پانچواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۲؍۲۳؍رجب المرجب ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۶؍۲۷؍جولائی ۲۰۰۸ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۲ حوالہ و دو ملک کی کرنسیوں کے تبادلے کا شرعی حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

 حوالہ کمپنی دو طرح کی ہوتی ہے کچھ تو رجسٹرڈ و منظور شدہ ہوتی ہیں اور کچھ غیر منظور شدہ مگر دونوں ہی قسم کی پرائیویٹ کمپنیوں کا بنیادی کام یکساں ہوتا ہے یہ کمپنیاں ملک و بیرون ملک میں ترسیل زر و مبادلۂ زر کا کاروبار کرتی ہیں اندرون ملک یہ کاروبار دو طرح سے انجام دیا جاتا ہے ۔ عموماً اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے ، ایک شخص مثلاً زید گھر سے دور کسی شہر میں رہتا ہے وہاں سے وہ جلد از جلد اپنی رقم گھر والوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔

زید اپنی رقم لے کر حوالے کا کاروبار کرنے والے فرم سے رابطہ قائم کرتا ہے ۔ اور اس فرم کمپنی کو رقم مع فیس دیتا ہے وہ کمپنی مطلوبہ شہر میں اپنے نمائندے یا حلیف کو فون کردیتی ہے کہ فلاں شخص کو اتنی رقم پہنچادو۔ وہ نمائندہ چند منٹوں یا چند گھنٹوں میں وہ رقم پہنچادیتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ طالب حوالہ حوالہ کمپنی سے ادھار معاملہ کرتا ہے بایں طور کہ اتنی رقم میرے فلاں آدمی کو فلاں شہر میں پہنچادو۔ میں ہفتہ عشرہ میں وہ رقم مع فیس ادا کردوں گا ، اب اس کمپنی کا نمائندہ متعلقہ شہر میں نامزد شخص کو رقم دے دیتا ہے۔

بذریعہ حوالہ رقم بھیجنے کے کئی فائدے ہوتے ہیں ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ رقم بہت جلد پہنچ جاتی ہے جب کہ بذریعہ بینک یا ڈاک خانہ رقم بھیجنے میں کافی تاخیر ہوجاتی ہے۔

دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ڈاک خانہ کی فیس سے حوالہ کی فیس نسبتاً کم ہوتی ہے تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی از خود رقم لے کر ایک شہر سے دوسرے شہر آئے جائے تو رقم کے چوری ہونے، ضائع ہونے، اچکوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے اور حوالہ کمپنی کے ذریعہ رقم بھیجنے میںیہ خطرات نہیں ہوتے ہیں۔

غیر منظور شدہ حوالہ کے کاروبار کا تعلق اعتماد پر ہوتا ہے ، یہ محض زبانی ہوتا ہے ، مگر پر اعتماد ہوتا ہے لیکن اگر خدانخواستہ رقم ڈوب گئی تو کسی پر دعویٰ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ کیوں کہ اس کا کوئی قابل گرفت یا قانونی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اور ملکی قانون کی نگاہ میں اس کا روبار کو جرم بھی تصور کیا جاتا ہے ۔

یہ کارو بار شرعی نقطۂ نگاہ سے بھی حوالے کے زمرہ میں آتا ہے کیوں کہ اس پر حوالہ کی تعریف صادق آتی ہے۔’’تنویر الابصار‘‘ و’’ درمختار‘‘ میں حوالہ کی تعریف یہ کی گئی ہے:
’’ہی لغۃ النقل و شرعا نقل الدین من ذمۃ المحیل إلی ذمۃ المحتال علیہ المد یون محیل والد ائن محتال و محتال لہ و محال و محال لہ ویزاد خامس وہو حویل ومن یقبلہا محتال علیہ ومحال علیہ والمال محال بہ‘‘۔

(ج۸ص۱تا۵ کتاب الحوالہ)

کفایہ میں ہے:
’’وھی فی الشریعۃ نقل الدین من ذمۃ المحیل إلی ذمۃ المحال علیہ‘‘۔

(حاشیۂ ہدایہ ج ۳ص۱۲۹)

