دسواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۳؍ ۱۴؍ ۱۵ ؍رجب المرجب ۱۴۳۴؁ھ مطابق ۲۴؍۲۵؍۲۶؍جون ۲۰۱۳؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۲-قصر صلوٰۃ کے جدید مسائل اور مسافتِ سفر کی تحقیق

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 اللہ رب العزت نے اپنے بندوں پر جوعبادتیں فرض کی ہیں ان میںسب سے اہم اور افضل واعلیٰ عبادت نماز ہے جس کی ادائیگی کا سخت تاکیدی حکم دیاگیا۔ او ر قصداً ایک وقت کی نماز چھوڑنے پر شدید وعیدیں وارد ہوئیں۔ مگر اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حالت سفر میں قصر صلوٰۃ کا حکم دے کر اپنے بندوں پر حد درجہ آسانی پیدا فرمادی، ارشاد خداوندی ہے:

’’وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ ‘‘

(سورہ نساء آیت۱۰۱)

اس آیت کریمہ میں         ’’خوفِ فتنہ‘‘کی قید واقعی ہے ، احترازی نہیں۔ یعنی اُس دور میں عام طور پر سفر خوف فتنۂ کفار سے خالی نہ تھا، اس لیے یہ قید ذکر کی گئی۔ یہ مطلب نہیں کہ خوفِ فتنہ ہوتو قصر کیاجائے ورنہ نہیں۔ جیسا کہ متعدد احادیث صحیحہ سے ظاہرہے۔

مسلم شریف میں ہے:

’’عن یعلی بن امیۃ قال : قلت لعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ انما قال اللہ عزوجل (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ اِنْ خِفْتُمْ أنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) فقد أمن الناس فقال : اني عجبت مما عجبت منہ فسألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: صدقۃ تصدق اللہ بہا علیکم فاقبلوا صدقتہ‘‘۔

(مسلم شریف جلد اول صفحہ ۲۴۱ کتاب صلاۃ المسافر وقصرہامجلس برکات)

یہ بھی واضح رہے کہ اس آیت میں ’’وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الاَرْضِ‘‘ سے مطلق سفر مراد نہیں، بلکہ وہ سفر مراد ہے جو موجب قصر ہوتا ہے۔

چنانچہ الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

’’(السفر الذی تتغیر بہ الاحکام ) أی الاحکام الواجبۃ علیہ وتغیرہا قصر الصلوٰۃ واباحۃ الفطر وامتداد مدۃ المسح الی ثلاثۃ أیام وسقوط الجمعۃ والعیدین والاضحیۃ وحرمۃ خروج المرأۃ بغیر محرم‘‘۔

(الجوہرۃ النیرۃ جلد۱ صفحہ ۳۳۱ باب صلاۃ المسافر)

ہمارے فقہائے احناف نے اس سفر کی کم سے کم مدت تین دن بیان کی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

’’وأقلہا غیر مقدر عند أصحاب الظواہر، وعند عامۃ العلماء مقدر، واختلفوا فی التقدیر قال أصحابنا : مسیرۃ ثلاثۃ ایام سیر الابل ومشي الاقدام، وہو المذکور فی ظاہر الروایۃ۔‘‘

(بدائع الصنائع جلد ۱ صفحہ ۴۰۰، بیان مایصیر بہ المقیم)

قدوری میں ہے:

’’السفر الذی تتغیر بہ الاحکام أن یقصد الانسان موضعاً بینہ وبین مصرہ مسیرۃ ثلاثۃ ایام فصاعداً۔‘‘

(قدوری صفحہ ۳۰ باب صلاۃ المسافر)

مبسوط للشیبانی میں ہے:

’’قلت: أرأیت المسافر ہل یقصر الصلاۃ في أقل من ثلاثۃ أیام ؟ قال : لا، قلت: فان سافر مسیرۃ ثلاثۃ ایام فصاعداً ؟ قال: یقصر الصلوٰۃ حین یخرج من مصرہ۔‘‘

