دوسرافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۵؍۱۶؍رجب المرجب ۱۴۲۶ھ ؍مطابق ۲۱؍۲۲؍ستمبر ۲۰۰۵ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۲ رمیٔ جمار


♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

ارکان اسلام میں حج بیت اللہ شریف کی عظمت و اہمیت آفتاب روز روشن سے زیادہ واضح ہے آیت کریمہ :

’’وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ ‘‘(آل عمران:۹۷)

اور

’’وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ‘‘(الحج:۲۷)

اس پر شاہد عدل ہے۔ افعال حج میں غور و فکر کرنے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جس طرح طواف خانہ کعبہ کا مکان خاص (داخل مسجد حرام) اور سعی کا مسعی( صفا اور مروہ کے درمیان)میں ہونا ضروری ہے اسی طرح جمرات ثلاثہ کی رمی، مکان رمی میں ہونا ضروری ہے شارع کے مقرر فرمودہ حدود سے الگ اگران امور کو ادا کیا جائے تو حکم شارع علیہ السلام کی بجا آوری نہ ہوئی اور یہ افعال قربت نہ کہلائیں گے بلکہ شرعا کا لعدم اور ساقط الاعتبار قرار پائیں گے اس لئے کہ یہ افعال امور تعبدیہ سے ہیں جن میں حکم شارع علیہ السلام کی بجا آوری سے مضر نہیں مکان رمی کے متعلق فقہائے کرام کے ارشادات عالیہ سے یہ ظاہر و باہر ہے کہ اگر رمی جمرہ کے پاس یا اس کے قریب ہو تو مکان رمی میں ہوگی اور اگر اس سے دور ہو تو یہ رمی ، مکان رمی میں نہ ہوئی۔ اس قرب و بعد کی حد بھی فقہائے عظام نے معین فرمادئے ہیں وہ یہ کہ اگر تین ہاتھ کے فاصلہ کے اندر ہو تو جمرہ سے قریب ( مکان رمی میں) رمی ہوئی اور شرعا معتبر ہوئی اور اگر مذکورہ فاصلہ کے ماسوا میں رمی ہوئی تو یہ قریب جمرہ رمی نہ ہوئی اور یہ رمی واجب سے سبکدوشی کے لئے کافی نہ ہوئی امام شیخ الاسلام ابو بکر بن علی بن محمد حداد یمنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’وینبغی أن تقع الحصاۃ عند الجمرۃ أوقریبا منہا حتی لو وقع بعید الم یجزو حد القرب والبعد أن الثلاثہ الأذرع(أی بین الحصاۃ والجمرۃ)فی حد البعد وما دونہ قریب‘‘۔ (جوہرہ نیرہ ۱؍۲۳۴۔ایضا طحطاوی ص۱۹۵)

’’درمختار‘‘ میں ہے: ’’ولووقعت علی ظہررجل أوجمل إن وقعت بنفسہا بقریب الجمرۃ جاز والا لا، وثلاثۃ أذرع بعیدوما دونہ قریب‘‘۔ (درمختار ۳؍۵۳۱ کتاب الحج)
فقیہ فقید المثال مجدد اعظم سید نا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ فرماتے ہیں’’بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تک پہنچیں ورنہ تین گز شرعی کے فاصلہ تک کریں اس سے زیادہ میں وہ کنکری شمار میں نہ آئے گی‘‘۔( تکملہ انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ النیرۃ الوضیۃ ص، ۴و ۴۱)

حضرت فقیہ اعظم، صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں’’اگر کنکری کسی شخص کی پیٹھ یا کسی اور چیز پر پڑی اور ہلگی رہ گئی تو اس کے بدلے کی دوسری مارے اور اگر گرپڑی اور وہاں گری جہاں اس کی جگہ ہے یعنی جمرہ سے تین ہاتھ کے فاصلے کے اندر تو جائز ہوگی‘‘۔ (بہار شریعت ۶؍۷۹)