’’بہار شریعت‘‘ میں اس کا خلاصہ بایں الفاظ ہے:

دین کو اپنے ذمہ سے دوسرے کے ذمہ کی طرف منتقل کر دینے کو حوالہ کہتے ہیں مدیون کو محیل کہتے ہیں اور دائن کو محتال، اور محتال لہ، اور محال اور محال لہ اور حویل کہتے ہیں، اور جس پر حوالہ کیا جائے اس کو محتال علیہ اور محال علیہ کہتے ہیں اور حال کو محال بہ کہتے ہیں۔

(بہار شریعت ج۱۲ ص۳۸)

اگر یہ دین قرض کی جہت سے ہو تو دشواری یہ ہے کہ یہاںطالب حوالہ مقرض ہے جو سقوط خطر طریق کا فائدہ اٹھا رہا ہے جو ناجائز ہے تو یہ سفتجہ یا ہنڈی کے زمرے میں داخل ہوجائے گا ’’ہدایہ‘‘ میں ہے:

’’ویکرہ السفاتج وہی قرض استفاد بہ المقرض سقوط خطر الطریق وہذا نوع نفع استفید بہ وقد نہی الرسول علیہ السلام عن قرض جرنفعاً‘‘۔

کیا مروّجہ حوالہ میں سودی بلا سے مکمل یا جزوی طور پر بچنے کی یہ صورت ہو سکتی ہے جو فتاویٰ رضویہ میں مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہٗ نے ذکر فرمایا ۔ ایک استفتاء کے جواب میں وہ فرماتے ہیں:

’’قرض تحویل کرادینے کی رائے بالکل خیر ہے زید اس دوسرے ہندو کو پانچ ہزار اڑتیس خالص قرض کی نیت سے دے پانچ ہزار سے جتنا زیادہ دیتا ہے اس میں پہلے ہندو کے سود کی نیت نہ کرے پھر پہلے ہندو سے کہہ کر اس کا قرضہ دوسرے پر اتروادے اور اس میں قانونی احتیاط کرلے کہ دھوکہ نہ پائے یوں بالکل سود دینے سے زید بچ جائے گا چالیس پچاس روپیہ جو زیادہ جائے گا وہ یوں ہوگا کہ قرض دیا تھا۔ اور مارا گیا یا قرض دار پر چھوڑ دیا محسوب نہ ہوگا۔ رہا یہ کہ وہ دوسرا ہندو اس روپئے کو سود پر چلائے گا یہ اس کا فعل ہے بلکہ تنہا اس کا بھی فعل نہیں جب تک اسے کوئی قرض لینے والا نہ ملے تو اس کا الزام زید پر نہیں آسکتا ہے : قال تعالیٰ:

’’وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ‘‘(الفاطر:۱۸)

ہدایہ میں ہے :

’’انما المعصیۃ بفعل المشاجر وہو مختار فیہ فقطع نسبتہٗ عنہ‘‘

یوہیں اگر بعض قرض کے ساتھ ایسا کر سکے تو بعض ہی سے سہی کہ جتنی معصیت سے بچے یا جتنا مال حرام میں دینے سے محفوظ رہ سکے اس قدر کی تد بیر واجب ہے۔‘‘

(فتاویٰ رضویہ ہفتم ص۲۸۵)

یا اس معاملے کو بیع و شراء یا اجارہ قرار دیا جائے ؟

دو ملک کے کرنسیوں کے تبادلہ کی نوعیت کچھ اس طرح ہوتی ہے ۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کرنسی بھیجنے والا عموماً بعینہ وہ کرنسی نہیں بھیجتا بلکہ حوالہ کمپنی سے معاملہ کرتا ہے۔ کمپنی کو اپنی کرنسی دیتا ہے اور کمپنی دوسرے ملک میں اپنے نمائندے کے ذریعے اس کرنسی کی مالیت کی بقدر معاملہ کرنے والے شخص کے متعلق کو ادا کر دیتی ہے۔ یہ صورت حال قرض کی ہے یا بیع و شراء کی یا اجارہ کی ۔ قرض کی ہو تو محذور مذکور یہاں بھی لازم ، اجارہ ہو تو اجیر پر بعینہ وہ رقم پہنچانا لازم ، ورنہ بوجہ تصرف امانت غاصب ٹھہرے گا اور مستحق اجیر نہ رہے گا۔

