گیارہواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف


منعقدہ: ۱۹/۲۰/۲۱/جمادی الاولیٰ۱۴۳۵مطابق۲۱/۲۲/۲۳/مارچ ۲۰۱۴

مقام: رضامنزل،تاجداراہلسنّت،ہال،دارالعلوم نوری،کھجرانہ،اندور

موضوع:۳-عنوان:مساجدمیں قائم مکتبوں اورسماجی خدمات کے نام سے زکوٰۃکی تحصیل اور اس کے استعمال کا شرعی حکم


باسمہٖ تعالیٰ

ســـــوال نـــــامہ:

آج ملک کے اطراف وجوانب میں کچھ لوگوں نے سماجی خدمات کے نام سے فلاحی تنظیمیں بنا رکھی ہیں ،عوام وخواص فاسق وغیرفاسق ہرقسم کے افراد ان تنظیموں کے ارکان وممبران ہیں ،یہ تنظیمیں اہل مال سے زکوٰ ۃ وفطرہ ودیگر صدقات وخیرات وصول کرتی ہیں اور مندرجہ ذیل سماجی کاموں میں خرچ کرتی ہیں۔

(۱) وصول کردہ رقوم زکوٰۃ ودیگر صدقات سے اسپتالوں کی تعمیر کراتی ہیںاور جگہ جگہ مطب لگاکر مفت یامعمولی فیس کے ساتھ مریضوں کا علاج ومعالجہ اورحسب ضرورت ایکسرے،سونوگرافی ودیگر جانچیں کراتی ہیں ،اس سے محتاج وغنی ،مسلم وغیرمسلم ہرطرح کے لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں ،کسی کواس سے روکانہیں جاتا اور نہ ہی تنظیموں کی جانب سے اس پر کوئی پابندی لگائی جاتی ہے۔

(۲) دینی ودنیاوی تعلیم گاہیں بناتی ہیں جن میں سنی وغیر سنی ،مسلم وغیرمسلم ہرمذہب کے ماننے والوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیںاور کسی کو اس سے روکا نہیں جاتا۔

(۳)سیلاب وزلزلے ،مذہبی تشددودفسادودیگر آفات سے متائثرلوگوںکے لئے کھانے پینے،رہنے سہنے ،لباس وبسترودیگر گھرگرہستی کے سامان مہیاکرتی ہیں اور بلاتفریق مذہب وملت ہرقسم کے لوگو ں کے درمیان تقسیم کرتی ہیں۔

