گیارہواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف


منعقدہ: ۱۹/۲۰/۲۱/جمادی الاولیٰ۱۴۳۵مطابق۲۱/۲۲/۲۳/مارچ ۲۰۱۴

مقام: رضامنزل،تاجداراہلسنّت،ہال،دارالعلوم نوری،کھجرانہ،اندور

موضوع:۳-عنوان:قربانی اور اس کے ٹھیکہ داری کا شرعی حکم


باسمہٖ تعالیٰ

ســـــوال نـــــامہ:

پہلے حکومت کے کاموں میں ٹھیکے داری چل رہی تھی رفتہ رفتہ عام لوگوں کے بہت سے کام مثلاًمکانات کی تعمیراورشادی بیاہ کے انتظامات وغیرہ میں بھی ٹھیکے داری کا معاملہ عام ہوگیاہے بلکہ معاملات تک ہی محدود نہ رہا ،عبادات کے کاموں میں بھی شروع ہو گیاہے ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں عام طور پر چھوٹے جانور مثلاًبکرے وغیرہ کی قربانی میں ٹھیکے داری نہیں ہوتی ہے بلکہ لوگ خودہی اپنے طور پر قربانی کرتے ہیں ،لیکن بڑے جانوروں کے قربانی میں ٹھیکے داری کاکام کثرت سے ہونے لگا ہے۔

بعض تنظیموں کے زیر اہتمام قربانی بینک قائم کرلیا گیا ہے اور بعض لوگ بینک قائم کئے بغیر نجی طور پر قربانی میٹ ٹھیکے دارہ کام کرتے ہیں ،اس کا طریقہ کچھ اس طرح ہے،کہ ٹھیکے دارکی طرف سے بڑے جانور وں کے ساتویں حصہ کے لئے رقم کی ایک مقدار مقررکردی جاتی ہے مثلاًایک حصہ تین ہزار روپے کا ،لوگ مقررہ رقم دیکر اپناحصہ بک کرالے تے ہیں ، اور اپنا نام درج کرادیتے ہیں، قربانی میں کتنا صرفہ آیا؟قربانی کے بعد رقم بچی یانہیں؟ یا مقررہ رقم سے زائد صرف ہوا ،اور قربانی کی کھال کا کیا ہوگا ؟ان تمام باتوں سے رقم دہندہ کو کوئی مطلب نہیں بلکہ قربانی کے بعد بچی ہوئی رقم قربانی کرنے والے ٹھیکے دار لے لیتے ہیں اور اسی مقصد سے زائدرقم مقرر کرتے ہیں،ٹھیکے داروں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مقررہ رقم سے کم میںقربانی کاکام پورا ہوجائے اور اس راہ سے ان کو کثیر منافع حاصل ہوں بلکہ بعض ٹھیکے دار کثرت منافع کی غرض سے بہت ہی کمزور قسم کا جانور خریدتے ہیں۔

بعض مدارس کے زیراہتمام بھی قربانی کاکام کیاجاتا ہے ،بعض مدارس والے مصارف کا پورا حساب رکھتے ہیں اور قربانی سے بچی ہوئی رقم ،رقم دہندہ کو واپس کردیتے ہیں ،مدرسہ کو یہ فائدہ ہوتاہے کہ کھال مدرسہ کو مل جاتی ہے،بعض مدرسہ والے پہلے سے یہ قرارداد کرلیتے ہیں کہ جورقم بچے گی وہ مدرسہ کی ہوگی اوربعض لوگ یہ طے کئے بغیر ہی باقی ماندہ رقم خود لے لیتے ہیں ،بعض لوگ قربانی کی رقم مقررکرنے میں یہ تفصیل رکھتے ہیں کہ اگرقربانی کرنے والے کو گوشت چاہیے تو ایک حصہ کی رقم مثلاًتین ہزار روپے ہوگی اور گوشت نہیں چاہیے تو ایک حصہ کی رقم مثلاً آٹھ سوروپے ہوگی۔