(المبسوط للشیباني جلد ۱صفحہ ۲۶۵، باب صلاۃ المسافر)

بہارشریعت میں ہے:

’’شرعاً مسافر وہ شخص ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادے سے بستی سے باہر ہوا ‘‘ ۔

(حصہ چہارم ص۶۷)

مذکورہ بالا جزئیات سے واضح ہے کہ احناف کے نزدیک موجب قصر تین دن کا سفر ہے۔ جس کو پیدل چل کر یا اونٹ پر سوار ہوکر اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کی تکمیل کے ساتھ پورا کیاجاسکے۔ متأخرین فقہائے کرام نے مسلمانوں کی سہولت کے لیے اس بات کا اندازہ لگایا کہ یہ مسافت کتنے فرسخ میں طے کی جاسکتی ہے تو اس میں اقوال مختلف ہوگئے۔ بعض فقہاء نے اس مسافت کو ۲۱؍فرسخ اور بعض نے ۱۵ ؍ فرسخ قرار دیا،جب کہ بعض نے۱۸ ؍فرسخ کاقول کیا، اوریہی مفتی ٰبہ ہے۔

(کفایہ مع فتح القدیرج۲ص۵)

رد المحتار میں ہے:

’’قال فی النہایۃ : أی التقدیر بثلاث مراحل قریب من التقدیر بثلاثۃ ایام لان المعتاد من السیر فی کل یوم مرحلۃ واحدۃ خصوصاً فی أقصر أیام السنۃ کذا فی المبسوط اھـ وکذا فی الفتح من أنہ قیل یقدّر بواحد وعشرین فرسخاً وقیل بثمانیۃ عشر وقیل بخمسۃ عشر، وکل من قدّر منہا اعتقد أنہ مسیرۃ ثلاثۃ أیام اھـ۔ ای بناء علی اختلاف البلدان فکلُّ قائل قدر ما فی بلدہ من أقصر الایام او بناء علی اعتبار اقصر الایام أو أطولہا او المعتدل منہا۔ وعلی کل فہو صریح بان المراد بالایام ما تقطع فیہا المراحل المعتادۃ فافہم۔‘‘

(رد المحتار ۲؍۱۲۳باب صلاۃ المسافر،مطبع کراچی)

اسی میں ہے:

’’(قولہ ولا اعتبار بالفراسخ) الفرسخ ثلاثۃ أمیال والمیل أربعۃ آلاف ذراع علی ما تقدم فی باب التیمم(قولہ علی المذہب) لان المذکور فی ظاہر الروایۃ اعتبار ثلاثۃ ایام کما فی الحلیۃ وقال فی الہدایۃ : ہو الصحیح احترازاً عن قول عامۃ المشائخ من تقدیرہا بالفراسخ، ثم اختلفوا فقیل : واحد وعشرون وقیل ثمانیۃ عشر، وقیل خمسۃ عشر والفتویٰ علی الثانی لأنہ الاوسط۔ وفی المجتبیٰ فتوی ائمۃ خوارزم علی الثالث۔ وجہ الصحیح ان الفراسخ تختلف باختلاف الطریق فی السہل والجبل والبر والبحر بخلاف المراحل۔معراج ‘‘

(رد المحتار ۲؍۱۲۳ باب صلاۃ المسافر مطبع کراچی)

امام بدرالدین عینی فرماتے ہیں:

’’عن محمد لم یریدوا بہ السیر لیلاً ونہاراً، لانہم جعلوا النہار للسیر واللیل للاستراحۃ۔ لوسلک طریقاً ہی مسیرۃ ثلاثۃ ایام وأمکنہ أن یصل الیہا فی یوم من طریق أخری قصر ثم قدّروا ذلک بالفراسخ أحد وعشرون فرسخاً وقیل ثمانیۃ عشر وعلیہ الفتویٰ وقیل خمسۃ عشر فرسخاً۔ والی ثلاثۃ ایام ذہب عثمان بن عفان وابن مسعود، وروایۃ عن عبداللہ بن عمر،‘‘