فی الہندیۃ عن التتار خانیۃ لواستاجر لیعمل ہذہ الدراہم الی فلان فانفقہا فی نصف الطریق ثم دفع مثلہا الی فلان فلا اجرلہ لانہ ملکہا باداء الضمان۔ جب کہ صورت مبحوث عنہا میں بدل پہنچایا جاتا ہے نہ کہ اصل۔

اور اگر بیع و شراء قرار دیا جائے جب بھی دشواری یہ ہے کہ اگر دو ملک کی کرنسیاں جنس واحد ہوں تو تعیین بھی ضروری ہے اور قبضہ بھی ۔ ورنہ ادھار ہونے کی وجہ سے حرام ہوگا ۔

(فی الہدایہ)

اذا وجد احدہما وعدم الآخر حل التفاضل حرم النساء۔

(ج۳ ص۷۹ کتاب البیوع)

جبکہ حوالہ اور کرنسیوں کے تبادلہ میں یہ شرط عموماً مفقود ہوتی ہے ۔ ہاںاگر دو ملکوں کی کرنسیوں کو دو جنس مانا جائے تو قبضہ کی شرط نہ ہوگی ۔

اس نوع کی ترسیل زرو مبادلۂ زر اور کاروبار کی شرعی حیثیت پر غور کر کے حکم شرعی واضح کرنا ہے ۔ جس کے لئے درج ذیل سوالات آ پ کی خدمت میں پیش ہیں۔

(۱) حوالہ و دو ملک کی کرنسیوں کے ادھار تبادلے کا معاملہ سفتجہ و ہنڈی ہے یا اجارہ یا قرض یا بیع و شراء یا من وجہ قرض و من وجہ اجارہ؟

(۲) اور بہر صورت اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر حوالہ کے ذریعے رقم کی ترسیل و تبادلہ کا معاملہ ناجائز ہو تو اس کے جواز کا کوئی حیلہ ہے یا نہیں؟

(۳)اس ضمن میں یہ وضاحت بھی مطلوب ہے کہ دو ملک کی کرنسیاں جنس واحد ہیں یا مختلف جنس؟

(۴)منظور شدہ کمپنی وغیر منطور شدہ کمپنی سے حوالہ و تبادلہ کے احکام یکساں ہوں گے یا مختلف ہوں گے؟ کیا مسلمانوں کو غیر منظور شدہ کمپنیوں سے رقم منگوانا جائز ہوگا؟

(۵)حوالہ کا کاروبار ملکی قانون کی رو سے جرم ہے، تو کیا مسلمانوں کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ حوالہ کا کاروبار کریں؟

امید کہ درج بالا سوالات کے تحقیقی جواب سے شاد کام فرمائیں گے۔

والسّلام

(مفتی)آل مصطفی مصباحی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف
خادم جامعہ امجدیہ رضویہ ،گھوسی

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:

فقہی سیمینار مورخہ۲۲؍۲۳؍ رجب المرجب ۱۴۲۹ھ؁ کی دوسری اور تیسری نشستوں میں کرنسی نوٹوں اور ان کے حوالہ کاروبار سے متعلق بحثوں کا اختتام درج ذیل فیصلوں پر ہوا۔

