تیسرافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۱؍۱۲؍جمادی الاخریٰ ۱۴۲۷ھ مطابق ۸؍۹؍جولائی ۲۰۰۶ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۲مساجد کی آمدنی کے مصارف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

مذہب اسلام میں دیگر شعائر کی طرح مساجد کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے اس لئے کہ وہ اﷲ عز وجل کے لئے خاص ہیں قرآن عظیم کا ارشاد ہے :

’’وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلهِ‘‘(الجن:۱۸)

نیز وارد ہے :

’’إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللهَ‘‘

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ صرف پاک و ہند ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں مساجد کا ایک عظیم الشان سلسلہ قائم ہے جب ہم ان مساجد کی طرف نظر کرتے ہیں تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ان میں بعض مسجدیں ایسی ہیں جن کی آمدنی اتنی وافر اور کثیر ہے کہ مسجد کے ضروریات اور اس کے مصالح و مصارف سے بہت زائد ہوتی ہے جبکہ کچھ ایسی بھی مسجد یں ہیں جن کی آمدنی اس قدرقلیل ہے کہ مسجد کے ضروریات اور اس کے مصالح اس آمدنی سے پورے نہیں ہوتے ۔

پھر ان مساجد کی آمدنی بھی دو طرح پر ہوتی ہے ایک وہ جووقف نہیں جیسا کہ روپیہ و پیسہ وغیرہ جو چندہ وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے کہ یہ وقف نہیں کہ وقف کے لئے ضروری ہے کہ اصل حبس کر کے اس کے منافع اس کا م میں صرف کئے جائیں جس کے لئے وقف ہونہ یہ کہ خود اصل ہی کو خرچ کردیا جائے۔ دوسرے اوقاف کی آمدنی ہوتی ہے مثلاً کسی نے اپنی زمین یا مکان یا دوکان وغیرہ مسجد پر وقف کردی۔

وقف کے مال میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وقف کرنے والے یہ شرط بھی ذکر کردیتے ہیں کہ اس مال وقف کی آمدنی فلاں ضروریات و مصالح پر صرف کی جائے اور کبھی شرط ذکر نہیں کرتے اور کسی خاص مصرف کی تعیین نہیں کرتے اور بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ اوقاف کافی پرانے ہوتے ہیں ان کے مصارف و شرائط کا پتہ نہیں چلتا۔

جن مساجد کی آمدنی ان کے ضروریات و مصالح سے زائد ہوتی ہے ان میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس آمدنی کے مالک ذمہ دار ان مسجد اس میں بے جا تصرف اور ناحق دست اندازی کرتے ہیں اس سے اپنی ضرورتوں کی تکمیل کرتے ہیں اپنی تجارتوں کو فروغ دیتے ہیں اور کچھ تو اپنا پیدائشی حق سمجھ کر بالکل ہڑپ کرجاتے ہیں جبکہ فقہائے کرام فرماتے ہیں اوقاف میں شرط واقف نص شارع کی طرح واجب الاتباع اور لازم العمل ہوتی ہے وقف جس غرض کے لئے ہے اس کی آمدنی اگرچہ اس کے مصارف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے کہ حقوق مسجد پر تعدی ہے سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ فرماتے ہیں :’’وقف جس غرض کے لئے ہے اس کی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں ‘‘

[ فتاویٰ رضویہ مصارف وقف ۶؍۳۶۸ ، رضا اکیڈمی ممبئی]

فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’یہ چندے جس خاص غرض کے لئے کئے گئے ہیں اس کے غیر میں صرف نہیں کئے جاسکتے اگر وہ غرض پوری ہو چکی ہو تو جس نے دیئے ہیں اس کو واپس کئے جائیں یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کریں بغیر اجازت خرچ کرنا ناجائز ہے۔

[ فتاویٰ امجدیہ ۳؍۳۹ دائرہ المعارف الامجدیہ گھوسی ]

اسی کے ساتھ ایک دوسرے مقام پر حضرت فقیہ اعظم صدر الشریعہ علیہ الرحمہ’’ فتاویٰ امجدیہ‘‘ میں مسجد اور اس کے اسباب کے متعلق فرماتے ہیں:

’’ امام اعظم و امام ابو یوسف رحمہما اﷲ تعالیٰ کا یہ مذہب ہے کہ جب لوگوں نے مسجدیں بنالیں تو اب وہ تا قیام قیامت مساجد ہو گئیں اس کے اسباب دوسری مسجد میں نقل کرنا کسی طرح سے درست نہیں ہوگا۔ ’’لایجوز نقلہ و نقل مالہ الی مسجد اٰخر سواء کا نوا یصلون فیہ اولا یصلون و علیہ الفتوی کذافی الحاوی القدسی‘‘درمختار میں ہے ’’ولوخرب ماحولہ واستغنی عنہ یبقی مسجدا عند الامام والثانی أبداً إلی قیام الساعۃ وعلیہ الفتوی‘‘۔

[فتاویٰ امجدیہ ۳؍۱۴۹ ، دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی]

اس کے بعد آپ فرماتے ہیں : ’’یہ حکم اس زمانہ کے لئے تھا جب کہ مساجد کی اشیاء لینے اور ان میں تصرف کرنے کو لوگ برا جانتے تھے اور اب یہ زمانہ فساد کا زمانہ ہے کہ لوگ حرام و حلال میں امتیاز نہیں رکھتے مسجد کی چیزوں میں بھی بطور تغلب تصرف کرنے سے باز نہیں رہتے اس زمانہ میں بہت ممکن ہے کہ جب ان مساجد کا کوئی نگراں نہیں تو ان کے عمارتی سامان لوگ اپنے تصرف میں لائیں گے اور مسجدوں کو نیست و نابود کرڈالیں گے۔ اسی طرح یہ بھی خطرہ اور اندیشہ ہے کہ کفار و مشرکین موقع پاکر اس کا سارا سامان رفتہ رفتہ اٹھالے جائیں گے۔ پس ایسی صورت میں امام ابو یوسف سے جو دوسری روایت ہے اس پر عمل کرکے اس کا عمارتی سامان منتقل کر کے دوسری مسجد میں لگادیا جائے اور اس زمین کوچبوترہ کی شکل میں باقی رکھیں جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ مسجد ہے اور مسلمان اس کا احترام کریں ’’درمختار‘‘ میں ہے: ’’وعن الثانی ینتقل الی مسجد اٰخر باذن القاضی‘‘ ’’رد المحتار‘‘ میں فرمایا :’’فی الاسعاف لو خرب المسجد وما حولہ وتفرق الناس عنہ لایعود إلی ملک الواقف عند أبی یوسف فیباع نقضہ باذن القاضی ویصرف ثمنہ إلی بعض المساجد‘‘ انتہی مختصراً۔

پھر فرمایا: ’’والذی ینبغی متابعۃ المشائخ المذکورین فی جواز النقل بلا فرق بین مسجد أوحوض کما أفتی بہ الامام أبوشجاع والامام الحلوانی وکفی بہما قدوۃ ولا سیمافی زماننا فان المسجد أوغیرہ من رباط أوحوض إذا لم ینتقل یأخذ انقاضہ اللصوص والمتغلبون کما ہو مشاہد وکذلک أوقافہ یاکلہا النظار أوغیرہم ویلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلی النقل إلیہ وقد وقعت حادثۃ سئلت عنہا فی امیر أراد أن ینتقل بعض احجار مسجد خراب فی سفح قاسیون بدمشق لیبلظ بہا صحن الجامع الاموی فافتیت بعد م الجواز متابعۃ للشرنبلالی ثم بلغنی أن بعض المتغلبین أخذ تلک الاحجار لنفسہ فندمت علی ما افتیت بہ ثم رأیت الآن فی الذخیرۃ قال وفی فتاویٰ النسفی سئل شیخ الاسلام عن أہل قریۃ رحلوا وتداعی مسجدہا إلی الخراب و بعض المتغلبۃ یستولون علی خشبہ وینقلونہ إلی دورہم ہل لواحد لاہل المحلۃ أن یبیع الخشب بأمرالقاضی ویمسک الثمن لیصرفہ إلی بعض المساجد أوإلی ہٰذا المسجد قال نعم و حکی أنہ وقع مثلہ فی زمن سیدنا الامام الاجل فی رباط فی بعض الطرق خرب ولاینتفع المارۃ بہ ولہ أوقاف عامرۃ فسئل ہل یجوز نقلہا إلی رباط اٰخر ینتفع الناس بہ قال نعم لان الواقف غرضہ انتفاع المارۃ ویحصل ذلک بالثانی‘‘۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

[فتاویٰ امجدیہ ۳؍۱۴۹-۱۵۰، دائر المعارف الامجدیہ گھوسی]