(۴)غریب ونادار مسلم بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا انتظام کرتی ہیں جن میں مدعو حضرات کے لئے مناسب کھانے پینے کا انتظام کیاجاتاہے،دعوت کے اس کھانے میں کچھ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی زکوۃ ودیگرصدقات سے اس کام میں حصہ لیاہے۔
(۵) مال زکوۃ وخیرات میں سے محتاجوں کو قرض دیتی ہے تاکہ وہ اس سے تجارت وکاروبار کریں اورپھر قسط وار یا یکمشت واپس کردیں۔ ان میں بعض تنظیمیں بہت منظم ہیں ،متعدد جگہوں میں ان کے دفاتر ہیں ،نوکروملازمین بھی ہیں اورکہیں جانے آنے کے لئے گاڑیوں کا انتظام بھی ہے،ان تنظیموں کے اکثر ذمہ داروں کونہ زکوۃ وخیرات کے اختلا ط کی کوئی پرواہ ہوتی ہے اورنہ ان کے مصارف کے درمیا ن امتیاز کاکوئی خیال،بلکہ ان میں زیادہ ترصدقات وخیرات کے ضروری مسائل سے بھی بے خبرہوتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ان تنظیموں سے بہت سے غریبوں کوراحت ملتی ہے ،ان کے گھر آبادہوجاتے ہیں اوران کے بچے پڑھ لکھ جاتے ہیں اورمریضوں کامفت یاکم خرچ میں علاج ہوجاتاہے اور محتاجوں کو بروقت مددملجاتی ہے۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو غریبوںاور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی مددکرنے کا حکم دیاہے اورقرآن کریم اوراحادیث نبویہ میں جابجا اہل ایمان کو اس کی تر غیب دی گئی ہے لیکن اسکے کچھ اصول وضوابط بھی ہیںجن کی پابندی ہی میں قوم وملت کی فلاح وبہبود داوردنیاوآخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے،یقینا یہ کام بہت اچھے اورلائق صد تعریف ہیں جب کہ یہ اسلامی اصول ضوابط کی روشنی میں ہوں حقوق کی پامالی نہو،غصب وخیانت سے محفوظ اوربے اعتدالیوں سے پاک وصاف ہو۔
ہمارے فقہاء متاخرین نے آج سے کئی صدی پیشتراپنے زمانے کے بگڑتے ہوئے حالات اور حکام وسلاطین کی بے اعتدالیوں کو دیکھ کرفساد بیت المال کاقول فرمایااوراصل مذہب سے عدول کرکے عصبہ کی غیر موجودگی میں بچے ہوئے مالِ ترکہ کو زوجین پر ردکرنے کا حکم صادر فرمایا۔
تنویرالابصارودرمختار میں ہے۔ فان فضل عنہاأی عن الفروض والحال أنہ لاعصبۃ ثمۃ یرد الفاضل علیہم بقدرحقوقہم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایرد علیہما،وقال عثمان رضی اللہ عنہ: یردعلیہماا یضا قالہ المصنف وغیرہ،قلت وجزم فی الاختیاربان ہٰذا وہم من الراوی ،فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یردعلیہمافی زماننا لفسادبیت المال۔
اور اسی کے تحت ردالمحتار میںہے۔ قال فی القنیۃ:ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال ،وفی الزیلعی عن النہایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یرد علیہ،وکذاالبنت والابن من الرضاع یصرف الیہما ،وقال فی المستصفی:والفتوی الیوم با لرد علی الزوجین وقول المتاخرین من علمائنا ،وقال الحدادی :الفتوی الیوم با لرد علی الزوجین،وقال المحقق احمد بن یحی بن سعد التفتا زانی:افتی کثیر من المشائخ بالرد علیہما اذالم یکن من الاقارب سواہما لفساد الامام وظلم الحکام فی ہٰذہ الایام ،بل یفتی بتوریث بنات المعتق وذوی ارحامہ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی المستصفی:والفتوی الیوم علی الردعلی الزوجین عند عدم المستحق لعدم بیت المال اذالظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ ،۔۔۔۔۔ ۔۔ وحیث ذکرالشراح الافتاء فی مسألتنا فلیعمل بہ ، ولاسیما فی مثل زماننا فانہ انمایأخذہ من یسمی وکیل بیت المال ،ویصرفہ علی نفسہ وخدمہ ولایصل منہ الی بیت المال شیء ۔
