دوسرافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۵؍۱۶؍رجب المرجب ۱۴۲۶ھ ؍مطابق ۲۱؍۲۲؍ستمبر ۲۰۰۵ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳ رویت ہلال بذریعہ جدید آلات شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

آج کا دور ترقی یافتہ دور مانا جاتا ہے فیکس ، ای میل، انٹر نیٹ ، ٹیلیفون، ٹی وی ویڈیو وغیرہ اس دور ترقی کے خاص ایجادات سے ہیں جو عوام و خواص سبھی کی ضرورت بن چکے ہیں ان ایجادات کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر ان فوائد کے ساتھ شرعی قباحتوں سے بھی مفرنہیں ہم جس ملک میں رہتے ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ رمضان المبارک اور عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر ان ایجادات کے سبب عوام و علما دونوں الجھنوں کے شکار ہو جاتے ہیں کیوں کہ اس ملک میں کچھ ایسے خداناترس لوگ ہیں جو بلا تحقیق شرعی ان اعلانات پر اعتماد کر لیتے ہیں جن کی شرعا کوئی حیثیت نہیں جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ایسے لوگ خاص کر علمائے کرام کے لئے بوجھ بن جاتے ہیں اور اپنی عبادتوں کو ضائع کر کے شرعی قباحتوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں ایسی صورت حال میں علمائے دین و ملت اور علمائے امت کی اہم ترین ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں اور ان کے حل کی کوئی ایسی راہ متعین کریں جس میں عوام و علما دونوں کے لئے آسانی ہو اور اخروی صلاح و فلاح بھی اس لئے آپ حضرات کی خدمات عالیہ میں درج ذیل سوالات پیش ہیں۔

(۱)کیا پورے ملک کا ایک قاضی بنانا صحیح ہے یا اس کے تحت مختلف بلاد و امصار کے لحاظ سے مختلف قضاۃ کا ہونا بھی ضروری ہے اگر ایک قاضی بنانا صحیح ہے تو اس کا کیا معنی ہے؟اگر دیگر قضاۃ بھی قاضی بلد کے تحت ہوں تو ان کا دائرہ قضا و عمل کیا ہوگا؟ فقہائے کرام کے ارشاد اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالأمور مؤکلۃ الی العلماءکا کیا معنی ہے یہاں امور اور علماء سے کیا مراد ہے اور علماء کے مصداق کون حضرات ہیں۔

(۲)ایک قاضی اگر دوسرے قاضی کو ٹیلیفون، فیکس، ای میل، انٹر نیٹ وغیرہ کے ذریعہ ثبوت رویت فراہم کرے تو کیا یہ شرعاً معتبر ہوگا اور قاضی مرسل الیہ کواس پر اعتماد کر کے رویت کا اعلان کر نا جائز ہوگا ؟کیایہ کتاب القاضی الی القاضی کے زمرہ میں آئے گا اگر کتاب القاضی الی القاضی کے درجہ میں ہو تو کیا اس کے شرائط یہاںموجود ہیں اگر نہیںتو کیا ان شرطوں کے بغیر بھی معتبر ہو سکتا ہے ؟

(۳)اگر پورے ملک کا قاضی اپنے پورے ملک میں یا اس کے ماتحت اپنے حدود قضاء میں تحقیق رویت ہلال کے بعد ٹیلیفون، فیکس، ای میل، انٹر نیٹ یا اپنے مہر و دستخط کردہ مکتوب وغیرہ کے ذریعہ ثبوت رویت فراہم کرے تو کیا اس پر اعتمادکی کوئی راہ ہے کیا ان طرق موجبہ میںسے ہے جنہیں فقہائے کرام نے مدار رویت قرار دیا کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ ذرائع سے اعلان قاضی ،قاضی بلدکے حکم سے داغی جانے والی توپ کے حکم میں ہے۔

