25 May / 2018

fs9-2

نواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۰؍۱۱؍۱۲؍رجب المرجب ۱۴۳۳؁ھ مطابق ۱؍۲؍۳؍جون ۲۰۱۲؁

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۲-میڈیکل لیباریٹری اور اطبا کے مابین کمیشن کا شرعی حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

مغرب کی تھوپی ہوئی بلاؤں میں سے ایک بڑی بلا حرصِ زرو دنیا طلبی بھی ہے۔یہ ایسی طلب و تحصیل ہے جس میں شرعی قیودو حدود کا پاس ولحاظ نہیں ہوتا، دنیا کی رنگارنگی اور چمک دمک نے مسلمانوں کی نگاہوں کو بھی خیرہ کردیا ہے اور وہ نفس جس کو مقہور ومغلوب رکھنے کاحکم ہے۔ وہ ان رنگینیوں میں گم ہے،مغرب کاپیدا کردہ ماحول انسان کو اپنے دام فریب میں مبتلا کرکے عیش وعشرت کا دل دادہ بنا رہا ہے، اور یہی غیرشرعی،بے اعتدالی اور دنیا طلبی کی شاہ راہ ہے۔شریعت مطہرہ نے اسباب رزق کی تلاش اورمال و زر کی تحصیل سے منع نہیں فرمایا مگر شرط یہ رکھی کہ وہ طریقہ جائز ہو، رواہو۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللہِ‘‘ (الجمعہ:۱۰)

’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ‘‘(البقرۃ :۷۲ا)

ناجائز طریقے سے مال جمع کرنا ناجائز وحرام بھی ہے، اور استحقاقِ نار کا باعث بھی۔

ارشاد ہے:

’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ ‘‘(النساء:۲۹)

غیر اسلامی ماحول وفکر نے کاروبار حیات میں ایسی وسعت وپھیلاؤ پیداکردی ہے۔ کہ اسلام سے وابستہ افراد بھی’ سوائے ان کے جنہیں اللہ عزوجل نے محفوظ رکھا ہے‘ اس وسعت میں کھوئے جارہے ہیں، اور طلب زرکی نحوست سے حلال وحرام کا امتیاز بھی مٹتا جارہا ہے. والعیاذباللہ تعالیٰ

تحصیل مال کے مروجہ طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے، جس کا تعلق میڈیکل لیبا ریٹری اور اطبا(ڈاکٹر )سے ہے،پہلے زمانے میں مرض کی تشخیص قارورہ یا اس جیسی چیزوں کو دیکھ کر کی جاتی تھی اور اس طرح اطبا اپنے تجربہ کی بناپر مرض کی تشخیص پھر اس کے ازالہ کی خودہی تدبیر کرتے تھے۔ لیکن موجودہ دور سائنس وٹکنا لوجی کا دور ہے، اب مرض کی تشخیص کا تجربہ پر مبنی قدیم طریقہ متروک ہو چکا ہے اور اس کی جگہ لیبا ریٹری اور سائنسی آلات نے لے لی ہے، جن کامرض کے انکشاف میں کلیدی رول ہوتاہے، ڈاکٹر اہم بیماریوںکی تشخیص از خود نہیں کرپاتا بلکہ اس کے لئے لیبا ریٹری کی مدد لینا ناگریز سمجھتا ہے، ان لیبا ریٹری سائنسی آلات کے مختلف نام ہوتے ہیں، مثلاًایکسرے مشین، الٹرا ساؤنڈ،بلڈویورین،ٹسٹ مشین وغیرہ، ان مشینوں کے چلانے والے بالعموم وہ اطبا (ڈاکٹر) نہیں ہوتے جو دوا علاج کرتے ہیں،نسخہ لکھتے ہیں۔ بلکہ ان مشینوں سے متعلق علم وتجربہ رکھنے والے الگ ہوتے ہیں جنہیں پیھتولجسٹ (Pathologyst)وغیرہ کہاجاتا ہے، جب و مریض کسی ڈاکٹر وطبیب کے پاس پہونچتا ہے، اور ڈاکٹر محض ظاہری علامات واحوال سے مرض کی تشخیص نہیں کرپاتا یا انہیں اپنی تشخیص پر اطمینان حاصل نہیں ہوتا تووہ ایک مخصوص کاغذ یاسادے کاغذ میں چیک اپ(Checkup)کے لئے کسی خاص لیب(Lab)کاپتہ دیتاہے، مریض وہیں جاتاہے اور الٹراؤسانڈ،ایکسرے یا بلڈٹسٹ وغیرہ کراکے اس کی رپورٹ لے کر متعلقہ ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے۔