(۔ج۱۰ص۵۳۹؍۵۴۰مکتبہ زکریا)
حکام وسلاطین کی بے اعتدالیوںاور بے راہ ریوں ہی کی وجہ سے امام حلوانی نے فرمایاکہ جب کسی کے پاس کسی کی امانت ہو اور صاحب امانت بلاوارث مرجائے تو وہ مال امانت کو بیت المال میں جمع نہ کرے بلکہ اپنے پاس رکھے رہے اگر اس کا کوئی وارث واہل مل جائے تو اسے دیدے ورنہ اس کے مصرف میں صرف کردے۔
ردالمحتارمیں ہے۔ قال فی البزازیۃ:قال الامام الحلوانی:اذاکان عندہ ودیعۃ فمات المودع بلاوارث لہ ان یصرف الودیعۃ الی نفسہ فی زمننا ہٰذا،لانہ لواعطاہا لبیت المال لضاع لانہم لایصرفون مصارفہ ،فاذا کان من اہلہ ْصرفہ الی نفسہ والاصرفہ الی المصرف۔
(ج۱۰ص۴۵۶مکتبہ زکریا)۔
آج کے حالات تو پہلے سے بہت بدترہوچکے ہیں،حرص ِمال ،طمعِ دنیا،خیانت وفریب کاری اور ہوائے نفس وتن پرستی عام ہوتی جارہی ہے اور دلو ں سے خوف خدا اور خوف آخرت اٹھتاجارہاہے،ایسے پرفتن حالات میں ان تنظیموں کے ذمہ داروں پر اعتماد کرنا اور انہیں اس کام کی اجازت دینا کہاں تک صحیح ہے،اسکابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
مصارف زکوۃ ودیگرصدقات واجبہ کے مصارف قرآن کریم میں بیان کردیئے گئے ہیں ،ارشاد ربانی ہے:انماالصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیہاوالمؤلفۃ قلوبہم والغارمین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضۃمن اللہ واللہ علیم حکیم۔
سماجی خدمات کے نام پر قائم یہ تنظیمیں زکوۃ کا مال جن چیزو ںپر خرچ کرتی ہیں ان میں کچھ زکوۃ کے مصارف ہی نہیں مثلاًاسپتالوںاوریتیم خانو ں اور دینی دنیاوی مخلوط تعلیم گاہوں کی تعمیر،اورکچھ مصارف زکوۃ ہیں تو ان میں تملیک فقیر نہیںپائی جاتی بلکہ حصولِ منفعت کی صرف اجازت ہوتی ہے،جبکہ ادائیگی زکوۃ کے لئے تملیک فقیر ضروری ہے بلکہ زکوۃ، مال کے ایک متعین حصہ کا مسلم فقیر کو مالک بنا دینے ہی کانام ہے،مباح کردینے اور منفعت کا مالک بنادینے سے زکوۃ ادانہ ہوگی۔
تنویرالابصار میں ہے۔ ہی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر غیرہاشمی ولامولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی۔ (ج۳ص۱۷۱مکتبہ زکریا)
درمختار میں ہے۔ خرج الاباحۃ فلو اطعم یتیما ناویا الزکاۃ لایجزیہ۔اسی میں ہے۔خرج المنفعۃ فلواسکن فقیرا دارہ سنۃ ناویالایجزیہ۔ (ج۳ص۱۷۱؍۱۷۲)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ولایجوز ان یبنی بالزکاۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الانہاروالحج والجہاد وکل مالاتملیک فیہ۔ (ج۱ص۱۸۸،مکتبہ زکریا)
ہمارے فقہاء کرام ذوی الاحترام نے مساجد ومدارس کی تعمیر ،تکفین ِمیت ودیگرامور خیر میں مالِ زکوۃ خرچ کرنے کے لئے حیلئہ شرعی کی اجازت دی ہے۔
فتاور ضویہ جلد۴؍ص ۴۷۳میں عالم گیری کے حوالے سے ہے۔
فی جمیع ابواب الخیر کعمارۃ المساجد وبناء القناطیر الحیلۃ ان یتصدق بمقدارزکوتہ علی فقیر ثم یامرہ بالصرف الی ہٰذہ الوجوہ فیکون للمتصدق ثواب الصدقۃوللفقیر ثواب بناء المسجد والقنطرۃ۔
حیلٔہ شرعی اس وقت کیاجاتاہے جبکہ غیرمصرف میں مالِ زکوۃ لگانے کی ضرورت شرعیہ یا حاجت شرعیہ پائی جائے اوروہ فی نفسہ ثواب کاکام ہو۔
فتاوی رضویہ میں ہے۔ یہ حیلہ بضرورت صرف ایسی جگہ ہو مثلاٍ کسی سید صاحب کو حاجت ہے مالِ زکوۃ انہیں دے نہیں سکتے اور اپنے پاس زرِزکوۃ سے زیادہ دینے کی وسعت نہیںتواس طرح زکوۃ اداکرکے برضامندی مول لیکر سید صاحب کے نذر کردیاجائے یامسجد کی تعمیر یا میت کے کفن میں لگادیاجائے۔ (ج۴؍ص۴۷۳)