دوسری بات یہ ہے کہ قربانی کرانے والےٹھیکے دار جانور خریدتے وقت عام طور سے یہ طے نہیں کرتے ہیں کہ کونسا جانور کن شرکاء کے لئے خریداجارہاہے بلکہ وہ ایک طرف سے جانور خریدتے جاتے ہیں ،اس طرح ان خریدے ہوئے جانوروں میں کس شخص کا حصہ کس جانور میں ہے وہ خریداری کے وقت متعین نہیں ہوتا ہے ایسے جانوروں کو ذبح کرتے وقت سات سات حصہ داروں کا نام لکھ کر ایک ایک جانور کو ذبح کرتے جاتے ہیں اوردعا پڑھتے جاتے ہیں اور اس جانور کا گوشت انھیں سات لوگوں میں تقسیم کردیتے ہیں جن کے نام سے وہ جانور ذبح کیا جاتا ہے ان شرکاء کے عقائد بھی معلوم نہیں ہوپاتے ہیں ،بعض افراد اپنے جانوروں کو قصائی سے ذبح کراتے اور گوشت کٹواتے ہیں اور اس کے عوض میں کھال قصائی کودے دیتے ہیں ۔

حج کے موقعہ پربھی قربانی کے لئے ٹھیکے داری کاعمل جاری ہے کچھ لوگ وہاں کی حکومت کی طرف سے مقرر ہ رقم سعودی حکومت کے قربانی بینک میں جمع کردیتے ہیں اوربینک کی طرف سے قربانی کاوقت متعین کردیاجاتاہے ،رقم جمع کرنے والے کو یہ معلوم نہیں ہوپاتا ہے کہ اس کی قربانی متعین وقت میں ہوئی یانہیں ؟اسکے باوجود وہ معین وقت کے بعد حلق یاقصرکرالیتا ہے نیز بسا اوقات وہ مقررہ وقت سے پہلے جمرۂ عقبہ کی رمی نہیں کرپاتا ۔

حکومت کے علاوہ بعض افراد بھی ٹھیکے داری کاکام کرتے ہیں ،یہ لوگ بھی پہلے ہی سے رقم طے کردیتے ہیں اور لوگ ٹھیکیداروں کو مقرررقم جمع کردیتے ہیں ،بعض ٹھیکے دار اس بات کا اہتمام کرتے ہیں کہ بہت سی رقم جمع کرنے والے افراد کی طرف سے انکے ایک یادو نمائندہ کو قربانی کی جگہ بلاکر اس کے سامنے قربانی کرادیتے ہیں اور بعض یہ اہتمام نہیں کرتے بلکہ ان حجاج یا ان کے نمائندہ کی غیرموجودگی میں قربانی کاعمل کرتے ہیں ،واقعۃً وہ قربانی کرتے ہیں یانہیں ،اگرکرتے ہیں تو کب کرتے ہیں کچھ معلوم نہیں ہوپاتا ہے ،اسطرح یہ پتہ نہیں چل پاتا ہے کہ رمی قربانی سے پہلے کرلی ہے یانہیں؟اورنہ ہی یہ معلوم ہوپاتا ہے کہ حلق یا قصر سے پہلے قربانی ہو چکی ہے یانہیں؟یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بعض ٹھیکیدار رقم دہندہ کو موبائل کے ذریعے یہ بتا دیتے ہیں کہ اب احرام اتارلو،تمہاری قربانی ہوگئی ہے اوروہاں معاملہ کچھ اور ہوتا ہے جب کہ حج تمتع اور قران کرنے والے پر واجب ہے کہ رمی ،قربانی اور حلق یاقصر تینوں کا ترتیب وار کرے ۔

ھدایہ اولین میں ہے:’’فیبتدی بجمرۃ العقبۃ فیرمیہامن بطن الوادی بسبع حصیات مثل حصی الخذف لان النبی علیہ السلام لمااتی منی لم یعرج علی شیء حتی رمی جمرۃ العقبۃ۔۔۔۔۔۔ثم یذبح ان احب ثم یحلق اویقصر لماروی عن رسول اللہ ﷺ انہ قال ان اول نسکنا فی یومنا ھٰذا ان نرمی ثم نذبح ثم نحلق ولان الحلق من اسباب التحلل وکذا الذبح حتی یتحلل بہ المحصر فیقدم الرمی علیہما ْثم الحلق من محظورات الاحرام فیقدم علیہ الذبح وانما علق الذبح بالمحبۃ لان الدم الذی یاتی بہ المفرد تطوع والکلام فی المفرد۔ ‘‘(ص۲۲۹/۲۳۰)

درمختار میں ہے:’’ثم بعد الرمی ذبح ان شاء لانہ مفرد ثم قصر۔۔وحلقہ لکل افضل۔‘‘ (ج ۳/ص۵۳۴)

