پانچواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۲؍۲۳؍رجب المرجب ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۶؍۲۷؍جولائی ۲۰۰۸ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۱ تبدیلیٔ جنس کی شرعی حیثیت

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 میڈیکل سائنس نے اپنی ترقی کی بنیاد پر جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں بہت سی مشکلات بھی کھڑی کردی ہیں، شرعی و اخلاقی حدود کا پاس و لحاظ نہ سائنس کا مقصود ہے اور نہ ہی اس کے اکتشافات سے اس قسم کی امیدیں وابستہ رکھنا دانش مندی ہے ، ہمیں تو ہر حال میں ہر پیش آنے والے مسئلہ کا حل شرعی نقطۂ نظر سے دنیا والوں کے سامنے پیش کرنا ہے۔ میڈیکل سائنس کے حوالے سے سرجری اور آپریشن کے میدان کی ایک خبر پرنٹ میڈیا و الیکڑانک میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے ، اور وہ ہے تبدیلیٔ جنس کا مسئلہ یعنی بذریعہ آپریشن مذکر کو مؤنث میں تبدیل کرنا یا مؤنث کو مذکر میں تبدیل کرنا ۔ پہلی صورت کے تعلق سے راشٹریہ سہارا مورخہ ۶؍اپریل ۲۰۰۸ء؁ کو ص۱۲ پر یہ خبر شائع ہوئی ہے۔ جس کا عنوان ہے :

’’جنس تبدیل کرانے والا امریکی مرد حاملہ‘‘

امریکہ میں ایک مرد جس نے دس برس قبل اپنی جنس تبدیل کروائی تھی ، اب حاملہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کایہ بچہ ایک معجزے سے کم نہیں دس برس قبل جب تھامس بییی ایک آپریشن کے ذریعے عورت سے مرد بنے تھے تو انہوں نے اپنے تولیدی نظام کو تبدیل نہیں کروایا تھا۔ اب تھامس ، جو چونتیس برس کے ہیں، کا کہنا ہے کہ بچہ پیدا کرنا ان کا حق ہے۔ مسٹر تھامس کی بیوی نے ایک اسپرم بنک سے حاصل کئے گئے اسپرمز کو ایک سرنج کی مدد سے مسٹر تھامس کے جسم میں داخل کیا ، جس سے حمل ٹھہرا ان کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کا حمل بالکل نارمل ہے ، تھامس کا کہنا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی خواہش زنانہ یا مردانہ نہیں بلکہ ایک انسانی خواہش ہے اور میں ایک مستحکم مردانہ شناخت بھی رکھتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ دس برس قبل جب انہوں نے جنس تبدیل کروانے کا آپریشن کروایا تھا تو اس وقت اپنے تولیدی نظام کو برقرار رکھا تھا کیو ں کہ وہ ایک دن بچہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔

اور دوسری صورت کے تعلق سے ہندوستان کے صوبہ گجرات سے حاجی عمر نور محمد بھگاڈ دھوراجی گجرات کا یہ استفتاء آیا۔ واضح رہے کہ استفتاء میں درج واقعہ پرنٹ میڈیا و الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے بھی ملک و بیرون ملک میں نشر ہو چکا ہے ۔

