چوتھافقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۱۲؍۱۳؍رجب المرجب ۱۴۲۸ھ مطابق ۲۸؍۲۹؍جولائی ۲۰۰۷ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۳ اختلاف زمان و مکان کی صورت میں وکیل و موکل کے یہاں قربانی کے اوقات و اسباب

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 قربانی دیگر عبادتوں کی طرح ایک اہم عبادت ہے جو زمان کے ساتھ مخصوص ہے وقت داخل ہونے سے پہلے ادا کرنا جائز نہیں کہ وقت ، قربانی کے واجب ہونے کا سبب ہے جب وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے قربانی واجب ہوگئی ۔’’ تنویر الابصار‘‘ و ’’درمختار‘‘ میں ہے: ’’(وسببہا الوقت) وہو ایام النحر وقیل الرأس‘‘۔

اس کے تحت ’’شامی‘‘ میں ہے:’’والدلیل علی سببیۃ الوقت امتناع التقدیم علیہ کا متناع تقدیم الصلاۃ، وانما لم تجب علی الفقد لفقد الشرط وہو الغنی وان وجد السبب‘‘۔

[رد المحتار۹؍۴۵۳ کتاب الاضحیۃ (زکریا)]

’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:’’ واماوقت الوجوب: فایام النحر فلا تجب قبل دخول الوقت لان الواجبات الموقتۃ لاتجب قبل اوقاتہا کالصلاۃ والصوم ونحوہما‘‘۔

[۵؍۹۷؍ کتاب التضحیۃ مرکز اہل سنت برکات رضا]

نیز اسی ’’بدائع‘‘ میں ہے:’’ واما الذی یرجع الی وقت التضحیۃ فہو انہا لاتجوز قبل دخول الوقت لان الوقت کما ہو شرط الوجوب فہو شرط جواز اقامۃ الواجب کوقت الصلاۃ فلایجوز لاحد ان یضحی قبل طلوع الفجر الثانی من النوم الاول من ایام النحر ویجوز بعد طلوعہ سواء کان من اہل المصر أو من اہل القریٰ غیر ان للجواز فی حق اہل المصر شرطاز ائدا وہو ان یکون بعد صلاۃ العید لا یجوز تقدیمہا علیہ عندنا‘‘۔

[بدائع الصنائع ۵؍۱۰۸؍ کتاب التضحیۃ مرکز اہل سنت برکات رضا]

اس سے صاف ظاہر ہے کہ قربانی ان عبادات موقتہ سے ہے جو زمان کے ساتھ مخصوص ہیں اور اس کے واجب ہونے کا سبب وقت یعنی ایام نحر ہیں اور اس کا اوّل وقت شہری اور دیہی کے حق میں طلوع فجر ہے مگر شہری کے لئے قربانی سے پہلے نماز عید ادا کرنا شرط ہے شہری اور دیہی کی قربانی کا وقت مختلف نہ ہوا بلکہ اس کی شرط تو صاحب مصر کے لئے نماز سے پہلے قربانی کاجائز نہ ہونا عدم شرط کی وجہ سے ہے نہ اس لئے کہ قربانی کا وقت ہی معدوم ہے۔ جیسا کہ صاحب بدائع کی عبارت سے صاف ظاہر ہے اور رد المحتار میں علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’التضحیۃ لا یختلف وقتہا بالمصری وغیرہ بل شرطہا، فا ول وقتہا فی حق المصری والقروی طلوع الفجر الا انہ شرط للمصری تقدیم الصلاۃ علیہا فعدم الجواز لفقد الشرط لالعدم الوقت‘‘۔

[۹؍۴۶۰کتاب الاضحیۃ زکریا]

جس طرح دیگر عبادتوں میں توکیل صحیح ہے اسی طرح قربانی میں بھی تو کیل صحیح ہے جیسا کہ فقہی شواہد سے صاف ظاہر ہے، قربانی کی توکیل میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وکیل و موکل دونوں ایسے مقامات پر ہوتے ہیں ، جہاںاوقات میں تفاوت ہوتا ہے نہ مطالع کا اختلاف،  اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اوقات و مطالع مختلف ہوتے ہیں ایک شخص امریکہ مثلاً رہتا ہے اور اس کے گھر کے لوگ ہندوستان میں رہتے ہیں اس نے اپنے گھر والوں کو اپنی قربانی کا وکیل بنایاظاہر ہے کہ دونوں مقامات میں کس درجہ اختلاف اوقات ہے کہ ایک جگہ دن ہے دوسری جگہ رات، فرض کیجئے کہ وکیل کے یہاں انشقاق فجر ہوچکا اور نماز عید بھی ہوچکی جبکہ مؤکل کے یہاں ابھی صبح کا سپیدہ نمودار نہ ہوا خود اپنے ہندوستان کو لے لیجئے کہ ایک شخص ایسے مقام پر رہتا ہے جہاں سے اس کے اہل کافی دور ہیں اور دیہات میں رہتے ہیں، اس نے اپنے گھروالوں کو قربانی کا وکیل کیا، یہاں اول وقت داخل ہوگیا جبکہ مؤکل ایسے شہر میں ہے کہ وہاں طلوع فجر میں تاخیر ہے جس کے سبب وجوب کا سبب موکل کے یہاں متحقق نہیں۔