(۱) ہر قسم کے کرنسی نوٹ خواہ ایک ملک کے ہوں یا مختلف ملک کے سبھی ثمن اصطلاحی اور مال متقوم ہیں کما ھو مصرح فی الفتاویٰ الرضویۃ مرارا کثیرۃ و علیہ العمل عند علماء العالم قاطبۃ۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۲) ممالک مختلفہ کے کرنسی نوٹ اگرچہ مختلف ناموں سے موسوم ہوں نوع واحد ہیں کہ ان سب کی اصل کاغذ ہے اور اغراض و مقاصد بھی متحد ہیں یعنی قوت خرید، اگرچہ کرنسی نوٹ مالیت میں مختلف ہیں اور یہ اختلاف تقوم کی قلت و کثرت کا ہے نہ کہ نوع کا یہ ایک ملک کے مختلف المالیۃ کرنسی نوٹ کی طرح ہیں۔

(۳)کرنسی نوٹوں کودوسرے نوٹوں سے خواہ ایک ملک کے ہوں یا چند ممالک کے (تعیین البدلین) کے ساتھ ان پر لکھی ہوئی قیمتوں سے کم و بیش پر بیع کرنا جائز ہے البتہ ثمنیت کی وجہ سے احد البد لین پر قبضہ ضروری ہے جیسا کہ’’ فتاویٰ رضویہ‘‘ کے رسالہ ’’کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم‘‘میں ہے:

’’وتحقیق ذالک ان بیع النوط بالدراھم کالفلوس بھالیس بصرف حتی یجب التقابض فان الصرف بیع ما خلق للثمنیۃ بما خلق لھا کما فسرہ بہ البحر والدروغیرھماو معلوم ان النوط والفلوس لیست کذالک وانما عرض لھا الثمنیۃ بالاصطلاح مادامت تروج والافعروض و بعدم کونہ صرفا صرح فی ردالمحتار عن البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربا نعم لکونھا اثمانا بالرواج لا بد من قبض احدالجانبین والا حرم لنھیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن بیع الکالی بالکالی والمسألۃ منصوص علیھا فی مبسوط الامام محمد واعتمد ہ فی المحیط للامام السرخسی والحاوی والبزازیۃ والبحر والنھر وفتاویٰ الحا نوتی والتنویر والھندیۃ وغیرھا وھو مفاد کلام الا سبیجابی کما نقلہ الشامی عن الزین عنہ‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۷؍۱۴۷،رضا اکیڈمی ممبئی)

فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان ’’بہار شریعت‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’نوٹ کو نوٹ کے بدلے میں بیچنا بھی جائز ہے اور اگر دونوں معین کر لیں تو ایک نوٹ کے بدلے میں دونوٹ بھی خرید سکتے ہیں جس طرح ایک پیسے سے معین دو پیسوں کو خرید سکتے ہیں روپوں سے اس کو خریدا یا بیچا جائے تو جدا ہونے سے پہلے ایک پر قبضہ ہونا ضروری ہے جو رقم اس پر لکھی ہوتی ہے اس سے کم و بیش پر بھی نوٹ کا بیچنا جائز ہے دس کا نوٹ پانچ میں بارہ میں بیع کرنا درست ہے جس طرح ایک روپے سے ۶۴پیسے کی جگہ سو پیسے یا پچاس پیسے بیچے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں‘‘ ۔

(بہار شریعت ۱۱؍۲۰۷ بیع صرف کا بیان فاروقیہ بکڈپو)

(۴) ایک ملک کے کرنسی نوٹوں کو حوالہ کمپنی کے ذریعہ اجرت پر دوسرے ملک تک اس طرح بھیجنا کہ اس دوسرے ملک کے کرنسی نوٹ ادا کئے جائیں یہ منی آرڈر کی طرح تصحیحاً اللعقد جائز ہے ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں حاجت تصحیح عقد کے متعلق ہے:

’’یشیر الی الجواب بان الحاجۃ الی تصحیح العقد تکفی قرینتہ علی ذالک ولا یلزم کون ذلک ناشئا عن نفس ذات العقد کمن باع درھماودینارین بدرھمین و دینار یحمل علی الجواز صرفا للجنس الی خلاف الجنس مع أن نفس ذات العقد لا تابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الربا کتحققہ فما الحامل علیہ الا حاجۃ التصحیح وکم لہ من نظیر‘‘

