پہلا فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۶؍۱۷؍رجب المرجب ۱۴۲۵ھ ؍مطابق ۲؍۳؍ستمبر۲۰۰۴ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳– اجارۂ تراویح 

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

ملک کے طول و عرض میں تراویح میں ختم کلام اللہ شریف کا جو معھود و معلوم اور معتاد و متعارف طریقہ ہے وہ اظہر من الشمس ہے بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں قرآن مجید سننے و سنانے پر اجرت لینا و دینا شائع ہے بلکہ بعض مقامات پر مقدار اجرت بھی معلوم و معین ہوتی ہے اور اس سے کم کی ادائیگی باعث نزاع ہو تی ہے ۔ عام حفاظ کی عادت معروفہ یہی ہے کہ انہیں کچھ نہ ملے تو نہ سنائیں اور عامہ مسلمین کا بھی یہی شیوۂ عمل ہے کہ اگر نہ سنائیں تو کچھ نہ دیں اور شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ ہے: ’’المعھود عرفا کا لمشروط لفظا ‘‘۔

بہر حال قابل غور امر یہ ہے کہ یہ طاعات و عبادات و حسنات پر اجرت ہے اور اس باب میں اصل یہ ہے کہ یہ اجارہ نا جائز و حرام ہے اس امر پر متقدمین و متا خرین تمام فقہائے کرام کا اتفاق ہے ہاں متاخرین فقہائے عظام نے بنا چاری و مجبوری بنظر حال زمانہ شعائر دین کی بقا کے لئے چند چیزوں کا استثنا فرمایا اور ان پر اجارہ جائز فرمایا۔ جیسا کہ’’ شرح و قایہ‘‘ میں ہے:’’والأ صل عندنا أنہ لا یجوز الإجارۃ علی الطاعات ولا علی المعاصی لکن لما وقع الفتور فی الامور الد ینیۃ یفتی بصحتہا لتعلیم القرآن والفقہ تحرزا عن الا ند راس‘‘ (شرح وقایہ باب الإجارۃ الفاسدۃ ص ۳۰۲)

’’مجمع الانہر‘‘ میں ہے :’’ولا یجوز أخذ الا جرۃ عندالمتقد مین علی الطاعات کالاذان و الحج والإمامۃ والتذکیرو التدریس والغز و و تعلیم القرآن والفقہ و قراء تھما أوالمعاصی کا لغناء والنوح والملا ہی و یفتی الیوم بجواز أخذالا جرۃ علی الامامۃ و تعلیم القرآن والفقہ والأذان کما فی عامۃ المعتبرات وھذ ا علی مذہب المتأ خرین من مشایخ بلخ استحسنوا ذالک وقالو ا بنی أصحابنا المتقدمون الجواب علی ما شا ہد وامن قلۃ الحفاظ و رغبۃ الناس فیہم وکانت لہم عطیات من بیت المال وافتقاد من المتعلمین فی مجازاۃ الاحسان بالإحسان من غیر شرط مروئۃ یعینو نہم علی معاشہم ومعادہم وکانوا یفتون بوجوب التعلیم خوفا من ذہاب القرآن و تحریضا علی التعلیم حتی تنہضوا لإِقامۃ الواجب فتکثر حفاظ القرآن وأماالیوم فذہب ذالک کلہ وان قطعت العطیات من بیت المال بسبب استیلاء الظلمۃ واشتغل الحفاظ بمعاشہم وقلمایعلمون الحسبۃ ولایتفرغون لہ أیضافان حاجتہم یمنعہم من ذالک فلولم یفتح باب التعلیم بالأجر لذہب القرآن فأفتوابجوازہ لذالک ورأوہ حسنا وقالواالاحکام قد تختلف با ختلاف الزمان ألایری أن النساء کن یخر جن الی الجماعات فی زمانہ علیہ الصلاۃ والسلام وزمان أبی بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حتیٰ منعہن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وا ستقرالأ مر علیہ وکان ذالک ہوالصواب کما فی التبیین وفی النہایۃ یفتی بجوازالا ستیجار علی تعلیم الفقہ أ یضافی زماننا وفی الخانیۃ خلافہ تتبع وفی المجمع یفتی بجواز الا ستیجار علی التعلیم والفقہ والإمامۃ کذافی الذخیرۃ والروضۃ ولا یجوز استیجار المصحف و کتب الفقہ لعدم التعارف کما فی شرح الکنز للعینی۔‘‘(ملخصامجمع الأنہر ۲/۴ ۳۸/۳۸۵)

