پہلافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۶؍۱۷؍رجب المرجب ۱۴۲۵ھ ؍مطابق ۲؍۳؍ستمبر۲۰۰۴ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:طلاقِ ثلاثہ

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

شرعی کونسل آف انڈیا،بریلی شریف کا ایک اہم فیصلہ

ہندوستان کے اسی فیصد سنی حنفی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ’’شرعی کونسل آف انڈیابریلی شریف‘‘ کا یہ فقہی اجلا س اس طے شدہ امر پر اتفاق کرتا ہے کہ ایک نشست میں ’’تین طلاق‘‘ تین ہی واقع ہو نگی ۔حدیث صحیح مرفوع سے یہی ثابت ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ٔ خلافت میں اس پر صحابۂ کرام کا اجماع بھی منعقد ہو چکا ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک تمام امت اجابت کا اسی پر اجماع و عمل ہے۔

’’ مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ یا اور کسی تنظیم کو یہ حق ہرگزحاصل نہیں کہ وہ اس اجماعی مسئلہ میں کوئی تبدیلی کرے اور نہ ہی وہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم یا نمائندہ بورڈ ہے۔

البتہ عوام کویہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ طلاق دینے میں عجلت سے کام نہ لیں اور بوقت ضرورت ایک طہر میں ایک سے زیادہ طلاق ہر گز نہ دیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

نوٹ: ؁۲۰۰۴ء میں یہ مسئلہ الیکڑانک و پرنٹ میڈیا میں چھایا ہوا تھا کہ ایک بار میں ’’تین طلاق‘‘ تین ہوگی یا ایک کچھ زرخرید حضرات نے اجماعی مسئلہ میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جسے علمائے اہل سنت نے ناکام کردیا اور وہی اجماعی حکم جاری کر دیا ۔ یہ اجماعی مسئلہ شرعی کونسل کا موضوع بحث نہیں             تھا ۔ (مرتب فیصلہ جات شرعی کونسل حضرت علامہ مفتی یونس رضا مونس اویسی مدظلہٗ)

 

Menu
error: Content is protected !!