پانچواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۲؍۲۳؍رجب المرجب ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۶؍۲۷؍جولائی ۲۰۰۸ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۲منیٰ و مزدلفہ کی توسیع و تحدید کی شرعی حیثیت

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

یہ حقیقت روز روشن سے بھی زیادہ عیاں و آشکارا ہے کہ حج بیت اﷲ شریف اسلام کا ایک اہم فریضہ اور عظیم دینی شعار ہے جسے اﷲ رب العزت نے بندوں پر ان کی وسعت کے اعتبار سے ایک بار فرض فرمایا جیسا کہ نصوص قرآن شاہد ہیں ’’قرآن کریم‘‘ کا ارشاد ہے:

’’وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا‘‘(آل عمران:۹۷)

نیز فرمایا:

’’وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ‘‘۔(الحج:۲۷)

حج کے ارکان و مناسک پر غائرانہ نظر ڈالنے سے یہ ظاہر و باہر ہے کہ شارع نے ان کی ادائے گی کے لئے زمان و مکان کی تحدید فرمائی کہ انہیں اوقات و مقامات میں ارکان و مناسک معتبرہوں گے شارع کے مقرر فرمودہ حدود سے کوئی مکلف بندہ سرمو انحراف نہیں کرسکتا کعبۃ اﷲ شریف کا طواف اور صفا مروہ کی سعی مطاف اور مسعی ہی میں شرعاً معتبر ہے۔ عرفہ و مزدلفہ کا وقوف اور رمی جمار، عرفہ و مزدلفہ اور جمرات ثلثہ ہی کے ساتھ خاص ہیں احرام کے لئے الگ الگ ملکوں کے میقات بھی خاص و معین ہیں بندہ شارع علیہ السلام کی ان حدود کو توڑ نہیں سکتا کہ مومن بندہ پر شارع کے مقرر فرمودہ حدود کی اتباع لازم اور ضروری ہے۔

’’تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ‘‘۔(البقرۃ:۲۲۹)

کئی سالوں سے یہ دیکھا جارہا تھا کہ منی میں قیام کرنے والے حجاج کے خیمے منی میں لگتے اور مزدلفہ کے کچھ خاص حصے میں بھی، ظاہر ہے کہ قیام منی کے دوران جو عبادتیں اور نمازیں منی میں مسنون ہیں اگر انہیں مزدلفہ کے اس خاص حصہ میں ادا کرلیا جائے جہاں منی میں قیام کرنے والے حاجیوں کے قیام کا اہتمام منی میں نہ کرکے خاص مزدلفہ کے حصہ میں کیا گیا ہے تو منی کی مسنون نماز اور عبادت تو نہ ہوئی جسے شارع علیہ السلام اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام اور امت کے سلف و خلف نے منی ہی میں ادا فرمایا سنت سے تو اسی وقت عہدہ بر آ ہوگا جب کہ خاص منی کے حدود میں ادا کرے اس سے ہٹ کر کہیں اور نہ ادا کرے۔

قیام منی کے متعلق یہ بات معلوم ہوئی کہ پہلے تو صرف مزدلفہ کے کچھ خاص حصہ میں خیمہ لگا دیئے جاتے لیکن آج باضابطہ منی کی حد میں توسیع کردی گئی ہے اور منی کے حدود میںمزدلفہ کا کچھ خاص حصہ شامل کر لیا گیا ہے آج مزدلفہ کا وہ حصہ مزدلفہ کے بجائے منی قرار دے دیا گیا جہاں حجاج نہ صرف قیام کرتے ہیں بلکہ اس سے منی کی خاص حد سمجھ کر منی کی خاص مسنون عبادت و نماز ادا کرتے ہیں جسے شارع علیہ السلام نے خاص منی ہی میں ادا فرمایا ہے ظاہر ہے کہ منی حرم شریف کے حدود میں داخل ہے اور ارکان و مناسک و عبادات و نمازیں شارع نے خاص اوقات و مقامات ہی میںمقرر فرمایا ہے تو منی کے حدود کی توسیع کیا ملکوں، صوبوں اور ضلعوں کی تحدید و توسیع کی طرح ہے کہ ارباب حل و عقد اور اصحاب تصرف و اختیار و اقتداکو ہمہ وقت تحدید و توسیع کی بالا دستی حاصل رہتی ہے جن کی پابندی ملک کے ہر باشندے پر لازم ہوتی ہے آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں جب منی کی حدکی توسیع و تحدید سننے میں آئی جو عہد رسالت و عہد صحابہ و تابعین میں نہ تھی تو یہ مسئلہ خاص توجہ کا طالب ہوا کہ:

(۱) منی کی موجودہ توسیع و تحدید کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ شرعاً معتبر ہے؟ اور مزدلفہ کا وہ خاص حصہ جو منی میں شامل کردیا گیا کیا اب مزدلفہ نہ رہا بلکہ منی ہوگیا؟ یا اب بھی وہ مزدلفہ ہی ہے منی نہیں کہ شارع علیہ السلام کے عہد سے قائم تشریعی حد میں کسی کو تغییر و توسیع کا حق نہیں کہ عہد شارع علیہ السلام میں جو اس کی خاص حد تھی اسی میں ارکان و مناسک و عبادات وغیرہ معتبر ہوں گے دوسرے مقامات و مواضع میں نہیں گو کہ وہ حدود حرم شریف ہی سے کیوں نہ ہوں؟

(۲) اگر مزدلفہ کا وہ خاص حصہ جسے آج حدود منی سے قرار دیا گیا ہے اگر وہ ملکوں صوبوں اور ضلعوں کی تحدید و توسیع کی طرح خاص حدود منی سے ہو تو دوران قیام منی اگر حاجی منی کی مسنون عبادات و نماز اس خاص حصہ میں ادا کرے تو کیا سنت سے عہدہ برآ ہو جائے گا،اور خاص منی کی مسنون عبادات و نماز قرار پائے گی یا نہیں؟

(۳)وقوف مزدلفہ حج کے واجبات سے ہے اگر کسی نے مزدلفہ کے اس خاص حصہ میں وقوف کر لیا جو عہد رسالت میں مزدلفہ تھا اور آج منی کی حد قرار دے دیا گیا ہے تو کیا اس واجب سے سبکدوشی کے لئے یہ وقوف کافی ہوگا یا مزدلفہ کی موجودہ حد میں اس وقوف واجب کا اعادہ واجب ہوگا؟

(۴) مزدلفہ کا وہ خاص حصہ جو آج موجودہ منی کردیا گیا ہے کیا اس میں قیام و دخول رمی واجب کا موجب ہوگا؟
مجھے آپ حضرات مفتیان کرام کی گونا گوں مصروفیات کے باوجود امید قوی ہے کہ سوالات کے تمام گوشوں پر گہری نظر فرماکر فقہی جزئیات و شواہد کی روشنی میں جواب با صواب سے شاد کام فرمائیں گے۔ والسلام مع الاکرام

والسّلام

(مفتی)محمود اختر امجدی رضوی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:د ربارۂ منیٰ و مزدلفہ کی توسیع

(۱)الف: منی و مزدلفہ و عرفات کے حدود حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے جس طور پر متعین ہیں ادائے مناسک کے لئے انہیں حدود کا اعتبار ہے جو مناسک سنت ہیں وہ سنت اور جو فرض یا واجب ہیں وہ فرض یا واجب۔

ب:ملک العلماء کاسانی علیہ الرحمہ نے ’’بدائع‘‘ میں وادیٔ محسّر کو موقف مزدلفہ میں داخل قرار دیا ہے اور وادی محسّر میں وقوف کو جائز مع الکراہۃ فرمایا ہے ۔جیسا کہ ’’بدائع ‘‘میں ہے:

فیکرہ النزول فیہ ولووقف بہ اجزأہ مع الکراھۃ والافضل ان یکون وقوفہ خلف الامام علی الجبل الذی یقف علیہ الامام وھوالجبل الذی یقال لہ ’’قزح‘‘ لانہ روی ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وقف علیہ وقال ’’خذواعنی منا سککم‘‘ولانہ یکون اقرب الی الامام فیکون افضل۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

(بدائع ج ۳ ص ۸۹؍۸۸)

لیکن امام ابن ہمام و علامہ شامی نے وادیٔ محسر کو حدود مزدلفہ و منی دونوں سے خارج قرار دیاہے۔جیسا کہ ’’فتح القدیر‘‘ میں ہے:

’’ولیس وادی محسر من منی و لامن المزدلفۃ،فالاستثناء فی قولہ ’’ومزدلفۃ کلھا موقف الاوادی محسر‘‘منقطع، واعلم ان ظاھر کلام القدوری والھدایۃ وغیرھما فی قولھم’’مزدلفۃ کلھا موقف، الاوادی محسر،وکذاعرفۃ کلھا موقف الابطن عرنۃ ان المکانین لیسا مکان وقوف، فلووقف فیھما لا یجزیہ کما لو وقف فی منیٰ سواء قلنا ان عرنۃ و محسرا من عرفۃ ومزدلفۃ اولا، وھکذا ظاھر الحدیث الذی قدمنا تخریجہ وکذا عبارۃ الاصل من کلام محمد،ووقع فی البدائع! واما مکانہ، یعنی الوقوف بمزدلفۃ فجزء من اجزاء مزدلفۃ، الاانہ لا ینبغی ان ینزل فی وادی محسر، ورویٰ الحدیث ثم قال: ولووقف بہ اجزاہ مع الکراھۃ، وذکرمثل ھذا فی بطن عرنۃ: اعنی قولہ الاانہ لا ینبغی ان یقف فی بطن عرنۃ لانہ علیہ السلام نھی عن ذالک واخبرأنہ وادی الشیطان الخ۔ ولم یصرح فیہ بالاجزاء مع الکراھۃ کما صرح بہ فی وادی محسر ولا یخفی ان الکلام فیھما واحد، وما ذکرہ غیر مشھور من کلام الاصحاب،بل الذی یقتضیہ کلامھم عدم الاجزاء ، واما الذی یقتضیہ النظر ان لم یکن اجماع علی عدم اجزاء الوقوف بالمکانین وھوان عرنۃ ووادی محسر ان کان من مسمی عرفۃ والمشعر الحرام یجزی الوقوف بھما، ویکون مکروھا لان القاطع اطلق الوقوف بمسما ھما مطلقا، وخبرالواحد منعہ فی بعضہ فقیدہ، والزیادۃ علیہ بخبر الواحد لا تجوز فیثبت الرکن بالوقوف فی مسماھما مطلقا، والوجوب فی کونہ فی غیر المکانین المستثنین وان لم یکونا من مسما ھما لا یجزی اصلا وھو ظاہر والاستثناء منقطع۔

(فتح القدیر ج ۲؍۴۹۵۔۴۹۶،برکات رضا)

اور’’شامی‘‘ میں ہے :

(قولہ الاوادی محسر) بضم المیم وفتح الحاء المھملۃ وکسرالسین المھملۃ المشددۃ وبالراء ، والاستثناء منقطع لانہ لیس من منی،کما اشارالیہ الشارح۔

(قولہ لیس من منیٰ) صوابہ لیس من مزدلفۃ لانھا محل الوقوف، (قولہ أو ببطن عرنۃ) ای الذی قرب عرفات، کما مر۔

(قولہ لم یجز) ای لم یصح الاول عن وقوف مزدلفۃ الواجب ولا الثانی عن وقوف عرفات الرکن۔

(قولہ علی المشھور) ای خلافا لما فی البدائع من جوازہ فیھما،فتح۔

(ردالمحتار۲؍۱۹۱مطبع فیض القرآن)

اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اسی قول آخر پر حکم صادر فرمایا ،جیسا کہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں ہے :

’’جب وادی محسر۱؎ پہنچو ۵۴۵ہاتھ بہت جلد تیزی کے ساتھ چل کر نکل جائو مگر نہ وہ تیزی کہ جس سے کسی کو ایذا ہو۔‘‘

اس کے تحت ’’حاشیہ منہیہ‘‘ میں ہے ۔

۱– یہ منیٰ ،مزدلفہ کے بیچ میں ایک نالہ ہے دونوں کی حدود سے خارج ،مزدلفہ سے منیٰ کو جاتے بائیں ہاتھ کو جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو کر ۵۴۵ہاتھ تک ہے۔ یہاں اصحا ب الفیل آکر ٹھہرے تھے اور ان پر عذاب ابابیل اترا تھا اس سے جلد گزرنا اور عذاب الٰہی سے پناہ مانگنا چاہئے۔

(فتاویٰ رضویہ ۴؍۷۱۰،رسالہ انوار البشارہ مطبع رضا اکیڈمی )

سیمینار کے مندوبین بھی اسی پر متفق ہیں۔عذر نا گزیر کی صورت میں قول ’’بدائع‘‘ پر عمل کر سکتا ہے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

(۲) جن حجاج کے خیمے حدود منی سے باہر ہیں وہ لوگ حدود منی میں اپنی نمازیں گزارنے اور ذکر کے لئے کچھ وقت صرف کرنے پر قادر ہوں تو ایسا ضرور کریں تاکہ بالکلیہ سنت فوت نہ ہو۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

(۳)اگر وقوف مزدلفہ خاص انہیں حدود میں کیا جو عہد رسالت میں مزدلفہ تھا تو واجب ادا ہو گیا یہ وقوف طلوع فجر سے طلوع شمس تک اس طرح واجب ہے کہ کسی عذر کی بنا پر ترک ہو جائے تو دم واجب نہ ہوگا۔اعذار کی تفصیل انور البشارہ و بہار شریعت سے معلوم کی جائے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

(۴) دسویں ذی الحجہ کی رمی جمرہ عقبہ اور گیارہویں بارہویں کی رمی جمرات ثلثہ واجبات حج سے ہے ۔منی کا قیام لیل و نہار ان کی شرط وجوب نہیں ۔البتہ اگر تیرہویں کی شب کے کل یا جز میں منی میں اتنا قیام کیا کہ صبح صادق ہو گئی تو اس دن کی رمی واجب ہے ۔ترک کرے گا تو دم واجب ہوگا۔

تیرہویں کی رمی کا وقت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہے مگر زوال شمس سے قبل مکروہ ہے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!