دسواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۳؍ ۱۴؍ ۱۵ ؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ مطابق ۲۴؍۲۵؍۲۶؍جون ۲۰۱۳؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱-آرٹی فیشیل(مصنوعی)زیورات کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت کا شرعی حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

سیم وزر کی بڑھتی قیمت کے سبب خالص زیورات اب مالدار اور رئیس خاندان کی خواتین کے ساتھ مخصوص ہوتے جارہے ہیں اور غریب عوام تو دور رہے، متوسط طبقے کی خواتین کے لیے بھی سونے چاندی کے زیورات خواب بن کر رہ گئے ہیں۔ لہٰذا زیب وزینت کی خاطر آج کل عورتوں میں آرٹی فیشیل زیورات یعنی پیتل ، تانبا، کانسہ، جست، اسٹیل ودیگر دھاتوں کے زیورات کی خرید وفروخت اور اس کے استعمال کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں مسلم وغیر مسلم عورتیں آرٹی فیشیل زیورات خریدتی اور پہنتی ہیں۔ عالمی اور ملکی بازاروں میں اس کی بڑی بڑی دکانیں پائی جارہی ہیں، ان زیورات کی دکانیں سجانے اور تجارت کرنے والوں میں ایک خاصی تعداد مسلمانوں کی بھی ہے جنھوںنے اس تجارت کو اپنا ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ جب کہ سونے اور چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات کا استعمال عورتوں کے لیے بھی ممنوع وناجائز ہے۔ مندرجہ ذیل فقہی عبارات اس پر شاہد ہیں۔

تنویر الابصار میں ہے :

’’ولایتختم بغیرہا کحجر وذہب وحدید وصفر ورصاص وزجاج وغیرہا‘‘۔

رد المحتار میں ہے:

’’وفی الجوہرۃ النیرۃ : والتختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال وللنساء‘‘۔

(ج۹ص۵۱۸)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

’’تانبا ، پیتل، کانسا، لوہاتو عورت کو بھی ممنوع ہے، اور اس سے نماز ان کی بھی مکروہ ہے‘‘۔

(ج ۹ نصف آخر ص۲۷۹ رضا اکیڈمی بمبئی)

بہارشریعت میں ہے :

’’انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے۔ دوسری دھاتوں کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل ، تانبا ، جست وغیرہا، ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مردو عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں‘‘۔

(ج۱۶ص۶۲ قادری کتاب گھر بریلی شریف)

فتاوی رضویہ میں اس سوال کے جواب میں کہ :’’کانسہ جو بشکل پیتل ہوتا ہے اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ‘‘اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں:

الجواب : کانسہ کے برتن میں حرج نہیں، اور اس کا زیور پہننا مکروہ ۔

(ج۹ص۱۳۳)

اور جب اس کااستعمال ناجائز ومکروہ ہے تو اس کابنانا ، بنوانا ، ڈھالنا، پگھلانا، اسی طرح اس کی بیع وشراء بھی ناجائز ہے۔


درمختار میں ہے:

’’فاذا ثبت کراہۃ لبسہا للتختم ثبت کراہۃ بیعہا وصیغہا لما فیہ من الاعانۃ علی مالایجوز ، وکل ما أدّی الی ما لایجوز لایجوز‘‘۔

(ج۹ص۵۱۸)

ماضی قریب کے عظیم ونامور فقیہ ومحدث ومجدد امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے ایسے ہی زیورات کی بیع کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے اس کے بیچنے پر مکروہ تحریمی کا حکم صادر فرمایا۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:

مسئلہ: ایک شخص لوہے اور پیتل کا زیور بیچتا ہے ، اور ہندومسلم سب خریدتے ہیں، اور ہر قوم کے ہاتھ وہ بیچتا ہے ، غرضیکہ یہ وہ جانتا ہے کہ جب مسلمان خریدکریںگے تو اس کو پہنیں گے تو ایسی چیزوں کا فروخت کرنا مسلمان کے ہاتھ جائز ہے یا نہیں؟