ردالمحتار میں ہے :’’ قولہ لانہ مفرد تعلیل لما استفیدمن التخییر بقولہ ’’ ان شاء ‘‘والذبح لہ افضل، ویجب علی القارن والمتمع ۔‘‘ ( ایضا مصدر سابق)

’’ولو ان ثلثۃ نفراشتری کل واحد منہم شاۃ للاضحیۃ احدہم بعشرۃ و الاخر بعشرین والاخر بثلثین وقیمۃ کل واحد مثل ثمنہا فاختلطت حتی لایعرف کل واحد شاتہ بعینہا اصطلحوا علی ان یأخذ کل واحد منہم شاۃ یضحی اجزأتہم دویتصدق صاحب الثلاثین بعشرین وصاحب العشرین بعشرۃ ولایتصدق صاحب العشرۃ بشیء وان اذن کل واحد منہم ان یذبحہا عنہ اجزأتہ ولاشیء علیہ کمااضحی اضحیۃ غیرہ بغیر امرہ ۔‘‘(درمختار/ج۳/ص۴۷۳)

بدائع الصنائع میں ہے:’’ومنہا ان تجزیٔ فیہا النیابۃ فیجوز للانسان ان یضحی بنفسہ وبغیراذنہ لانہاقربۃ تتعلق بالمال فتجزی فیہا النیابۃ کاداء الزکاۃ وصدقۃ الفطر ولان کل واحد لایقدر علی مباشرۃ الذبح بنفسہ خصوصاالنساء فلولم تجزی الاستنابۃ لادی الی الحرج وسواء کان الماذون مسلما اوکتابیا حتی لوامر مسلم کتابیا ان یذبح اضحیتہ یجزیہ۔‘‘(ج۴/ص۲۰۰)

بہارشریعت میں ہے۔ قربانی کاجانور مسلمان سے ذبح کرانا چاہیے اگر کسی مجوسی یادوسرے مشرک سے قربانی کاجانور ذبح کرا دیا تو قربانی نہیں ہوئی بلکہ جانورحرام ومردار اورکتابی سے قربانی کا جانورذبح کرانا مکروہ ہے۔(حصہ ۱۵/ص۱۴۳)

گائے کے شرکاء میں ایک کافر ہے یا ان میں ایک شخص کا مقصود قربانی نہیں بلکہ گوشت حاصل کرناہے تو کسی کی قربانی نہ ہوگی ۔ (ج۱۵/ص۱۴۳)

قربانی کاچمڑا یاگوشت یا اس میں کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اجرت میں نہیں دیاجاسکتا کہ اسکو اجرت میں دینا بھی بیچنے ہی کے معنی میں ہے۔ (ج۱۵/ص۱۴۵)

اس تفصیل کے بعداہل فقہ وافتاء حضرات کی بارگاہ میں اس تعلق سے درپیش مسائل میں رہنمائی کی درخواست ہے ،تمام پہلوؤ ں پر غوروفکر فرماکر مندرجہ ذیل تنقیح طلب سوالات کے جوابات تحریر فرماکر امت مسلمہ کی رہنمائی فرمائیں گے ۔

سوالات:

(۱)قربانی کے لئے بینک قائم کرنے اور اس کے لئے ٹھیکداری کا شرعی حکم کیاہے؟

(۲) قربانی کے لئے رقم کی مقدار مقررکرکے ٹھیکہ دینے لینے کاشرعاًکیاحکم ہے؟

(۳)قربانی کی کھال کے عوض ٹھیکہ دینے یا گوشت کٹوانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

(۴)قربانی بینک میں یا ٹھیکیدارکورقم جمع کردینے سے صاحب نصاب پر واجب قربانی نیز حج تمتع وقران میں واجب قربانی سے بریٔ الذمہ ہوگا یانہیں؟

(۵) قربانی بینک یا ٹھکیدارکی طرف سے مقررکردہ وقت کے بعد حلق یا قصر کرنے نیز احرام اتارنے کا کیا حکم ہوگا؟اوروقت مقررسے پہلے رمی جمارنہ کرسکاتو کیا حکم ہوگا ؟دم واجب اداہوگا یانہیں؟رمی ،قربانی اور حلق میں ترتیب معلوم نہ ہونے کی صورت میں شرعاًکیاحکم ہوگا؟

(۶) بڑے جانوروں کے شرکاء اورذبح کرنے والوں کے عقائد معلوم نہ ہونے کی صورت میں قربانی کاکیا حکم ہوگا؟