(حاشیہ فتاویٰ رضویہ ۷؍۱۶۰ رضا اکیڈمی ممبئی)

’’ہدایہ‘‘ میں ہے :

’’ولنا أن المقابلۃ المطلقۃ تحتمل مقابلۃ الفرد بالفرد کما فی مقابلۃ الجنس بالجنس وانہ طریق متعین لتصحیحہ فتحمل علیہ تصحیحا لتصرفہ وفیہ تغییر وصفہ لا اصلہ لانہ یبقی موجبہ الاصلی وھو ثبوت الملک فی الکل بمقابلۃ الکل وصار ھذا کما اذا باع نصف عبد مشترک بینہ و بین غیرہ ینصرف الی نصیبہ تصحیحا لتصرفہ بخلاف ما عد من المسائل‘‘۔

(ہدایہ اٰخیرین ص ۱۰۷ کتاب الصرف)

اس کے تحت’’ فتح القدیر‘‘ میں امام ابن ہمام فرماتے ہیں :

’’ولکن الاصحاب اقتحموہ بناء علی أصل اجماعی وھو أن مھما أمکن تصحیح تصرف المسلم العاقل یرتکب ولہ نظائر کثیرہ‘‘۔

(فتح القدیر ۶؍۲۶۹ کتاب الصرف بیروت)

(۵) حوالہ کمپنی کے ذریعہ کسی ملک کی کرنسی دوسرے ملک میں اجارہ پر اس طرح بھیجنا کہ اس دوسرے ملک کی کرنسی ادا کی جائے منی آرڈر کی طرح اجارہ ہے جو قرض پر مشتمل ہے۔

(۶) حکومتوں کے رجسٹرڈ بینک اور صرافہ کے حکومت سے مجاز دفاتر ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک کی کرنسیوں کی شکل میں کسی ملک یا شہر سے دوسرے ملک یا شہر تک اجرت و کمیشن پر پہنچاتے ہیں یہ صورت بھی منی آرڈر کی طرح جائز ہے: لان قراطیس النوط مختلفۃ المالیۃ نوع واحد۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ بینک کا ڈرافٹ صرف ایک رسید ہے نہ کہ ثمن یا مبیع اسی لئے ضائع ہونے کی صورت میں دوسرا ڈرافٹ بینک ادا کرنے پر مجبور ہے۔

(۷) حکومت کی طرف سے غیر منظور شدہ بعض اشخاص اجرت پر کرنسیاں ما بین الممالک منتقل کرتے ہیں ایسے دفاتر و اشخاص بعض اوقات قانونی گرفت میں آ جاتے ہیں اور ان کو دی گئی رقمیں یا تو قُرق ہو جاتی ہیں یا جرمانہ و رشوت میں خرچ ہو جاتی ہیں اور مرسل الیہ یا محال لہ کو نہیں پہنچتی ہیں۔ایسے لوگوں سے اجارہ کے کاروبار میں ضیاع مال و ذلت نفس کا اندیشۂ قوی ہے ایسے لوگوں سے مراسلت رقوم کا اجارہ نہ کیا جائے۔

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

’’الثانیۃ ان من الصور المباحۃ ما یکون جرماً فی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی والاذلال وھولایجوز فیجب التحرز عن مثلہ وما عدا ذلک مباح سائغ لا حجر فیہ‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۷؍۱۱۵)

(۸) بعض صرافے صرف یہ بتاتے ہیں کہ فلاں کرنسی نوٹ کی ہندوستانی کرنسی ہندوستان میں اتنی دی جائے گی وہ مقدار اجرت ظاہر نہیں کرتے حالانکہ عاقدین میں سے ہر ایک کو یہ معلوم ہے کہ قابل ادا کرنسی اجرت وضع کرکے طے ہو رہی ہے اس صورت مسئلہ میں مرسل پر اجرت کی جہالت مفضی الی النزاع نہ ہونے کی وجہ سے یہ عقداجارہ جائز ہے فاسد نہیں۔وﷲ تعالیٰ اعلم۔

Menu
error: Content is protected !!