اس قسم کے لیب چونکہ متعدد ہوتے ہیں اور رفاہی نہیں بلکہ کاروبار ی نوعیت کے ہوتے ہیں مریض جتنی تعداد میں جانچ کراتے ہیں میڈیکل لیبا ریٹری والوں کو اتنا فائدہ ہوتا ہے ۔ اس لئے ڈاکڑوں اور جانچ کرنے والوں میں ایک خفیہ معاہدہ ہوتا ہے، وہ ہے کمیشن کا معاہدہ جس میں جانچ فیس کے تناسب سے ڈاکٹر کو کمیشن ملتاہے، اور کمیشن کی مقدار باہم رضامندی سے طے ہوتی ہے، جب مریض الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، یاخون پیشاب وغیرہ کی رپورٹ لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں، توڈاکٹر طے شدہ کمیشن لیب والے سے لیتے ہیں۔ یہ کمیشن’’ دلاّلی‘‘ ہے یا’’اجارہ ‘‘یا کچھ اور؟اس کی ایک صورت یہ ہے کہ یہ معاملہ اجارہ کا ہو  یعنی ڈاکٹر لیب والے کا اجیر ہو ا ور طے شدہ کمیشن اس کی اجرت ، اس صورت میں بنیادی بات یہ طے کرنے کی ہے کہ ڈاکٹر کا وقت بک رہا ہے یا کام ؟ یعنی وہ اجیر مشترک ہے،یااجیر خاص؟۔ اجیر خاص کو اردو میں ملازم کہتے ہیں اور اجیر مشترک پیشہ ور کو۔

در مختار میں ہے:

’’الاجراء علی ضربین مشترک وخاص فالاول من یعمل لا لواحد کالخیاط ونحوہ أو یعمل لہ عملاً غیر موقت کأن استاجرہ للخیاطۃ فی بیتہ غیر مقید ۃ بمدۃ کان أجیراً مشترکا وان لم یعمل لغیرہ او موقتا بلا تخصیص کأن استاجرہ لیرعی غنمہ شہراً بدرہم کان مشترکاً‘‘۔

(ص۸۷۔ج ۹)

اسی میں ہے:

’’والثانی وھو الاجیر الخاص ویسمی أجیر واحد وھو من یعمل لواحد عملاً مؤقتا بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعمل کمن استؤجرشہراً للخدمۃ أو شہراً لرعی الغنم المسمی بأجر مسمی‘‘۔

(ص۱۹۴۔ج۹)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

’’شرع میں اجیر ،اجیر خاص، واجیر مشترک، دونوں کو عام ہے، اجیر خاص کو اردو میں ملازم او رنوکر کہتے ہیں اجیر مشترک پیشہ ور کہ اجرت پر ہر شخص کا کام کرتے ہیں، کسی خاص کے نوکر نہیں، جیسے راج مزدور، بڑھئی درزی وغیرہم، ملازم کا اگر وقت معین کیاجائے مثلاً صبح سے شام تک یا رات کے نو بجے تک یا مدرسوں کی نوکری ہے مثلا ۶؍بجے سے ۱۲؍تک پھر ۲؍بجے سے ۵؍بجے تک تووہ اتنے ہی گھنٹوں کا ملازم ہے، مقررہ گھنٹوں کے علاوہ خود مختار ہے، کہ اس کا اتناہی وقت بکا ہے۔ ملازم جو کسی کار خاص پر ہو جیسے مدرس،اس سے وہی خاص کام لیاجائے گا دوسرے کام کو کہا جائے تو اس کا ماننا اس پر لازم نہیں،ہاں خدمتگار ہرگونہ خدمت کرے گا،مقید نہ ہونا صرف اجیر مشترک راج، بڑھئی، اور ان کے امثال میں ہے، جن کاکام بکتا ہے، وقت نہیں بکتا۔