فتاوی رضویہ ہی میںہے: مدرسہ دنیوی میں نہ دیں کہ وہ قربت نہیں ۔
(جلد ۸؍ص۴۸۷)
فتاوی امجدیہ جلد اول ۳۷۲؍کے حاشیہ میں حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں ۔’’یہاں یہ نکتہ ضرور قابل لحاظ ہے کہ زکوۃ کا اصل مصرف فقراء ہیں مگر آجکل مالداروں کی راہ خدامیں صرف کرنے کی رغبت بہت کم ہوگئی ہے دین کی بقا کے لئے دینی مدارس کا وجود ضروری ہے اگر اسکا مدار صرف عطیات خیرات پررکھاجائے تو مدارس کاخدا حافظ ،اسلئے بضرورت حیلۂ شرعیہ کرنے کے بعد زکوۃ صدقۂ فطر کی رقوم مدارس میں صرف کرنے کی اجازت دی گئی ہے ،اور یہ اپنی جگہ ثابت جو حکم بضرورت ہوتا ہے وہ قدر ضرورت سے متجاوز نہیں ہوتا ہے۔
لہٰذا زکوۃ ودیگر صدقات واجبہ کی رقم حیلہ کے بعد بھی دنیوی اسکول کالج وغیرہ میں صرف کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،دینی مدارس اورمصرف زکوۃ میں قدرِ مشترک مصرف ِخیرہے ،فقیر کو دینا بھی کارِ خیر اور دینی مدارس میں صرف بھی کارِ خیر،اوراسکول کالج میں صرف کرنا کارِخیرمیںصرف نہیں ،زیادہ سے زیادہ امرِمباح میںصرف ہوگا،آجکل دنیا دار نا خدا ترس زکوۃ وغیرہ کی رقم وصول کرکے دنیوی تعلیم میں بے دھڑک صرف کرتے ہیں اسے اپنے بچوںکی دنیوی تعلیم میں صرف کا مطلب یہ ہواکہ اپنی زکوۃ اپنے بچوں پر صرف کررہے ہیں بلکہ بعض بے باک اس سے غیر مسلمو ں بلکہ بدقماش عورتوں کو تنخواہ دیتے ہیں۔العیاذ باللہ تعالی
نزہُۃالقار ی جلد چہارم ص۱۹۱میں ہے۔ ’’کچھ دنوں سے عوام میں یہ رجحان ہوچلاہے کہ دنیوی مدارس اورسو سائٹیاں چلانے کے لئے زکوۃ اور فطرے کی رقم وصول کرنے لگے ہیں اس کی اجازت کسی طرح شریعت نہیں دے سکتی۔
فلاحی تنظیمیں جن چیزوں پر مالِ زکوۃ ودیگر صدقات واجبہ خرچ کرتی ہیں کیا ان پر مالِ زکوۃ وغیرہ خرچ کرنے کے لئے ضرورت وحاجت شرعیہ کا تحقق ہوچکاہے اورکیایہ سارے امور کارِخیر میں شمارہوں گے جبکہ غیرمصر ف میںمال زکوۃ خرچ کرنے کے لئے ضرورت یاحاجت شرعیہ کا تحقق ا ور اس کاکارِ خیر ہو نا دونوں ضروری ہے۔
علاوہ ازیںان فلاحی تنظیمو ں کے امدادی کاموں سے مسلم وغیر مسلم غنی و محتاج ہرقسم کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ،جبکہ صدقا ت خواہ واجبہ ہوں یا نافلہ، حربی کے لئے مطلقا جائز نہیں ،اورغنی کے لئے بھی زکوۃ لینا جائز نہیں۔
البحرالرائق میں ہے:وصح دفع غیر الزکوۃ الی الذمی واجباکان او تطوعا کصدقۃ الفطر والکفارات والمنذور لقولہ تعالی (لاینہاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین )الایۃ ،وخصت الزکوۃ بحدیث معاذ وفیہ خلاف ابی بوسف ،ولایرد علیہ العشر لان مصرفہ مصرف الزکوۃ کما قدمناہ فلایدفع الی ذمی والصرف فی الکل الی فقراء المسلیمن احب،و قید بالذمی لان جمیع الصدقات فرضا کانت او واجبۃ اوتطوعا لاتجوز للحربی اتفاقا کمافی غایۃ البیان لقولہ تعالی(انما ینہاکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین )
( ج۲ص۴۲۳؍۴۲۴ مکتبہ زکریا)
بدائع الصنائع میں ہے: ومنہا ان یکون مسلما فلایجوز صرف الزکوۃ الی الکافر بلاخلاف،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واما ماسوی الزکوۃ من صدقۃ الفطر والکفارات والنذور فلا شک ان فی صرفہا الی فقراء المسلمین افضل لان الصرف الیہم یقع اعانۃ لہم علی الطاعۃ،وہل یجوز صرفہاالی اہل الذمۃقال ابوحنیفۃ ومحمد یجوز، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انما لایجوز صرفہاالی الحربی لان فی ذلک اعانۃ لہم علی قتالناوہٰذالایجوز ۔ (ج۲ص۱۶۱)مکتبہ زکریا)
