چوتھافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۲؍۱۳؍رجب المرجب ۱۴۲۸ھ مطابق ۲۸؍۲۹؍جولائی ۲۰۰۷ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۲ رشوت دے کر مدارس کو ایڈڈ کرانے اور مدرسین کی تقرری کا حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 پُر تعیش زندگی کی خواہش اور دنیا طلبی نے غیروں کی طرح اپنوں کو بھی اپنے دام میں گرفتار کرلیاہے۔ مسلمانوں پر دنیا بڑی تیزی سے غالب آرہی ہے اور دینی خلوص ناپید ہوتا جارہا ہے ۔ اس کی ایک کڑی مدارس میں رشوت کی گرم بازاری ہے۔ مدارس کو ایڈڈ کروانے سے لے کر تنخواہ ہوں کی حصولیا بی تک ہرہر قدم پر رشوت کے لین دین کا چلن بہت عام ہوتا جا رہا ہے، جب کہ مدارس کے قیام کا مطمح نظر ہی دینی علوم کی اشاعت کر کے ان جیسے خلاف شرع کام پر روک لگانا ہے۔

ہندوستان کی بعض ریاستوں میں حکومت نے جو عربی فارسی بورڈ بنا رکھا ہے اس بورڈ سے مدارس کو منسلک کر کے مالی فائدہ اٹھایا جاتا ہے جسے ایڈڈ کرانا کہتے ہیں۔ اس میں مدارس کے محدود و مقرر اساتذہ وملازمین کو گورنمنٹ تنخواہ دیتی ہے ۔ اور بعض دوسرے فنڈ کے تحت تعمیرات اور طلبہ کے وظائف کے نام پر بھی خطیر رقم دیتی ہے۔ جس سے بلا شبہ مدارس کا خاصا فائدہ ہوتا ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ عملاً کوئی مدرسہ اس وقت تک ایڈ لسٹ پر نہیں لیا جاتا ، جب تک متعلقہ افسروں کو منہ مانگی رقم نذر نہ کی جائے ۔ یہ تو پہلا مرحلہ ہوا۔ پھراساتذہ و ملازمین کی تقرری کے لئے آفیسروں کے علاوہ مدارس کے نظماء بھی خطیر رقم وصول کرتے ہوئے نہیں جھجھکتے ۔ پھر جب آفیسوں سے تنخواہ پاس کرانے کی باری آتی ہے تو ماہانہ تنخواہ کی حصولیابی یااجرا ء کے لئے آفیسوں میں بیٹھے آفیسر سے لے کر کلرک تک کی مالی خدمت کی جاتی ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض مدرسے کو وزارت سے منظوری ملنے کے بعد بھی منظوری کے نفاذ میں آفیسران رشوت کے بغیر کام نہیں کرتے، کبھی بعض اہل مدارس دوسرے منظوری یافتہ مدرسہ کی بجائے خود ایڈ لسٹ پر آنے کی غرض سے زیادہ رشوت دے کر اپنا کام کرالیتے ہیں۔

بظاہر یہ طرز و عمل رشوت کے دائرے میںآتا ہے ، جب کہ حدیث پاک میں اس کی شدید مذمت وارد ہوئی ۔ اور رشوت لینے والے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا گیا۔ حدیث میں فرمایا گیا : الراشی والمرتشی کلاہما فی النار۔

ضرورت ہے کہ مدارس کے اس طرز عمل کا تحقیقی طو ر پر شرعی جائزہ لیا جائے۔ جس کے لئے چند سوالات حاضر ہیں:

(۱) کیا مدرسہ کو ایڈڈ کرانے ، اساتذہ کی تقرری اور حصول تنخواہ یا اجرائے تنخواہ کے لئے متعلقہ محکمے کے ذمہ داروں کو اضافی رقم دینا جائزہے؟ اور اس طرح مدارس کو ایڈڈ کرانا جائز ہے؟

(۲)یہ رقم رشوت ہے یا کچھ اور؟

(۳) اگر یہ رشوت ہے ، تو سوال نمبر ایک میں ذکر کردہ چیزوں کے لئے جواز کا کوئی حیلہ آپ کی نظر میں ہے؟

امید کہ تسلی بخش جواب سے نوازیں گے ۔ والسلام

(مفتی)آل مصطفی مصباحی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف
خادم جامعہ امجدیہ رضویہ ،گھوسی

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:دربارۂ رشوت برائے ایڈ منظوری مدارس

مدارس کی ایڈکی منظوری کی صورت اب تک صرف یہی ہے کہ گورنمنٹ مدرسین کی تنخواہوں کی ذمہ داری قبول کرلے۔

(۱)وہ مدارس جو شرائط منظوری کے حقیقۃ جامع ہیں اور ان کی منظوری کے لئے کوئی غیرشرعی شرط نہ ہومگر ان کے نام و درخواست تنخواہ مدرسین و ملازمین کو بے رشوت لئے منظوری دینے والے ادارے میں پیش کرنے کو راضی نہیں۔ اگر ظن غالب ملحق بالیقین ہو کہ اس طرح منظوری مل جائے گی تو اس کے لئے کچھ دینا، دینی مدارس کی حاجت کی بناء پر جائز ہے ، خصوصا جبکہ عوام ہی سے حاصل شدہ مال سے وہ امداد بصورت تنخواہ دی جاتی ہو ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۲) جن مدرسین کی صحیح تقرری ہو چکی ہو اور آفیسر وغیرہ بے رشوت اجرائے تنخواہ پر راضی نہ ہوں تو ان مدرسین کی طرف سے یہ ادائیگی جائز ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۳)وہ مدارس جو سرے سے موجود ہی نہ ہوں یا شرائط منظوری کے حامل نہ ہوں یا شرائط منظوری متحقق ہوں مگر کسی محظور شرعی کی شرط ہو، ان کی منظوری کے لئے جو رقم دی جائے رشوت و حرام ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۴) منصب تدریس یا ملازمت حاصل کر نے کے لئے کچھ دینا رشوت و حرام ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۵) جو اب نمبر ایک ، دو میں رشوت نہیں ہے اور جواب نمبر تین و چار کی صورت میں لینے والے ودینے والے دونوں کے حق میں رشوت ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!