خاتمۃ المحققین علامہ محمد امین ابن عابد ین شامی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’الأصل أن کل طاعۃ یختص بہا المسلم لایجوزالاستیجار علیہا عندنا قال فی الہدایۃ و بعض مشایخنا رحمہم ﷲ تعالیٰ استحسسنواالاستیجار علی تعلیم القرآن لظہور التوانی فی الأمورالدینیۃ ففی الامتناع تضییع حفظ القرآن وعلیہ الفتوی اہ و قد اقتصر علی استثناء تعلیم القرآن أیضا فی متن الکنز ومتن مواہب الرحمن وکثیر من الکتب و زاد فی مختصر الوقایۃو متن الإصلاح تعلیم الفقہ و زادفی متن المجمع الإمامۃ و مثلہ فی متن الملتقی و دررالبحار وزاد بعضہم الأذان والإقامۃ والوعظ وذکرالمصنف معظمہا ولکن الذی فی أکثرا لکتب الا قتصار علی مافی الہدایۃ فہذا مجموع ما أفتی بہ المتأخرون من مشایخنا وہم البلخیون علی خلاف فی بعضہ مخالفین ماذہب إلیہ الإمام وصاحباہ وقداتفقت کلمتہم جمیعافی الشروح والفتاوی علی التعلیل بالضرورۃ وہی خشیۃ ضیاع القرآن کما فی الہدایۃ وقد نقلت لک مافی مشاہیر متون المذہب الموضوعۃ للفتوی فلاحاجۃ إلی نقل مافی الشروح والفتاوی وقداتفقت کلمتہم جمیعا علی التصریح بأصل المذہب من عدم الجواز ثم استثنوابعدہ ما علمتہ فہذا دلیل قاطع و برہان ساطع علی أن المفتی بہ لیس ہو جواز الا ستیجار علی کل طاعۃ بل علی ماذکروہ فقط مما فیہ ضرورۃ ظاہرۃ تبیح الخروج من أصل المذہب من طرو المنع۔ ملخصا ً( شامی ۵/۳۵ مکتبہ نعمانیہ، باب الإجارۃ الفاسدۃ)

مندرجہ بالا مضامین سے ملتا جلتا مضمون مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے :

(۱) بدائع الصنائع ۴/۴۴و۴۵باب الاستیجار علی الطاعۃ

(۲) تبیین الحقائق۵/۱۲۴و۱۲۵ باب الاجارۃ الفاسدۃ

(۳) شلبی ۵/۱۲۴ باب الاجارۃ الفاسدۃ

(۴) البحرالرائق ۸/۱۹و۲۰- مکتبہ رشیدیہ پاکستان باب الاجارۃ الفاسدۃ۔

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ فرماتے ہیں: ’’اصل یہ ہے کہ طاعات و عبادات پر اجرت لینا دینا سوائے تعلیم قرآن عظیم و علوم دین و اذان و امامت وغیرہا معدود ے چند اشیاء کہ جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری و مجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھامطلقا حرام ہے اور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب و ذکر شریف میلاد پاک حضور سید عالم ﷺ ضرور منجملہ عبادات و طاعات ہیں تو ان پر بھی اجارہ ضرور حرام و محذور ‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ ۸/۱۵۹ سنی دارالاشاعت )

