بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم

شرعی کونسل آف انڈیا ایک دینی فقہی ادارہ ہے جس کے بانی اور چیئرمین سیدی و سندی استاذی و مولائی تاج الشریعہ حضرت مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری مدظلہ مفتی اعظم فی الہند، جانشین مفتی اعظم عالم اسلام ہیں۔ یہ ادارہ ۷/جمادی الآخرہ ۱۴۲۴ھ-۸/اگست ۲۰۰۳ءبروز جمعہ سات قواعد و ضوابط اور سات کمیٹیوں پر مشتمل عالم وجود میں آیا۔

حضرت مفتی محمد شعیب رضاقادری صاحب شرعی کونسل کے تیار شدہ خاکہ کے ابتدائیہ میں شرعی کونسل کس طرح اور کیوں عالم وجود میں آئی ہے ، اس سلسلہ میں رقمطراز ہیں :

’’عرصۂ دراز سے شدت کے ساتھ یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ مرکزاہلسنّت بریلی شریف میں ایک ایسی مجلس کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں قرآن و حدیث اور فقہائے احناف کے اقوال و اعمال ، تحقیقات وترجیحات کی روشنی میں امت کو درپیش جدید مسائل کا حل پیش کیا جا سکے اگرچہ اس کام کو امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت کے حقیقی وارث و جانشین ، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ الحاج محمد اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ القوی تنہا ہی انجام دے رہے تھے مگر اب ضعف قوی و بصر اس کام میں ایک حد تک مانع ہیں۔‘‘

کچھ عرصہ قبل شہزادۂ حضور تاج الشریعہ حضرت مولانا محمد عسجد رضا خاں قادری کے مشورہ سے میں نے اور محب گرامی مولانا عبد الرحیم نشتر فاروقی (اورچند احباب) نے اس سلسلے میںایک خاکہ تیار کیا تھا اور اس کا نام ’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ تجویز کیا تھا جس کا تذکرہ ضمنی طور پر قبلہ گاہی حضور تاج الشریعہ سے کیا تو ایسا لگا گو حضور تاج الشریعہ اس احساس کو نہ جانے کب سے محسوس کر رہے تھے لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کیلئے اکابرہی زیادہ موزوں ہوتے ہیں اور ان کے کرنے میں برکتیں زیادہ ہوتی ہیں۔

(اسی دوران)ایک دن محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب رضوی امجدی تشریف لائے اور انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ حضور اب مسائل جدیدہ پر کام کرنے کیلئے کسی مجلس کا قیام نہایت ضروری ہے جسے حضور تاج الشریعہ نے بڑی خندہ پیشانی سے قبول فرمایااور گو کہ حضور تاج الشریعہ کے لب ہائے مبارک کو دیکھنے سے لگ رہا تھا کہ محدث کبیرکو حضور تاج الشریعہ دعائیں دے رہے ہیں۔

محدث کبیر علامہ صاحب نے ایک خاکہ تیار کرایا جو ہمارے خاکہ سے تھوڑا مختلف ہے مگر اس کی جامعیت کا مجھے مکمل احساس ہوا اور یہ احساس بھی کہ جو پختہ کاری بزرگوں کے کاموں اور فیصلوں میں ہوتی ہے وہ ماو شما کے نہیں۔

حضو رتاج الشریعہ نے اس بورڈ کا نام’’ شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف ‘‘ منظور فرمایااس بورڈ کے سات قواعد و ضوابط اور سات کمیٹیاں بنائی گئیں:

(۱)مجلس سرپرستان

(۲) مجلس شوریٰ

(۳)فیصل بورڈ

(۴)مرتبین سوالات

(۵)مباحثین

(۶) انتظامیہ کمیٹی

(۷)فائننس کمیٹی

پھر اسی سال اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی یوم پیدائش کے موقع پر ۱۰/ شوّال المکرم ۱۴۲۴ھ کو تیار شدہ خاکہ کے بعد تین ایجنڈوں

۱- شرعی کونسل کے تیار شدہ خاکے میں ترمیم واضافہ سے متعلق غور و فکر ۔

۲- شرعی کونسل کے پہلے سیمینار کے لئے موضوعات کا انتخاب ۔

۳- شرعی کونسل کے سیمینار کے انعقاد کی تاریخ پر غورو فکر ۔

پر مشتمل علمائے کرام اور عہدیداران شرعی کونسل کی موجودگی میں ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کی تفصیل حسب ذیل ہے :