اور اسی میں ہے۔منہا؛ان یکون فقیرا فلایجوز صرف الزکوۃ الی الغنی الاان یکون عاملاعلیہا (ایضاص۱۴۹)
درمختار میںہے۔اماالحربی ولومستامنا فجمیع الصدقات لاتجوز لہ اتفاقا،بحرعن الغایۃوغیرہا،لکن جزم الزیلعی یجوزالتطوع لہ ۔
(ج؍۳ص؍۳۰۱مکتبہ زکریا)
ردالمحتار میں اسی عبارت کے تحت ہے۔ أی للمستأمن کماتفیدہ عبارۃ النہر۔
اوراسی میںہے:وفی المحیط:فی الحربی روایتان،والفرق علی احداہماأنہ لم توجدصفۃ القربۃ اصلاوالحق المنع،ففی غایۃ البیان عن التحفۃ اجمعواأنہ اذاظہرأنہ حربی ولو مستأمنالایجوز،وکذافی المعراج معللا بأن صلتہ لاتکون براشرعا،ولذالم یجزالتطوع الیہ فلم یقع قربۃ اھ۔ (ایضامصدرسابق)
مالِ زکوۃ سے محتاج یا غیر محتاج کسی کو بھی قرض دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی اور قرض وصول کر نے کے بعد مصارفِ زکوۃ کو مالک بنائیں تو یقینا ادائیگیٔ زکوۃ میں تاخیر ہوگی حالانکہ سال تمام ہونے پر فورا اس کی ادئیگی واجب ہے۔
فتاوی عالم گیری میں ہے۔ وتجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتاخیرہ من غیرعذر،وفی روایۃ الرازی علی التراخی حتی یأثم عند الموت ،والاول اصح کذافی التہذیب۔ (جلد اول ص ۱۷۰کتاب الزکوۃ،مکتبہ زکریا)
اسی طرح مساجد میں قائم وہ مکاتب کہ جن میں اہلِ محلہ کے بچے قاعدے سی پارے پڑھتے ہیں ان کے لئے زکوۃ کی تحصیل کی جاتی ہے اور ان پر خرچ کرنے کے لئے حیلۂ شرعی کیاجاتاہے، ،حالانکہ یہ مکاتب اہل محلہ کے عطیات وخیرات سے چل سکتے ہیں ،ایسے مکتبوں کے لئے زکوۃ وصول کرنا اور اسکے لئے حیلہ کرکے خرچ کرنا کیاغیرمصرف میں خرچ کرنے اور اصحابِ زکوۃ کی زکوۃ ہلاک کردینے کے مترادف نہیں ۔
ردالمحتار میں ہے۔یکرہ ان یحتال فی صرف الزکوۃ الی والدیہ المعسرین بان تصدق علی فقیر ثم صرفہا الفقیرالیہما کمافی القنیۃ قال فی شرح الوہبانیۃوہی شہیرۃ مذکورۃ فی غالب الکتب۔
(جلد ۳ص۲۹۴مکتبہ زکریا)
اس تفصیل کے بعد اصحاب فقہ وافتاءکی بارگا ہ میں چند سوالات حاضرہیں امید کہ ان کا اطمینان بخش جواب عنایت فرماکر بروقت امت مسلمہ کی رہنمائی فرمائیں گے اور عنداللہ ماجورومثاب ہونگے۔
(۱) اسپتالوں ،دینی ودنیاوی مخلوط تعلیم گاہوںاور غریب لڑکیوں کی شادی بیاہ کے لئے فلاحی تنظیموں کا مالِ زکوۃ ودیگر صدقات وصول کرنا اور ان پر خرچ کرناکیا جائز ہے ؟اور کیا اس سے زکوۃ اداہوجائیگی؟
(۲) مساجد میں قائم وہ مکاتب کہ جن میں اہل محلہ کے بچے قاعدے وسی پارے پڑھتے ہیں ان کے لئے زکوۃ وصول کرنا اور اوران پر خرچ کرنے کے لئے حیلۂ شرعی کرنا کیساہے؟ایساکرنے والو ں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟
(۳)حیلۂ شرعی ضرورت وحاجت شرعیہ کے وقت کیاجاتاہے توکیا مذکورہ چیزو ں پر مالِ زکوۃ صرف کرنے کے لئے ضرورت یاحاجت شرعیہ کا تحقق ہو چکاہے؟
(۴)کیاحربی کو صدقۂ نافلہ دیاجاسکتاہے؟
(۵) آج ملک میں کثرت سے مدارس ،مکاتب،لائبریری ،دارالاشاعت اور دارالافتاءوغیرہ پائے جاتے ہیں کیاہرطرح کے دینی اداروں کے لئے زکوۃوفطر وصول کرنے اور ان پر خرچ کرنے کے لئے حیلۂ شرعی کی اجازت ہوگی؟یاان میں کچھ تفصیل ہے؟ واضح فرمائیں ۔
(۶) ایک خاص ادارے کے نا م سے وصول کی گئی زکوۃ کسی دوسرے ادارے یا کسی نیک کام میں صرف کرنا کیساہے؟کیااس سے زکوۃ دینے والو ںکی زکوۃ ادا ہوجائیگی؟ایسا کرنے والوں پرشریعت کا کیا حکم عائد ہوتا ہے؟
(۷)مالِ زکوۃ سے محتاجوں کو تجارت کے لئے قرض دینا اور اور کاروبار چلنے پر ان سے واپس لے لینا کیاجائزہے؟
ت ت ت