(ص۱۷۵۔ج۸)

تو صورت مذکورہ میں کمیشن لینے والے ڈاکٹروں کو کس خانے میں رکھا جائے؟ اجیرمشترک میں یا اجیر خاص میں؟پھر یہ کہ یہ اجارہ صحیح ہے یا نہیں؟ یہ اجرت کس چیز کی ہے؟ وقت کی یا معین کام کی؟

دوسری صورت یہ ہے کہ یہ دلّالی (کمیشن ایجنٹی )ہو، دلّالی اگر صحیح ہے تو دلّال اجرت کا مستحق ہوتاہے، مگر اجرت مثل کا ،نہ کہ باہم جواجرت مقرر ہوئی ہے، پھر یہ اجرت مثل بھی اجرت مُسمّٰی سے زائد نہ ہوگی۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

’’بعہ لی بکذاولک کذا فباع فلہ اجرالمثل۔غمز العیون میں ہے۔ای ولایتجاوز بہ ماسمی وکذا لو قال اشترلی کما فی البزازیہ وعلی قیاس ھذاالسمسارۃ والدلالین الواجب اجرالمثل کما فی الولوالجیۃ‘‘۔

(ص۱۳۱الجزء الثالث )

قاضی خاں میں ہے:

’’قال ابوالقاسم البلخی ان کان الدلال عرض وتعنی وذھب فی ذالک روزکارہ کان لہ اجرمثلہ بقدر عنائہ وعملہ ‘‘۔

(ج۲۔ص۳۲۶)

اور اگر دلالی صحیح نہیں ہے تو دلال اجرت کا بالکل مستحق نہ ہوگا۔

اشباہ لابن نجیم میں ہے:’’ من دلّنی علی کذا فلہ کذا فہو باطل ولاأجرلمن دلہ‘‘۔

(ج ۳۔ص۱۲۸)

یوںہی دلال نے کام میں کوئی محنت اور کوشش نہ کی دوادوش نہ کی صرف گفتگو یا اشارے سے رہنمائی کی جب بھی اجرت کا مستحق نہیں۔

ردالمحتار میں ہے:

’’الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجروان قال علی سبیل الخصوص بأن قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لأجلہ لان ذالک عمل یستحق بعقدا لاجارۃ الا انہ غیرمقدر بقدر فیجب اجرالمثل وان دلہ بغیر مشی فھووالاول سواء‘‘۔

(ج۹۔ص۱۳۱)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

’’ اگر کارندہ نے اس بارہ میں جومحنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی، بائع کے لئے کوئی دوا دوش نہ کی اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں مثلاًآقا کو مشورہ دیاکہ یہ اچھی چیزہے، خرید لینی چاہئے یااس میں آپ کا نقصان نہیں، اور مجھے اتنے روپئے مل جائیں گے، اس نے خریدلی جب تو یہ شخص عمروبائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے، نہ بیٹھے بیٹھے دوچار باتیں کہنے، صلاح بتانے ،مشورہ دینے کی،اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا اجر مثل کا مستحق ہوگا،یعنی ایسے کام میںاتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگرچہ بائع سے قرار داد کتنے ہی زیادہ کاہو اور اگر قرار داد اجرمثل سے کم کا ہوتو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خودراضی ہوچکا۔

(ملخصاً ص۱۴۶؍ج۸)

اور اگر دلال محنت وکوشش کرے اور اجرت بطور کمیشن طے کرے کہ اتنے میں اتنا لوں گا یہ ناجائز وحرام ہے ۔

ردالمحتار میں ہے:

’’قال فی التاتار خانیہ فی الدلال والسمسار یجب اجرالمثل وماتواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنا نیر کذا فذلک حرام علیھم‘‘۔

(ج ۹۔ص۸۷باب ضمان الأجیر)

پھر اس صورت میں کئی مفسدے ہیں ایک تو اجرت مجہول ہوتی ہے، دوسرے قفیز طحان کی صورت بھی پائی جاتی ہے۔

فتاویٰ امجدیہ میں سفراء کے کمیشن کے تعلق سے ہے:

’’سفرا کو جودیاجاتا ہے اگریہ بطور اجرت ہوتو ناجائز ہے کہ اولا یہ قفیز طحان کی صورت ہے اور مجہول بھی ہے‘‘۔