شرعی کونسل آف انڈیاکی تیاری کے بعد پہلی میٹنگ جو تین ایجنڈوں پر مشتمل تھی ۱۰/شوال المکرم ۱۴۲۴ھ کو منعقد ہوئی جس میں تینوں ایجنڈوں پر بھرپور تبادلۂ خیال کرنے کے بعد پہلے ایجنڈے میں قدرے ترمیم و اضافہ کے بعد شرعی کونسل کے اصول و ضوابط طے ہو گئے۔اور دوسرے ایجنڈے میں کچھ موضوعات طے ہوئے اور کچھ مرتبین سوال کی ٹیم نے طے کیا اور تیسرا ایجنڈا بھی طے ہو گیا تھا کہ شرعی کونسل کا پہلا سیمینار۱۳۔۱۴/محرم الحرام ۱۴۲۵ھ کو ہوگا مگر کسی سبب سے نہ ہو سکا۔میٹنگ کی سرپرستی کونسل کے سرپرست حضرت سید شاہ محمد نجیب میاں صاحب برکاتی مارہروی نے فرمائی اور صدارت حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری مدظلہ العالی نے فرمائی۔ اور نظامت کے فرائض محدث کبیرحضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ نے انجام دیئے۔اور شرکائے میٹنگ میں کم و بیش تیس علماے کرام شامل تھے چند حضرات مندرجہ ذیل ہیں ۔

’’ حضور صدر العلماء محمد تحسین رضا خاں علیہ الرحمہ ،حضور استاذ الفقہا علامہ مفتی قاضی محمد عبد الرحیم علیہ الرحمہ،حضرت علامہ عاشق الرحمٰن صاحب، حضرت مولانا سید شاہد علی صاحب،حضرت مفتی مطیع الرحمن صاحب،حضرت مولانا مفتی محمد ایوب صاحب مرادآباد،حضرت مولانامفتی قاضی شہید عالم صاحب، حضرت مولانا رحمت حسین صاحب بائسی،حضرت مولانا معراج القادری صاحب، حضرت مفتی ولی محمد صاحب باسنی ،حضرت مولانا بہاء المصطفیٰ صاحب ،حضرت مولانا مفتی مظفر حسین صاحب مرکزی دارالافتاء،حضرت مولانامفتی ناظم علی صاحب مرکزی دارالافتاء ، حضرت مولانامفتی محمد شعیب رضا صاحب اسلامی مرکزدہلی،حضرت عبدالقادریارعلوی صاحب، حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جامعہ نوریہ،حضرت مولانا فاروق صاحب بمبئی راقم الحروف محمد یونس رضاوغیرہم‘‘۔

اور شہزادۂ تاج الشریعہ حضرت مولانا محمد عسجد رضا قادری مدظلہ ،ناظم شرعی کونسل آف انڈیانے پہلے فقہی سیمینار کے خطبۂ استقبالیہ میں شرعی کونسل کی اہمیت اور قیام کے تعلق سے فرمایا:

’’ آج کے حالات سے کون آشنا نہیں اس پر فتن دور کے حالات و معاملات عجیب و غریب ہیں جگہ جگہ نئے مسائل کا سامنا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ ذی صلاحیت ، فقہی بصیرت رکھنے والے علماء دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں اور جوافتاء کے اہل نہیں مفتیان کرام کی مسند پر بیٹھے ان کا قلم سنبھالے ہوئے ہیں جیسا عوام چاہتی ہے بے چوں وچرا ویساہی فتویٰ صادر فرمارہے ہیں اور ماہران افتاء ہیں بھی تو ان کے سامنے مختلف مصروفیات در پیش ہیں۔ اس لئے عوام و خواص کو اختلاف سے بچانے اور صحیح راہ بتانے کے لئے ’’شرعی کونسل‘‘ وجود میں آئی ہے ۔

سیدی والد گرامی حضور تاج الشریعہ فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا قادری ازہری دام ظلہ العالی نے عرصہ دراز سے شدت کے ساتھ ایک ایسی مجلس کے قیام کی آرزوکی تھی جس میں ماہران افتاء شریک ہوں اور قرآن و حدیث اور فقہائے احناف کے اقوال، تحقیقات و ترجیحات کی روشنی میں امت کو درپیش جدید مسائل کا حل بتاکر رہنمائی کریں ۔