(۷)خریدتے وقت شرکاء کی تعیین نہ کرنے کی صورت میں شرعاًکیا حکم ہوگا؟

مفتی قاضی شہید عالم
استا ذو مفتی جامعہ نوریہ رضویہ
و رکن شرعی کونسل آف نڈیا،بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیـــــصـــــلہ:

جواب: (۱) قربانی بینک والے اور ٹھیکے دارجانوروں کے خریدنے اور قربانی کرنے میں قربانی کرنے والے کے وکیل ہوتے ہیں۔ اور ایسی وکالت شرعاً جائز ہے بشرطیکہ قربانی کے تمام شرکا و ذابح سنی صحیح العقیدہ ہوں۔ در مختار میں ہے: ’’التوکیل صحیح بالکتاب والسنۃ وہو اقامۃ الغیر مقام نفسہ فی تصرف جائز معلوم‘‘ (جلد۸ صفحہ ۲۴۱)

بعض صورتوں میں یہ اجارہ پر بھی مشتمل ہوتی ہے کالسمسرۃ۔ اس ضمن میں دو شقیں یہ سامنے آئیں کہ ٹھیکہ دار جانور کو کبھی شرکا (شریک معین) کی طرف سے خرید لیتا ہے اور کبھی ٹھیکیدار پہلے ہی سے جانور خرید کر رکھ لیتا ہے بعد میں شرکا تلاش کر کے قربانی کرتا ہے۔ان دو صورتوں کا فیصلہ یہ ہوا کہ اگر ٹھیکیدار نے متعین جانور کسی کیلئے خریدا اور اس کے حکم سے قربانی کرائی تو بالاتفاق وہ قربانی صحیح ہوئی۔ اور اگر ٹھیکیدار جانور پہلے سے خریدے تو وہ ٹھیکیدار ہی اس کامالک ہے اب تاوقتیکہ جن کے نام سے قربانی کرنی ہے وہ خود متعین جانور اس سے نہ خریدیں ، قربانی نہ ہوگی۔یا یہ کہ قربانی والا (مضحی) کسی کو وکیل شرا بنائے یا ٹھیکہ دار قربانی کرنے والے کے حکم سے کسی کو وکیل شرا مقرر کرے ۔ اور وہ وکیل شرا متعین جانور کو خرید کر قربانی کرے یا قربانی کا حکم دے تو قربانی صحیح ہوگی ورنہ نہیں ۔( اس مسئلے کے فقہی جزئیات جواب نمبر۷ میں آئیں گے)

جواب:(۲)قربانی کے لئے رقم کی مقدار مقرر کر کے ٹھیکہ لینا ، دینا جائز ہے ، اگر قربانی پرمقررہ رقم سے زائدخرچ ہوا تو مضحی (قربانی کرنے والا) اسے ادا کرے۔ اوراگر کچھ رقم قربانی اور اس کے مصارف سے بچ گئی تو اگر وہاں کا عرف واپسی کا ہے تو مضحی ( جس کی طرف سے قربانی ہوئی ہے) کو واپس کرنا لازم ہے ۔ ہاں اگر مضحی کسی خاص یا عام مصرف خیر میں خرچ کرنے کی اجازت دے تو اس کے مطابق خرچ کیا جائے۔اگر یہ عرف ہے کہ باقی ماندہ رقم واپس نہیں کی جاتی ہے تو ٹھیکیدار لے سکتا ہے ۔ لیکن اگر عرف کے خلاف پہلے ہی سے مضحی نے باقی رقم واپس لینے کی شرط کردی ہو تو ٹھیکیدار پر واپسی لازم ہے۔ فان المعروف کالمشروط وَاِنّ الصریح یفوق الدلالۃ۔واللہ تعالیٰ اعلم

جواب: (۳)قربانی کی کھال کے عوض ٹھیکہ دینا یا گوشت کٹوانا شرعاً ممنوع و ناجائز ہے کہ یہ تمول کے لئے معنی بیع میں ہے در مختار میں ہے: ’’ لا یعطٰی اجر الجزار منہا لانہ کبیع واستفیدت من قولہ علیہ الصلاۃ والسلام من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ‘‘ رد المحتار میں ہے: ’’ لان کلا منہا معاوضۃ لانہ انما یعطی الجزار بمقابلۃ جزرہ والبیع مکروہ فکذا ما فی معناہ کفایۃ ‘‘(ج۹ ص۴۷۵ کتاب الاضحیۃ)

