دوسرافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۵؍۱۶؍رجب المرجب ۱۴۲۶ھ ؍مطابق ۲۱؍۲۲؍ستمبر ۲۰۰۵ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱– انٹر نیٹ و ٹیلی فون وغیرہ سے بیع و شراء کا حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جہا ں بہت سے شعبوں میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے ، وہیں مواصلات اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں بھی غیر معمولی ترقی ہوئی ہے فاصلے سمٹ آئے ہیں۔ گویا دنیا ایک گلوبل ولیج(Global Village) بن گئی ہے صورت حال یہ ہے کہ سینکڑوں ہزاروں میل دور گھر بیٹھے سیکنڈوں میں آپ بذریعہ انٹرنیٹ ، فون، موبائل وغیرہ سے گفت و شنید کر سکتے ہیں، انٹرنیٹ اسکرین پر بذریعہ ای میل (E:mail)دنیا میں تحریری پیغام پہنچا سکتے ہیں، اور اگر آپ چاہیں تو اسکرین پرنٹ (Screen Print)کو کاغذی پرنٹ کی شکل میں بھی نکال سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ میں آپ ٹیلی فون کی طرح گفتگو بھی کر سکتے ہیں اور تحریر بھی بھیج سکتے ہیں۔مواصلات اور ذرائع ابلاغ کی اس ترقی سے سماج کا ہر طبقہ نہ صرف یہ کہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ عملاً امکانی حد تک اس سے فائدہ اٹھا بھی رہا ہے ، کاروبار خرید و فروخت کرنے والوں ( تاجرین) کی تو ، چاندی، اور بہار ہے یہ تاجرین ، انٹرنیٹ ، فون موبائل و دیگر ذرائع ابلاغ کو اپنے لئے عظیم نعمت غیر مترقبہ تصور کر تے ہیں۔ اور انہیں اپنے کارو بار کے فروغ اور اپنے غیر معمولی وسعت دینے کا بہتر و مستحکم ذریعہ سمجھتے ہیں۔سینکڑوں ہزاروں میل فاصلے کے باوجود انٹر نیٹ و ٹیلی فون کے ذریعہ ’’اشیاء کی خرید و فروخت ‘‘کا چلن بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اب دور حاضر کے علماء فقہاء کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ علمی تحقیق و جستجو اور بحث و مباحثے کے ذریعہ اس نو پید مسئلہ کا شرعی حل پیش کر کے امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی فرمائیں۔طرفین کی جانب سے مالی یا غیر مالی عوض ادا کئے جانے والے عقود و معاملات کی درستگی کے لئے عاقدین کا ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے ۔ کیوں کہ فقہاء نے ایسے عقود و معاملات میں ایجاب و قبول کو رکن قرار دیا ہے۔ ایجاب و قبول کے درمیان اتصال ضروری ہے ۔ یعنی جب کوئی فریق اپنی طرف سے معاملات کی پیشکش کرے، تو دوسرے فریق کا ’’قبول‘‘ اس ’’ایجاب‘‘ سے متصلاًہونا لازمی ہے ا۔

س اتصال کی دو صورتیں ہیں:

(۱)اتصال حقیقی

(۲)اتصال حکمی

پہلی صورت یہ ہے کہ ایجاب کے فوری بعد بلاتا خیر دوسرا فریق اسے قبول کر لے اور دوسری صورت یہ ہے کہ مجلس ایجاب کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ’’قبول‘‘ کا اظہار کیا جائے اس دوسری صورت کو بھی فقہاء حنفیہ نے ’’اتصال‘‘ ہی کے زمرے میں مانا ہے، کیو ں کہ مجلس کے متحد ہونے اور ایجاب و قبول کے درمیان فصل بالا جنبی نہ پائے جانے کیوجہ سے ایجاب و قبول میں اتصال حقیقۃ نہ سہی حکماً ضرور پایا گیا۔بیع، نکاح جیسے عقود کے انعقاد کے لئے مجلس کے ایک ہونے کی شرط لازمی ہے: ’’ ومنہا فی المکان، وہو اتحاد المجلس بان کان الایجاب والقبول فی مجلس و احد، فان اختلف لاینعقد( عالمگیری ص۳)