اسی طرح رویت ہلال میں اختلاف ہوا وکیل کے یہاں بطریق شرعی موجب قربانی کا وقت ایک دن پہلے شروع ہوا اور موکل کے یہاں طرق موجبہ کے ذریعہ ثبوت رویت ۲۹؍کو محقق نہ ہوا اور ’’ فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلاثین‘‘ پر عمل ہوا اور قربانی کا وقت ایک دن بعد شروع ہوا یہ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی ہوتا رہتا ہے اور دیگر ممالک میں بھی اب جبکہ قربانی کے واجب ہونے کا سبب وقت ہے جس طرح نماز کا وقت اس کے لئے سبب ہے تو جس طرح نماز کو اس کے وقت سے پہلے ادا کرنا جائز و درست نہیں قربانی بھی اس کے وقت ایام نحر سے پہلے ادا کرنا جائز نہیں وکیل اور موکل کے یہاں ابھی گذرا کہ قربانی کے اوقات کا اختلاف ہوتا ہے کبھی مطالع شمس کے اختلاف کے سبب اور کبھی رویت ہلال کے اختلاف کے سبب تویہ امر قابل اعتنا اور لائق فکر ہے کہ سبب وجوب وکیل و موکل دونوں کے یہاں پایا جانا ضروری ہے یاکہ وکیل کے یہاں تحقق بس ہے کتب فقہ کے مطالعہ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ موکل اگر شہر میں ہے اور اس کا وکیل کسی ایسے دور دیہات میں ہے کہ موکل کے شہر اور اس دیہات میں جہاں وکیل رہتا ہے مسافت سفر ہے جس میں مسافر کے لئے نماز میں قصر مباح ہے تو وکیل نماز عید سے پہلے بعد طلوع فجر موکل کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے اور یہ قربانی صحیح و درست ہوتی ہے بلکہ فقہائے کرام نے اس شہری کے لئے جو اپنی قربانی جلد کرنا چاہتا ہے اس کے لئے یہ حیلہ تحریر فرمایا کہ وہ اپنی قربانی کا جانور مذکورہ اوصاف کے دیہات میں کسی وکیل کے پاس بھیج دے اور وہ وکیل دیہات میں بعد طلوع فجر نماز عید سے پہلے قربانی کردے ’’در مختار‘‘ میں ہے:’’والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ، فحیلۃ مصری أر اد التعجیل ان یخر جہا لخارج المصر فیضحی بہا اذا طلع الفجر ‘‘ اس کے تحت ’’رد المحتار‘‘ میں ہے:’’فلو کانت فی السواد والمضحی فی المصر جازت قبل الصلاۃ، وفی العکس لاتجوز‘‘ قولہ ! (أن یخرجہا) أی یا مربا خراجہا۔ قولہ ! (لخارج المصر) أی إلیٰ ما یباح فیہ القصر‘‘۔

[ردالمحتار ۹؍۴۶۱ کتاب الاضحیۃ ، زکریا ]

فقیہ النفس امام قاضی خاں رحمۃ ﷲ تعالیٰ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’لوکانت الاضحیۃ فی السواد وصاحبہا فی المصر فامر اہلہ بالتضحیۃ فذبح الا ہل قبل صلاۃ العید یجوز عندنا ویعتبر مکان المذبوح لامکان المالک وفی صدقۃ الفطر یعتبر مکان المولیٰ لا مکان العبید فی قول محمد وابی یوسف الاول رحمہما ﷲ تعالیٰ فرجع ابو یوسف رحمہ ﷲ تعالیٰ وقال یعتبر مکان العبید‘‘۔

[فتاویٰ خانیہ علی ہامش الہندیۃ ۳؍۳۴۵ نورانی کتب خانہ پشاور پاکستان]

