پہلا فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۶،۱۷/رجب المرجب ۱۴۲۵ھ /مطابق ۲،۳/ستمبر۲۰۰۴ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱- سفر میں جمع بین الصلاتین

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

ایمان وتصحیح عقائد کے بعد تمام فرائض میں سب سے اہم نماز ہے ۔ اللہ و رسول جل وعلاو ﷺ کے ارشاد ات اس کی اہمیت و عظمت سے مالا مال ہیں ترک ِ نماز پر بے پناہ وعیدیں وارد ہیں اور اس کے ادا کرنے والوں کے لئے غیر معمولی اجروثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن اجرو ثواب کاترتب نماز کے ارکان و شرائط کی ادائیگی و پابندی پر منحصرہے۔ نماز کی ادائیگی کیلئے شریعت طاہرہ نے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ قرآن وحدیث کے نصوص اس پر ناطق ہیں ۔
قال اللہ تعالیٰ :

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا (النساء:۱۰۳)بے شک نماز ایمان والوں پر فرض ہے وقت باندھا ہوا۔

احادیث کریمہ میں نماز کے اوقات کی تفصیل موجود ہے۔ اوقات کے تعلق سے فقہا اسلام کے اجتہاد ات میں بعض فرق و اختلاف کے باوجو د توقیت صلوٰۃ کا مسئلہ متفق علیہا ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ عرفہ اور مزدلفہ کے علاوہ (جہاں بحالت اختیار حجاج کو حج میں صرف عصر عرفہ و مغرب مزدلفہ میں جمع حقیقی جائز ہے) اگر حالت، سفر یا اضطرار کی نہ ہو تو نماز اپنے وقت پر ادا کرنا لازم ہے لیکن اگر حالت سفر کی ہو تو کیا مسافر کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ قصداً دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے پڑھے؟ مذہب حنفی میں جمع بین الصلوٰتین کی اجازت نہ سفر میں ہے نہ حضر میں۔ جمع تقدیم کی صورت میں نماز ان پر باطل و ضائع ہو گی اور جمع تاخیر کی صورت میں عمداً اوّل نما ز کا قضا کرنے والا ٹھہرے گا اور گنہگار ہو گا ۔لیکن فی زماننا سفر کی دشواریوں کا حال سب پر عیاں ہے اگرچہ سست رفتار سواریوں کی جگہ برق رفتار سواریوں نے لے لی ہے مگر ان کے چلنے اور رکنے کے اپنے مقررہ اوقات ہیں ،اور کوئی ضروری نہیں کہ ان کے رکنے اور ٹھہرنے کے اوقات ہماری اوقات ِ نماز کے موافق ہوں ۔ اس کا تجربہ ٹرینوں اور جہازوں سے سفر کر نیوالوں کو بخوبی ہے ایسی صورت میں اگر دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے پڑھنے کی شرعی راہ نہ تلاش کی جائے تو مذہب حنفی کی رو سے یا تو آدمی عمداً تارک نماز ہو کر سخت گنہگار ٹھہرے گا یا وقت پر تقدیم نماز کی صورت میں نماز ہی باطل قرار پائے گی جو ایک عظیم دینی ضرر ہے ۔لہٰذا سفر میں دو نمازوں کو ایک وقت پر جمع کر نے سے متعلق درج ذیل سوالات پیش خد مت ہیں جن پر غورو فکر کر کے شرعی حل نکالنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔

(۱)کیا مذکورہ ضرر دینی سے بچنے کی ضرورت کے پیش نظر جمع بین الصلوٰتین کے تعلق سے امام شافعی علیہ الرحمہ والرضوان کے مذہب پر فتویٰ و عمل کی اجازت ہے ؟

(۲)مذہب شافعی پر عمل کی صورت میںجمع تقدیم و جمع تاخیر دونوں کی اجازت ہو گی یا صرف ایک کی؟

(۳)مذہب شافعی پر عمل کی صورت میں کیا ان شرائط کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا جو ان کے مذہب میں جمع بین الصلوٰتین کے لئے لازمی ہیں ؟ نیز یہ واضح فرمائیں کہ ایسی صورت میں مدت سفر کا اعتبار کس مذہب کے مطابق ہو گا ؟ اگر مذہب حنفی کے مطابق کیا جائے تو یہ صورت تلفیق تو نہ ہو گی ؟

(۴)سفر میں بسا اوقات مثل ثانی میں عصر پڑھنے کی ضرورت پیش ہو تی ہے تو کیا ایسے مسافر کو شرعاً یہ اجازت ہے کہ امام اعظم علیہ الرحمہ والرضوان کے مذہب کے بجائے صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے مسلک پر عمل کرے؟

(۵)اس ضمن میں اس سوال کے جواب کی بھی ضرورت ہے کہ آ ج کل سعودیہ عربیہ کا سلطان یا امور حج میں اس کا نائب وہ ہوتا ہے جس کے معتقد ات اہل سنت و جماعت کے معتقدات سے الگ ہوتے ہیں تو کیا عرفات میں ظہر وعصر کو ملا کر پڑھنا جائز ہو گا ؟
امید کہ تسلی بخش جوابات سے شاد کام فرمائیں گے۔

 

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲/سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

(۱)فضاء میں اڑتے جہاز پر نماز پڑھنے کا یہی حکم ہے جو کشتی پر نماز پڑھنے کا ہے یعنی قبلہ رو ہو کر نماز پڑھے،رکوع و سجدہ کے ساتھ بیٹھ کر بھی پڑھنے کی اجازت ہے مگر افضل یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اوراعادہ واجب نہیں۔

