چھٹا فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۴؍۲۵؍رجب المرجب ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۸؍۱۹؍جولائی ۲۰۰۹ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۱جدید طریقۂ بیع کی شرعی حیثیت

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

ارباب تجارت، خرید و فروخت کو فروغ دینے کے لیے روزمرہ جدید طریقۂ تجارت ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ صنعتوںاور سامانوں وغیرہ  کی خرید و فروخت میں ایک نیا طریقۂ تجارت یہ ایجاد ہوا ہے کہ مبیع موجود و مملوک و مقبوض ہونے سے پہلے ایک شخص دوسرے تاجر سے مبیع (غیر موجود و غیر مملوک و غیر مقبوض) کا ثمن لے کر بیع کر دیتاہے۔ اور دوسرا تاجر مبیع پرملک و قبضہ اوراس کے وجود سے پہلے ایک اورشخص سے مذکورہ اوصاف کے مبیع کا ثمن لے کر بیع کر دیتا ہے ۔ اسی طرح یہ تیسراشخص چوتھے اور چوتھاشخص پانچویںسے بیع کرتاہے اور مبیع کا ابھی وجود نہیں ہوتا ہے اور نہ وہ ملک اور قبضہ میں ہے۔ صرف بدل مبیع یعنی ثمن موجود ہے مثلاً ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ اس دوسرے سے ثمن لے کر ایک ایسی ساڑھی کی بیع کی جو ابھی تیارنہیں ہوئی اور وجود میں نہ آئی بس اتنامقرر ہواکہ اس وصف کی ساڑھی میں تیار کر ا کے دے دوں گا۔ اس دوسرے نے اپنے بائع کو مبیع غیرموجود کا ثمن دے کر اپنے مبیع معدوم کی بیع کسی اور سے اس وصف کے مبیع کاثمن لے کر بیع کیا ایسے تیسرے اور چوتھے اور پانچویں وغیرہ کے ہاتھ ثمن لے کر مبیع معدوم کی بیع ہوا کرتی ہے۔ اور یہ طریقۂ تجارت اور کاروبار صرف کفار و مشرکین ہی نہیں کرتے بلکہ مسلمان بھی اس طریقۂ تجارت کو اختیارکرتے ہیں۔ جیسا کہ روزمرہ کا مشاہدہ اس پر شاہد ہے ۔ مگر مبیع معدوم ہونے کے باوجود اس کے تمام اوصاف مثلاً ڈیزائن و کلر وغیرہ ساری چیزوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ گویا کہ مبیع صرف وجود میںنہیں ہے مگر اس کے تمام اوصاف مذکور و موجود ہوتے ہیں۔ اور کسی طرح کی جہالت نہیں رہتی اور یہ کاروبار تاجروں کے درمیان کافی عام اور رائج ہے کہ کارخانوں، فیکٹریوں کا کاروبار زیادہ تر بلکہ مکمل اسی طریقۂ تجارت پر گردش کرتا رہتا ہے اور ان کی طرف سے مال تجارت مبیع کے معدوم ہونے کا کوئی ضرر نہیں ہوتا۔

ہمارے فقہائے کرام رحمہم المتعال یہ فرماتے ہیں کہ مبیع کاموجود اور مال متقوم اور مملوک فی نفسہٖ وغیرہ ہوناشرط ہے کہ معدوم کی بیع صحیح نہیں۔ جیساکہ ’’ردالمحتار‘‘ میں ہے:

’’ و شرط المعقودعلیہ ستۃ کونہ موجودا، مالا متقوما ، مملوکا فی نفسہ وکون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ فلم ینعقد بیع المعدوم و لا بیع ما لیس مملوکا لہ‘‘۔

(ردالمحتار، ۷؍۱۵)

ہدایہ باب السلم میں ہے:

’’ روی أنہ علیہ الصلوۃ و السلام نھی عن بیع ما لیس عند الانسان‘‘

محقق علی الاطلاق امام ابن الہمام ’’فتح القدیر‘‘میں اس کے تحت فرماتے ہیں :

’’رواہ أصحاب السنن الأربع عن عمرو بن شعیب، عن أبیہ، عن جدہ، عنہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم…… و لا تبع ما لیس عندک، قال الترمذی حسن صحیح اھ ‘‘

(فتح القدیر۲؍ ۲۰۵ باب السلم)

ان سب کے باوجود بیع سلم اور استصناع میں بیع المعدوم اور بیع ما لیس عند الانسان ہے اور سلم برخلاف قیاس نص کے سبب مشروع بشرائط ہے اوراستصناع بھی استحساناً تعامل اور حاجت ناس کے سبب خلاف قیاس جائز ہے جیسا کہ ملک العلماء علامہ کاسانی علیہ الرحمہ’’ بدائع الصنائع ‘‘میں فرماتے ہیں:
’’ فالقیاس یأبی جواز الاستصناع لانہ بیع المعدوم کالسلم بل ھو أبعد جوازا من السلم وفی الاستحسان جاز لان الناس تعاملوہ فی سائر الأعصار من غیر نکیر فکان إجماعا منھم علی الجواز فیترک القیاس ‘‘