آخر کار ۷/جمادی الآخر مطابق ۸ /اگست ۲۰۰۳ء بروز جمعہ اس مجلس کا قیام عمل میں آیا اور والد گرامی حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی نے اس مجلس کا نام’’ شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ تجویز فرمایا جو گیارہ قواعد و ضوابط اور سات کمیٹیوں پر مشتمل ہے ۔’’شرعی کونسل‘‘ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ۱۰/شوال المکرم ۱۴۲۴ھ کو تین ایجنڈوں پر مشتمل ایک میٹنگ ہوئی جس میںاتفاق رائے سے’’ شرعی کونسل‘‘ کے قواعد و ضوابط طے ہو گئے ۔‘‘(خطبۂ استقبالیہ پہلا فقہی سیمینار ۲۰۰۴ء )

اور استاذی سیدی الکریم فاتح عرب و عجم شیخ الاسلام والمسلمین حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی خود شرعی کونسل کے تعلق سے فرماتے ہیں :

’’آج جدید مسائل کے شرعی حل کے لئے فقیہانہ بصیرت کے حامل افراد کی علمی و فقہی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ بد مذہب فقہ اسلام کی اصلی روح کوختم کردینا چاہتے ہیں ۔ عوام کی سہولت کے پیش نظر شریعت اسلامیہ میں منمانی تحریف کر رہے ہیں ، جدید ذرائع ابلاغ پر شکنجہ کس کر اپنے باطل نظریا ت غلط مسائل اور زہر یلے اثرات کو پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں او رنتیجۃً سنی عوام رفتہ رفتہ ان کے دام فریب میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔

مجھے عرصۂ دراز سے ان فرقہائے باطلہ کی مذکورہ سرگرمیوں سے شدیدفکر لاحق رہی ، میری دینی غیرت و حمیت مسائل جدیدہ کے صحیح حل کے لئے ایک’’ شرعی کونسل‘‘ کے قیام کا شدت سے احساس دلاتی رہی جو فقیہانہ صلاحیتوںسے حامل افراد پر مشتمل ہو۔ جو اپنی علمی ذکاوت اور فقیہانہ فراست سے ان مسائل کا صحیح حل نکال سکیں ۔

ظاہر ہے کہ ہر کس و ناکس ان مسائل کا شرعی حل تلاش کر نے کا اہل نہیں ہے ، اوراس دور کم مائیگی میں نہ ہر فقہی بصیرت رکھنے والا فرد واحد تنہا یہ کارنامہ انجام دے سکتاہے اور اگر کوئی مفتی اپنی خدادا د فقہی صلاحیتوں سے ان مسائل کے صحیح احکام کا استخراج کر بھی لے تو اندیشہ ہے کہ دیگر علما ء یہ کہکر تسلیم کر نے سے انکار کردیں گے کہ یہ فلاں کا ذاتی نظریہ ہے، یہ فلاں کا قیاس ہے یہ متون و شروح و فتاویٰ کے خلاف ہے ، اقوال مجتہدین سے متصادم ہے وغیرہ وغیرہ ۔اس لئے ایک ’’شرعی کونسل‘‘ کا قیام ناگزیر ہوجاتا ہے۔ تاکہ جدید مسائل میں سب کے غور و فکر کے بعد کوئی متفقہ حل تلاش کیا جا سکے ۔
بحمداللہ!دلی تمنائیں پوری ہوئیں اور۸/اگست ۲۰۰۳؁ء-۷/جمادی الآخر ۱۴۲۴ھ کو ’’ شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ کا قیام عمل میں آیا‘‘۔(خطبۂ صدارت پہلا فقہی سیمینار ۲۰۰۵ء)

میٹنگ کے بعد سات کے بجائے ۱۱؍قواعدو ضوابط طے ہوئے جو مندرجہ ذیل ہیں:

قواعد و ضوابط

(۱)جوابات اور فیصلہ میں فقہاء حنفیہ کی کتب معتمدہ کا لحاظ رکھا جائیگا اور اس سے انحراف قبول نہ ہوگا کتب غیر مذہب سے استدلال قابل تسلیم نہ ہوگا جبکہ قواعد حنفیہ کے خلا ف ہو۔