(عمدۃ القاری ج۷ صفحہ ۱۱۹)

ابھی آپ نے رد المحتار کے حوالے سے پڑھا کہ فرسخ کا اعتبار نہیں کہ وہ پہاڑی ، ہموار زمین ، خشکی اور دریائی راستوں کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، البتہ تین مراحل کی تقدیر تین دن کی مدت سے قریب تر ہے۔ یہی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہ نے بھی تحریر فرمایا ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:

’’تین منزل پر قصرہے۔‘‘

(ج۳ ص۶۶۱)

نیز اسی میں ہے:

’’عرف میں منزل بارہ کوس ہے اور ان بلاد میںہرکوس ۸۵ میل ہے۔ یعنی ایک میل اور میل کے تین خمس۔ اور تین میل کا ایک فرسنگ ، تو ایک منزل چھ فرسخ اور دوخمس فرسخ کی ہوئی‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ج۳ ص۶۶۱)

پھر زمانہ بدلا ، حالات بدلے، مسافتوں کے ناپنے کا پیمانہ بدلا تو علمائے کرام نے میل اور کلومیٹر سے مسافت سفر کی تحدید شروع کردی اور اس میں بھی اقوال مختلف ہوگئے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی میل کی تحقیق فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’قال النووی المیل ستۃ آلاف ذراع والذراع اربعۃ وعشرون اصبعاً معترضۃ معتدلۃ والاصبع ست شعیرات معترضۃ معتدلۃ اھـ۔وہذا الذی قالہ ہو الاشہر، ومنہم من عبّر عن ذلک باثنی عشر ألف قدم بقدم الانسان، وقیل ہو أربعۃ آلاف ذراع، وقیل بل ثلاثۃ آلاف ذراع، نقلہ صاحب البیان، وقیل خمسمائۃ صحّحہ ابن عبدالبر، وقیل ہو ألفا ذراع۔ ومنہم من عبر عن ذلک بالف خطوۃ للجمل، ثم ان الذراع الذی ذکر النووی تحدیدہ قد حررہ غیرہ بذراع الحدید المستعمل الآن فی مصر والحجاز فی ہذہ الاعصار فوجدہ ینقص عن ذراع الحدید بقدر الثمن، فعلی ہذا فالمیل بذارع الحدید علی القول المشہور خمسۃ آلاف ذراع ومائتان وخمسون ذراعاً، وہذہ فائدۃ نفیسۃ قلّ من نبہ علیہا۔‘‘

(فتح الباری ج۲ ص۸۰۶کتاب تقصیر الصلاۃ)

مذکورہ بالا اقتباس سے یہ ظاہر ہوا کہ خود میل کی تعیین وتحدید میں شدید اختلاف ہے۔ اور پھر میل بھی دوطرح کا ہوتا ہے، میل شرعی اور میل انگریزی، شرعی میل انگریزی میل سے بڑا ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ ٗنے مسافت قصر کی تحدید ۵۷؍ ۵۸ میل سے کی ہے۔

فتاویٰ رضویہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں:

’’ اگر پندرہ راتوں کی نیت پوری یہیں ٹھہرنے کی تھی اگر چہ دن میں کہیں اور جانے اور واپس آنے کا خیال تھا تو اقامت صحیح ہوگئی نماز پوری پڑھی جائے گی جب کہ وہ دوسری جگہ الٰہ آباد سے چھتیس کوس یعنی ستاون ، اٹھاون میل کے فاصلے پر نہ ہو‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ج۳ ص۰ ۶۷)

اسی میں دوسری جگہ ہے :

’’اگر اپنے مقام اقامت سے ۲ ۱ ۵۷(ساڑھے ستاون )میل کے فاصلے پر علی الاتصال جانا ہو کہ وہیں جانا مقصود ہے، بیچ میں جانا مقصود نہیںاور وہاں پندرہ دن کامل ٹھہرنے کا قصد نہ ہوتو قصر کریں گے۔‘‘

(ج۳ ص۶۹۰)

اسی میں ہے :

’’جو مقیم ہو اور وہ دس دس بیس بیس تیس تیس کوس کے ارادے پر جائے کبھی مسافر نہ ہوگا، ہمیشہ پوری پڑھے گا اگر چہ اس طرح پوری دنیا بھر کا گشت کرآئے، جب تک ایک نیت سے پورے چھتیس کوس یعنی ساڑھے ستاون میل انگریزی کے ارادے سے نہ چلے۔‘‘

(ج۳ ص۶۹۱)

حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:

’’کوس کا اعتبار نہیں کہ کوس کہیں چھوٹے ہوتے ہیں کہیں بڑے ، بلکہ اعتبار تین منزلوں کا ہے۔ اور خشکی میں میل کے حساب سے اس کی مقدار ۸ ۳ ۵۷ میل ہے‘‘

(بہارشریعت حصہ چہارم ص۶۷بحوالہ فتاویٰ رضویہ )

علمائے اہل سنت کی اکثریت نے فتاویٰ رضویہ اور بہار شریعت کے قول پر اعتماد کیا ،اور اسی کو موجب قصر قرار دیا۔ اور اسی پر بنا کرتے ہوئے ۹۲، ۱۲ ۹۲ (بانوے، ساڑھے بانوے )کلومیٹر سے مسافت سفر کی تحدید کی ۔ جب کہ مولانا غلام رسول سعیدی کی تحقیق اس کے برخلاف ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’فقہا نے ذکر کیا ہے کہ ایک فرسخ تین شرعی میل کا ہے اور ایک شرعی میل چار ہزار ذراع (انگلیوں سے کہنی تک) کا ہوتا ہے اور ایک متوسط ذراع ڈیڑھ فٹ یعنی نصف گز کا ہوتا ہے لہٰذا ایک شرعی میل دوہزار گز کا قرار پایا اور اکیس فرسخ ترسٹھ میل شرعی ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار گز یعنی اکہتر انگریزی میل چار فرلانگ ایک سو ساٹھ گزہیں۔ اور یہ ایک سو پندرہ اعشاریہ ایک آٹھ نو (۱۸۹ء ۱۱۵) کلومیٹر کے برابر ہیں۔ فقہا کا دوسرا قول پندرہ فرسخ ہے اور پندرہ فرسخ پینتالیس میل شرعی ہیں جو نوے ہزار گز یعنی اکیاون انگریزی میل ، ایک فرلانگ بیس گز ہیںجوبیاسی اعشاریہ دوچھ آٹھ (۲۶۸ء۸۲) کلومیٹر کے برابر ہیں۔ فقہا کا تیسرا قول جو مفتی بہ ہے وہ اٹھارہ فرسخ ہے،اور اٹھارہ فرسخ چون میل شرعی ہیںجو ایک لاکھ آٹھ ہزار گز یعنی اکسٹھ انگریزی میل دوفرلانگ بیس گز ہیں اور یہ اٹھانوے اعشاریہ سات تین چار (۷۳۴ء ۹۸) کلومیٹر کے برابر ہے۔‘‘

(شرح صحیح مسلم جلد دوم ص۳۷۱)

مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں درج ذیل سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں:

سوالات:

سوال (۱)میل شرعی اور میل انگریزی میں کیا فرق ہے ؟ اور میل شرعی میل انگریزی سے کتنا بڑا ہوتا ہے؟نیز اگر میل کو مروجہ کلومیٹر میں تبدیل کیاجائے تو ایک میل شرعی اور ایک میل انگریزی کے کتنے کلومیٹر بنیں گے؟

سوال (۲)کتنے میل شرعی اور کتنے میل انگریزی کا عزم سفر موجب قصر ہے؟

سوال (۳) امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ اور حضور صدرالشریعہ نے جتنے انگریزی میل مسافت سفر بیان کی ہے اس کے مطابق موجودہ پیمانے میں کتنے کلومیٹر بنتے ہیں؟

سوال(۴)دلائل سے یہ واضح کیاجائے کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ اور حضور صدرالشریعہ نے انگریزی میل میں جو مسافت بیان کی ہے وہی حق وصوا ب اور لائق قبول واعتماد ہے۔!

سوال (۵) ہمارے فقہا ئے احناف نے جواز قصر کے لیے جو شرطیں بیان کی ہیں ان میں ایک شرط ’’آبادی سے باہرہوجانا بھی ہے ‘‘ 

بدائع الصنائع میں ہے: ’’وأما بیان ما یصیر بہ المقیم مسافراً فالذی یصیر بہ مسافراً نیۃ مدۃ السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثۃ اشیاء‘‘۔

بہارشریعت میں ہے: محض نیت سفر سے مسافر نہ ہوگا بلکہ مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی کی آبادی سے باہر ہوجائے ، شہر میں ہے تو شہر سے ، گاؤں میںہے تو گاؤں سے ، اور شہر والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہوجائے۔

(حصہ چہارم ص۶۸)

بمبئی ،کلکتہ ، مدراس ، بنگلور ، حیدرآباد جیسے بڑے بڑے شہروں کا حال زمانہ قدیم کے شہروں سے بہت مختلف ہے۔ کثرت آبادی کے سبب عمارتوں کا ایک لمبا تسلسل ہوتاہے۔ انسانوں کی بھیڑ بھاڑ اور ٹرافک کی کثرت کے سبب کئی گھنٹوں تک سفر کرنے کے بعد بھی آدمی آبادی سے باہر نہیں ہوپاتا، تو ان شہرو ں سے مدت سفر کے لیے نکلنے والے مسافرین کب اور کہاں سے قصر کریں گے؟

سوال (۶)تمام فقہاء نے وطن اصلی میں’’توطن‘‘ کو بھی ذکرکیاہے اور اس کا معنی یہ بیان کیا کہ اس جگہ سکونت اختیار کرلی اور اس بات کا عزم کرلیا کہ اب یہاں سے نہ جائے گا۔

درمختار میں ہے:

’’الوطن الاصلی موطن ولادتہ او تأہلہ او توطنہ ، اس کے تحت شامی میںہے: قولہ : أو تأہلہ ای تزوجہ وقولہ او توطنہ ای عزم علی القرار فیہ وعد م الارتحال وان لم یتأہل ‘‘۔

(شامی ج۱ ص۵۳۲)

بہارشریعت میں ہے:

’’وطن دوقسم ہے ، وطن اصلی وطن اقامت ، وطن اصلی وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے ہیں، یا وہاں سکونت کرلی، اور یہ وہ ہے کہ وہاں سے نہ جائے گا ۔ وطن اقامت وہ جگہ ہے کہ مسافر نے پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا وہاں ارادہ کیا ہو۔‘‘

(حصہ چہارم ص۷۴)

اب سوال یہ ہے کہ وہ ملازمین جو اپنے وطن سے مسافت سفر یا اس سے دور کسی جگہ پر ملازمت کررہے ہیں اور وہاں زمین ، جائیداد ، راشن کارڈ، ووٹر آئی ڈی وغیرہ سب کچھ بنوالیا مگر ارادہ یہ ہے کہ ریٹائر منٹ کے بعد یہاں سے چلے جائیں گے یا کچھ بھی ارادہ نہیں، سب کچھ ریٹائرڈ ہونے کے بعد کے حالات پر موقوف ہے، تو ان کے حق میں وہ جگہ وطن اصلی ہے یا وطن اقامت؟ زمین ،جائداد، ووٹر آئی ڈی ، راشن کارڈ وغیرہ اس کے حق میں توطن میںموثر ہیں یا  توطن کا مدار محض اس کے عزم وارادے پر ہے؟