(بدائع الصنائع ۴؍۴۴۴)

’’ہدایہ‘‘ میں ہے :

’’ و إن استصنع شیئا من ذلک بغیر أجل جاز استحسانا بالإجماع الثابت بالتعامل و فی القیاس لا یجوز لأنہ بیع المعدوم و الصحیح أنہ یجوز بیعا لا عدۃ والمعدوم قد یعتبر موجودا حکما‘‘

(ہدایہ مع الکفایۃ، کتاب البیوع ۳؍۱۱۲)

’’کفایہ شرح ہدایہ‘‘ میں ہے:

’’ وجہ الاستحسان عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم استصنع خاتما و منبرا و لأن المسلمین تعاملوہ‘‘۔

(کفایہ ۳؍۱۱۳)

ان شواہد سے صاف ظاہر و عیاں ہے کہ اگرچہ بیع میں مبیع کا موجود ہونا شرط ہے مگر استصناع استحساناً تعامل ناس اور حاجت کے سبب خلاف قیاس جائز و مشروع ہے البتہ جن چیزوں میںتعامل اور حاجت مسلمین متحقق نہیں ان میں استصناع ناجائز ہے جیسا کہ ملک العلماء علامہ کاسانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’ منھا أن یکون ما للناس فیہ تعامل کالقلنسوۃ والخف و الآنیۃ و نحوہا فلا یجوز فی ما لا تعامل لھم فیہ‘‘۔

(بدائع الصنائع ۴؍۴۴۴)

’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے :

’’ و الاستصناع فی کلما جری التعامل فیہ، ثم انما جاز الاستصناع فیما للناس فیہ التعامل إذا بین وصفا علی وجہ یحصل التعریف اھ‘‘

(۳؍۲۰۷)

’’الاشباہ و النظائر‘‘ میں ہے:

’’ و من ذلک جواز السلم علی خلاف القیاس لکونہ بیع المعدوم دفعا لحاجۃ المفالیس، و منھاجوازالاستصناع للحاجۃ ‘‘۔

(الاشباہ و النظائر۱؍ ۲۶۷)

فقیہ الاسلام ، مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:

’’ کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوایا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنا دے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اور اس کی قسم، وصف و حال و پیمانہ و قیمت وغیرھا کی ایسی صاف تصریح ہوئی کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اور اس میںکوئی میعاد مہلت دینے کے لیے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعاً جائز ہوتا ہے ۔اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلاً روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دینا یا اس کا بازار میں موجود رہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا ، مگر جب اس میں میعاد ایک مہینہ یا زائد کی لگا دی جائے تو وہ عقد بعینہٖ بیع سلم ہو جاتا ہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کامتحقق ہونا ضرور ہوتا ہے اگر ایک بھی رہ گئی تو عقد فاسد ہوگیا۔‘‘

(فتاویٰ رضویہ، ۷؍۲۴۴)

فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ فرماتے ہیں:

’’ کبھی ایساہوتا ہے کہ کاریگر کو فرمائش دے کر چیز بنوائی جاتی ہے اس کو استصناع کہتے ہیں اگر اس میں کوئی میعاد مذکور ہو اور وہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہو تو وہ سلم ہے تمام وہ شرائط جو بیع سلم میں مذکور ہوئے ان کی مراعات کی جائے یہاں یہ نہ دیکھا جائے گاکہ اس کے بنوانے کا چلن اوررواج مسلمانوں میں ہے یا نہیں، اگر مدت ہی نہ ہو یا ایک ماہ سے کم کی مدت ہے تو استصناع ہے اوراس کے جواز کے لیے تعامل ضروری ہے‘‘۔

(بہار شریعت، ج۱۵،۱۸۴)

فقیہ اسلام، مجدد اعظم، مفسر اکبر، محدث اجل سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اورحضرت صدر الشریعہ قدس سرہما کی تصریحات سے یہ بھی ظاہر و باہر ہے کہ استصناع میں ایک مہینہ یا زائد کی میعاد مقرر کرنا اسے سلم کر دیتا ہے۔ یہی مذہب امام اعظم ماخوذ ومفتیٰ بہ و مقدم ہے ۔

’’ردالمحتار‘‘ میں ہے:

’’ أراد بالأجل ما تقدم و ھو شھر فما فوقہ، قال المصنف قیدنا الأجل بذلک لأنہ إذا کان أقل من شھر کان استصناعا إن جری فیہ تعامل و إن لا ففاسد اھ” (ردالمحتار ۷؍۴۴۴) إن ذکر علی وجہ الاستمہال و إن للاستعجال بأنہ قال علی أن تفرغ من غدا أو بعد غد کان صحیحا‘‘

(رد المحتار۱؍ ۴۴۴)

ان تصریحات و توضیحات سے یہ ظاہر ہے کہ مذکورہ طریقۂ تجارت جو مسلمانوں اور کافروں کے درمیان خوب عام و رائج ہے اس میں بائع اول تو صانع ہے اوراس کا مشتری صرف مستصنع ہے نہ کہ صانع تو یہاں پر استصناع ہونا چاہیے اگر اس کی شرط متحقق ہو لیکن بائع اول کاخریدار اور اسی طرح باقی خریدار یہ صانع نہیں اور بائع اول کے خریدار کے علاوہ نہ حقیقۃ مستصنع ہیں پھر بھی معدوم کی بیع کر رہے ہیں علاوہ ازیں مذہب امام اعظم مقدم و ماخوذ و مفتی بہ پر استصناع اس وقت سلم ہوجایا کرتا ہے جب کہ ایک ماہ یا اس سے زائد کی مقدار مقرر ہو اور یہاں حال یہی ہے کہ فیکٹریاں اور کارخانے کے لوگ ایک ماہ سے زائد ہی مدت مقررکرتے ہیں مثلاً ایک ہزار ساڑھی چارماہ یااس سے زائد میں تیار کر کے بائع اول اپنے خریدار کو سپرد کرے گا اسی طرح دیگر سامانوں میں ایک ماہ سے زائد کی مدت و میعاد مقررہوتی ہے ۔ تومذہب امام اعظم مقدم و ماخوذ ومفتی بہ پر تو یہ استصناع نہیں ہاں مذہب صاحبین پر استصناع ہے کہ وہ مدت کاذکر استعجال کے لیے قرار دیتے ہیں البتہ جن چیزوں میںتعامل نہیں ان میں مدت کاذکر بالاجماع سلم ہی ہے استصناع نہیں جیسا کہ ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:

’’ھذا إذا استصنع شیئا و لم یضرب لہ أجلا، فأما إذا ضرب لہ أجلا فانہ ینقلب سلما عند أبی حنیفۃ فلا یجوز إلا بشرائط السلم و لا خیار لواحد منھما کما فی السلم، و عندھما ھو علی حالۃ الاستصناع وذکرہ للتعجیل و لو ضرب الأجل فی ما لا تعامل فیہ ینقلب سلما بالإجماع وجہ قولھما أن ھذا استصناع حقیقۃ فلو صار سلما إنما یصیر بذکر المدۃ و إنہ قد یکون للاستعجال کما فی الاستصناع فلا یخرج عن کونہ استصناعا مع الاحتمال، و لأبی حنیفۃ، إن الأجل فی البیع من خصائص اللازمۃ للسلم فذکرہ یکون ذکرا للسلم معنی وان لم یذکرہ صریحا ‘‘۔

(بدائع الصنائع،۵؍۳۱۳)

مگر جب مذہب امام اعظم مقدم وماخوذ و مفتیٰ بہ یہ ہے تواس سے عدول کے لیے اسباب ستہ میں سے کوئی سبب متحقق ہوناچاہیے اور اگر مذہب امام سے عدول نہ کر کے اسے سلم ہی قرار دیاجائے تو پھر کتب فقہ میں تحقق سلم کے لیے بہت سارے اوصاف و شرائط درکار ہیں ان شرائط و اوصاف کاتحقق اس عقد میں ہے یا نہیں یا یہ کہ یہ عقد نہ استصناع ہے نہ سلم بلکہ کچھ اور۔

ان سب پر تحقیق اور تفحص کے بعد اس عقد کاشرعی جائزہ لینے اور اس کی صحیح شرعی صورت متعین کرنے اور تحقیقی جواب ارقام کرنے کے لیے درج ذیل سوالات ارسال خدمت ہیں امید ہے کہ سوالات کے تمام گوشوں پر کامل غور فرما کر جواب باصواب سے شاد کام فرمائیں گے اور’’شرعی کونسل‘‘ کاعلمی و فقہی تعاون فرما کر امت مسلمہ کے لیے صحیح راہ متعین کرنے اور گناہ سے بچانے میں مدد فرمائیں گے۔ جزاکم اﷲ تعالیٰ خیر الجزاء

سوالات:

(۱)ارباب تجارت کامروجہ جدید طریقۂ تجارت کون سا عقد شرعی ہے؟ بیع استصناع یا بیع سلم ،یا بیع مطلق یا اس کے علاوہ ؟