ہدایہ میں ہے: ’’ولا یعطی اجر الجزار من الاضحیۃ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام لعلی رضی اللہ عنہ تصدق بجلالہا و خطامہا ولا تعط اجر الجزار منہا شیئا والنہی عنہ نہی عن البیع ایضا لانہ فی معنی البیع‘‘ (ہدایہ ج ۴ ص ۴۵۰ کتاب الاضحیۃ)

ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد ۸ صفحہ ۴۷۹ مطبع سنی دارالاشاعت میں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

جواب: (۴) قربانی بینک میں یا ٹھیکیدار کو رقم جمع کردینے سے موجودہ حالات میں صاحب نصاب کا اپنی واجب قربانی سے ، اسی طرح حج تمتع و قران میں حاجی کا واجب قربانی سے بری الذمہ ہونا محض محتمل ہے ، مظنون و متیقن نہیں کیوں کہ رقم جمع کرنے والے کو یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس کی قربانی متعین وقت پر ہوئی یا نہیں یا یہ کہ سرے سے قربانی ہی نہیں ہوئی ۔ اسی طرح یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ رمی قربانی سے پہلے کر لی ہے، نہ ہی معلوم ہوپاتا ہے کہ حلق یا قصر سے پہلے قربانی ہو چکی ہے خصوصا سعودی قربانی بینکوں میں ہر گز قربانی کی رقم نہ دی جائے کہ وہ بالعموم وہابیہ سے ذبح کراتے ہیں جو اپنے مذہب کے مطابق افعال حج و دیگر عبادات کو انجام دینے کے سلسلے میں حجاج پر جبر بھی کرتے ہیں ۔ جبکہ حج تمتع و قران والے حاجی پر واجب ہے کہ قربانی سے پہلے رمی کرے پھر قربانی کرے پھر حلق یا قصر کرے۔ ہاں اگر کوئی ایسی تنظیم یا ادارہ یا ایسا فرد ہو جو لائق اعتماد ہو اور قربانی کی رقم جمع کرنے والے کو بھی اس کے حالات کے پیش نظر ذاتی طور پر اطمینان کافی ہو اور وہ قربانی ہو جانے کی اطلاع دیدے تو یہ صورت اب احتمال سے ظن غالب ملحق بالیقین کے درجہ میں داخل ہو گی، اور حاجی یا قربانی کرنے والے کو شرعاً بری الذمہ قرار دیا جائے گا ۔پھر بھی اگر بعد میں معلوم ہوا کہ قربانی افعال حج میں ترتیب کے خلاف ہوئی ہے تو دم واجب ہوگا۔

ہدایہ میں ہے:’’فیبتدی بجمرۃ العقبۃ فیرمیہا من بطن الوادی بسبع حصیات مثل حصی الخذف لان النبی علیہ السلام لما اَتی منیٰ لم یعرج علیٰ شی ٔ حتی رمیٰ جمرۃ العقبۃ ۔ ثم یذبح ان احب ثم یحلق او یقصر لما روی عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انہ قال انّ اوّل نسکنا فی یومنا ہٰذا ان نرمی ثم نذبح ثم نحلق، ولان الحلق من اسباب التحلل وکذا الذبح حتی یتحلل بہ المحصر فیقدم الرمی علیہما ثم الحلق من محظورات الاحرام فیقدم علیہ الذبح وانما علق الذبح بالمحبۃ لان الدم الذی یاْ تی بہ المفرِد تطوع والکلام فی المفرد‘‘ ملخصاً (ہدایہ اولین ص ۲۴۹؍۲۵۰)

ردالمحتار میں ہے: ’’ویجب (الذبح) علی القارن والمتمتع‘‘ (ج۳ص ۵۳۴ کتاب الحج) واللہ تعالیٰ اعلم

جواب: (۵)اگر وجوب قربانی کی ادائیگی سے بری الذمہ ہونامحض محتمل ہو تو ٹھیکیدار کی طرف سے مقرر کردہ وقت کے بعد متمتع ، قارن و محصر کو حلق یا قصر کرنے نیز احرام اتارنے کی اجازت نہ ہوگی ۔ اور اگر ظن غالب ہو تو جائز ہوگا۔ ظن غالب کی ایک صورت مثلاً یہ ہے کہ کسی قابل اعتماد شخص نے خبر دی یا ٹھیکیدار پابند شرع ہے اس نے معتبر ذریعے سے خبر دیدی کہ قربانی ہوگئی ۔۔ جس صورت میں بری الذمہ ہونے کا محض احتمال ہو اس میں دم واجب ہوگا اور اگر ظن غالب ہو تو دم واجب نہ ہوگا۔ اور حاجی (متمتع، قارن، محصر) بری الذمہ قرار دیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