(ص۳۰۰۔ج۴)

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں چند سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں ،اس امید پر کہ ان کے تحقیقی جوابات سے شرعی کونسل کوشاد کام فرمائیں گے۔

 سوالات:

(۱) اطبا(ڈاکٹروں)کالیباریٹری سے یہ کمیشن لینا ایجنٹی ودلالی ہے یا اجارہ یا کچھ اور؟اور بہر صورت جائزہے یانا جائز؟ اگرناجائزہے تو اس کے جواز کا کوئی حیلہ آپ کی نظر میں ہے یا نہیں۔

(۲)اسی ضمن میں یہ سوال بھی ہے کہ ڈاکٹر نسخہ لکھ کر مریض کو دیتے ہیں اورکسی مخصوص میڈیکل اسٹورکا پتہ بتاتے ہیں، جہاں سے ڈاکٹر کوکمیشن ملتاہے اس کی شرعی حیثیت کیاہے؟ اور وہ جائزہے یانہیں؟۔

بینواوتوجروا
آل مصطفیٰ مصباحی
جامعہ امجدیہ رضوی گھوسی

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:میڈیکل لیباریٹری اور اطبا کے مابین کمیشن کا شرعی حکم

۱- ڈاکٹر مریض کو کسی خاص لیب کا پتہ بتا کر لیب والوں سے کمیشن حاصل کرتے ہیں یہ ناجائز ہے کیوں کہ یہ کمیشن اجارۂ مطلقہ نہیں بلکہ دلالی ہے ۔ لیکن اس دلالی کے عوض ڈاکٹر کا کمیشن لینا درست نہیں کہ وہ کسی عمل کا بدل نہیں وہ محض ایک صلاح یا رہنمائی ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق نہیں۔

رد المحتار میں ہے: الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الأجر۔

(ج۹ص ۱۳۱کتاب الاجارہ)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

اگر کارندہ نے اس بارے میں جو محنت و کوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی، بائع کے لئے کوئی دوا دوش نہیں، اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ اچھی چیز ہے، خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں، اور مجھے اتنے روپئے مل جائیں گے اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمر و بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہے ، نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے، مشورہ دینے کی۔

(فتاویٰ رضویہ ج۸ص۱۴۶)

خانیہ میں ہے:

قال ابو القاسم البلخی ان کان الدلال عرض و تعنی وذہب فی ذلک دوزکارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ و عملہ۔وﷲ تعالیٰ اعلم۔

(خانیہ ج۲ص۲۳۶)

۲- ڈاکٹر نسخہ لکھ کر مریض کو دیتے اور کسی مخصوص میڈیکل اسٹور کا پتہ بتاتے ہیں جہاں سے ڈاکٹر کو کمیشن ملتا ہے۔ یہ بھی ناجائز ہے کہ ڈاکٹر نے میڈیکل اسٹور یا دوا سازکمپنی کے لئے کوئی عمل نہ کیا بلکہ صرف ایک خریدار کی رہنمائی کی جیسا کہ جواب نمبر ایک میں گزرا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۳- اگر لیب و میڈیکل اسٹور والایا دوا ساز کمپنی غیر مسلمین زمانہ کی ہو تو ڈاکٹرکا ان کی رضا سے بلا غدر و بدعہدی ایسی رقم لینا جائز و مباح ہے۔

ہدایہ میں ہے:

’’فبای طریق اخذہ المسلم اخذمالا مباحاً اذالم یکن فیہ غدر‘‘۔

(ہدایہ اخیرین باب الربا ص۷۰)

واﷲ تعالیٰ اعلم

نوٹ:اس گوشہ پر آئندہ سیمینار میں بحث کرلی جائے کہ اگر ڈاکٹر مریض کے ساتھ کسی کارندہ کو لیباریٹری بھیجے ،یا کوئی کارڈیا پرچہ لکھ کر مریض کو دے ،یا لیب والا بغیر کسی معاہدہ و مطالبہ کے خود سے ڈاکٹر کو روپیہ دے تو یہ صورتیں جائز ہیں یا نہیں؟
[اس پر بحث باتی ہے ۔ اویسی]۱