اگر  سلم ہو تو کیااس کے شرائط معتبرہ متحقق و موجود ہیں اور اگر مذہب صاحبین پر استصناع ہو تو کیامذہب امام اعظم ماخوذ و مفتی بہ سے عدول کا سبب اور تعامل عوام و خواص و حاجت ناس یا کوئی اورسبب اسباب ستہ میں سے متحقق ہے وضاحت فرمائیں اور بائع اول کے خریداروںکا ایک دوسرے سے بیع معدوم کرناجائز ہے ؟

(۲) اگرشرعاً ناجائز ہو تو اس کے جواز کی کوئی راہ ہے…؟، جبکہ اس بیع کا رواج بہت عام ہو چکا ہے۔

(۳)تعامل مطلقاً معتبر ہے یا بعلت حاجت (کفایہ جلد۳،ص۱۱۳) کی عبارت سے یہ متبادر ہے کہ استصناع کاجواز استحسان بالاثر اور تعامل مسلمین کی وجہ سے ہے اس کے برخلاف الاشباہ و النظائر ج۱؍۲۶۷، کی عبارت میں فرمایا:’’ منھا جواز الاستصناع للحاجۃ‘‘ اس لیے سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ استصناع کے لیے صرف تعامل کافی ہے یا تعامل اور حاجت دونوں شرط ہیں) برتقدیر اول مدلل ارشاد فرمائیں اور بر تقدیر ثانی سلسلۂ بیع میں حاجت کس کے حق میںمتحقق ہے اور کس کے حق میں نہیں۔

(مفتی)محمود اختر قادری
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:د ربارۂ منیٰ و مزدلفہ کی توسیع

جدید طریقہ تجارت کے تحت یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ مبیع موجود و مقبوض ہونے سے قبل ہی بیچنے اور خرید نے کا عمل اہل تجارت میں عام طور پر رائج ہو گیا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے مال تیار کرنے کو کہہ کر اس سے خرید لیتا ہے اور مال موجود بھی نہیں ہے وہ دوسرے کو بیچ دیتا ہے حالانکہ ابھی وہ مال موجود و مقبوض نہیں ہے اور ہکذا وہ دوسرا تیسرے شخص کو وغیرہ ۔ اس میں سوال یہ ہے کہ یہ بیع کی کس قسم میں داخل ہے؟

(۱)یہ طے ہوا کہ بیع اول بیع استصناع ہے اور یہ تعامل کی وجہ سے جائز ہے۔ لہٰذا جن جن اشیا میں ایسی بیع رائج ہوگئی ہے وہ جائز ہے اور یہاں تعامل کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کا رواج ہو اور علما سے بعد علم اس پر نکیرنہ پائی جائے ۔

مذکورہ بالا بیع استصناع میں بسا اوقات ایک ماہ یا اس سے زائد کی اجل مذکور ہوتی ہے جو مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر استصناع  کے بجائے سلم ہوجاتی ہے اور اس میں جملہ شرائط سلم صحت عقد کے لئے لازم ہیں۔اور حضرات صاحبین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مذہب پر ایک ماہ یا زائد کی مدت استعجال کے لئے ہوتی ہے نہ کہ بطور شرط تو کیا اس مسئلہ میں قول امام سے عدول درست ہے اگر درست ہے تو کس بنا پر؟

(۲) باتفاق رائے یہ طے ہو اکہ استصناع میں ایک ماہ یا اس سے زائد کی اجل کا ذکر بطور استعجال ہے جو صاحبین کا قول ہے ۔ اس مسئلہ میں قول امام سے عدول دفع حرج شدید کی بنا پر درست ہے ۔

(۳) استصناع بوجہ تعامل ہی جائز ہے اور اس تعامل کی بنا حاجت پر ہے اس لئے بعض فقہانے جواز الاستصناع للحاجۃ ذکر فرمادیا ہے ۔
سوال میں یہ جو ذکر کیا گیا کہ ایک شخص کسی سے مال کا عقد استصناع کرتا ہے پھر مال کے موجود ہونے سے پہلے ہی کسی دوسرے تاجر کو بیع کر دیتا اوردوسرا تاجر بھی ملک و قبضہ سے پہلے تیسرے تاجر کو بیع کرتا ہے ۔ وہکذا یجری۔

اس سلسلے میں یہ فیصلہ ہوا کہ اول کی بیع استصناع ہے۔ اور بعد والی بیعوں کے متعلق تحقیق کے بعد یہ پتہ چلا کہ مستصنع اور اس کے بعد کے تجار ایک دوسرے سے صرف معاہدۂ بیع کرتے ہیں نہ کہ بیع اس لئے یہ جائز ہے کہ معدوم کی بیع و شراء کا وعدہ بے قباحت جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!