ان روشن فقہی شواہد سے یہ حقیقت عیاں و آشکارا ہو جاتی ہے کہ رمی کا مخصوص مکان یعنی جمرہ کے پاس یا اس کے قریب ہونا از بس لازم و ضروری ہے اگر اس حد سے دور ہو تو یہ رمی معتبر نہ ہوئی اور واجب سے سبکدوشی کے لئے کافی نہ ہوئی خاتم المحققین علامہ شامی علیہ الرحمہ کے اس کی علت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’قولہ الا) قال فی الہدایۃ لأنہ لم یعرف قربۃ الافی مکان مخصوص ۱ھ وفی اللباب و لو وقعت علی الشاخص أی أطراف المیل الذی ہو علا مۃ للجمرۃ أجرۃ ولوعلی قبۃ الشاخص ولم تنزل عنہ أنہ لایجزیہ للبعد، وان لم یدر أنہا وقعت فی الر می بنفسہا أو بنفض من وقعت علیہ وتحریکہ ففیہ اختلاف والاحتیاط أن یعیدہ، وکذالورمی و شک فی وقوعہا موقعہا فالاحتیاط أن یعید‘‘ ۔ (رد المحتار ۳؍۵۳۱کتاب الحج)
رمی کا جس طرح مخصوص مکان میں ہونا ضروری ہے اسی طرح اس کے لئے مخصوص اوقات بھی ہیں کہ انہیں اوقات مخصوصہ میں رمی شرعا معتبر ہوئی صاحب جو ہرہ نیرہ اس حقیقت کو و اشگاف فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’أوقات الرمی أربعۃ أیام یوم النحر و ثلاثۃ أیام بعدہ ففی الاول وقت مکروہ وہو مابعدطلوع الفجر الی طلوع الشمس، ومسنون وہو طلوع الشمس الی الزوال و مباح وہو ما بعد الزوال الی الغروب، وما بعد ذالک الی طلوع الفجر مکروہ، وفی الیوم الثانی و الثالث من طلوع الشمس الی الزوال لایجوز ، وما بعدہ الی الغروب مسنون، ومن بعد الغروب الی طلوع الفجر مکروہ، فان رمی با للیل قبل طلوع الفجر جاز ولا شی علیہ واما الیوم الرابع فعند ابی حنیفۃ من طلوع الفجر الی الغروب الا أن ما قبل الزوال مکروہ وما بعدہ مسنون وعندہما وقتہ ما بعد الزوال ولا یجوز قبلہ قیاساعلی الیوم الثانی والثالث و أبو حنیفۃ قاسہ علی الیوم الادل فاذا غربت الشمس یوم الرابع لایجوز أن یرمی باللیل لانہ قدمضی وقت الرمی فسقط فعلہ ویجب علیہ دم للسقوط کذا ذکرہ الحجنزی‘‘۔ (جوہرہ نیرہ ۱؍۲۳۳و۲۳۴)

حضرت فقیہ اعظم صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’دسویں کی رمی کا وقت اوپر مذکور ہوا ( اس رمی کا وقت آج کی فجر سے گیارہویں کی فجر تک ہے مگر مسنون یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے زوال تک ہو او زوال سے غروب تک مباح اور غروب سے فجر تک مکروہ یوں ہی دسویں کی فجر سے طلوع آفتاب تک مکروہ اور اگر کسی عذر کے سبب ہو مثلاً چرواہوں نے رات میں رمی کی تو کراہت نہیں) گیارہویں بارہویں کا وقت آفتاب ڈھلنے سے صبح تک ہے مگر رات میں یعنی آفتاب ڈوبنے کے بعد مکروہ ہے اور تیرہویں کی رمی کا وقت صبح سے آفتاب ڈوبنے تک ہے مگر صبح سے آفتاب ڈھلنے تک مکروہ وقت ہے اس کے بعد غروب آفتاب تک مسنون۔