ہمارے فقہائے کرام نے اپنے زمانہ کے فسادات کے اعتبار سے یہ حکم فرمایا اور اصل مذہب سے عدول فرماکر سیدنا امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالیٰ کی دوسری روایت پر افتاء فرمایا اور مسجد کے اسباب کو دوسری مسجد کی طرف منتقل کرنے کی اجازت دی آج جب کہ حالات کافی بدل چکے ہیں، زمانہ میں فسادات رونما ہو چکے ہیں، لوگوں میں خدانا ترسی اور احکام شرع سے بے پر واہی عام ہو چکی ہے اور مسجد کے مصالح سے زائد آمدنی کے ساتھ ناحق دست اندازی ہو رہی ہے اور مسجد کے حقوق کے ساتھ تعدی جاری ہے حقوق مسجد کے صرف ضیاع کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ ضیاع واقع اور رونما ہے تو اس قضیہ کا شرعی حل خاص توجہ کا طالب ہے اس مسئلہ پر غور و خوض کے لئے درج ذیل سوالات ارسال خدمت ہیں۔

(۱)کیا فسادات زمانہ کے پیش نظر مسجد کے مصالح سے زائد آمدنی کا کسی ایسی مسجد میں استعمال جائز ہے جس کی آمدنی اس کے مصارف کے لئے ناکافی ہے یا اب بھی ناجائز ہی ہے ؟

(۲)مساجد کی آمدنی مال وقف اور غیر وقف دونوں پر مشتمل ہوتی ہے اور کبھی خاص مقصد کے لئے ہوا کرتی ہے اور کبھی متولیوں کی صواب دیدپر موقوف ہوا کرتی ہے تو کیا استعمال کے جائزو ناجائز ہونے میں سب کا یکساں حکم ہے یا احکام میں فرق ہے؟

(۳)ہمارے فقہائے کرام نے جن وجوہ کی بنا پر امام اعظم و امام ابو محمد رحمہما اﷲ تعالیٰ کے مذہب سے عدول فرماکر امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالیٰ کی روایت پر افتا فرمایا کیا وہ وجوہ یہاں متحقق ہیں یا ان کے علاوہ اسباب ستہ میں سے کوئی اور سبب متحقق ہے جو تخفیف حکم کا مقتضی ہے ؟

(۴)اس دور میں عموماً متولیان و منتظمین جس مسجد کے انتظام سے متعلق ہوتے ہیں اس مسجد کے علاوہ دوسری مسجد پر فاضل آمدنی دینے پر راضی نہیں ہوتے تاوقتیکہ دوسری مسجد بھی انہیں کے انتظام میں نہ دیدی جائے تو ایسی صورت میں کونسی راہ اختیار کرنا شرعاً جائز ہویا واجب ہو؟

امید کہ اپنے قیمتی اوقات کا کچھ حصہ نکال کر اس قضیہ کا شرعی حل پیش فرمائیں جس سے مسجد کے حقوق کے ساتھ ناحق دست اندازی نہ ہو اور ان مساجد کے مصالح کی بھی تکمیل ہو جن کی آمدنی ان کے مصالح کے لئے ناکافی ہے ۔

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

 جن مساجد کی آمدنی مسجد کے مصالح سے فاضل ہے اور اس کے ضیاع کا اندیشہ ہے تو اس کے تحفظ کی اس صورت پر فیصلہ ہوا جسے حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اپنے ایک فتویٰ میں ارشاد فرمایا کہ ’’مقتضائے احتیاط یہ ہے کہ ایسی صورت میں دوسرے امر خیر کے ادارہ کو فاضل آمدنی مسجد بطور قرض دے ایک سے وصول ہو تو پھر اور جس ادارہ کو ضرورت ہو اسے قرض دے جسے بھی قرض دے اس سے وصول کرے ایسا قرض نہ دے کہ قرض مرجائے، پھر جب اس مسجد کو جس کی یہ آمدنی ہے ضرورت ہو اس پر صرف کرے۔

نیزفتاویٰ ہندیہ وغیرہ کے جزئیات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔اما المال الموقوف علی المسجد الجامع ان لم یکن للمسجد حاجۃ للحال فللقاضی ان یصرف فی ذلک لاکن علی وجہ القرض۔

یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اگر فاضل آمدنی کا ضیاع متولیان یا واقفین کی دست اندازی سے ہو رہا ہے تو اولا ایسے متولیان اور واقفین کو معزول کرنا واجب ہے ، لیکن اس مسجد کی فاضل آمدنی مسجد محتاج کو بے شرط واپسی دینا یہ جائز ہے یا نہیں اس پر آئندہ سیمینار میں تیاری کے ساتھ بحث کی جائے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

 

Menu
error: Content is protected !!