سوال (۷) حاجی اگر عشرۂ ذی الحجہ میں مکہ مکرمہ حاضر ہوا تو مکہ میں اس کی اقامت کی نیت صحیح نہیں کیونکہ منیٰ ،عرفات کی طرف نکلنا ہے ۔ مکہ ، منیٰ ، عرفات ، مزدلفہ ، ہر جگہ قصر ہی کرے گا۔ لوٹ کر آنے کے بعد اگر مکہ مکرمہ میںمستقل پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرے تو مقیم ہوجائے گا ۔ اب تک ہمارے فقہائے کرام یہی فتویٰ دیتے رہے ۔

درمختار میں ہے:

’’لو دخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتہ لانہ یخرج الی منی وعرفۃ ‘‘۔

(ج۲ص۱۰۷)

عالمگیری میں ہے:

’’ان نوی الاقامۃ اقل من خمسہ عشر یوماً قصرہذا فی الہدایۃ‘‘۔

(ج ۱ ص ۱۳۱)

بحرالرائق میں ہے:

’’ذکر فی کتاب المناسک : الحاج اذا دخل مکۃ فی ایام العشر ونوی الاقامۃ نصف شہر لایصح لانہ لابدلہ من الخروج الی عرفات فلایتحقق الشرط‘‘۔ (ج۲ ص۱۳۲)

بدائع الصنائع میں ہے:

’’ان الحاج اذا دخل مکۃ في أیام العشر ونوی الاقامۃ خمسۃ عشریوماً أودخل قبل ایام العشر لکن بقی الی یوم الترویۃ اقل من خمسۃ عشر یوماً ونوی الاقامۃ لایصح لابدلہ من الخروج الی عرفات فلا یتحقق نیۃ اقامتہ خمسۃ عشر یوماً فلایصح‘‘۔

(ج۱ص۹۸)

مگر اس حکم کا مدار اس پر ہے کہ منیٰ ، مکہ مکرمہ سے خارج ہے۔ مگر اب جب کہ مکہ مکرمہ کی آبادی اپنے چاروں اطراف میں کئی کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے اور منیٰ تک متجاوز ہوچکی ہے تو کیا اب بھی وہی فتویٰ دیا جائے گا؟یا منیٰ کو مکہ میں شامل مان کر حکم میں تبدیلی ہوگی۔ اس سلسلے میں آپ کی اپنی تحقیق کیا ہے ؟ منیٰ مکہ میں داخل ہے یا خارج ؟ اور بہر صورت حاجی مذکور کے لیے حکم شرع کیاہے؟

میل اور کیلومیٹر کی تحقیق کے لیے درج ذیل عبارتیں مفید ہوسکتی ہیں:

المعجم الوسیط میں ہے:

’’المیل : منار یبنی للمسافر في الطریق یہتدی بہ ویدل علی المسافۃ ومسافۃ من الارض المتراخیۃ۔ ومقیاس للطول قُدِّر قدیماً بأربعۃ آلاف ذراع وہو المیل الہاشمي ، وہو برّي وبحري ، فالبري یقدر الآن بما یساوی ۱۶۰۹ من الأمتار، والبحري بما یساوي ۱۸۵۲ من الأمتار۔‘‘

(ص:۸۹۴)

دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیامیں ہے:

The mile was first used by the Romans. The Roman Mile was about 5000 feet long and had 1000 paces, each 5 feet in length. The term Mile comes from milia passuum, the Latin words for a thousand paces, in the metric system, the unit used to measure land distance is the kilometer. One Mile equals 1.609 kilometers

(the world book Encyclopadia Vol. 13 Pg 542)

