قرض حسن سے سودی لین دین کاحل اورعلاج
(حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا بریلوی کی ایک فکرانگیز اورچشم کشاتحریر)

علامہ مولانامحمد اسلم رضا قادری اشفاقی
رکن سنی تبلیغی جماعت باسنی ناگورشریف


حجۃالاسلام،شہزادۂ اعلیٰ حضرت،مفکرومدبرعلامہ الشاہ مفتی محمد حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے ایک صدی قبل (١٣٤٣ھ١٩٢٥ء) مرادآباد(یوپی) کی سرزمین پر”آل انڈیا سنی کانفرنس”میں جو خطبۂ صدارت پیش کیا تھا اس کی اہمیت وافادیت اور معنویت آج بھی جوں کی توں ہے۔

درحقیقت آپ نے اپنے اس عظیم الشان،بے مثال، انقلابی وانفرادی خطبۂ صدارت میں امت مسلمہ کے دینی ومذہبی،معاشی وتجارتی،سماجی ومعاشرتی،ملی و قومی کرب ومسائل کاحل تلاش کرتے ہوئے مخلصانہ انداز واسلوب میں ایک منشورولائحۂ عمل پیش کیا تھا۔مگر افسوس کہ ایک صدی بیت جانے کے بعدبھی امت مسلمہ آپ کے پیش کردہ ان رہنما اصول وخطوط کو اپنانے میں ناکام نظرآرہی ہے۔اوریہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں بقول حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے” لوگ پیروں کی زبان زیادہ سمجھتے ہیں”،مگرکسی مفکرومدبر کی کامیابی اورسرخروئ سے سرفراز کرنے والی باتوں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔

امت مسلمہ آج بھی اگر اپنے قائدین ومخلصین کی باتوں پر کان دھرنا شروع کردے توگذرے دنوں کا خسارہ برداشت کرتے ہوئے مستقبل میں اپنے تجارتی ومعاشی حالات کو بہتر بنا سکتی ہے۔

سوداسلام میں حرام قطعی ہے اور قرض دے کرنفع لینا بھی اسلام میں ناجائز ہے،یہ بات ہرمسلمان جانتاہے۔مگر حجۃالاسلام علیہ الرحمہ نے سودسے بچنے اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کاایک جائز طریقۂ کار بتاتے ہوئے”انجمن قرض حسن” کی شکل میں قوم مسلم سے دردمندانہ اپیل وگذارش کی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں اور ان کی زندگی کا سہارا بنیں تاکہ مسلمان معاشی اعتبار سے مضبوط ومستحکم ہوں اور دوسری قوموں کے درمیان ذلیل ورسوا نہ ہوں۔حلال وجائز طریقے سے کاروبار کریں ہرگزسودلے کرغیرقوموں کادست نگر نہ بنیں۔لھذاامعان نظرکے ساتھ پیش کردہ امورکوپڑھنے کی ضرورت ہے۔

سود سے کس طرح نجات حاصل کی جاۓ:

(١)شریعت طاہرہ کے دامنوں میں پناہ لو،اس کے احکام کی تعمیل کرو،جس میں سودکھانابے رحمی اورخون ناحق سے زیادہ سنگ دلی ہے۔شریعت نے اسے حرام قرار دیا ہے اسی طرح سود دینا بھی اپنے نفس اور اپنے خاندان پر ظلم اور خودکشی کامترادف ہے ،اس کو بھی ایسا ہی حرام فرمایا ہے ۔

مسلمان ہوش کے ناخن لیں:

اب تک اگر مسلمان اس حکم کی تعمیل نہ کر کے برباد ہوئے تو اب تو ہوش میں آئیں اور پہلی بربادیوں کا علاج یہ ہے کہ سوددینے اور سودی قرض لینے سے بچیں اور سچی توبہ کر یں کہ آئندہ خواہ کچھ بھی حال ہو مگرسودی قرض نہ لیں گے۔ ہر مصیبت برداشت کر یں گے مگر سود کی مصیبت سے بچیں گے ۔ تمام مسلمان چھوٹے بڑے، امیر غریب سب اس کا عہد کر یں، اور اگر کوئی اس کے خلاف کرے اور سودی قرض لے اس سے لین دین، میل جول ترک کر دیں۔ اس پر عمل کیا جاۓ تو تباہی کا سلسلہ تو ابھی منقطع ہو جائے اور آئندہ کے لیے تو اس مصیبت سے تو اطمینان ہو ،اور یہ کچھ دشوار نہیں ہے۔ کیونکہ سودی قرض اسی کو ملتا ہے جو اس سے زیادہ کی جائیداد مکفول کرتا ہے۔ یازیور،برتن وغیرہ رہن رکھتا ہے، توجو اتنا اثاثہ رکھتا ہو وہ سودی قرض نہ لے، کچھ چیز فروخت کر ڈالے، اگر ضرورت کے وقت ارزاں بھی فروخت کی تو وہ نقصان جب بھی نہ ہو گا جو سودی طوفان سے ہو تا ہے۔ اب یہ سوال باقی رہتا ہے کہ نام و نمود اور شان و شوکت، عیش و عشرت کے لیے جو قرض لیتے ہیں انہیں تو اس سے باز رہنا آسان ہے لیکن جو آسمانی بلاؤں اور ناگہانی آفتادوں سے مجبور ہو کر لیتے ہیں گو وہ بہت کم ہی مگر وہ کیا کر یں، جائیداد فورا فروخت نہیں ہو سکتی اور مصیبت فرصت نہیں دیتی ،بمجبوری قرض لینا پڑتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو میں عرض کر چکا ہوں کہ زیور و جائیداد نکل جانے کے بعد جو کچھ وہ جب کرتے ہیں آج کر یں۔

مسلمان قرض حسن دے کر ثواب کے مستحق بنیں:

(۲)۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے قرض حسن لیں اور اپنا کام چلائیں۔ حاجت پوری ہونے کے بعد بتدریج یا جس طرح سہل ہو اس قرض کو ادا کر دیں ان کے احباب اور محلہ داران کی مصیبت رفع کرنے میں کافی امداد دیں اور ایک دوسرے کی دستگیری اپنے ذاتی نفع کے لیے اپنا مقصود سمجھیں۔ خود غرضی سے بچیں یہ نہایت بری خصلت ہے ۔

قرض حسن(یا) اسلامی بیت المال :

اب ہم اپنی اصلاح کے لیے مجبور ہیں کہ وقتی اور فوری ضرورت کے لیے کوئی ایسا ذخیرہ تیار رکھیں جو مصیبت کے وقت ہمارے کام آے اور ہمیں قدر ضرورت قرض حسن دے سکے تا کہ ہمیں پھر کسی کافر کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت اٹھانی نہ پڑے۔

ذلت سے بچنے کی تدابیر:

اس کی چندتدبیریں ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم ذخیرۂ قرض حسن جمع کر یں اور اس کا طریقہ یہ ہے۔
( ا)ہرباکار اور خوش حال شخص جو کسی طرح اپنی بسر اوقات کر لیتا ہے اگر وہ صاحب اولادہے تو اپنی اولاد سے ایک لڑکا زیادہ فرض کر لے اور اگر صاحب اولاد نہیں ہے تو فرض کرے کہ اس کے ایک فرزند ہے اور روزانہ وہ اپنے اس فرضی فرزند کے نام سے حسب حیثیت دو آنے، چار آنے، پیسہ دوپیسہ جیسی گنجائش ہو ایک مقفل صندوقچہ میں ڈال دیا کرے۔ چاہے مقدار کم ہو مگر ترک نہ ہو، ناغہ نہ ہو۔ یہ عمل روز مرہ جاری رہے۔ مگرصاحب اولاد جس قدر اپنی اولاد کا دیتا ہے اس سے کم اس صندوقچہ میں نہ ڈالے ۔

اس طرح ایک قصبہ میں بیس ہزار مسلمان ہیں اور ان میں بوڑھے بچے، بیکارنادار ،چھوڑ کرکم سے کم چھ ہزار مان لے جائیں اور فرض کیا جائے کہ ادنی درجہ ایک پیسہ یومیہ اس ذخیرہ کے لئےجمع کرتے ہیں تو قریب چورانوے روپے یومیہ جمع ہونے لگیں، اور ایک ماہ میں دوہزار آٹھ سو بیس ،اور چھ مہینے میں سولہ ہزارنو سو بیس روپے ایک معمولی قصبہ میں جمع ہو جائیں اور نہ کچھ دشواری ہو نہ بار۔