لہٰذا اگر پہلی تین تاریخوں ۱۰؍۱۱؍۱۲؍ کی رمی دن میں نہ کی ہو تو رات میں کرے پھر اگر بغیر عذر ہے تو کراہت ہے ورنہ کچھ نہیں اور اگر رات میں بھی نہ کی تو قضا ہوگئی اب دوسرے دن اس کی قضا دے اور اس کے ذمہ کفارہ واجب اور اس قضا کا بھی وقت تیرہویں کے آفتاب ڈوبنے تک ہے اگر تیرہویں کو آفتاب ڈوب گیا اور رمی نہ کی تو اب رمی نہیںہو سکتی اور دم واجب ‘‘ ۔ ( درمختار و رد المحتار، بہار شریعت ۶؍۷۵و۷۹)

گزشتہ سطور کے مطالعہ سے رمی کے اوقات جائزہ و مکروہہ و مستحبہ کی حقیقت منکشف تام ہو گئی جس سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکان رمی میں اسی وقت رمی معتبر اور واجب سے سبکدوشی کے لئے کافی ہوئی جب کہ رمی ان اوقات میں ہو جو اوقات شرعا معتبر ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل اعتنا ہے کہ رمی خود رامی کا فعل ہو اور اسی کی قوت سے واقع ہونہ کہ غیر جیسا کہ’’ درمختار‘‘ و ’’شامی‘‘ کی درج ذیل عبارت سے یہی اشعار ہوتا ہے ’’درمختار‘‘ میں ہے: ’’ولو وقعت علی ظہر رجل أوجمل ان وقعت بنفسہا بقریب الجمرۃ جاز، والالا‘‘۔ (ردالمحتار ۳؍۵۳۱ کتاب الحج)

’’ شامی‘‘ میں صاحب درمختار کے مذکورہ بالا قول ’’والا‘‘ کے تحت ہے:’’أی وان لم تقع من علی ظہرہ بنفسہا بل بتحرک الرجل أوالجمل اووقعت بنفسہا لکن بعید امن الجمرۃ‘‘۔ (ردالمحتار۳؍۵۳۱کتاب الحج)

فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’اگر کنکری کسی شخص پر پڑی اور اس پر سے جمرہ کو لگی تو اگر معلوم ہو کہ اس کے دفع کرنے سے جمرہ پر پہنچی تو اس کے بدلے کی دوسری کنکری مارے اور معلوم نہ ہو جب بھی احتیاط یہی ہے کہ دوسری مارے یوہیں اگر شک ہو کہ کنکری اپنی جگہ پر پہنچی یا نہیں تو اعادہ کرے ۔ (منسک) (بہار شریعت)

ان فقہی تصریحات سے یہ حقیقت طشت از بام ہو جاتی ہے کہ رمی خود رامی کی قوت سے ہو نہ کہ غیر کہ قوت غیر کی سے اگر رمی ہوئی تو شرعا معتبر نہ ہوئی ان سطور کے بعد موجودہ حالات میں مکان رمی اور اوقات رمی پر نظر و فکر کی ضرورت ہے مکان رمی کے متعلق حج بیت اللہ شریف کی سعادت عظمیٰ سے شرفیاب ہونے والے بعض علمائے کرام نے اپنے مشاہدہ کی روشنی میں یہ انکشاف فرمایا کہ اب مکان رمی مثل سابق نہ رہا بلکہ اس سال ۲۰۰۵؁ء میں یہ دیکھنے میں آیا کہ مکان رمی میں بہت کچھ تبدیلیاں ہو گئیں ہیں جن کے سبب رمی کے مسئلہ میں پیچید گی پیدا ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ شیطان کا علامتی نشان غالباً اب مثل سابق نہ رہا بلکہ حجاج کرام کی سہولیت کے پیش نظر مکان رمی کو کافی طویل و عریض بنادیا گیا ہے جس سے اب یہ خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی گو شہ سے رمی کرنے پر کنکریاں مخصوص دائرہ میں نہ گریں بلکہ اس سے باہر گریں اگر فی الواقع ایسی صورت پیدا ہو گئی ہے تو کیا یہ رمی معتبر ہوگی اور واجب سے سبکدوشی کے لئے کافی ہوگی؟