(۲) اختلاف اقوال و ترجیح و تنقیح کی صورت میں سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا و مفتی اعظم ہند و صدر الشریعہ علیہم الرحمۃ کے فتاویٰ و ترجیحات ہی پر اعتماد کیا جائے گا اگر ان حضرات کے اقوال میں اختلاف ہو اور اسکی وجہ اسباب ستہ نہ ہوں تو اعلیٰ حضرت کی تصریحات کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

(۳) مسائل جدیدہ میں جن کی تصریحات نہ ملے ان کے نظائر حسب ضابطہ نمبر ایک نمبر دو تلاش کئے جائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کی راہ متعین کی جائے گی۔

(۴) جن احکام میں اسباب ستہ میں سے کسی سبب سے تغییر حکم کی حاجت ہو تو شرائط تغییر کا لحاظ لازم ہوگا۔

(۵) مسلک اعلیٰ حضرت کے پیروکار مفتیان کرام سے ہی جوابات طلب کئے جائیںگے اور انہیں کے جوابات پڑھے جائیں گے۔

(۶)کسی بھی فیصلہ پرفیصل بورڈکے ممبران میںسے نصف اکثرکی شمولیت سے کورم پوراہوجائے گا اگر فیصل بورڈ کے ممبران ہی مختلف الرائے ہوں تو ان کا اختلاف نوٹ کر لیا جائے گا اور نظر ثانی کیلئے دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گایا خلاف کرنے والے کا اختلاف نوٹ کر لیا جائے گا فیصلہ صرف حکم ہوگا اور جانب مخالف کی دلیل کو نقل کرکے ہدایہ کی طرح نوٹ کر لیا جائے گا جس میںحضوتاج الشریعہ کی موجودگی لازمی ہوگی!

(۷)مباحثین کی بحث کوفیصل بورڈکے اراکین سماعت فرمائیںگے اورجہاںمناسب سمجھیں گے اپنی رائے کااظہارفرمائیںگے، مباحثین کی اتفاق رائے یااختلاف رائے بہردوصورت حتمی فیصلہ فیصل بورڈکاہی ہوگا!

(۸) سیمینار بریلی شریف ہی میں منعقد ہوگامگر ہاںبوقت حاجت کسی دوسرے شہر میں منعقد کیا جا سکتا ہے۔

(۹) حضور تاج الشریعہ مدظلہ شرعی کونسل آف انڈیا کے مستقل چیئرمین ہیں اور جملہ امور میں ترمیم و تنسیخ حذف و اضافہ وغیرہ کا کلی اختیار چیئرمین ہی کو ہوگا۔

(۱۰) جس مقالہ نگار کے مقالہ پر مباحثین کی بحث جاری ہو اس میں اگر مقالہ نگار سے استفسار کی ضرورت پڑتی ہے یا مقالہ نگار اپنی رائے مضبوط سمجھتا ہے تو چیئرمین کی اجازت سے مباحثہ میں شامل ہو سکتا ہے۔

(۱۱) سیمینار کی تاریخ چیئرمین اور فیصل بورڈ طے کرے گا۔

شرعی کونسل آف انڈیا سات سیمینار منعقد کر چکی ہے ہر سیمینار ۳؍عناوین پر مشتمل ہوتا ہے ۔اب تک ۳۳/عناوین پر تکمیل بحث کے بعد فیصلے دیئے جا چکے ہیں ۔وہ۳۳؍عناوین مندرجہ ذیل ہیں:

پہلا فقہی سیمینار ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء

موضوعات:
(۱) نمار میں لائوڈ اسپیکر کا استعمال
(۲)اجارئہ تراویح
(۳) سفر میں جمع بین الصلاتین

دوسرا فقہی سیمینار ۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ء

موضوعات :
(۱) انٹرنیٹ و فون سے بیع و شراء کا حکم
(۲) رمی جمار
(۳)رویت ہلال بذریعہ جدید آلات

تیسرافقہی سیمینار۱۴۲۷ھ/۲۰۰۶ء

موضوعات:
(۱)میڈیکل انشورنس
(۲) مساجد کی آمدنی کے مصارف
(۳) بیع قبل القبض

چوتھا فقہی سیمینار ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷ء

موضوعات:
(۱) ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنا
(۲) رشوت دیکر مدارس ایڈ کرانے اور مدرسین کی تقرری کا حکم
(۳) اختلاف زمان و مکان کی صورت میں وکیل و موکل کے یہاں قربانی کے اوقات و اسباب