’’میرے یہاں ۱۱؍اپریل ۱۹۸۱ء کو ایک بچہ پیدا ہوا ظاہری شکل میں وہ لڑکی تھا لیکن تین سال کی عمر سے اس کی تمام عادتیں تمام شوق اورتمام طریقے لڑکے کے تھے گھروالے اس کا بچپن سمجھ کر اس کے لئے زیادہ فکر مند نہیں تھے جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی گئی ویسے ویسے اس کی لڑکے والی عادتیں مثلاً کھیل کود کپڑے کی پسندیدگی اسکا ملنا جلنالڑکوں کے ساتھ بڑھتا گیا وہ لڑکیوں سے دور رہنے لگا کچھ عمر کے بعد گھر والے پریشان اور فکر مندہوکر کئی شائکا ٹرکٹ ڈاکٹروں [ذہن، دماغ، نفس کے ماہر طبیبوں] سے ملاقات اور بیٹھک کرائی گئی لیکن ایسا کرنے پر بھی اس کی عادتوں اور حرکتوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی خود کی یہ حالت سے خود بھی بہت پریشان تھی اور اپنے آپ کو سمجھنے کے لئے دنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے انٹرنیٹ کے ذریعہ رابطہ قائم کیا اس کے باوجود اس کی حالت چند علمائے دین سے کئی بار تذکرہ کیا مگر ان کی طرف سے کوئی معقول مشورہ قائم نہیں ہوتا تھا آخر کار ہندوستان کی مشہور سیتارام بھارتیہ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ریسرچ ، نیو دہلی کا رابطہ (Contact)کیا وہاں ماہران نفس ڈاکٹروں کے ساتھ کئی (Sexologist, Psychiatrist) بیٹھک (Sitting) کی گئی انہوں نے جینڈر آیڈینٹیٹی ڈس آرڈرGender Identity Disorder (G.I.D) مرض عرف جنس جس میں انسان اپنے نفس کے خلاف کا جسم پاتا ہے وہ بیماری پائی انہوں نے سرجنوں کی ٹیم کے پاس یہ پورا کیس (Case)معاملہ بھیجا جہاں اس کے جسم میں خون کی جانچ اور دماغ کی جانچ سو نو گرافی کے ذریعہ اور دوسری بلڈ (Blood)جانچ کے ذریعہ مردوں کے آثار بہت زیادہ پائے ان کا مشورہ یہ تھا کہ اس حالت میں مریض زیادہ وقت تک رہ نہیں سکتا اور مسلسل گھٹن اور پریشانی میں رہتا ہے۔

اسکے لئے اس کے ذہن کے مطابق اس کا جسم ہونا ضروری ہے چند آپریشنوں کے بعد اس کو پوری طرح کئی ڈاکٹروں نے مل کر مرد میں تبدیل کردیا جس کے سرٹیفیکٹ سند سرجنوں اور ماہران نفس کے انگریزی میں اور اردو میں اس کے ساتھ ہیں لڑکا ہونے کے بعد پورے پورے مرد ہونے کے بعد اس نے اپنے رشتہ دار کی بیٹی کے ساتھ مہر دیکر اور گواہ رکھ کر مولانا کے پاس نکاح پڑھائی اس عورت نے اسے پوری طرح مرد تسلیم کیا پوری سوسائٹی میں اس کے لئے بڑا ہنگامہ ہوا کہ یہ شادی ناجائز ہے ہم علمائے کرام سے اس بارے میں رائے چاہتے ہیں کہ شادی صحیح ہے یا نہیں اس کا مرد ہوجانا پوری طرح سے صحیح ہے یا نہیں؟ اس کے عضو تناسل کو اس کے جسم کے اندر کے حصہ سے نکال کر مکمل بنایا گیا ہے اس کے تمام آپریشن ہوچکے ہیں اور اس طرح سے تسلی بخش کام کرتا ہے یہ دو زندگی کا مرد اور عورت کا سوال ہے مرد عورت ایک دوسرے کو چھوڑنا نہیں چاہتے آپ حضرات پوری طرح اس پر غور و فکر کر کے اس کا جواب عنایت فرمانے کا کرم کریں عین نوازش ہوگی‘‘

استفتاء کے ساتھ سرجنوں و ماہران نفس کی رپورٹ اور سرٹیفیکٹ میں اس بات کی بھی وضاحت ہے کہ ایسے مریض کی اس حالت کی نہ کوئی دوا ہے اور نہ کوئی علاج الا یہ کہ اصلاحی آپریشن کے ذریعہ اندرونی ہارمونس کی مغلوب مقدار کو غالب مقدار میں بدل دیا جائے ، مثلاً اگر مریض مونث ہے اور اس کے اندر مذکر والے ہارمونس (Hormones) کا غلبہ ہے تو مؤنث ہارمونس (Hormones)کا بذریعہ آپریشن اخراج کر کے مذکر ہارمونس داخل کر دیئے جاتے ہیں، پھر بذریعہ آپریشن اعضا مؤنثہ (پستان، رحم، فرج)کو نکال کر باہر کردیا جاتا ہے اور اس کی جگہ مذکر اعضاء لگادیئے جاتے ہیں ، پھر آپریشن کے اس عمل کو تبدیلیٔ جنس کا عنوان دیا جاتا ہے ۔ لیکن یہ کبھی شوقیہ ہوتا ہے اور کبھی مرض پیچاں لاحق ہونے کی صورت میں جیسا کہ مذکورہ بالا دونوں واقعات سے عیاں ہے ۔