یہ بھی ممکن ہے کہ مکان رمی اپنے طویل و عریض ہو جانے کے بعد بھی اس ہیئت کے ساتھ بنایا گیا ہو کہ کنکری اس وسیع و عریض دائرہ کے کسی بھی گوشہ سے ماری جائے تو اس مخصوص دائرہ ہی میں واقع ہو جو شرعاً معتبر ہے۔

رمی جمرات میں بہت سے حجاج رمی کے اوقات جائزہ و مستحبہ کی رعایت نہیں کرتے ہیں نیز بہت سے حجاج خود رمی نہیں کرتے ہیں بلکہ دوسرے رمی کر نے والوں سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ میری طرف سے بھی رمی کر دیجئے گا اس لئے موجودہ حالات کے تناظر میں آپ حضرات کی خدمات عالیہ میں یہ گزارش ہے کہ تینوں جمروں کے مکانات کی کامل تحقیق فرما کر درج ذیل سوالات کے تشفی بخش جوابات سے نوازیں۔

(۱)مکان رمی کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟ کیا اب بھی ان تغیرات کے بعد کنکریاں خاص دائرہ ہی میں واقع ہوتی ہیں؟ اگر خاص اس حد میں واقع نہیں ہوتیں بلکہ اس سے دور گرتی ہیں تو کیا یہ رمی شرعاً معتبر ہوئی اور دم واجب نہ ہوگا؟

(۲)اگر یہ رمی مکان رمی میں نہ ہونے کے سبب شرعاً غیر معتبر ہو تو کیا ازدحام شدید کا عذر معقول تخفیف حکم اور سقوط دم میں مؤثر ہوگا یا اور کوئی سبب موجب تخفیف ہے یا تخفیف کی کوئی صورت نہیں بلکہ دم ہی واجب ہے یا اور کوئی شرعی حل ہے؟

(۳)مکان رمی کی خاص حد حقیقۃ کیا ہے کیا صرف فرش زمیں سے متصل حصہ ہی حقیقہ مکان رمی ہے یا فرش زمیں سے آسمان تک اس خاص حد کے محاذی جو فضا واقع ہے وہ بھی شرعا مکان رمی ہے اور اس محاذی فضا میں بلا عذر رمی کرنے سے رمی ساقط ہوجائے گی اور یہ رمی عند الجمرہ یا قرب جمرہ کہلائے گی؟

(۴)رمی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کنکری رامی کی قوت سے حرکت کر کے براہ راست مکان رمی میں واقع نہیں ہوتی بلکہ کسی دوسری شئی سے ٹکراکر اس شئی کی قوت دافعہ سے متحرک ہو کر مخصوص دائرہ میں واقع ہوتی ہے تو کیا رمی عند الشرع معتبر ہوئی اور مباشر ( رامی)کی طرف منسوب ہوئی اور اس کی صفت ذاتیہ قرار پائے گی اور واجب ادا ہو جائے گا؟

(۵)جو حجاج خود رمی نہیں کرتے بلکہ دوسرے حاجیوں کو رمی کے لئے کہتے ہیںاور وہ ان کی طرف سے رمی کرتے ہیں اس رمی کا کیا حکم ہے جب کہ بہت سے ایسے حجاج ہوتے ہیں جنہیں اس از دحام شدید میں رمی کرنے سے اپنی جان کے ہلاکت کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔

(۶)بعض حجاج بھیڑ بھاڑ کی تاب نہ رکھنے کے سبب دوسروں کو رمی کے لئے تو نہیں کہتے بلکہ خود ہی رمی کرتے ہیں مگر اوقات مستحبہ میںر می کر نے کے بجائے شب میں رمی کرتے ہیںتو کیا ازدحام شدید کے عذر معقول کے سبب یہ رمی بلا کراہت جائز و درست ہوئی حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کے ارشاد سے یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ شب میں رمی اگربغیر عذر ہے تو تو کراہت ہے ورنہ کچھ نہیں موجودہ صورت حال میںاز دحام شدید کا حال اظہر من الشمس اور اوضح من الامس ہے ہر سال ایام حج میںرمی کے دوران حوادث واقع ہوتے رہتے ہیں اور بہت سے حجاج اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں کیا اس ازدحام شدید کو عذر شرعی قرار دے کر اصحاب عذر کے لئے شب میں بلا کراہت رمی کا حکم ہوگا؟

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:
(۱)جمرہ کی موجودہ صورت حال کہ جس میں جمرہ اپنی اصل صورت سے بہت زیادہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس میں اصل حکم یہی ہے کہ رامی کی کنکریاں قدیم جمرہ کے تین ہاتھ کے فاصلے کے اندر واقع ہوں تورمی معتبر ہوگی۔ ورنہ رمی معتبر نہ ہوگی۔

(۲)جو لوگ رمی ایسی جگہ سے کریں جو قدیم جمرہ سے تین ہاتھ سے زیادہ دوری پر واقع ہو، اور رامی ہی کی قوت سے جمرہ سے وہ تین ہاتھ کے اندر پہونچ جائے تو بھی رمی صحیح ہے، اور اگر یہ شبہ ہو کہ وہ قوت رامی سے وہاں پہونچی یا کسی دوسرے قاسرسے تو احتیاط یہ ہے کہ دوسری کنکری مارے۔یونہی اگر شک ہو کہ کنکری اپنی جگہ پہنچی یا نہیں۔ تو بھی اعادۂ رمی کرے۔

(۳)بغیر عذر کنکری مارنے کے لئے نائب بنانے کی اجازت نہیں۔ ہاں جو شخص صاحب عذر ہو یعنی ایسا مریض ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جاسکتا ہو، وہ دوسرے کو حکم کردے کہ وہ اس کی طرف سے رمی کرے۔اور نائب کو چاہئے کہ پہلے اپنی طرف سے سات کنکریاں مارنے کے بعد مریض کی طرف سے رمی کرے۔ اور اگر مریض کے بغیر حکم رمی کردی، تو جائز نہ ہوئی۔ اور اگر مریض میں اتنی طاقت نہیں تو بہتر یہ کہ اس کا ساتھی اس کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رمی کرائے۔ اگر مریض بے ہوش ہے تو اس کا ساتھی اس کی طرف سے رمی کردے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

نوٹ: اس کے ایک گوشہ کا فیصلہ تیسرے فقہی سیمینار کے موقع پر ہوا۔ (اویسی) ملاحظہ فرمائیں:

شرعی کونسل کے دوسرے سیمینار میں رمی جمار سے متعلق گوشہ زیر غور رکھا گیا تھا، تیسرے فقہی سیمینار کی نشست دوم میں یہ فیصلہ باتفاق مندوبین طے پایا:

’’گیارہویں و بارہویں کی رمی کا وقت بعد زوال سے غروب تک مسنون اور غروب سے طلوع فجر تک مکروہ ہے۔ اگر مسنون وقت میںجان جانے یا زخمی ہونے کا اندیشہ صحیح ہو تو بعد غروب رمی کرنے میں کراہت نہیں۔

قبل زوال اصل مذہب کی رو سے رمی نہیں ہوسکتی مگرخاص حالت میں خاص لوگوں کو کسی خاص مجبوری کے پیش نظر ضعیف روایت پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔ خاص لوگوں سے مراد جن کو مجبوری در پیش ہے۔ کہ مکہ میں اپنے قیام گاہ تک پہنچنے سے معذور ہو‘‘۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!