نیز امام احمد رضا قدس سرہٗ نے عامہ مسلمین کو امر حرام سے بچانے کے لئے اس اجارہ کی صحت و حلت کے دو طریقے ذکر فرما ئے جیسا کہ رقمطراز ہیں:
’’پس اگر قرار داد کچھ نہ ہو وہاں لین دین معہود ہوتا ہو تو بعد کو بطور صلہ وحسن سلوک کچھ دیدینا جائز بلکہ حسن ہوتا ہل جزاء الاحسان الا الاحسان وﷲ یحب المحسنین،مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے ، تو صورت ثانیہ میں داخل ہو کر حرام محض ہے اب اس کے حلال ہونے کے دو طریقے ہیں:

اول :یہ کہ قبل قراءت، پڑھنے والے صراحۃ ًکہ دیں کہ ہم کچھ نہیں لیں گے پڑھوانے والے صاف انکار کردیں ، کہ تمہیں کچھ نہ دیا جائے گا ، اس شرط کے بعد وہ پڑھیں اور پھر پڑھوانے والے بطور صلہ جو چاہیں دیدیں یہ لینا دینا حلال ہوگا۔

لانتفاء الاجارۃ بوجہیہا، امااللفظ فظاہرواماالعرف فلانہم رضواعلی نفیہا والصریح یفوق الدلالۃ، فلم یعارضہ العرف المعہود کما نص علیہ الامام فقیہ النفس قاضی خاں رحمہ ﷲ تعالیٰ فی الخانیۃ وغیرہ فی غیرہا من السادۃ الربانیۃ

دوم :پڑھوانے والے پڑھنے والوں سے بہ تعیین وقت و اجرت ان سے مطلق کا ر خدمت پر پڑھنے والوں کو اجارے میں لے لیں۔مثلاً یہ ان سے کہیں ، ہم نے کل صبح سات بجے سے بارہ بجے تک بعوض ایک روپیہ کے اپنے کام کاج کے لئے اجارہ میں لیا، وہ کہیں ہم نے قبول کیا، اب یہ پڑھنے والے اتنے گھنٹوں کے لئے ان کے نوکر ہو گئے ، وہ جو کام چاہیں لیں، اس اجارہ کے بعد وہ ان سے کہیں ، اتنے پارے کلام اللہ شریف کے پڑھ کر ثواب فلاں فلاں کو بخش دو، یا مجلس میلاد پاک پڑھ دو، یہ جائز ہو گا اور لینا دینا حلال لا ن الاجارۃ و قعت علی منافع أبدانہم لا علی الطاعات والعبادات۔ (فتاوی رضویہ ۸/۱۵۹و۱۶۰سنی دارالاشاعت)

مذکورمضامین کی ترجمانی فتاوی رضویہ میں مندرجہ ذیل جگہوں پر بھی ہے:
(۱) فتاویٰ رضویہ ۸/۱۸۵سنی دارالاشاعت
(۲) فتاویٰ رضویہ۸/۱۵۹ سنی دارالاشاعت
(۳)فتاویٰ رضویہ۸/۱۶۳ سنی دارالاشاعت۔

فقیہ اعظم ہند حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: ’’آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں اجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگر چہ اس سے کچھ طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ ’’المعروف کا لمشروط‘‘ ہاں اگر کہدے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ ’’الصریح یفوق الدلالۃ‘‘۔ (بہار شریعت ج ۴ص ۲۵ فاروقیہ بکڈپو دہلی)

فقیہ فقید المثال سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ و حضور صدر الشریعہ و دیگر فقہائے اعلام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصریحات و تحقیقا ت سے یہ حقیقت آفتاب روز روشن سے زیادہ عیاں وآشکار ا ہے کہ طاعات و عبادات و حسنات پر اجرت لینا و دینا علی الاطلاق ناجائز و حرام و باطل محض ہے الاٰخذ والمعطی اٰثمان مگر متاخرین ائمہ دین متین نے حالات زمانہ دیکھ کر اس میں چند چیزیں بضرورت مستثنیٰ فرمائیں امامت ، اذان،تعلیم قرآن مجید، تعلیم فقہ و وعظ کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں ان پانچ چیزوں کے سوا باقی طاعات و عبادات و حسنات پر اجرت لینا و دینا حرام و باطل ہے اور انہیں طاعات میں سے نماز تراویح میں تلاوت قرآن عظیم بھی ہے جو عامہ بلاد مسلمین میں معاوضہ کے ساتھ جاری ہے متاخرین و متقدین میں فقہائے کرا م نے آج تک اس اجارہ کے ناجائز و حرام ہو نے کا فتویٰ دیا۔

اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: ’’وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا‘‘۔ ( البقرہ:۴۱)

نیز فرمایا: ’’ أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ‘‘ (الطور:۴۰)

نیز فرمایا: ’’وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‘‘ (یوسف:۱۰۴)

 حدیث میں وارد ہے: ’’اقر ؤاالقرآن ولا تا کلوابہ‘‘ ۔

( ذخیرۃ العقبی ج ۳/۵۱۵کتاب الاجارۃ الفاسدۃ و شامی ج ۵/۳۵ باب الاجارۃ الفاسدۃ)

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ نے بغرض ایصال ثواب اجرت پر تلاوت کلام اللہ شریف پڑھنا اور پڑھوانا دونوں ناجائز فرما یا اور یہ کہ جو حافظ اس کا پیشہ رکھے فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ اسے امام بنانا گناہ اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی ہو اس کا پھیرنا واجب مگر بایں ہمہ اس اجارہ کی حلت کے دو طریقے بھی ارقام فرمائے کما سبق تحقیقہ، نماز تراویح میں تلاوت قرآن عظیم پر اجارہ ، اجارہ تلاوت کلام اللہ شریف بغرض ایصال ثواب کی نظیر ہے جس سے اس کاحکم أوضح من الامس ہے کہ یہ اجارہ معروفہ بھی باطل و حرام ہے اور اس اجارہ کی حرمت و بطلان پر تمام ائمہ متقدین و متاخرین کا اتفاق بھی ہے نیز ایسے حفاظ اور ان کی اقتدا میں ادا کر دہ نماز کا حکم بھی ظاہر و باہر ہے مگر فقہائے کرام فرماتے ہیں: ’’کم من حکم یختلف باختلاف الزمان ‘‘ ’’وفی نزع الناس عن عاد ا تہم حرج ‘‘

نیز اللہ عز وجل کا ارشاد ہے ’’وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ‘‘(الحج:۷۸)

’’يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ‘‘(البقرۃ:۱۸۵)

حدیث شریف میں فرمایا گیا: ’’بشروا ولا تنفروا یسروا ولا تعسروا‘‘

جزئیات فقہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت روز روشن سے بھی آشکار ا ہے کہ بہت سے امور اصل مذہب کے اعتبار سے ناجائز و حرام تھے مگر بعد میں فقہائے کرام نے اختلاف احوال اور تغیر زمان کے پیش نظر اسباب ستہ (ضرورت و حاجت، و دفع حرج و عموم بلوی ، و تعامل و دینی ضروری مصلحت کی تحصیل ، و دفع فساد مظنون بظن غالب ) کو تخفیف احکام کا مدار قرار دیا اس کے کچھ شواہد گذشتہ سطور میں گزرے اسفارفقہ میں دیگر احکام بھی شاہد عدل ہیں امت مسلمہ کے لئے آسانی کی راہ پیدا کرنا اور انہیں ابتلائے آثام و ارتکاب معاصی و ابطال عمل سے بچانا علمائے دین متین و مفتیان اسلام کی اہم ذمہ داری ہے اس لئے درج ذیل سوالات غور طلب ہیں۔

(۱)نماز تراویح میں تلاوت کلام اللہ شریف پر اجرت لینا و دینا کیا اب بھی ناجائز و حرام ہی ہے ؟ یا اختلاف احوال کے سبب اب ان طاعات و عبادات خمسہ کے بطور جائز و حلال ہے جنہیں فقہائے متاخرین نے بضرورت بنظر حال زمانہ جائز فرمایا ؟

(۲)امام احمد رضا قدس سرہٗ نے بغرض ایصال ثواب تلاوت قرآن پاک کی اجرت کے حلال ہو نے کا جو طریقہ تحریر فرمایا اس طور پر یہ اجارہ صحیح ہوگا؟ اور اجرت لینا ودینا حلال و طیب ہوگا؟ اور یہ اجارہ طاعات و عبادات پر نہیں بلکہ حافظوں کے منافع ابدان پر ہو گا ؟ اس اجارہ کے جواز کی اور بھی کوئی صورت             ہے ؟