پانچواں فقہی سیمینار ۱۴۲۹ھ/۲۰۰۸ء

موضوعات:
(۱)حوالہ و دو ملک کی کرنسیوں کے تبادلے کا حکم
(۲) تبدیلی جنس کی شرعی حیثیت
(۳) منیٰ ومزدلفہ کی توسیع و تحدید کی شرعی حیثیت

چھٹا فقہی سیمینار۱۴۳۰ھ/۲۰۰۹ء

موضوعات:
(۱) جدید طریقۂ بیع (بیع در بیع) کی شرعی حیثیت
(۲) ری سائیکل پانی و کاغذ وغیرہ کا شرعی حکم
(۳) اموال زکوٰۃ عشر اور عطیات میں خلط یا تصرف کا شرعی حکم

ساتواں فقہی سیمینار ۱۴۳۱ھ/۲۰۱۰ء

موضوعات:
(۱)حق طباعت، حق تصنیف ، حق ایجاد کی خرید و فروخت
(۲) بے اذن ولی غیر کفو سے نکاح
(۳) عوامی جگہوں پر لگی تصویروں کاحکم،نماز کے حوالے سے

آٹھواں فقہی سیمینار ۱۴۳۲ھ/۲۰۱۱ء

موضوعات:
(۱)قرعہ اندازی کی وجہ سے ادائیگی حج میں تاخیر کا مسئلہ
(۲) کھانے بعد یا استنجا ء کے لئے ٹشو پیپر کے استعمال کا حکم
(۳)میموری کارڈ ،سی ڈی اورکمپیوٹرمیں آیات قرآنیہ و دینی معلومات وغیرہ کے محفوظ کرنے اور ایسی سی ڈی وغیرہ کا حکم

نواں فقہی سیمینار ۱۴۳۳ھ/۲۰۱۲ء

موضوعات:
(۱)مدارس میں لی جانے والی فیس کی شرعی حیثیت۔
(۲)میڈیکل لیباریٹری اور اطبا کے مابین کمیشن کا شرعی حکم۔
(۳)شوال میں عمرہ کرنے والوں پر استطاعت کے بغیر حج کی شرعی حیثیت۔

دسواں فقہی سیمینار ۱۴۳۴ھ/۲۰۱۳ء

موضوعات:
(۱)آرٹی فیشیل (مصنوعی)زیورات کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت کا شرعی حکم
(۲)قصر صلوٰۃ کے جدید مسائل اور مسافت سفر کی تحقیق
(۳)ممالک بعیدہ میں عشا و فجر کے اوقات کا شرعی حکم

گیارہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۵ھ/۲۰۱۴ء

موضوعات:
(۱)آپریشن سے ولادت کا شرعی حکم
(۲)قربانی اور اس کے ٹھیکہ داری کا شرعی حکم
(۳)مساجدمیں قائم مکتبوںاورسماجی خدمات کے نام سے زکوٰۃکی تحصیل اور اس کےاستعمال کا شرعی حکم

بارہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۶ھ/۲۰۱۵ء

موضوعات:
(۱)
(۲)
(۳)

تیرہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۷ھ/۲۰۱۶ء

موضوعات:
(۱)مساجد میں زائد مصاحف،پوسٹروں میں مقدس کلمات اور مصلوں میں معظم نقشوں کا حکم
(۲)
(۳)

چودھواں فقہی سیمینار ۱۴۳۸ھ/۲۰۱۶ء

موضوعات:
(۱)ایکسیڈنٹ پر معاوضہ ،اس کی بیع وشراء اور ٹھیکے و کمیشن کا شرعی حکم
(۲)سفر حج کے دوران عورت مطلعقہ یا بیوہ ہوجائے تو کیا کرے؟
(۳)فصل کاٹنے کی اجرت کٹی ہوئی فصل سے دینے کی شرعی حیثیت

 

تنبیہ:بعض عناوین کے سوالات کے کچھ گوشوں پر اتمام بحث باقی ہے لہٰذا ان گوشہ جات کو آئندہ سیمیناروں کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے جیسے جیسے جس گوشے پر بحث پایۂ تکمیل کو پہنچ کر فیصلے ہوں گے وہ ضرور آپ کی خدمت میں حاضر کردیئے جائیں گے۔

