنا جائز اور ناجائز کاموں کے لئے ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(ج) سی ڈی میں جو اصوات و نقوش اور کتابت محفوظ کئے جاتے ہیں وہ بعینہٖ سی ڈی میں محفوظ نہیں ہوتے بلکہ ان کے کچھ اعدادی کوڈ اشاراتی انداز میں جمع ہوتے ہیں، اصوات و نقوش و کتابت سے مخصوص سافٹ ویئر ان کو اخذ کرکے اسکرین یا اسپیکر پر اسی انداز میں ظاہر کرتا ہے جس انداز میں اسپیکر یا اسکرین میں بوقت جمع تھا، اس لئے سی ڈی و میموری کارڈ میں جو کچھ جمع ہوتا ہے وہ سب غیر مرسوم ہے تا وقتیکہ وہ اسکرین پر ظاہر نہ ہو۔واللہ تعالیٰ اعلم

(د) میموری کارڈ یا سی ڈی جس میں قرآن کریم کی تلاوت محفوظ ہو یا نہ ہو اس میں میوزک یا کوئی ناجائز و حرام گانا اگرچہ میوزک کے ساتھ حمد و نعت ہی کیوں نہ ہو اسے جمع کرنے کا عمل ناجائز و حرام ہے ۔ ایک سی ڈی یا میموری کارڈ میں مختلف فائلس ہوتی ہیں اگر کسی فائل میں میوزک وغیرہ ہو اور کسی فائل میں قرآن عظیم کی تلاوت یا کوئی شرع کے مطابق تقریر و وعظ یا نعت بے مزامیر ہو تو اس سی ڈی سے تلاوت قرآن مجید، شرعی مضامین کا سننا اسی شخص کے لئے جائز ہے جو حرام مضمون کی فائل کھولنے سے قطعی اجتناب کے وصف کا حامل ہو ورنہ اس سی ڈی سے مکمل اجتناب و احتراز لازم ہے کہ جسے نفس پر قابو نہیں اس پر واجب ہے کہ مفضی الی المحرمات سے پرہیز کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(ہ) اسکرین پر جو مکتوب نظر آتا ہے وہ شعاعی نقوش قابل قرآت ہیں وہ مکتوب ہی ہیں اگرچہ کسی سبب سے وہ متبدل یا زائل ہو سکتے ہیں اس لئے جب تک وہ اسکرین پر نمایاں ہیںاگر آیات قرآنیہ ہیں ان کا بے وضو چھونا جائز نہیں کہ زجاجی رنگ کا غلاف اسکرین سے متصل ہے اور اسکرین کے عمل میں دخیل بھی ہے اور محدث کو بے چھوئے پڑھنے میں حرج نہیں کما ھو الحکم فی مسّ المکتوب فی المصحف، پرانے قسم کے کمپیوٹر میں کئی زجاجی غلاف ہوتے ہیں باہر والا شیشہ اسکرین سے منفصل ہوتا ہے اسکرین پر آیات قرآنیہ مکتوب ہوں تو باہر والے شیشہ کو محدث کو چھونا نہ چاہیے کہ بظاہر وہ آیتیں اسی بیرونی شیشہ پر نظر آتی ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم

(و) کافی بحث و تمحیص کے بعد باتفاق رائے طے ہوا کہ سی ڈی میں جو کچھ جمع کیا جاتا ہے از قسم اعراض ہے مال نہیں اسی لئے اپنی سی ڈی سے دوسری سی ڈی میں پروگرام بنانے سے پہلی سی ڈی کا پروگرام نہ باہر ہوتا ہے نہ ضائع، مال ہوتا تو ضرور منتقل ہوتا پہلی سی ڈی میں نہ رہتا اس لئے بالاتفاق یہ طے ہوا کہ اپنی سی ڈی میں مال کے عوض کسی سے پروگرام محفوظ کرانا اجارہ ہے ہر گز بیع نہیں اور یہی حکم سی ڈی و میموری کارڈ میں نیا پروگرام ضبط کرانے کا ہے، اور محفوظ کرنے والے نے اگر اپنی ہی سی ڈی میں یہ عمل کرکے سی ڈی بعوض کسی کو دی تو یہ سی ڈی کی بیع ہے جس میں پروگرام کی بیع سی ڈی کے ضمن میں ہوئی۔واللہ تعالیٰ اعلم

(ز) اسکرین پر جو کچھ کتابت و تصویریں نظر آتی ہیں وہ عکس نہیں ہیں بلکہ وہ بعینہٖ مکتوب و تصویرہیں عکس کو نگیٹیو(Negative) کہتے ہیں اور اسکرین پر جو نقوش، تصاویر ہیں وہ پوزیٹیو(Positive) ہیں شرعا ان کا حکم کاغذی تحریر و تصویر کا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم