گیارہواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف


منعقدہ: ۱۹/۲۰/۲۱/جمادی الاولیٰ۱۴۳۵مطابق۲۱/۲۲/۲۳/مارچ ۲۰۱۴

مقام: رضامنزل،تاجداراہلسنّت،ہال،دارالعلوم نوری،کھجرانہ،اندور

موضوع:۳-عنوان:آپریشن سے ولادت کاشرعی حکم


باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

اہل علم اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ میڈیکل سائنس کی حیرت انگیز ترقی نے امیر وغریب خاص وعوام سب کو اپنی گرفت میں لے رکھاہے اورعام طور سے لوگ بیماریوں میں میڈیکل کی سہولتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ولادت سے لیکر وفات تک آدمی نے اپنے کواسکامحتاج بنا رکھاہے، ان تمام امراض اور اس کے علاج کی تفصیل میں نہ جاکرسردست بچے کی ودلادت کے موقع پر فطری طریقے پر پیدائش کے بجائے بذریعہ ٔآپریشن ولادت کا مسئلہ زیربحث لایاجارہاہے ۔

آپ حضرات اس حقیقت سے خوب آگاہ ہیںکہ بچوں کی ولادت کے وقت عورتوں کے سامنے موت وزیست کامرحلہ رہتاہے کبھی بعض اسباب کی بنا پر فطری طریقے سے بچے کی ولادت نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر حضرات سے رجوع کرنے پر آدمی مجبور ہوجاتاہے ۔اور جب ڈاکٹر کے سامنے مریض لایاجاتا ہے تو بسا اوقات مریض کے ذمہ داروں کو اتنا ڈرادیاجاتاہے کہ وہ بیچارہ ڈاکٹر کی ہرتجویز پر لبیک کہتا چلاجاتاہے ۔

عموماًان حالات میں ڈاکٹر بذریعہ آپریشن ولادت کی بات کرتے ہیں اوربالآخرمریض کی دیکھ بھال کرنے والے اور اس کی ذمہ داری نباہنے والے طوعاًوکرھاًآپریشن پر اپنی رضامندی ظاہرکردیتے ہیں ۔

راقم الحروف نے محترم جناب ڈاکٹر محمد عادل صاحب مالک زینتھ ہاسپیٹل لکھنؤ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو انھو ں نے بتایا کہ مرحلۂ ولادت میں آپریشن کرنے کی نوبت آنے کے کئ اسباب ہیں ۔

(۱)کبھی کبھی رحم مادر میں بچے کی حرکت رک جاتی ہے جس بناپر بچہ فطری طریقے پر نہیں پیدا ہوپاتا ہے تو بذریعہ آپریشن بچے کو باہر نکالاجاتاہے ۔

(۲)بچے کی دھڑکن فطری تناسب سے کم ہوجانے کی صورت میں بذریعہ آپریشن ولادت ہوتی ہے۔

(۳)شرم گاہ میںموجود نیچے کی طرف ہڈی جوعادتاًمرحلۂ ولادت میں پھیل جاتی ہے اس کے ناپھیلنے کی صورت میں آپریشن کی نوبت آتی ہے ۔

(۴)لالچی ڈاکٹر طلب زر کی ہوس میں آپریشن کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود بذریعۂ آپریشن ولادت کراتے ہیں اور پیسہ وصولتے ہیں۔

اس کے علاوہ آج کل عام رجحان یہ ہوتاجارہاہے کہ عورت کو دردزِہ کی مشقت نہ اٹھانی پڑے اور  بذریعہ آپریشن ولادت ہوجائے چنانچہ اس طرح بھی آپریشن ہوتا رہتا ہے۔

جب راقم نے ڈاکٹر صاحب سے آپریشن کی کاروائی کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اولاًآپریشن روم میں مرد اور خواتین ڈاکٹر س مریض کے حالات کامکمل جائزہ لیتے ہیں اس کے بعد اس کی ریڑھ کی ہڈی میں بے ہوشی کا انجکشن لگایاجاتاہے آپریشن کے اختتام تک بے ہوشی کا انجکشن دینے والاڈاکٹر وہاں موجود رہتاہے ،خواتین ڈاکٹر مقام مخصوص کی صفائی کرکے اسے ڈھانپ دیتی ہے بعدہ پیٹ کو چیرکر بچہ باہرکیاجاتاہے ،یہ عمل عموماً مر د ڈاکٹر کرتے ہیں کبھی کبھی یہ سارا مرحلہ خواتین ہی طے کرتی ہیں مگر اس میں بھی بے ہوشی کا انجکشن عموماً مرد ہی لگاتاہے ۔

ارباب فقہ وفتاوی اور اہل علم وتحقیق سے یہ امر مخفی نہیں کہ شریعت اسلامیہ میں بلاضرورت کسی عورت کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ اپنا ستر کسی اجنبی کو دکھائے تو بھلااسے چھونے کی بلاضرورت اجازت کیسے ہوسکتی ہے وہ بھی ستر خفیف کونہیں بلکہ ستر غلیظ کو۔چنانچہ بہار شریعت میں ہے ۔

ـ’’اجنبیہ عورت کے چہرہ اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے مگر چھونا جائز نہیں ،اگر چہ شہوت کااندیشہ نہو کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت اور بلوائے عام ہے ،چھونے کی ضرورت نہیں لہٰذا چھونا حرام ہے‘‘ (ج۱۶ص۴۴۶)

ہدایہ میں ہے:’’لایجوزان ینظر الرجل الی الاجنبیۃ الاالی وجہہاوکفہا فتاوی عالم گیری میں ہے:النظرالی وجہ الاجنبیۃ اذالم یکن عن شہوۃ لیس بحرام لکنہ مکروہ کذافی السراجیۃ‘‘ (ج۵ص۳۲۹)

یونہی بلاضرورت جسم کے کسی حصے کی چیر پھاڑ کی اجازت نہیں ہے ۔ارشاد ربانی ہے:’’وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ‘‘ اورارشاد نبوی ہے:’’لاضرر ولاضرار۔‘‘مگر ضرورت کیوقت کسی عضوکے کاٹنے یاچیرنے کی اجازت بھی مصرح ہے،کتب فقہ میں متعدد مسائل اس حوالے سے مرقوم ہیں ،فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’فی فتاوی ابی اللیث رحمہ اللہ تعالی فی امرأۃ حامل ماتت وعلم ان مافی بطنہا حی یشق بطنہا من الشق الایسر وکذلک اذاکان أکبر رأیہم أنہ حی یشق بطنہا کذافی المحیط،وحکی أنہ فعل ذالک باذن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی فعاش الولد کذافی السراجیۃ ۔ولایرث الولد اذا تحرک فی بطنہا لان حرکتہ قد تکون بریح أو دم مجتمع کذا فی الفتاوی العتابیۃ۔۔البکر اذاجومعت فیمادون الفرج فحبلت بأن دخل الماء فی فرجہافلماقرب أوان ولادتہا تزال عذرتہا ببیضۃ اوبحرف درہم لانہ لایخرج الولد بدون ذالک، واذا اعترض الولد فی بطن الحامل ولم یجدواسبیلالاستخراج الولدالابقطع الولد اربااربا ولولم یفعلوا ذالک یخاف علی الام قالوا ان کان الولد میتافی البطن لابأس بہ وان کان حیا لم نری جواز قطع الولد اربا اربا کذا فی فتاوی قاضیخاں۔لابأس بقطع العضو ان وقعت فیہ الاٰکلۃ لئلاتسری کذا فی السراجیۃ ۔لابأس بقطع الید من الاٰکلۃ وشق البطن لمافیہ کذافی الملتقط۔اذاارادالرجل ان یقطع اصبعا زائدۃ أوشیئا آخرقال نصیر رحمہ اللہ تعالی ان کان الغالب علی من قطع مثل ذالک الھلاک فانہ لایفعل وان کان الغالب ہوالنجاۃ فہو فی سعۃ من ذالک‘‘ (ج۵/ص۳۶۰)

نظر سے متعلق اسی میں ہے ۔’’ویجوز النظر الی الفرج للخاتن وللقابلۃ وللطبیب عند المعالجۃ ویعض بصرہ مااستطاع کذافی السراجیۃ ‘‘
(ج۵/ص۳۳۰)

اوربے ہوش کرنے کے بارے میں بہارشریعت میں ہے۔ ’’بعض امراض میں مریض کو بے ہوش کرنا پڑتاہے تاکہ گوشت کاٹا جاسکےیاہڈی وغیرہ کو جوڑا جا سکےیازخم میں ٹانکے لگائے جائیں اس ضرورت سے دوا سے بے ہوش کرنا جائز ہے۔‘‘ (ج۱۶/ص۵۰۷)

تفصیلات بالا کی روشنی میں اہل حکمت اور ارباب تحقیق کی بارگاہ میں چندسوالات حاضر ہیں۔ امید ہےکہ جوابات سے شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کوشادکام فر مائیں گے۔

سوالات:

(۱)محض درد زِہ کی پریشانی سے بچنے کے لئے بذریعہ آپریشن بچے کی ولادت کاحکم کیا ہے؟

(۲) عام حالات میں ڈاکٹر حضرات کے دباؤ میں آکر آپریشن کرانا جبکہ صورت حال بہت زیادہ سنگین نہ ہو کیسا ہے؟

(۳) سنگین صورت میں کیسے ڈاکٹر وں پر اعتماد کرکے آپریشن کرایاجائے اور بہر صورت آپریشن کا کیا حکم ہے؟