Read more

پہلا فقہی سیمینار ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء

موضوعات:
(۱)  سفر میں جمع بین الصلاتین.....                   پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۲)نمار میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال       .....پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۳)  اجارۂ تراویح.....   پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۴)  طلاقِ ثلاثہ.....       پڑھنے کیلئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

دوسرا فقہی سیمینار۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ء

موضوعات :
(۱) انٹرنیٹ و فون سے بیع و شراء کا حکم..... پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۲) رمی جمار..... پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۳)رویت ہلال بذریعہ جدید آلات..... پڑھنے کیلئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

تیسرافقہی سیمینار ۱۴۲۷ھ/۲۰۰۶ء

موضوعات:
(۱)میڈیکل انشورنس.....پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۲) مساجد کی آمدنی کے مصارف.....پڑھنے کیلئے کلک کریں

(۳) بیع قبل القبض.....پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

چوتھا فقہی سیمینار۱۴۲۸ھ؍۲۰۰۷ء

موضوعات:
(۱) ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنا.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲) رشوت دیکر مدارس ایڈ کرانے اور مدرسین کی تقرری کا حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳) اختلاف زمان و مکان کی صورت میں وکیل و موکل کے یہاں قربانی کے اوقات و اسباب.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

پانچواں فقہی سیمینار ۱۴۲۹ھ؍۲۰۰۸ء

موضوعات:
(۱)تبدیلی جنس کی شرعی حیثیت.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲) حوالہ و دو ملک کی کرنسیوں کے تبادلے کا حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳) منیٰ ومزدلفہ کی توسیع و تحدید کی شرعی حیثیت.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

چھٹا فقہی سیمینار ۱۴۳۰ھ؍۲۰۰۹ء

موضوعات:
(۱) جدید طریقۂ بیع (بیع در بیع) کی شرعی حیثیت.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲) ری سائیکل پانی و کاغذ وغیرہ کا شرعی حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳) اموال زکوٰۃ عشر اور عطیات میں خلط یا تصرف کا شرعی حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

ساتواں فقہی سیمینار ۱۴۳۱ھ؍۲۰۱۰ء

موضوعات:
(۱)حق طباعت، حق تصنیف ، حق ایجاد کی خرید و فروخت.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲) بے اذن ولی غیر کفو سے نکاح.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳) عوامی جگہوں پر لگی تصویروں کاحکم،نماز کے حوالے سے.....پڑھنے کے لئے کلک کریں۔۔۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

آٹھواں فقہی سیمینار ۱۴۳۲ھ؍۲۰۱۱ء

موضوعات:
(۱)قرعہ اندازی کی وجہ سے ادائیگی حج میں تاخیر کا مسئلہ.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲) کھانے بعد یا استنجا ء کے لئے ٹشو پیپر کے استعمال کا حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳)میموری کارڈ ،سی ڈی اورکمپیوٹرمیں آیات قرآنیہ و دینی معلوماتوغیرہ کے محفوظ کرنے اور ایسی سی ڈی وغیرہ کا حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

نواں فقہی سیمینار ۱۴۳۳ھ؍۲۰۱۲ء

موضوعات:
(۱)مدارس میں لی جانے والی فیس کی شرعی حیثیت.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲)میڈیکل لیباریٹری اور اطبا کے مابین کمیشن کا شرعی حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳)شوال میں عمرہ کرنے والوں پر استطاعت کے بغیر حج کی شرعی حیثیت.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

دسواں فقہی سیمینار ۱۴۳۴ھ؍۲۰۱۳ء

موضوعات:
(۱)آرٹی فیشیل (مصنوعی)زیورات کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت کا شرعی حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۲)قصر صلوٰۃ کے جدید مسائل اور مسافت سفر کی تحقیق.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

(۳)ممالک بعیدہ میں عشا و فجر کے اوقات کا شرعی حکم.....پڑھنے کے لئے کلک کریں

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

۔۔۔گیارہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۵ھ؍۲۰۱۴ء

موضوعات:
(۱) آپریشن سے ولادت کا شرعی حکم.....عنقریب

(۲)قربانی اور اس کے ٹھیکہ داری کا شرعی حکم.....عنقریب

(۳)مساجدمیں قائم مکتبوںاورسماجی خدمات کے نام سے زکوٰۃکی تحصیل اور اس کے استعمال کا شرعی حکم.....عنقریب