نکھرتا جائے یارب، جوہرِ کردار عسجد کا

علامہ محمد سلمان رضا فریدی مصباحی ،مسقط ،عمان


نکھرتا جائے یارب، جوہرِ کردار عسجد کا
کہ سینہ اختر فن سے رہـے ضوبار عسجد کا

نگہبانی کریں وہ، آبروئےقوم و ملت کی
برائےحق، جگر ہردم رہے بیدار عسجد کا

وہ کوشش جس سے نخل سنیت کا ہرشجر نکھرے
سنوارے گلشنِ عشقِ نبی ، ایثار عسجد کا

ملے فیض رضا سے فکر کو تابِ ہنر ایسی
ستارہ آسمان فن میں ہو شہکار عسجد کا

سدا جَدّین کا ظل حمایت ان کے سرپر ہو
کہ دستِ حامد ونوری رہے غمخوار عسجد کا

جمالِ فن میں جیلانی میاں کا عکس آجائے
تو ہو اختر رضا سا جلوۂ افکار عسجد کا

فزوں ہوں عظمتیں، شہزادۂ تاج الشریعہ کی
ہلال زندگی ہو مخزن انوار عسجد کا

جہاں کو روشنی دیں، گوہر سوز عمل بن کر
ہو ملت کے لئے ہر اک قدم معمار عسجد کا

سمیٹیں ناخن تدبیر سے بکھرئے ہوئےانجم
کرے یکجا نبی والوں کو، دستِ کار عسجد کا

جھکے جس کی خودی کے آگے ایوان حکومت بھی
ہو اک کہسارِ آہن ، پیکرِ خود دار عسجد کا

عدو، بد دین و حاسد کی دغا ناکام ہوجائے
نہ رستہ روک پائے ، کوئی بھی دیوار عسجد کا

جلالِ غیرتِ حب نبی ہے خون کے اندر
ہےدل عشقِ نبی سے ہرگھڑی سرشار عسجد کا

درِ اجداد سے انکو ملی ہے جرأت و ہمت
نہ خم ہوگا کبھی دستِ علمبردار عسجد کا

ھُمامِ علم و حکمت، اور حُسامِ حق بنیں دونوں
کہ ہوعکسِ رضا ہرایک برخوردار عسجد کا

بڑھےان سےوقار وشان، رضوی خانوادے کی
قیادت کی بلندی پر ہو استقرار عسجد کا

مرےعسجدمیاں پر سایۂِ فضل الٰہی ہو
فریدیؔ حشر تک تازہ رہے گلزار عسجد کا

Menu
error: Content is protected !!