الجواب : مسلمان کے ہاتھ بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔

(ج۹نصف آخر ص۱۳۳ رضا اکیڈمی ممبئی)

فقہ حنفی کی معتمد ومستند کتاب بہارشریعت میں ہے:

’’جب ان چیزوں کی انگوٹھیاں مردو عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں تو ان کا بنانا اور بیچنا بھی ممنوع ہوا، کہ یہ ناجائز کام پر اعانت ہے‘‘۔

(ج۱۶ ص۶۲ قادری کتاب گھر بریلی شریف)

اور اسی میں ہے:

’’لوہے پیتل وغیرہ کی انگوٹھی جس کا پہننا مردو وعورت کے لیے ناجائز ہے اس کابیچنا مکروہ ہے۔ (ایضاً ص۱۰۶)مذکورہ فقہی عبارات سے واضح ہوگیا کہ آرٹی فیشیل زیورات کی بیع اور اس کااستعمال دونوں ناجائز ہے، لیکن دونوں کے عدم جواز کا حکم یکساں نہیں، بلکہ اس کے بیچنے میں جوممانعت وکراہت کا حکم ہے وہ اس کے استعمال کی بنسبت خفیف ہے‘‘۔

ردالمحتار میں ہے:

قال ابن الشحنۃ : الا أن المنع في البیع أخف منہ في اللبس،اذیمکن الانتفاع بہا في غیر ذلک ویمکن سبکہا وتغییر ہیئتہ‘‘۔

(ج۹ص۵۱۹ مکتبہ زکریا)

بہارشریعت میں ہے:

’’ہاں بیچنے کی ممانعت ویسی نہیں جیسے پہننے کی ممانعت ہے‘‘۔

(ج۱۶ص۶۳)

بلکہ اگر اس قسم کے زیورات پر سونے یا چاندی کاپانی یا اس کا خول چڑھا دیاجائے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ اور جب اس صورت میں اس کا استعمال جائز ہے تو اس کی خرید وفروخت بھی جائز ہوگی۔

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

’’لاباس بان یتخذ خاتم حدید قدلوی علیہ أو البس بفضۃ حتی لایری‘‘۔

(ج۹ ص۵۱۹مکتبہ زکریا)

درج ذیل عبارتوں سے بھی اس سلسلے میں کچھ استفادہ کیاجاسکتاہے :

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

’’ولاباس بتمویہ السلاح بالذہب والفضۃ کذا فی السراجیۃ ، ولاباس بالانتفاع بالاواني المموّہۃ بالذہب والفضۃ بالاجماع ، کذا فی الاختیار شرح المختار‘‘۔

(ج ۵ ص۴۵۳مکتبہ زکریا)

ہدایہ میں ہے:

’’ویجوز الشرب في الاناء المفضض عند أبي حنیفۃ ‘‘۔

(ج۴ ص۴۵۳)

اما م احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان سے سیم وزر کے ایک ایسے چراغ کی بابت سوال کیاگیا جس سے روشنی لینا مقصود نہ تھا، بلکہ قوتِ عمل وسرعت اثر وتنبیہ مؤکلات مقصود تھا، تو آپ نے جواب ارقام فرمایا:

’’استصباح چراغ خانہ سے مقصود ہوتاہے، یہ چراغ اس غرض کے لیے بنتا ہی نہیں۔ اور جس غرض کے لیے  بنتا ہے اس میں استعمال قطعاً متحقق ، تو استعمل فیما صنع لہ موجود ہے اور حکم تحریم سے مفر مفقود ، ہاں اگر سونے کا ملمع یاچاندی کی قلعی کرلیں تو کچھ حرج نہیں۔ علامہ عینی فرماتے ہیں: ’’اما التمویہ الذی لایخلص فلاباس بہ بالاجماع ، لانہ مستہلک فلاعبرۃ ببقائہ لونا‘‘۔

(ج۹ نصف اول ص۶)

بہر حال آرٹی فیشیل زیورات کے استعمال کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے، اور اس کاروبار میںمسلم وغیرمسلم دونوں شریک ہیں، مسلمان ویسے ہی تجارت وکاروبار میں پچھڑے ہوئے ہیں، عدم جواز کی صورت میںوہ حرج ومشقت        میں مبتلا ہوں گے۔ لیکن آیت کریمہ :

’’وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا O وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ ‘‘۔

پر اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والوں کا ایمان ہوتا ہے، تاہم حرج ومشقت کا خیال رکھنا بھی ہماری شریعت کا ایک حصہ ہے۔

نیز موجودہ دور میں جب کہ سونے چاندی کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے ۔ غریب اور متوسط طبقہ تو دور کی بات ہے خوشحال طبقہ بھی زیورات خریدنے کے لیے بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہونے لگاہے۔ اگر مصنوعی زیورات سے بالکل منع کردیاجائے اور اصلی زیورات عام لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر ہیں، تو زیورات کے باب میں ان خواتین کے احساس محرومی کاکیا عالم ہوگا؟ خصوصاً جس بہو بیٹی نے ازدواجی زندگی شروع کی ہو۔ کیا یہ محرومی ازدواجی زندگی میں مسرت وشادمانی کے بجائے حسرت ویاس کا زہر نہ گھول دے گی، دیکھنے والوں کے طعن وتشنیع کو وہ کیوں کر برداشت کرسکے گی۔ان حالات میں کچھ شروط وقیود کے ساتھ ایسے زیورات کی اگر اجازت دی جائے تو کیا شرعاً کوئی حرج لازم آئے گا۔

اسی تناظر میں ارباب ِ فقہ وافتا کی بارگاہ میں چند سوالات حاضر ہیں، امید کہ اپنے علمی وتحقیقی جوابات سے بروقت قوم مسلم کی رہنمائی فرمائیں گےاور عنداللہ ماجور ومثاب ہوں گے۔

سوالات:

(۱)مصنوعی زیورات جن پر سونے یا چاندی کاپانی نہ چڑھا یا گیا ہو خواتین کے لیے اس کا استعمال جائز ہے یا حرام یا مکروہ ؟ اور اگر سونے یا چاندی کاپانی یا خول چڑھا دیاجائے تو اب اس کے استعمال کا کیا حکم ہوگا؟

(۲) ممانعت کی صورت میں موجودہ حالات میں اس حکم میں کیا کچھ تخفیف ہوسکتی ہے؟

(۳)مصنوعی زیورات جن پر سونے چاندی کی ملمع سازی کی گئی ہویا نہ کی گئی ہوبہر صورت اس کی خریدوفروخت کا کیا حکم ہے؟اس سے حاصل شدہ مال مالِ طیب ہے یا مال خبیث؟ کیا ایسے زیورات کو بیچ کر حاصل کیا گیا مال اپنی ضروریات میںخرچ کرنا جائز ہے؟

(۴) اگر کوئی مسلمان اس قسم کے زیورات غیرمسلم سے بنوائے اور غیر مسلم ہی کے ہاتھ فروخت کرے، یا اپنی دکان میں غیر مسلم نوکر سے فروخت کرائے تو کیا اس کا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

(۵) اس تجارت کے جائز ہونے کا اگر کوئی شرعی حیلہ ہوتو اسے بھی تحریر فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرالجزاء

مفتی محمد رفیق عالم رضوی
استاذ جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف

ۘ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

 

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:آرٹی فیشیل (مصنوعی) زیورات اور ان کے استعمال کا شرعی حکم

۱۔سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات کا استعمال ناجائز و مکروہ تحریمی ہے۔

رد المحتار میں ہے:

’’والتختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء‘‘۔

[ج۹، ص۵۱۸، کتاب الحظر والاباحۃ، مکتبہ زکریا]

اور اگر ان زیورات پر سونے یا چاندی کا خول چڑھا دیا جائے تو جائز۔

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

’’لابأس بأن یتخذ خاتم حدید قد لوی علیہ او البس بفضۃ حتیٰ لا یری‘‘۔

[ج۸، ص۱۲۷، مکتبہ زکریا]

اور اگر ان پر محض سونے یا چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو تو ان کا پہننا ناجائز۔ اس لئے کہ سونے کا پانی یا چاندی کی قلعی کردینے سے اصل شیٔ کا حکم نہیں بدلتا۔

تبیین الحقائق میں ہے:

’’اما التمویہ الذی لا یخلص فلا بأس بہ بالاجماع لأنہ مستھلک فلا عبرۃ ببقائہ لوناً‘‘۔

[ج۷، ص۲۶، پوربندر]

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

سوال:وہ اشیاء جن پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہو جسے گلٹ کہتے ہیں مرد استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:کرسکتا ہے، سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں، ہاں! اگر وہ شیٔ فی نفسہٖ ممنوع ہو تو دوسری بات ہے جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔

[ج۹، ص۱۳۴]

۲۔زیورات کا استعمال مرتبۂ زینت میں ہے اور محض زینت کے لئے کسی ممنوع شرعی کی رخصت و تخفیف نہیں ہو سکتی اس لئے سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات کا استعمال مکروہ تحریمی ہی رہے گا خواہ ان پر سونے یا چاندی کا پانی وقلعی چڑھائی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

’’زینت و فضول کے لئے کسی ممنوع شرعی کی اصلاً رخصت نہ ہو سکنا بھی ایضاح سے غنی، جس پر اصل اول بدرجۂ اولیٰ دلیل وافی ورنہ احکام معاذ اللہ ہوائے نفس کا بازیچہ ہو جائیں‘‘۔

[ج۹، ص۲۰۰]

۳۔ وہ زیورات جن پر سونے یا چاندی کی ملمع سازی کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو ان کی خرید و فروخت مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ بیچنے کی ممانعت ویسی نہیں جیسے پہننے کی ممانعت ہے۔

درمختار میں ہے:

’’فاذا ثبت کراہۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا لما فیہ من الاعانۃ علیٰ ما لا یجوز۔ وکل ما ادی الیٰ مالایجوز لایجوز‘‘۔

[ج۹، ص۵۱۸، مکتبہ زکریا]

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

مسئلہ:ایک شخص لوہے اور پیتل کا زیور بیچتا ہے اور ہندو مسلم سب خریدتے ہیں اور ہر قوم کے ہاتھ وہ بیچتا ہے غرض کہ یہ وہ جانتا ہے کہ جب مسلمان خرید کریںگے تو اس کو پہنیںگے تو ایسی چیزوں کا فروخت کرنا مسلمان کے ہاتھ جائز ہے یا نہیں؟

جواب:مسلمان کے ہاتھ بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔

[ج۹، ص۱۳۳، نصف آخر]

قال ابن الشحنہ:

’’الا ان المنع فی البیع اخف منہ فی اللبس اذ یمکن الانتفاع بھا فی غیر ذالک ویمکن سبکھا وتغییر ھیئتھا‘‘۔

[رد المحتار، ج۹، ص۵۱۹، مکتبہ زکریا]

البتہ اس سے حاصل شدہ مال مال خبیث نہیں بلکہ مال طیب ہے اس پر زکوٰۃ واجب اور اسے کسی بھی جائز کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی نظیر بیع وقت اذان جمعہ ہے کہ ایسی بیع مکروہ ہے مگر مبیع و ثمن حلال ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم

۴۔جن زیورات کا پہننا مکروہ ہے ان کا بنانا اور بنوانا بھی مکروہ۔

در مختار میں ہے:

’’فاذا ثبت کراہۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا لما فیہ من الاعانۃ علیٰ ما لا یجوز۔ وکل ما ادی الیٰ مالایجوز لایجوز‘‘

[ج۹، ص۵۱۸، مکتبہ زکریا]

اور کافر نوکر سے مسلمان کے ہاتھ فروخت کرانا مکروہ و ناجائز لما فیہ من الاعانۃ علیٰ المعصیۃ کما مر۔ البتہ کفار کے ہاتھ بیچنے میں حرج نہیں ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

۵۔جن صورتوں میں ان زیورات کی خرید و فروخت اور ان کا استعمال جائز نہیں ہے ان کے جواز کا کوئی حیلہ تلاش کرنا بے سود ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!