مفتی محمد رفیق عالم رضوی
استاذجامعہ نوریہ رضویہ
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

باسمہ تعالیٰ
فیـــــصـــــلہ

عنوان: مساجدمیں قائم مکتبوں اورسماجی
خدمات کے نام سے زکوٰۃکی تحصیل اور اس
کے استعمال کا شرعی حکم۔
جواب: (۱)دینی اور دنیوی تعلیم گاہوں اور لڑکیوں کی شادی و بیاہ کیلئے فلاحی تنظیموں کا زکوٰۃ وصول کرنا اور اس کو مذکورہ فنڈ میں صرف کرنے کے لئے حیلہ شرعیہ کرنامنع ہے کہ اس میں ایجاب زکوٰۃکی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے ۔اگر کوئی انفرادی طورپر مال زکوٰۃ محتاج بچیوں کی شادی و بیاہ پر بعدحیلہ شرعیہ خرچ کرے تو اس کی اجازت ہے ۔یا وہ مال زکوٰۃ مزکی خود مستحق بچیوں کو دیدے۔واللہ تعالیٰ اعلم
جواب: (۲)جس جگہ کے مسلمان اپنے دیگر اموال سے مکاتب کی ضروریات پوری کرنے کی حیثیت نہ رکھتے ہوں وہاں تعلیم قرآن کے لئے بقدر حاجت زکوٰۃ وصول کرنا اور بعد حیلہ شرعیہ خرچ کرنا درست ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
جواب: (۳)ضرورت و حاجت کا تحقق کہاں اور کس کے لئے ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تحقق ضرورت و حاجت کے بعد ہی ہو سکتا ہے ۔ اور اس کے مراتب کا بھی یہی حال ہے ۔ علی العموم تمام جگہوں کے لئے تحقق ضرورت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
جواب: (۴)حربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں ۔ البتہ مضرت مظنون کے سد باب کے لئے اسے بے نیت تصدق کچھ دے سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
جواب: (۵)جن مقامات کے حالات سے معلوم ہو کہ دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کی خاطر دارالافتاء اور لائبریری کے لئے کتب کی فراہمی بلا زکوٰۃ نہیں ہو سکتی ہے وہاں بعد حیلہ خرچ کی اجازت ہوگی ۔
جواب: (۶)کسی خاص ادارہ کے نام وصول کی گئی زکوٰۃ حیلہ شرعی سے قبل کسی بھی ادارہ یا کار خیر میں صرف کرنا جائز نہیں کہ ادائیگی زکوٰۃ کے لئے تملیک فقیر شرط ہے اور مزکی نے جس ادارہ کے نام سے زکوٰۃ بھیجی ہے اسی ادارہ کے لئے حیلہ شرعیہ کرایاجائے۔واللہ تعالیٰ اعلم
جواب: (۷)کسی تنظیم یا وصول کنندہ کا مال زکوٰۃ سے بغرض تجارت محتاجوں کو قرض دینا جائز نہیں کہ مال زکوٰۃ میں خیانت کے ساتھ بعض حالات میں تاخیر ادائے زکوٰۃ بھی ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[میل شرعی و میل انگریزی پر بحث کا موقعہ نہ مل سکا۔ اویسی]

ۘ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

 

Menu
error: Content is protected !!