تخلیقی اعتبار سے مرد ایک الگ جنس ہے اور عورت الگ جنس، قرآن کریم میں اﷲ عزوجل فرماتا ہے :

’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً‘‘ (النساء:۱)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

’’ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ ‘‘ (الشوریٰ:۴۹ )

اس لئے بذریعہ دوا و آپریشن مرد کو عورت میں تبدیل کرنا یا عورت کو مرد میں تبدیل کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے بچند وجوہ حرام معلوم ہوتا ہے ۔
اوّلاً:یہ تغییر خلق اﷲ ہے۔ جو بنص قرآن و حدیث حرام ہے ۔ قال ﷲ تعالیٰ :

’’ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ‘‘(النساء : ۱۱۹)

شیطان بولا میں ان کو بہکاؤں گا تو وہ اﷲ کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدلیں گے۔

حاشیہ جلالین شریف میں ہے:’’ والمشہور تفسیر تغییر الخلق بتغیر صورۃ الحیوان بفقاء عین الحامی وخصاء بنی آدم والوشم والوشروالواسطۃ والسحق وتغیر الشیب بالسواد والوصل والنمص‘‘۔

(حاشیہ جلالین بحوالۂ مدارک)

تفسیر صاوی میں ہے:’’ ومن ذلک تغییر الجسم‘‘۔

(ج ا ؍ص۲۳۱)

ثانیاً: ستر و غلیظ ستر کو غیر محرم ڈاکٹر چھوتا کاٹتا ہے جو انتہائی بے حیائی کا کام ہے ۔

ثالثاً:مرد کا اپنے آلۂ تناسل کو ختم کرنایا عورت کا اپنے فرج و پستان کو ختم کرنا اپنے کو ایک خلقی حق سے محروم کرنا ہے بلکہ خصی ہونے کے حکم میں ہے۔حدیث میں حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں: لیس منا من خصیٰ أو اختصیٰ، جس نے کسی کو خصی کردیا یا خود خصی ہوگیا وہ ہم میں سے نہیں۔ضرورت ہے کہ علماء فقہا اسلامی نقطہ نظر واضح فرمائیں۔ ان حالات میں اس تعلق سے کئی طرح کے سوالات ابھرکر سامنے آئے ہیں جو آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

(۱) عام نارمل حالات میں تبدیلیٔ جنس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر ضرورت شرعیہ یا حاجت شرعیہ متحقق ہو تو کیا شرعاً تبدیلیٔ جنس کی اجازت دی جا سکتی ہے؟

(۲) کیا تبدیلیٔ جنس کے آپریشن کے بعد شرعاً پہلی جنس تبدیل ہوجاتی ہے اور آدمی دوسری جنس کا ہوجاتا ہے؟

(۳) اور بہر صورت دینی و دنیوی معاملات ومسائل میں کس جنس کے احکام نافذ ہوں گے ؟

والسّلام

(مفتی)آل مصطفی مصباحی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف
خادم جامعہ امجدیہ رضویہ ،گھوسی

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

(۱)موجودہ حالات میں تبدیلیٔ جنس کی کوشش حرام ہے اور اس کا عمل کرانا بدرجہ اولیٰ حرام ہے اور تبدیل جنس کی کوئی ضرورت شرعیہ نہیں ہے اور نہ حاجت شرعیہ،البتہ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق اگر اسکی دماغی حالت اس مریض کے لئے مہلک ہو تو اس کے دماغ کا مناسب علاج کیا جائے۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۲)ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق آپریشن سے جو جنسی تبدیلی ہوتی ہے وہ شرعا تبدیل جنس نہیں۔اس سائنسی عمل سے پہلے انسان جس جنس میں شمار ہوتا تھا اس سائنسی عمل کے بعد بھی اسی جنس میں شمار ہوگا۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۳) مذکورہ بالا فرضی تبدیلیٔ جنس کے بعد بھی اس کے دینی و دنیاوی احکام ومعاملات وہی ہوںگے جو پہلے تھے،البتہ ایسے افراد سے معاشرے میں فتنوں کا اندیشۂ قوی ہے اس لئے سد باب فتنہ کے لئے ان پر شرعی پابندیاں عائد کی جائیں،اس قسم کے کسی مصنوعی وجعلی مرد کا کسی عورت یا مصنوعی وجعلی عورت کا کسی مرد سے نکاح ہرگز صحیح نہیں۔وﷲ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!