(۳)بعض مساجد میں حفاظ قرآن کی صحیح خوانی کے لئے سامع قرآن بھی رکھا جاتا ہے اور اس خدمت پر سامع کو اجرت معین یا غیر معین دی جاتی ہے کیا یہ ناجائز و حرام ہے یا جائز و حلال ہے ؟

(۴)بعض مساجد میں ائمہ مساجد جن کی اجرت امامت مقرر و طے شدہ ہو تی ہے وہی تراویح میں ختم قرآن شریف بھی کر تے ہیں اور انہیں اجرت امامت پر مزید اجرت ( معین یا غیر معین ) دی جا تی ہے کیا یہ ناجائز و حرام ہے ؟ یا اس کے جواز کی کوئی راہ ہے ؟ جبکہ ائمہ مساجد اگر تراویح نہ بھی سنائیں پھر بھی انہیں اجرت امامت سے کچھ زائد ہی دیا جاتا ہے مگر عموماً جتنا حافظ قرآن کو دیا جا تا ہے اس سے کچھ کم ہی ۔

(۵)بعض مساجد میں ائمہ مساجد تراویح میں ختم کلام اللہ شریف کے بجائے حفاظ قرآن کی صحیح خوانی کی سماعت پر مامور ہو تے ہیں اور اس مقررہ عمل پر اجرت امامت سے زائد اجرت ( معین یا غیر معین) پیش کی جاتی ہے اگر ائمہ مساجد اس خدمت پر مامور نہ ہوں بلکہ کوئی دوسرا ، تو یہ مقدار اجرت دوسرا ہی پائے نہ کہ ائمہ مساجد ، کیا یہ اجرت سماعت کلام اللہ شریف ائمہ مساجد کے لئے بھی ناجائز و حرام ہے یا حلال و طیب؟

(۶)کیا مسئلہ دائرہ میں تعامل کی تاثیر موجب تخفیف ہے؟

درج بالا امور میں غورو فکر اور امعان نظر کے بعد اصابت رائے سے حل کی ایسی راہ متعین کی جائے جس پر عامہ مسلمین کے لئے عمل میں آسانی ہو اور ارتکاب حرام و ابتلائے آثام وابطال عمل وغیرہ لازم نہ ہو لعل اللہ یحدث بعد ذلک أمرا وما ذلک علی اللہ بعزیز و ہو علی کل شیٔ قدیر ۔

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

(۱)اصل مذہب کے مطابق تراویح میں تلاوت قرآن پر اجرت لینا دینا ناجائز و حرام ہے ۔خواہ اجرت معلوم ہویا مجہول ، ہاں یہ صورت اپنائی جائے کہ تراویح پڑھوانے والے، پڑھنے والے حفاظ کو معین وقت اور معین اجرت پر اجیر رکھ لیں ، مثلاً یہ کہیں کہ سات بجے شام سے ۱۱؍بجے رات تک اتنے دنوں کے لئے پانچ ہزار روپئے پر آپ کو اجارہ میں لیااور حافظ کہے کہ میں نے قبول کیا اور حافظ سے تراویح پڑھواکر اسے مقررہ اجرت دی جائے ۔ اس کے بعد کچھ لوگ اپنے طور پر نذرانہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں اس میں حرج نہیں بلکہ ثواب ہے ۔

(۲)مسجد کے معین امام کو بھی فرض عشاء کے بعد مثلاً ۹؍بجے سے ۱۱؍بجے رات تک بطور اجیر مقرر کیا جائے پھر ان سے تراویح پڑھوائی جائے تو جائز ہے اس طرح وقت خاص کی جواجرت طے ہو گی معین امام کے لئے لینا جائز ہوگا۔

(۳)مذکورہ بالا حکم حافظ سامع (جولقمہ دینے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں) ان کے لئے بھی ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!