’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:’’فان کان ہو فی المصر والشاۃ فی الرستاق أوفی موضع لا یصلی فیہ وقد کان امر ان یضحوا عنہ فضحوا بہا بعد طلوع الفجر قبل صلاۃ العید فانہا تجزیہ وعلی عکسہ لوکان ہو فی الرستاق والشاۃ فی المصر وقد امر من یضحی عنہ فضحوا بہا قبل صلاۃ العید فانہا لاتجزیہ وانما یعتبر فی ہذا مکان الشاۃ لامکان من علیہ ہکذا ذکر محمد علیہ الرحمہ تعالیٰ فی النوادر وقال: انما انظر الی محل الذبح ولا انظر الی موضع المذبوح عنہ وہکذ اروی الحسن عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ یعتبر المکان الذی یکون فیہ الذبح ولا یعتبر المکان الذی یکون فیہ المذبوح عنہ وانما کان کذالک لأن الذبح ہو القربۃ فیعتبر مکان فعلہا لامکان المفعول عنہ‘‘۔

[بدائع الصنائع ۵؍۱۱۱ کتاب التضحیۃ مرکز اہل سنت برکات رضا]

بلکہ موکل قربانی کے وقت کسی شہر میں ہے اور اس کے گھر کے افراد کسی دوسرے شہر میں ہیں تو ظاہر الروایہ یہی ہے کہ مکان اضحیہ کا اعتبار ولحاظ ہے نہ کہ مذبوح عنہ کا مکان ۔ فقیہ النفس امام قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالیٰ تصریح فرماتے ہیں:’’ولوکان ہو فی مصروقت الاضحیۃ واہلہ فی مصر آخر فکتب الی الاہل وامر ہم بالتضحیۃ، فی ظاہر الروایۃ یعتبر مکان الاضحیۃ‘‘

[فتاویٰ خانیہ علی ہامش الہندیہ ۳؍۳۴۵ ، نورانی کتب خانہ پشاور پاکستان]

ملک العلماء امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود کا سانی حنفی رحمہ اﷲ تعالیٰ روشن وضاحت فرماتے ہیں:’’وإن کان الرجل فی مصر واہلہ فی مصر اخر فکتب الیہم ان یضحوا عنہ روی عن ابی یوسف انہ اعتبر مکان الذبیحۃ فقال: ینبغی لہم ان لا یضحوا عنہ حتی یصلی الامام الذی فیہ أہلہ وان ضحوا عنہ قبل ان یصلی لم یجزہ وہو قول محمد علیہ الرحمۃ وقال الحسن بن زیاد: انتظرت الصلاتین جمیعا وان شکوا فی وقت صلاۃ المصر الاٰخر انتظربہ الزوال فعندہ لایذبحون عنہ حتی یصلوا فی المصرین جمیعا وان وقع لہم الشک فی وقت صلاۃ المصر الاٰخر لم یذبحوا حتی تزول الشمس فاذا زالت ذبحوا عنہ، وجہ قول الحسن ان فیما قلنا اعتبار الحالین حال الذبح وحال المذبوح عنہ فکان اولی ولابی یوسف و محمد رحمہما اﷲ تعالیٰ ان القربۃ فی الذبح، والقربات الموقتۃ یعتبر وقتہا فی حق فاعلہا لا فی حق المفعول عنہ‘‘۔

[بدائع الصنائع۵؍۱۱۱ کتاب التضحیۃ مرکز اہلسنّت برکات رضا]

ان شواہد مسطورہ سے یہ روشنی ملتی ہے کہ قربانی کا سبب وجوب بلاشبہ وقت ہے مگر کسی شخص نے دوسرے کو وکیل کردیا تو مذبوح کے مکان کا اعتبار ہوگا نہ کہ مذبوح عنہ خواہ دونوں الگ الگ شہرمیں ہوں یا موکل شہر میں ہو اور وکیل ایسے دیہات میںہو جہاں سے موکل کے شہر تک مسافت سفر ہے وجہ در اصل یہ ہے کہ قربانی قربت فی الذبح ہے اور قربات موقتہ میں ان کا وقت ان کے فاعل کے حق میں معتبر ہوتا ہے نہ کہ مفعول عنہ (موکل) اب اگر غور کیا جائے تو یہاں دو چیزیں ہیں ایک قربانی کا سبب وجوب دوسرے وقت صحت ادا جیسا کہ امام ابن ہمام صاحب فتح القدیر تاج الشریعہ کے کلام کے تصویب فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:’’اقول لاخطأ فی کلام تاج الشریعۃ اصلا، فان مرادہ بقولہ: واول وقتہا اول وقت ادائہا لا اول وقت وجوبہا، ولا یشک أنہ اذا کان تقدیم الصلاۃ علیہ شرطا فی حق اہل الاٰمصار کان اول وقت أدائہا فی حقہم بعد الصلاۃ، وان کان اول وقت وجوبہا بعد طلوع الفجر من یوم النحر ویویدہ جد اعبارۃ الامام قاضی خان فی فتا واہ حیث قال: ووقت الاداء لمن کان فی المصر بعد فراغ الامام عن صلاۃ العید انتہی قولہ‘‘۔

[فتح القدیر ۹؍۵۲۶ کتاب الاضحیۃ مرکز اہلسنّت برکات رضا پوربندر]

اب جبکہ سبب وجوب اور وقت ادا کا حال واضح ہو چکا تو صاحب مصر اور دیہی کے درمیان وقت ادا کے اختلاف کے ساتھ نفس وجوب کا اختلاف نہ صرف ممکن بلکہ واقع ہے بلکہ دو شہروں کے درمیان نفس وجوب کا اختلاف ہوتا ہے مجدد اعظم سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہٗ مطالع شمس کے اختلاف کے سبب اختلاف اوقات کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:’’(مطالع شمس) ایک ہی فرسخ یعنی تین میل پر مختلف ہوجاتے ہیں‘‘کما نص علیہ علماء الہیئۃ قلت بل الحق انہا تختلف فی میل واحد بل اقل من ذلک، غیر ان التفاوت لقلتہ جدالایستبین لنا الا فی نحو فرسخ‘‘جیسا کہ علماء ہیئت نے اس کی تصریح کی ہے میں کہتا ہوں بلکہ حق یہ ہے کہ وہ ایک میل بلکہ اس سے کم میں مختلف ہوجاتے ہیں لیکن وہ اختلاف اتنا قلیل ہوتا ہے کہ ہمیں صرف فرسخ کی مسافت تک معلوم ہو سکتا ہے۔

حاصل یہ کہ صاحب مصر ساکن دہ یا صاحب مصر کو اپنی قربانی کا وکیل بنانا فقہا کرام کی ارشادات کی روشنی میں صحیح ہے اور یہاں قربانی کے اوقات کے اختلاف کی راہ ہے تو اب یہاں پر درج ذیل سوالات تنقیح طلب ہیں امید کہ اپنی ژرف نگاہی سے اس قضیہ کا روشن حل پیش فرمائیں گے ۔

سوالات:

(۱)کیا قربانی میں موکل اور وکیل دونوں کے یہاں سبب و جوب کا تحقق درکار ہے؟ مطالع شمس یا رویت ہلال کے اختلاف کے سبب وکیل کے یہاں سبب وجوب پایا گیا نہ کہ موکل تو کیاوکیل کی قربانی صحیح و درست ہے؟

(۲)اگر وکیل و موکل دونوں کے یہاں سبب و جوب کا تحقق ضروری ہو تو اگرچہ مصرو دیہات میں قربانی کا وقت طلوع فجر کے بعد ہی سے شروع ہوتا ہے مگر مصروقریہ بلکہ دو شہروں کا وقت طلوع مختلف ہوتا ہے فقہائے کرام کے اس ارشاد کا کیا معنیٰ ہے کہ ساکن دہ نے پوپھٹتے ہی صاحب مصر کی قربانی کردی تو صحیح و درست ہے؟

(۳) اگر وکیل و موکل دونوں کے یہاں سبب کا تحقق مراد ہے تو کیا بدائع کے مذکورہ جزئیہ کے خلاف کوئی دوسری فقہی تصریح ملتی ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

نوٹ:سوال نامہ میں مذکورہ جزئیات کی طرف صرف اشارہ کافی ہے مزید جزئیات کا افادہ فرمائیں۔

والسّلام

(مفتی)محمدناظم علی قادری بارہ بنکوی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:دربارۂ قربانی

قربانی کا سبب وجوب ایام النحرہیں اور وقت اداء شہری کے حق میں بعد صلوۃ الاضحیٰ ہے۔ قروی کے لئے بعد طلوع فجر یوم النحر۔

موکل کے یہاں یوم النحر کی صبح صادق نہ ہوئی اور وکیل اضحیہ کے یہاں صبح ہوگئی تو کیا وکیل کے قربانی کرنے سے واجب اداء ہوجائے گا۔

بھر پور بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ موکل کی طرف سے قربانی صحیح ہوگی۔ لإطلاق نصوص الفقہاء بأن المعتبر مکان الذبح لامکان المالک۔ ولصیانۃ امور المسلمین۔ مگر احتیاط یہی ہے کہ وکیل اس وقت قربانی کرے کہ موکل کے یہاں بھی فجر یوم النحر طلوع ہو چکی ہو۔

صرف مفتی عزیر عالم صاحب نے یہ اختلاف کیا کہ ’’موکل کے یہاں نفس وجوب (وقت) پایا جانا ضروری ہے۔ اگر وکیل کے یہاں وقت پایا گیا اور موکل کے یہاں نہیں تو موکل کی طرف سے قربانی درست نہ ہوگی ہاں شہادت کی بناء پر قربانی ہوگئی پھر معلوم ہوا کہ شہادت غلط تھی تو صحت نماز وقربانی کا حکم دیا جائے گا۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!