پہلا فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۶؍۱۷؍رجب المرجب ۱۴۲۵ھ ؍مطابق ۲؍۳؍ستمبر۲۰۰۴ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۲- نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

’’لاؤڈ اسپیکر‘‘ آواز کی ترسیل کا ایک آلہ ہے ، جس کو ایجاد ہو ئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہے ، اسے عہد جدید کی پیداوار بھی کہا جا سکتا ہے ۔ متکلم کی آواز کو دور تک پہنچانے کے خواہش مند حضرات اسے رزم و بزم میں بے دریغ استعمال کرتے ہیں … لیکن …یہ آلۂ مکبر الصوت اس وقت سے علماء و فقہا کے مابین بحث و نظر کا موضوع بن گیا ، جب عہد جدید کی تہذیب کے دلدادہ حضرات نے اسے حرم مسجد تک پہنچایا، اور صورت حال یہ پیدا ہو گئی کہ بعض مساجد کے امام نے از خود …یا …پھر ارکان مسجد کے جبر و دباؤ سے نماز میں اپنی قراء ت و تکبیر ات کو دور ونزدیک کے مقتدیوں کو سنانے کا ذریعہ بنالیا ۔ پھر یہ مسئلہ علمائے کرام و مفتیان عظام کی خدمت میں پیش ہوا، مگر غور و فکر کے بعد بھی کسی ایک حکم پر اجماع و اتفاق نہ ہو سکا ۔ اور مسئلہ نزاعی ہی رہا۔ چنانچہ …لاؤڈ اسپیکر سے سنی جانے والی آواز کے تعلق سے ہند و پاک کے علماء کے دو مختلف نقطہائے نظر سامنے آئے ۔

بعض حضرات علماء نے لائو ڈ اسپیکر کی آواز کو عین آواز متکلم قرار دے کر اس پر انتقالات ارکان (رکوع و سجدہ)کر نے والوں کی نماز کو صحیح و درست ٹھہرایا ۔ جبکہ بیشتر حضرات علما نے لاؤڈاسپیکر سے مسموع آواز کو غیر آواز متکلم قرار دیا ۔ اور اس پر انتقالات ِ ارکان کر نے والوں کی نماز بوجہ تلقن من الخارج فا سد قرار دی۔

یہ مسئلہ اکابر علماکے پر دہ فرمانے کے بعد بھی جزوی طور پر نزاعی رہا۔ اور اب بھی ہے ، اس مسئلہ کی عملی صورت حال یہ ہے کہ بعض شہروں میں مسجدوں کے اندر لاؤڈاسپیکر پر نماز پڑھائی جا تی ہے ، اور نہ پڑھانے کی صورت میں فتنۂ و فساد تک کی نوبت آجاتی ہے ، بلکہ بعض ناخواندہ لوگ غیروں کی اقتدا تک کر لیتے ہیں ۔دوسری جانب آواز کی غیریت اور تکبیر کی سنت کے مردہ ہو نے کے پہلو کے علاوہ لائوڈ اسپیکر کے استعمال میں کم از کم دوبڑی خرابیاں پیدا ہو تی ہیں ۔ یا اس کا قوی امکان رہتا ہے۔

(۱)جہاں دو مسجد یں قریب قریب ہو تی ہیں وہاں ایک مسجد کے امام کی آواز دوسری مسجد کے مصلیان بآ سانی سن لیتے ہیں اور وہ یہ امتیاز نہیں کر پاتے کہ یہ ہمارے امام کی آواز ہے یا دوسرے امام کی؟ نتیجہ کے طور پر دوسرے امام کی آواز پر انتقالات ارکان کر لئے جاتے ہیں ۔ جو مفسد نماز ہے ۔

(۲)لاؤڈ اسپیکر مشین کا عین حالت نماز میں بگڑ جانا کوئی نادر بات نہیں ، جس کے نتیجے میں خلفشار و اضطراب کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور نوبت نماز کے فساد تک جا پہنچتی ہے ۔

ان حالات کے تناظر میں ’’شرعی کونسل‘‘ نے فیصلہ کیا کہ از سر نو اس مسئلہ پر کھلے ذہن و فکر سے غور و فکر کیا جائے اور دلائل و شواہد کی روشنی میں مسئلہ کے تما م پہلوؤں کا جائزہ لیکر صحیح فقہی نقطۂ نظر واضح کیا جائے ۔ اس تعلق سے آپ حضرات کی خدمت مبارکہ میں درج ذیل سوالات پیش ہیں ۔

(۱)لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز ہے ؟ یا اس کی آواز کے مشابہ کوئی نئی آواز ہے،یا صدائے بازگشت ہے؟ اس تعلق سے سائنس جدید کی تحقیقات کے مطا لعہ سے آپ کس نتیجہ پر پہنچے ہیں ؟ اور بہر صورت اس کی آواز پر نماز میں انتقالات ارکان کر نے والوں کی نماز درست ہو گی یا فاسد؟ مدلل بیان فرمائیں۔

(۲)اگر نماز فاسد ہو تو کیا موجودہ دور میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں اسباب ستہ میں سے کوئی ایک یا چند اسباب متحقق ہو چکے ہیں ؟ اور کیااس تحقق سبب کی بنا پر صحت نماز کا حکم دیا جائے گا ؟

امید کہ ان دونوں سوالوں کے تشفی بخش جواب سے ہمیں ممنون فرمائیں گے ۔

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

(۱)لاؤڈاسپیکر کی آواز متکلم کی عین آواز نہیں ہے ، اس لئے محض لائوڈا سپیکر سے مسموع آواز پر اقتدا ہم احناف کے نزدیک صحیح نہیں، بالفرض یہ آواز ماہیت کے اعتبار سے متکلم کی آواز بھی ہو تو بھی حکماًیہ اصل آواز نہیں لہٰذا ا ب بھی محض اس آواز پر اقتدا درست نہیں ہو گی ۔

(۲)جہاں کہیں نماز میں لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر لوگ جبر کریں وہاں مکبّرین کا بھی انتظام کیا جائے اور مقتدیوں کو مسئلہ کی صورت سے آگاہ کرتے ہو ئے ہدایت کی جائے کہ وہ لائوڈاسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کرکے مکبّرین کی آواز پر اقتداکریں ۔

(۳)اسی طرح مکبّرین کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ بھی لائوڈ اسپیکر کی آواز پر اقتدا نہ کریں۔

(۴)کہیں مکبّر مقرر کر نے کی بھی صورت نہ بنے تو امام مسئلہ بتادے وہ اس بنا پر امامت سے مستعفی نہ ہو۔واللہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!