جواب: (۶)اس کی چند صورتیں ہیں ۔

(۱) جس آبادی میں سنی صحیح العقیدہ لوگ رہتے ہوں وہاں قربانی صحیح ہو جائے گی اگر چہ شریک یا ذابح کے عقائد کی تحقیق نہ ہو ۔ کہ ظاہر حال سنی صحیح العقیدہ ہونے کا ہے۔ والحکم علی الظاہرواللہ یتولی السرائر۔وہو تعالیٰ اعلم

(۲) جس آبادی میں ایسے بد مذہب بھی رہتے ہوں جن کی بدمذہبی حد کفر کو پہنچی ہوئی ہے خواہ کفر کلامی ہو یا فقہی مگر اکثریت و غلبہ سنی صحیح العقیدہ لوگوں کا ہے تو ظاہر حال کے مطابق قربانی کی صحت کا حکم ہوگا ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ ذابح یا شریک کے عقائد کی تحقیق کرلے۔ وہو تعالیٰ اعلم

(۳) جس آبادی میں غلبہ بد مذہب کا ہو تو وہاں ذابح یا شریک کی صحت عقائد کی تحقیق کے بغیر قربانی جائز نہ ہوگی۔ وہو تعالیٰ اعلم

(۴) اگر قربانی کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ مشترک جانور میں کوئی مذکورہ بد مذہب شامل ہوگیا یا اس نے ذبح کیا ہے تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔ اگر ایام قربانی باقی ہیں تو پھر سے قربانی کرنا واجب ہے ورنہ اتنی رقم کا تصدق لازم۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے ’’ قادیانی صریح مرتد ہیں ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے اور غیر مقلد وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافر ہی ہیں ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفر فرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے ۔۔۔ جمہور فقہائے کرام کے قول پر حرام و مردار کا کھانا ہوگا‘‘۔ (ج۸ ص ۳۳۳ سنی دارالاشاعت مبارکپور)

درمختار میں ہے: ’’ ان کان شریک الستۃ نصرانیاً او مرید اللحم لم یجز عن واحد منہم‘‘(ج۹ ،کتاب الاضحیۃ)واللہ تعالیٰ اعلم

جواب: (۷)شرکا کی تعیین نہ کرنے کی صورت میں قربانی شرعاً درست نہ ہوگی ۔ ان جانوروں کا مالک وکیل (ٹھیکیدار) ہو جائیگا کیوں کہ وکیل نے موکل کی توکیل کی شرط کے خلاف خریداری کی۔ موکل نے قابل قربانی ایک پورے حصے کے خریدنے کا وکیل کیا تھا ، نہ کہ بطور مشاع تمام خریدے ہوئے جانور میں سبع (ساتویں حصے) سے کم کا ، اور اپنی ملک کا جانور دوسرے کی طرف سے کرنے پر قربانی صحیح نہ ہوگی ۔ ہاں اگر ایک ایک جانور کو نام بنام خریدے تو قربانی درست ہو جائے گی کہ اس میں موکل ہی مالک ہوگا ، اور وکیل نے اس کی اجازت سے قربانی کی ۔ لہٰذا واجب ادا ہوگیا۔ فتاویٰ قاضیخاں میں ہے: ’’ رجل ضحی بشاۃ نفسہ عن غیرہ لا یجوز ذالک سواء کان بامرہ او بغیر امرہ لانہ لا وجہ لتصحیح الاضحیۃ عن الآمر بدون ملک الآمر والملک للآمر لا یثبت الا بالقبض ولم یوجد القبض لا من الآمر ولا من نائبہ ‘‘ (ج۳ص۳۵۲ کتاب الاضحیۃ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’ ذکر فی فتاویٰ ابی اللیث رحمہ تعالیٰ اذا ضحی بشاۃ نفسہ عن غیرہ بامر ذالک الغیر او بغیرامرہ لا تجوز لانہ لا یمکن تجویز التضحیۃ عن الغیر الا باثبات الملک لذالک الغیر فی الشاۃولن یثبت الملک لہ فی الشاۃ الا بالقبض ولم یوجد قبض الامر ہٰہنا بنفسہ ولا بنائبہ کذا فی الذخیرۃ‘‘ (ج۵ ص۳۰۲ کتاب الاضحیۃ ) واللہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!