(اتحاد المجلس) قال فی البحر فلواختلف المجلس لم ینعقد، فلواوجب احد ہما فقام الآخر اواشتغل بعمل آخربطل الایجاب ، لان شرط الارتباط اتحاد الزمان۔(رد المحتار ۴؍۷۲)

اس تعلق سے قابل غور پہلو یہ ہے کہ اصل مقصود ایجاب و قبول میں ’’مقارنت زمانیہ‘‘ اور ’’اتحاد مجلس‘‘ دونوں ہے؟ یا یہ کہ محض زماناً مقارنت و اتصال، بایں طور کافی ہے کہ پچھلے ادوار میں عاقدین کے لئے الفاظ ایجاب و قبول کی سماعت و مقارنت، اتحاد مجلس کے بغیر متصور نہ تھی۔ اس لئے فقہاء نے انعقاد عقد کے لئے اتحاد مجلس کی شرط لگائی ، اور جب کہ ذرائع ابلاغ و مواصلات نے غیر معمولی ترقی کر لی ہے۔ عاقدین سینکڑوں بلکہ ہزاروں میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے بھی ایجاب و قبول کر لیتے ہیں اور ان دونوں میں مقارنت زمانیہ ( اتصال) بھی بحسن و خوبی پائی جاتی ہے ، تو کیا اتحاد مجلس ، کی شرط اب بھی لازمی قرار دی جائے گی؟ اسی تناظر میں چند سلگتے ہوئے سوالات حاضر خدمت ہیں۔

(۱)فقہاء کرام کے یہاں مجلس کے متحد و مختلف ہونے کے کیا معنی ہیں؟

(۲) انٹرنیٹ و ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعہ اشیاء کی خرید و فروخت کا معاملہ شرعاً درست ہے؟ اور کیا اس طرح بیع و شراء منعقد ہوتی ہے؟

(۳)اگر یہ معاملہ شرعاً درست نہ ہو تو کیا تصحیح عقد و جواز معاملہ کی شرعاً کوئی صورت ہے یا نہیں؟

(۴) اس ضمن میں انٹر نیٹ و ٹیلی فون کے ذریعہ نکاح کا حکم بھی واضح فرما دیا جائے۔

امید کہ ان سوالات کے تشفی بخش جواب سے شاد کام فرمائیں گے۔

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

(۱)اس پر سب کو اتفاق ہے کہ انٹر نیٹ و فیکس کے ذریعہ عقد بیع ہو تو شرعاً بیع منعقد ہوجائے گی۔

(۲)بذریعہ فون یا موبائل بیع و شراء سے متعلق گفتگو معاہدہ ہے، ہاں بطور تعاطی یہ بیع درست ہوگی۔ جب ایک فریق نے مال یادام دوسرے فریق کے پاس بھیجا اور دوسرے نے لیا۔

(۳)انٹرنیٹ و فیکس کے ذریعہ نکاح کے انعقاد کے سلسلے میں بحث کا موقع نہ مل سکا اس لئے اسے آئندہ پر موقوف رکھا جاتا ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

نوٹ: ساتویں فقہی سیمینار کے موقع پر اس کا فیصلہ ہو گیا۔ (اویسی)ملاحظہ فرمائیں۔

فیکس اور ای میل ،ایس ،ایم ،ایس (SMS)کی تحریریں کتاب و خط کے حکم میں ہیں انہیں شہود کے سامنے پڑھ کر سنا کے یا اس کا مضمون بتاکے پھر اسی مجلس میں قبول کرلے تو نکاح صحیح ہوگا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔

Menu
error: Content is protected !!