(۴)تین بارآپریشن سے بچہ پیدا ہونے کے بعد اطباء ضبطِ تولید کی تاکید کرتے ہیں اورضبط تولید نہ کرنے کی صورت میں ہلاکتِ جان کاخوف دلاتے ہیں ایسی صورت میں ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کرنا شرعاً کیسا ہے؟

مفتی اختر حسین صاحب
دارالعلوم جمداشاہی ورکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

ۘ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیـــــصـــــلہ:

(۱) باتفاق مندوبین طے ہوا کہ محض دردزہ سے بچنے کے لئے برائے ولادت آپریشن کرانا جائزنہیں ہے اور حالات کے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین بھی ایسے آپریشن کو ناپسند کرتی ہیں۔بے ضرورت اجنبیہ عورت کے ستر کا کھولنا، دیکھنا، چھونا ان سب کی حرمت کتاب و سنت میں مصرح ہے۔ بے ضرورت اعضائے انسانی کی قطع و برید، اس کے لئے اضاعت مال یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں جن میں خیانت حرام ہے۔ ’’ولا یحل مس وجہہا و کفہا وان امن الشہوۃ لانہ اغلظ ولذا یثبت بہ حرمۃ المصاہرۃ‘‘۔ [حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، ج۴، ص۱۸۴]

اور در مختار میں ہے: ’’لا یرخص قتلہ أو سبہ أو قطع عضوہ وما لا یستباح بحال اختیار‘‘۔واللہ تعالیٰ اعلم [درمختار، ج۹، ص۱۸۷، کتاب الاکراہ]

(۲،۳) تمام مندوبین اس امر پر متفق ہیں کہ اگر تجربہ کار ڈاکٹرمسلم خواہ غیر مسلم الٹرا سائونڈ وغیرہ دیگر آلات طبیہ کی رپورٹ کی بنیاد پر آپریشن کرانے کا مشورہ دیں اور مبتلٰی بہا کی ظاہری حالت سے مریضہ اور اس کے تیماردار آپریشن کے علاوہ کوئی صورت نہ پاتے ہوں تو آپریشن کرانے کی اجازت ہے اور اگر ڈاکٹر کا مشورہ آلات طبیہ کی رپورٹ کے مطابق نہ ہو یا مریضہ کی ظاہری حالت سے آپریشن ضروری معلوم نہ ہوتا ہو تو آپریشن کی اجازت نہیں اور ان تمام معاملات میں مسلم خاتون ڈاکٹر کو ترجیح دی جائے ۔قاعدہ شرعیہ ہے: ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘اور الاشباہ میں ہے: ’’لان مباشرۃ الحرام لا تجوز الا بالضرورۃ‘‘ [الاشباہ، ج۱، ص۲۶۱، قاعدہ خامسہ]

اور فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’لا بأس بشق المثانۃ اذا کانت فیہا حصاۃ‘‘[ج۴، ص۱۵۰]

اور محیط برہانی میں ہے: ’’ومن ذلک عند الولادۃ والمرأۃ تنظر الیٰ موضع الفرج من المرأۃ وغیرہ لانہ لا بد من قابلۃ تقبل الولد وتعالجہ وبدونہا تخاف الہلاک علیٰ الولد‘‘ [المحیط البرہانی، ج۵، ص۱۷۹]

اور فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے: ’’امرأۃ حامل ماتت وعلم أن مافی بطنہا حی فانہ یشق بطنہا من الشق الأیسر وکذا کان اکبر رأیہم أنہ حی یشق بطنہا‘‘۔واللہ تعالیٰ اعلم [فتاویٰ عالمگیریہ، ج۴، ص۱۱۴، کتاب الکراہیۃ]

(۴)تین بار آپریشن کے بعد اگر اطبائے حذاق ضبط تولید کا حکم دیں تو ضبط تولید کے وہ طریقے استعمال میں لائے جائیں جن میں نسبندی و نل بندی جیسے آپریشن اور بے جا کشف ستر کی نوبت نہ آئے ۔ بے آپریشن و بے کشف ستر ضرورت پوری ہوتی ہے تو اجازت نہیں۔ رد المحتار میں ہے: ’’(قولہ وینبغی) کذا اطلقہ فی الہدایۃ والخانیۃ وقال فی الجوہرۃ اذا کان المرض فی سائر بدنہا غیر الفرج یجوز النظر الیہ عند الدواء لأنہ موضع الضرورۃ وان کان فی موضع الفرج ینبغی ان یعلم امرأۃ تداویہا وان لم توجد و خافوا علیہا ان تہلک او یصیبہا وجع لا تحتملہ یستروا منہا کل شیٔ الا موضع العلۃ ثم یداویہا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع الاموضع الجرح-انتہیٰ‘‘ واللہ تعالیٰ اعلم [رد المحتار، ج۴، ص۲۳۷]

Menu
error: Content is protected !!