سب سے پہلے میل کا استعمال رومیوں نے کیا ۔ رومن میل تقریباً ۵۰۰۰ فٹ اور ۱۰۰۰ پیس peces(قدم ، ٹکڑے یا فٹ) کا ہوتاتھا، ہر پیک پانچ فٹ کا۔ میل کالفظ لاطینی لفظ ’’میلاپسّوم ‘‘ سے ماخوذ ہے، جو کہ نظام پیمائش میں ۱۰۰۰ پیس paces(قدم ، ٹکڑے یا فٹ ) کا ہوتاہے۔ مسافت زمین کی پیمائش کے لیے کیلومیٹر کا استعمال کیاجاتا ہے۔ اور ایک میل ۶۰۹ء۱ کیلومیٹر کا ہوتا ہے۔

مفتی شمشاد احمد مصباحی
جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی  

ۘ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

 

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:آرٹی فیشیل (مصنوعی) زیورات اور ان کے استعمال کا شرعی حکم

نوٹ:نمبر۔۱، ۲، ۴؍کے سوالات زیر تحقیق ہیں۔

۳۔امام اہل سنت اور صدر الشریعہ علیہما الرحمہ نے مسافت سفر 57-3/5 ؍میل بیان فرمائی ہے موجودہ کلومیٹر کے مطابق باتفاق مندوبین اس کی مقدار 92.698؍کلومیٹر طے ہوئی جو 92-7/10؍کلومیٹر ہوئے۔واللہ تعالیٰ اعلم

۵۔سفر شرعی کا تحقق منتہائے آبادی سے نکلنے پر ہوگا۔ یوں ہی جس شہر میں داخل ہونا ہے اس کی آبادی میں داخل ہونا مراد ہے جائے قیام پر پہنچنے کا اعتبار نہیں۔

ہدایہ میں ہے:

’’واذا فارق المسافر بیوت المصر صلیٰ رکعتین لأن الاقامۃ تتعلق بدخولھا فیتعلق السفر بالخروج عنہا فیہ الأثر عن علی رضی اللہ عنہ لو جاوزنا ھٰذا الخص لقصرنا‘‘۔

[ج۱، ص۱۴۶]

جد الممتار میں ہے:

’ویفیدہ ایضاً تصریحہم جمیعا بتحقق السفر بالخروج من عمران البلد‘‘۔واللہ تعالیٰ اعلم

[ج۱، ص۳۵۹، مکتبہ عزیزیہ دکن]

۶۔وطن اصلی کے علاوہ کسی اور مقام کے وطن اصلی ہونے کے لئے اس مقام پر اقامت کی نیت صادقہ یعنی عزم مصمم درکار ہے۔ محض مکان اور راشن کارڈ وغیرہ بنا لینا کافی نہیں یہ سب رہائشی سہولتوں کے لئے ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

۷۔باتفاق مندوبین یہ طے ہوا کہ منیٰ، مزدلفہ اور عرفات باب اقامت میں الگ الگ آبادی کا حکم رکھتے ہیں۔ کثرت آبادی کے باوجود منیٰ اور شہر مکہ کے مابین بقدر غلوہ پہاڑیوں کے حائل ہونے کی وجہ سے دونوں آبادیوں میں اتصال نہیں لہٰذا دونوں ایک شہر کے حکم میں نہیں ہوں گے۔ اس مسئلہ پر روشنی درج ذیل عبارت سے پڑتی ہے:

فتح القدیر میں ہے:

’’وفی فتاویٰ قاضیخان فصل فی الفناء فقال اِن کان بینہ وبین المصر أقل من قدر غلوۃ ولم یکن بینھما مزرعۃ یعتبر مجاوزۃ الفناء أیضاً وان کان بینھما مزرعۃ أو کانت المسافۃ بینہ وبین المصر قدر غلوۃ یعتبر مجاوزۃ عمران المصر ھٰذا‘‘۔

[ج۲، ص۲۳]

Menu
error: Content is protected !!