تیسرافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۱؍۱۲؍جمادی الاخریٰ ۱۴۲۷ھ مطابق ۸؍۹؍جولائی ۲۰۰۶ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳بابت بیع قبل القبض

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 آج دنیا میں مغربی طرز معشیت کے حاوی ہونے کی وجہ سے معاشی و تجارتی میدان میں بھی اسلام کے ماننے والوں کے لئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ لین دین کے نت نئے زاویئے سامنے آرہے ہیں۔ اور تجارت میں غیروں کے ساتھ اختلاط نے شرعی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے الجھنیں پیدا کردی ہے۔

سر دست ’’بیع قبل القبض ‘‘ کا مسئلہ توجہ اور حل کا طالب ہے۔ بڑے کا روباری بلکہ کچھ متوسط حیثیت کے تاجر بھی مبیع پر قبضہ کئے بغیر دوسرے کے ہاتھوں فروخت کردیتے ہیں۔ بڑے تاجروں میں اس قسم کی تجارت کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ کیوں کہ اس صورت بیع و شراء میں ان کے لئے زیادہ سہولت ہے، مگر شرعی نقطۂ نگاہ سے اس میں پیچیدگی یہ پیدا ہو رہی ہے کہ بیع قبل القبض کے تعلق سے جمہور فقہا کا مسلک یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے۔ اور حدیث پاک میں اس سے متعلق نہی وارد ہے۔

اس لئے چند بنیادی سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

(۱)قبضہ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا شریعت نے اس کی کوئی خاص ہیئت ایسی بیان کی ہے کہ وہی قبضہ کہلائے؟ یااسے لوگوں کے عرف و رواج پر چھوڑ دیا ہے؟

(۲)اشیائے منقولہ اور غیر منقولہ میں قبضہ کی حقیقت شرعاً الگ الگ ہے ؟ یا ایک ؟

(۳)بیع قبل القبض کا حکم کیا ہے؟جائز ہے یا ناجائز ؟ اگر جائز نہیں ہے تو یہ عدم جواز بیع کی کس قسم میں داخل ہے ؟ بیع باطل ہوگی یا فاسدیا کچھ اور ؟

(۴)اگر یہ بیع ناجائز ہو تو کیا آج کل کے رواج و عرف کی بنا پر اس کے جواز کا حکم دیا جا سکتا ہے؟ یا جواز بیع کاکوئی حیلہ یہاں ممکن ہے؟

(۵)بین الاقوامی تجارت میں جو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں شرعاً ان کی حیثیت کیا ہے؟ اور وہ جائز ہیں یا نہیں؟

امید کہ تشفی بخش جواب سے نوازیں گے ۔ والسلام

ناظم: شرعی کونسل آف انڈیا
۸۲؍سوداگران بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

 (۱)اصل حکم یہ ہے کہ منقولات کی بیع ،مبیع پر قبضہ کیئے بغیر ناجائز و فاسد ہے، اور جائداد غیر منقول کی بیع قبل قبضہ غیر بائع کے ہاتھ جائز ہے مگر جس سے مول لی تھی اس کے ہاتھ قبضہ سے پہلے اشیاء غیر منقولہ کی بیع بھی جائز نہیں بلکہ قبضہ لازم ہے۔

(فتاویٰ رضویہ ج۷،ص۲۴۳،قبیل باب الاستصناع)

(۲)عالمی تجارتوں میں قبضہ سے پہلے جو مبیع کی بیع دربیع ہوتی ہے وہ اصل حکم کی رو سے فاسد ہے مگر جس مشتری نے ایسے بائع سے خریدا جسے قبضہ حاصل ہو گیا تھا بیع صحیح ہے۔

(ہدایہ مع فتح القدیر ج۶،ص۲۴۷پوربندر،درمختار مع ردالمحتار ج ۴ ، ص ۵ ۱۴)

(۳)بیع در بیع جو عدم قبضہ کے سبب فاسد ہے اس کے جواز کی وہ صورتیں اختیار کی جائیں جو ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘ اور ’ـ’ بہار شریعت‘‘ میں مذکور ہیں مثلاً مشتری نے مبیع کو ہبہ کیا ، بائع کو ہبہ کرنے یا کسی کے پاس ودیعت رکھنے کو یا سپرد کرنے کو کہایا اپنے کسی ظرف میں رکھنے کو کہا پھر موہوب لہ نے قبضہ کر لیا یا بائع نے ودیعت رکھ دی ، سپرد کردیا، ظرف میں رکھ دیا جس سے قبضہ مشتری کہلائے تو اب مشتری کا قبضہ ہو گیا اور اگر بائع سے بیچنے کو کہا تو بائع کے بیچنے سے قبضہ نہ ہوگا وکیل بالقبض کا بھی قبضہ، قبضۂ مشتری ہے تو مسلم تاجروں کو اسی طرح کی کوئی تدبیر قبضہ اختیار کر نی ضروری ہے تاکہ بیع فساد سے محفوظ ہو اور جائز ہو جائے کہ اب بیع قبل قبضہ نہیں۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

 

Menu
error: Content is protected !!