یہ تو اس صورت میں ہے جبکہ صرف ایک پیسہ یومیہ فرض کیا جائے اور حسب حیثیت جمع کیا گیا تو انشاء اللہ تعالی بہت زیادہ ہو گا اور یہ مقدار بھی اس قابل ہے کہ فوری اور وقتی مجبوریوں کے لیے مسلمان سودی قرض سے بچ سکیں۔ اگر اس تدبیر پر عمل کیجئے تو آپ چھ مہینے میں اس قابل ہو سکتے ہیں کہ آپ کا کوئی بھی بھائی مہاجن کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے لیے مجبور نہ ہو ۔

(٢)۔ شادی بیاہ، تقریبات ، مہمانوں کے ورود، عید یں، شب برات، محرم، اعراس وغیرہ کے موقعوں پر جہاں آپ کو اپنی اولاد یا اعز ہ اور مہمانوں کے لیے وسیع خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ۔ حسب حیثیت اس ذخیرہ) کوبھی ایک لڑکے یامہمان کی برابرحصہ دیجئے اور اسی صندوق میں جمع رکھیے۔

(۳) سود اگر اپنی تجارتوں میں، مز دور اپنی مزدوریوں میں،اجیراپنے کرایہ میں،ایک پیسہ روپیہ کے اوسط سے قومی ذخیرہ کے لئےوصول کرے اور امانت داری سے اس کو ذخیرہ میں جمع کردے۔ اور لیتے وقت ہی اس کو اپنے مال کی قیمت ،یامزدوری اور کرایہ کے داموں سے علیحدہ رکھیں اور اس کو اپنے تصرف میں لاناسخت خیانت سمجھیں، اس طریقہ سے بھی بہت کافی رقمجمع ہو گی ۔جن لوگوں کو یہ روپیہ،قرض دیاجائے پہلے تحقیق کرلیا جائے کہ انھیں مجبور کرنے والی ضرورت درپیش ہے، اور اس کی اورکوئی سبیل ان کے پاس نہیں، پھر یہ روپیہ ایک پر امسیری رقعہ یاکوئی اورایسی قانونی تحریر لکھا کر دے دیا جائے جس کی رجسٹری بھی ضروری نہ ہو اوروہ بے سود جائز بھی ٹھہرے۔
اس روپے کی ادا کے لیے وہ طریقہ تجویز کیا جاۓ جس سے مستقرض بآسانی وہ رقم ادا کر سکے خواہ زیادہ مدت میں وعدہ کے مطابق رقم کی وصولی کی کوشش کی جائے۔ لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ شخص فی الحال اس رقم کی اداکےقابل نہیں ہے، یا ادا سے سخت دشواری میں پڑ جائے گا تو اس کو مزید مہلت دی جائے۔ کیونکہ در حقیقت یہ رقم اپنے بھائیوں کی اعانت ہی کے لیے ہے۔ ہر گاؤں اورہرمحلہ میں وہاں کے باشندوں کی ایک مجلس بنائی جائے جس کا نام “انجمن قرض حسن” ہو۔اس مجلس کے اراکین ایک معتمد شخص کو انتخاب کر کے امین قرار دیں وہ اس روپے کو اپنے پاس جمع رکھے اور اس کا مکمل حساب اس کے پاس ہو اور ہر ہفتہ آمد و خرچ سنایا کرے۔ اس کے لیے جمعہ کا دن مقرر کیا جائے تو بہت بہتر جب رقم دوسوروپے تک پہنچ جاۓ تو اس کو کسی اطمینان کی جائے (جگہ)جمع کر دیا جائے، اور اگر اہل محلہ کی یہی راۓ ہوتوابتداہی سے رقم کسی اطمینان کی جگہ خواہ بینک میں امانت رکھ دی جائے مگراس طریق پر کہ اس کا وصول کر ناہر وقت ممکن ہو۔

انجمن قرض حسن:

انجمن قرض حسن کے ممبران کا فرض ہے کہ وہ اس رقم کے جمع کرنے کی کوشش کریں اور ہر شخص سے روزانہ لےلیا کر یں۔ خواہ وصول کا کام مسجدکے مؤذن یا امام صاحب کے سپرد کیا جاۓ ،یہ قرض کا سیلاب روکنے کی تدبیریں تھیں کہ جو شخص قرض سے توبہ کریں اور مصارف کم اور ضروریات محدود کرکے بھی کسی وجہ سے قرض لینے کے لیے مضطر ہوں ان کا کام نکال دیا جاۓ، تاکہ آ ئندہ کے لیے سودی قرض کا سلسلہ بند ہو۔لیکن جو لوگ مقروض ہیں اور رات دن سود کا بار ان پر بڑھتا چلا جاتا ہے وہ کیا کر یں۔