(۴)اگر مذکورہ ذرائع ابلاغ ان طرق موجبہ میں سے نہ ہوں تو کیا ان کے بغیر اور کسی طریقے سے بھی رویت کا ثبوت فراہم ہو سکتا ہے یا انہیں طرق موجبہ ہی کا اب بھی عمل میں لانا ضروری ہے ان کے علاوہ اور کوئی طریقہ معتبر نہیں؟

(۵)اگر پورے ملک کا قاضی تحقیق رویت کے بعد اپنے ماتحت قاضی کے حدود میں ان کے اذن کے بغیر ثبوت رویت فراہم کرے اور رویت کا حکم نافذ کرے تو کیا شرعاً اس کا اعتبار ہوگا؟

(۶)سیٹیلائٹ کے ذریعہ ٹی وی چینل پر چاند کی مشاہدہ کی جانے والی صورت کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟کیا شرعاحکم رویت اس کے ذریعہ ثابت ہوگا اور احکام شرعیہ کا مدار اسے قرار دینا صحیح ہوگا؟

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

(۱)اس زمانے میں پورے ملک کے لئے ایک قاضی پر اتفاق دشوار ہے، اس لئے ہر ضلع کا سب سے بڑا عالم دین مرجع فتویٰ واہل تقویٰ قاضیٔ شرع ہوگا۔ اور اس کے حکم و فیصلہ کا اعلان اس کے شہرو حوالی شہر میں معتبر ہے ۔

(۲)پورے ملک کے قاضی کا اعلان سخت محل نظر ہونے کی وجہ سے آئندہ کے لئے زیر غور رکھا گیا۔

(۳)رویت ہلال کے وہ اعلان جو ریڈیو،ٹیلی ویژن، ٹیلیفون کے ذریعہ ہو، اگرچہ ایک شہر کے لئے ہو، وہ نا معتبر ہے، کیوں کہ ہندوستان کے مذکورہ ذرائع ابلاغ اختیار قاضی سے باہر ہیں جن میں جعل و تزویر ہوتی رہتی ہے۔ یہی حکم پاکستان و بنگلہ دیش کے مذکورہ ذرائع ابلاغ کا ہے جبکہ وہ قبضۂ قاضی سے باہر ہوں۔

(۴)سیٹلائٹ کی اسکرین پرچاندکی رویت شرعاً معتبر نہیں۔

(۵)باتفاق رائے طے ہوا کہ فیکس و انٹر نیٹ ، ٹیلیفون کے ذریعہ استفاضہ شرعیہ کا تحقق نہیں ہو سکتا۔وﷲ تعالیٰ اعلم

نوٹ: اس کے اک گوشہ کا فیصلہ تیسرے فقہی سیمینار کے موقع پر ہوا ملاحظہ فرمائیں:

ایک قاضی کا اعلان رویت ہلال اگرچہ وہ قاضی پورے ملک یا چند شہروں کا ہو صرف اسی شہر اور مضافات شہر کے لئے کافی و وافی ہوگا جہاں اس نے فیصلۂ رویت صادر کیا ہے۔ اس رویت سے دوسرے شہروں کے لئے ثبوت رویت طرق موجبہ میں سے کسی ایک طریقے سے ہی ہوگا ۔ مجدد اعظم سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ فرماتے ہیں:

’’شریعت مطہرہ نے دربارۂ ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کا فیہ و تواتر شرعی پر بنا فرمایا اور ان میں بھی کافی شرعی ہونے کے لئے بہت قیود و شرائط لگائیں جن کے بغیر ہرگز ہرگز گواہی و شہرت بکار آمدنہیں ‘‘ ۔(فتاویٰ رضویہ ج ۴،ص۵۲۳،رضا اکیڈمی ممبئی)

یہیں سے ثابت ہوا کہ ٹیلیفون کی خبر اگرچہ کسی کی ہو اور کتنی ہی تعداد میں کہیں سے ہو اس سے استفاضہ و تواتر بلکہ شہادت کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

 

Menu
error: Content is protected !!