(۲) ٹھہرے ہوئے جہاز پر نماز پڑھنے کا وہی حکم ہے جو تخت پر نماز پڑھنے کاہے۔

(۳)باقی یہ صورتیں زیر غور ہیں کہ موجودہ حالات میں ٹرینوں کے سفر میں مذہب شافعی کے مطابق اسٹیشن پر یارکی ہوئی ٹرین پر دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔

(۴)اسی طرح چلتی ٹرین سے اترنے میں جبکہ ضیاع جان و مال کا خطرہ ہوتو ٹرین میں پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ بمعنی قضاہے یا بمعنی وجوب احتیاطی ۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم

نوٹ: اس میں جو صورتیں موقوف رکھی گئیں تھیں ان کا ۲۰۰۹ءکے فقہی سیمینار میں فیصلہ کردیا گیا ہے ۔ملاحظہ فرمائیں:

(۱)ٹرینوں پر نماز کے جواز و عدم جواز سے متعلق بحثوں کے بعد طے ہوا کہ ٹرینوں کا روکنا و چلانا اختیار عبد میں ہے اس میں اعذار معتبرہ فی التیمم میں سے کوئی عذر متحقق نہیں ہے کہ چلتی ٹرینوں پر فرض و واجب ادا کرنے سے اسقاط فرض و واجب ہوسکے۔ لہٰذا وقت جارہا ہو تو جس طرح پڑھنا ممکن ہو پڑھ لے جب موقع ملے اسے دوبارہ پڑھے۔

(۲)اعلیٰ حضرت کے زمانے سے لیکر آج تک ٹرینوں کے چلنے، رکنے اور ٹرینوں سے اترنے اور اس پر چڑھنے وغیرہ کے حالات میں کوئی تغیر نہیں ہوا ہے اس لئے ان کے فتوے سے عدول کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

نوٹ:گیارہویں فقہی سیمنار کے   موقع پر اس عنوان کے تحت مزید کچھ بحث ہوئی ملاحظہ فرمائیں۔

ہوائی جہاز و ٹرین پر نماز کامسئلہ:

شرعی کونسل آف انڈیا کے دسویں فقگی سیمینار میں مندوبین کرام کے درمیان ہوائی جہاز اور ٹرین پر نماز کے مسئلے پر بحث ہوئی اور یہ طے پایا کہ شرعی کونسل کے پہلے اور چھٹے فقہی سیمینار میں جو فیصلہ کیا جا چکا ہے وہی فقہ حنفی میں صحیح و درست ہے، لہٰذا اسی فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے، مسلمان حنفی مقلدین اسی حکم پر عمل کریں۔

(۱)فضاء میں اڑتے جہاز پر نماز پڑھنے کا یہی حکم ہے جو کشتی پر نماز پڑھنے کا ہے یعنی قبلہ رو ہو کر نماز پڑھے، رکوع و سجدہ کے ساتھ بیٹھ کر بھی پڑھنے کی اجازت ہے مگر افضل یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے اور اعادہ واجب نہیں۔

(۲) ٹھہرے ہوئے جہاز پر نماز پڑھنے کا وہی حکم ہے جو تخت پر نماز پڑھنے کا ہے۔

(۳)ٹرینوں پر نماز کے جواز و عدم جواز سے متعلق بحثوں کے بعد طے ہوا کہ ٹرینوں کا روکنا و چلانا اختیار عبد میں ہے اس میں اعذار معتبرہ فی التیمم میں سے کوئی عذر متحقق نہیں ہے کہ چلتی ٹرینوں پر فرض و واجب ادا کرنے سے اسقاط فرض وواجب ہو سکے۔ لہٰذا وقت جارہا ہو تو جس طرح پڑھنا ممکن ہو پڑھ لے جب موقع ملے اسے دوبارہ پڑھے۔

اعلیٰ حضرت کے زمانے سے لے کر آج تک ٹرینوں کے چلنے، رکنے اور ٹرینوں سے اترنے اور اس پر چڑھنے وغیرہ کے حالات میں کوئی تغیر نہیں ہوا ہے اس لئے ان کے فتوے سے عدول کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

نوٹ:چلتی ٹرین پر فرض وواجب نمازوں کے عدم جواز کا فتویٰ زمانۂ اعلیٰ حضرت سے اب تک باتفاق علمائے اہل سنت بلا انکارو اختلاف سب کے نزدیک مقبول و معمول رہا ہے اور بے وجہ شرعی اس کی مخالفت موجب تفریق و ہیجان ہونے کے ساتھ فساد نماز کا سبب بھی ہے۔ اور ایک امر متفق علیہ کا خلاف بھی ہے۔

(یہ مسئلہ سفر میں جمع بین الصلوٰتین کے ضمن میں زیر بحث آیا تھا جس کے کچھ گوشے پہلے سیمینار میں اور کچھ چھٹے فقہی سیمینار میں فیصل ہوگئے تھے، اس کے باوجود مجلس شرعی مبارکپور میں موضوع سخن بناکر اس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تو دوبارہ دسویں فقہی سیمینار کے مندوبین کرام نے غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد وہی حکم صادر فرمایا جو حکم دیا جا چکا تھا ۔ البتہ اس میں ایک نوٹ کے تحت مختصر اور جامع عبارت کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اویسی غفرلہٗ)(مرتب فیصلہ جات مفتی یونس رضامونس اویسی مدظلہٗ)

Menu
error: Content is protected !!