اداۓ قرض کی تدابیر:

۱)قرض معمولا د یا ہی جب جاتا ہے جب اس سے کئی گنی زیادہ قیمت کی جائیداد مکفول کرلی جاتی ہے یا زیور گرو ے کیا جاتا ہے یا اور کسی چیز سے اطمینان کر لیا جاتا ہے۔ اب ہمارا فرض ہونا چاہیے کہ ہم فورا اس چیز کو فروخت کر کے ہم باہمی تعلقات کے دباؤ سے اپنے بھائیوں پر اثر ڈالیں اور انہیں فورا قرض ادا کر دینے پر مجبورکریں۔ اگر وہ ایسانہ کر یں تو ہم انہیں چھوڑ دیں ،اور ان کے کسی حال میں ان کے ساتھ شرکت نہ کریں، یہاں تک کہ وہ سودی قرض سے سبکدوشی حاصل کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس طرح بہت سے قرضوں سے نجات ہو جائے گی۔

(۲)گورنمنٹ سے استدعا کرنا چاہیے اور جو ہمارے نمائندے گورنمنٹ کےایوان میں رہیں و ہ سوال اٹھائیں کہ کیا سبب ہے جو سود کے لیے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی جس کے بعد وہ کبھی نہ بڑھے اور دائرہ کو اس حد سے آگے ڈگر ی نہ دی جائے۔ایک رقم کاسود اس سے کئی ہزار گنا ہو سکتا ہے، اور اس کو قانون نہیں روکتا۔

اسی وجہ سے ہزار ہارئیس اپنی ریاستیں کھوکر نا داری کی ذلت میں گرفتار ہورہے ہیں ،اور ان کی درد ناک حالتیں دیکھی نہیں جاتیں۔ شریف اور معز زانسانوں کی یہ تباہی قابل رحم ہے،اس لئے گورنمنٹ کویہ طے کردینا چاہیے کہ کسی حال میں سودکی ڈگری پچیس فیصدی سے زیادہ نہ دی جائے گی اور جس جائیداد پر قرض کی مقدار اس حد تک پہنچ جاۓ گی، اس کے بعد وہ جائیداد اس قرض میں نیلام کر دی جائے گی، یاصاحب جائیدادکہیں سے روپیہ ادا کرے، خواہ اس کو یہ یا دوسری کوئی اور چیز فروخت کرنا پڑے ،مگراس کوپھر دو بارہ سال کے اندر اس جائیداد کو دوبارہ مکفول کرنے کی اجازت نہ ہوگی، کیاغضب ہے بڑی بڑی شرح سے سود لیا جارہا ہے اور دلالی ، رشوتیں اور مقدمات ورجسٹری کے مصارف۔

اس کے علاوہ یہ تو ابتدائی منزل ہوتی ہے اور جب چھ ماہ کے بعد سوداصل میں شامل کر کے اس پر از سر نو سود چلایا جاتا ہے ۔ اس کی رفتار کا کیا ٹھکانہ ہے۔ سوروپے، تین روپیہ، سیکٹرہ کے شرح سے دس سال میں ہزار ہا ہو جاتے ہیں، اگر ایک شخص ہزاروں روپے کی جائیداد رکھتا ہو اور کسی ضرورت سے فقط سوروپے تین روپے کی شرح سے لے کر دس سال خاموش ہو جائے تو یہ سوروپے اس کی کل جائیداد کوختم کر دیں گے ۔کیا ستم ہے کیوں اس کے لیے قانون بنانے کی استدعانہ کی جائے۔

(۳) ایک بیت المال بنایا جائے ۔ جس سے مقروض مسلمانوں کا قرض اداکر کے ان کی جائیدادمکفول کر لی جائے اور اس جائیداد سے ایک ایسی قسط مقرر کرکے وہ قرض وصول کر لیا جائے جس کی ادانا قابل برداشت نہ ہو ۔جو مقروض بیت المال سے روپیہ لیں بیت المال کی جماعت ان کے مصارف معین کردے اورجو تخفیف خرچ میں بآسانی نکل سکتی ہو نکالی جاۓ۔”

(خطبۂ صدارت،آل انڈیا سنی کانفرنس،مرادآباد1925،ادارہ تحقیقات امام احمد رضا،کراچی،ص:57تا62)

محمد اسلم رضا قادری اشفاقی
رکن سنی تبلیغی جماعت باسنی ناگورشریف
٢٢دسمبر٢٠٢١

Menu
error: Content is protected !!