چوتھافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۲؍۱۳؍رجب المرجب ۱۴۲۸ھ مطابق ۲۸؍۲۹؍جولائی ۲۰۰۷ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنا 

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 سائنس کی ترقی کا ایک حیرت انگیز نمونہ ’’ٹیسٹ ٹیوب‘‘ کے ذریعہ بچہ پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے ۔ یہ ایک خاص قسم کی ٹیوب ہے ، جس میں عورت کے رحم سے بیضۂ تولید کو نکال کر رکھا جاتا ہے ۔ پھر مرد کی منی نکال کر اس بیضہ میں ڈالی جاتی ہے ۔ اس طرح دونوں کے ملاپ سے بیضہ میں سلیس (Cells) کی افزائش ہوتی رہتی ہے، جب یہی سیل رفتہ رفتہ بڑھتے بڑھتے مخصوص مطلوبہ قوت کے حامل ہوجاتے ہیں تو ان دونوں مادوں (مادۂ تولید و بیضۂ تولید) کو کسی عورت کے رحم میں ڈال دیا جاتا ہے ، عورت کے رحم میں نوماہ نشوونما پانے کے بعد بچہ کی ولادت ہوتی ہے۔

بیضۂ تولید نکالنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جن ایام میںعورت کے رحم کی نلی میںقدرۃً بیضۂ تولید تیار ہوتا ہے انہیں ایام میںعورت کے ناف کے نیچے تھوڑا سا شگاف کر کے ایک مخصوص آلہ (دوربین) کے ذریعہ بیضہ کا پتہ لگایا جاتا ہے ، پھر نالی میںموجود بیضہ کو باہر نکال لیا جاتا ہے۔ مرد کا مادۂ تولید ہاتھ کے ذریعہ نکالا جاتا ہے ۔ پھر دونوں کو ایک مخصوص قسم کی ٹیوب (Tube)میں جمع کیا جاتا ہے۔  جب دونوں کے باہمی ملاپ سے اس بات کا اطمینان ہوجاتا ہے کہ اب اس سے استقرار ہوجائے گا ، تو اسے مخصوص ٹیوب کے ذریعہ عورت کی شرمگاہ کے راستے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے۔’’ٹیسٹ ٹیوب‘‘ کے استعمال کی حاجت اس وقت پیش آتی ہے ، جب قدرتی طور پر یامرض وغیرہ کی وجہ سے رحم کی نالیوں کے راستے عورت کے رحم میںبیضۂ تولید پہنچ نہیں پاتا۔ ایسی صورت میں عورت و مرد کی فطری مباشرت سے بچہ پیدا ہونے کا امکان نہیں رہ جاتا ، اس لئے ’’ٹیسٹ ٹیوب‘‘ کے ذریعہ دونوں مادوں کو مخصوص طریقے سے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے ۔ جانوروں کے بچہ پیدا کرنے میں بھی یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہزاروں انسان اس سے پیدا ہوچکے ہیں اور مختلف ممالک میں یہ عمل جاری ہے۔

ان حالات میں ہم پر شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس طریقہ و عمل کے جواز و عدم جواز کا حکم واضح کرکے صحیح اسلامی نقطۂ نظر سے لوگوں کو روشناس کرائیں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے چند سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں:

(۱) کیاٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنا شرعاً جائز ہے؟

(۲)اگر جواب نفی میںہوتو کیا اولاد حاصل کرنے کی ضرورت کے پیش نظر یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے ؟

(۳) اگر کسی عورت نے اپنے رحم میں غیر شوہر کی منی داخل کرلی ، تو کیا وہ زانیہ کہلائے گی ؟ اگر اس سے اولاد پیدا ہوئی تو وہ ثابت النسب ہوگی یا نہیں؟

(۴) حلال یا حرام جانور کے رحم میں کسی حلال یا حرام جانور کا مادۂ تولید بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب داخل کر کے بچہ پیدا کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟

امید کہ ان سوالات کے تشفی بخش جواب سے شاد کام فرمائیں گے ۔ والسّلام

(مفتی)آل مصطفی مصباحی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف
خادم جامعہ امجدیہ رضویہ ،گھوسی

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:ٹیسٹ ٹیوب کے متعلق طے شدہ امور

(۱)حصول اولاد کے لئے ٹیسٹ ٹیوب کے استعمال کے جواز و عدم جواز پر بھرپور بحث و تمحیص کے بعد یہ طے ہوا کہ ٹیسٹ ٹیوب کے استعمال کی ایک صورت کے سوا تمام صورتیں باتفاق رائے ناجائز ہیں۔ جس ایک صورت کے جواز میں اجلاس میں اختلاف کیا گیا وہ صورت یہ ہے کہ مرد کا نطفہ عزل کے ذریعہ ٹیوب میں محفوظ کیا جائے اور اسے رحم زوجہ میں براہ فرج یا بواسطۂ انجکشن خود زوجہ کا شوہر داخل کرے اس کے عدم جواز پر بھی کثرت رائے ہے صرف مولانا معراج القادری و مولانا آل مصطفی و مولانا رحمت اﷲ و مولانا اختر حسین علیمی و مولانا احتشام الدین صاحبان جواز کے قائل ہیں ، لیکن یہ صورت بہت ہی نادرہے اور اس کی وجہ سے ناجائز صورتوں کا فتح باب مظنون بہ ظن غالب ہے نیز ٹیسٹ ٹیوب کا عمل غیر ماہر کے ذریعہ سے ہونے میں ہلاک زوجہ کا احتمال قوی ہے اس لئے باقی تمام مندوبین نے اس صورت کو بھی ناجائز قرار دیا اور جو حضرات جواز کے قائل تھے انہوں نے بھی بوقت تحریر فیصلہ اس صورت کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۲) بالفرض اگر ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا ہوا تو وہ شوہر سے ثابت النسب ہے ۔ فان النسب أمر مہتم بہ حتی لا ینتفی بنفی الزوج إلا بعد اللعان بینہما۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

(۳) اگر کسی عورت نے غیر شوہر کی منی رحم میں داخل کرلی تو وہ زانیہ نہ کہلائے گی۔ فان الزنا موقوف علی ادخال الحشفۃ فی الفرج وہو ہہنا معدوم، پیدا شدہ بچہ ثابت النسب ہوگا اور بے لعان زوجین نسب منتفی نہ ہوگا۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

 

Menu
error: Content is protected !!