تیسرافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۱؍۱۲؍جمادی الاخریٰ ۱۴۲۷ھ مطابق ۸؍۹؍جولائی ۲۰۰۶ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱میڈیکل انشورنس

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

انسانی زندگی میں صحت و مرض کا عارض ولاحق ہونا، اک حقیقت ثابتہ ہے۔ صحت اﷲ عزوجل کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اس کے بغیر دینی و دنیوی کسی طرح کے کام کو صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ صحت کا تحفظ خود شرع کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مضر صحت چیزوں سے بچنے کی شریعت نے تاکید بھی فرمائی ہے۔

لیکن آج صحت و مرض کا تجزیہ کیا جائے اور صحت مند و مریض کے اعدادو شمار کو جمع کیا جائے تو اکثریت ایسے افراد کی ملے گی جو کسی نہ کسی مرض میں ضرور مبتلا ہیں۔ خواہ اس کی وجہ فضائی آلودگی ہو یا غذائی اجناس میں کیمیکل کھاد وغیرہ کی آمیزش یا دیگر طبی وجوہات، اور ایسے ایسے خطرناک امراض پیداہو رہے ہیں۔ کہ اگر ان کے علاج کی طرف فوری توجہ نہ مبذول کی گئی ، اور میڈیکل سائنس یا طبی خدمات حاصل نہ کی گئیں، تو وہ امراض مہلک بھی بن جاتے ہیں، یا پھر وہ بے چارہ مریض زندگی بھر کیلئے مفلوج و بے کار اور گھر والوں پر مسلسل بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔

سماج میں متمول طبقہ تو کم ہے زیادہ تر غریب یا متوسط حیثیت کے لوگ ہیں جو جدید طریقۂ علاج کے گراں ہونے کی وجہ سے علاج نہیں کراپاتے پھر یہ کہ طبّی اخلاقیات کی گراوٹ اور طبی خدمات کے عملاً تجارت بن جانے کی وجہ سے علاج کافی مہنگا ہو چکا ہے۔ میڈیکل انشورنس در حقیقت اس صورت حال کی پیدا وار ہے۔میڈیکل انشورنس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی لاحق ہونے والے ممکنہ مرض کے گراں علاج کی خاطر اپنے اختیار سے انشورنس کراتا ہے جوگورنمنٹی یا نجی کمپنی والے سال میں ایک متعینہ رقم جمع کراتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر اگر سال بھر کے اندر بیمہ دار کو کوئی بڑا مرض لاحق ہوتا ہے، تو اس کے علاج کے لئے بڑی رقم کمپنی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ کمپنی زیادہ سے زیادہ کتنی ر قم دے گی ، یہ صحت بیمہ پالیسی کے وقت طے ہوجاتا ہے ۔ اگر بیمہ دار سال بھر کے اندر بیمار نہ ہواتو اس کی جمع کی ہوئی رقم واپس نہیں ملتی ہے۔ بلفظ دیگر وہ رقم لیس ہوجاتی ہے۔ پھر جب وہ آئندہ سال کے لئے رقم جمع کرے گا تو متعلقہ سال میں مرض لاحق ہونے پر اسے بیمہ کا فائدہ ملے گا۔علیٰ ہذالقیاس۔یہ انشورنس انفرادی و شخصی بھی ہوتا ہے اور خاندانی یا ادارہ کے لئے بھی بعض حکومتوں نے اپنے ملک کے شہریوں کے لئے انشورنس کولازم قرار دیا ہے یوں ہی ان غیر ملکیوں پر بھی جو ان ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ جو لوگ میڈیکل انشورنس سے واقف ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس انشورنس سے بیمہ داروں کا خاطر خواہ فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیکل انشورنس کمپنیاں گھاٹے میں چل رہی ہیں۔

اس تعلق سے آپ کی خدمت میں چندا بھرتے ہوئے سوالات حاضر ہیں۔

(۱)میڈیکل انشورنس ، کرانے کا شرعی حکم کیا ہے ؟ کیا مرض لاحق ہونے کی صورت میں مریض اس رقم سے استفادہ کر سکتا ہے؟

(۲)کیا گورنمنٹی اور نجی کمپنیوں میں انشورنس کرانے کے حکم میں فرق ہوگا؟

(۳)جن حکومتوںنے اپنے شہریوں یا غیر ملکی مسافروں پر صحت بیمہ لازم قرار دیا ہے وہاں اس انشورنس کا کیا حکم ہوگا؟ اور مرض لاحق ہونے کی صورت میں انشورنس رقم سے فائدہ اٹھانا درست ہوگا؟

(۴)صحت بیمہ کے عدم جواز کی صورت میں کیا اس کی جائز متبادل صورت بھی آپ کے ذہن میں ہے جس سے غریب اور متوسط مریضوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے؟

امید کہ جواب سے شاد کام فرمائیں گے۔ والسلام

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تیسرے فقہی سیمینار کی دوسری نشست میں دربارۂ ’’میڈیکل انشورنس‘‘  درج ذیل فیصلے باتفاق آراء مندوبین طے پائے۔

(۱)یہ انشورنس کسی عقد شرعی کے تحت نہیں آتا بلکہ یہ قمارہے اس کا حکم مثل عقود فاسدہ کے ہے ،لہٰذا عقود فاسدہ غیر مومن غیر ذمی غیرمستامن سے اسی صورت میں جائز ہیں جب کہ نفع مسلم مظنون بظن غالب ہو، اور یہ قید مابعد کے تمام فیصلوں میں ۴؍۵؍نمبر کے علاو ہ ملحوظ ہے۔

(۲)جواز کی مذکورہ بالاصورت صرف قابل اعتماد کمپنی کے ساتھ ہی خاص ہے خواہ حکومت کی ہو یانجی۔

(۳)جن حکومتوں نے اپنے شہریوں پر میڈیکل انشورنس لازم قرار دیدیا ہے بوجہ جبران کے لئے میڈیکل انشورنس جائز ہے۔

(۴)جن مسلم حکومتوں نے اپنے شہریوں پر میڈیکل انشورنس لازم قرار دیدیا ہے تو وہاں کے لوگ میڈیکل انشورنس کراسکتے ہیں، البتہ وقت علاج جمع شدہ رقوم سے زیادہ نہ لیں۔

(۵)جن مسلم حکومتوں نے بیرونی ممالک کے مسلم شہریوں پر بھی اپنے ملک میں داخلے کے لئے انشورنس لازم و ضروری قرار دیدیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر حاجت شرعیہ کا تحقق ہے تو جائز و مباح ہے البتہ وقت علاج جمع شدہ رقوم سے زائد نہ لیں۔

(۶)صحت بیمہ کے عدم جواز کی صورت میں ایک متبادل انتظام یہ ہے کہ امراء سے گزارش کی جائے کہ وہ رفاہی اسپتال یا رفاہی فنڈ قائم کریں اور وہ افراد جو اپنے مرض کا گراں علاج نہیں کراسکتے ان کا علاج رفاہی اسپتال وغیرہ سے کرایا جائے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ میڈیکل انشورنس کرانے والا خود بینکوں میںسال بسال اتنی رقم فکس کرتا جائے جتنی انشورنس کمپنیوں کو سال بسال دیتا، اورپھر مرض کے علاج یا دیگر حاجات میں وہ صرف کرے ۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

 

Menu
error: Content is protected !!