چھٹا فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۴؍۲۵؍رجب المرجب ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۸؍۱۹؍جولائی ۲۰۰۹ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۲پانی و کاغذ وغیرہ کے ری سائیکل کا شرعی حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

پانی قدرت کا بیش بہا خزانہ اور اہم عنصر ہے دنیا کے بعض ممالک اور بعض علاقوں میں پانی کی خوب فراوانی ہے اور بعض ملکوں اور شہروں میں پانی کی کافی قلت ہے جن خطوں میں پانی کی کمی ہوتی ہے وہاں جمع شدہ پاک و ناپاک پانی میں کچھ مصفی اجزا ملا کر مشینوں اور آلات کے ذریعہ ان کے فضلات کو خارج کرکے انہیں کھاد وغیرہ بنا لیا جاتا ہے ا ور پانی کو پینے کے لائق بنا دیا جاتا ہے ملک کے اطراف و جوانب میں ان کی سپلائی کی جاتی ہے پینے،نہانے،پکانے اور کپڑا دھونے وغیرہ حاجت و ضرورت میں استعمال کیا جاتا ہے بیسلری کا پانی جو عام طور پر دوکانوں اور ہوٹلوں اور اسٹیشنوں وغیرہ پر دستیاب ہوتا ہے جسے عوام و خواص علماء و جہلا بصد شوق پیتے ہیں عموما یہی پانی ہوا کرتا ہے جبکہ جمع شدہ پانی میں مرئی اور غیر مرئی ہر طرح کی نجاست و کثافت کی سرایت و آلودگی ہوتی ہے۔

پانی کی طرح پاک و ناپاک کاغذ اور پلاسٹک وغیرہ کو پاک و ناپاک مقامات سے اکٹھا کیا جاتا ہے جن میں شراب کی پیکٹیں بھی ہوتی ہیں اور پاک و ناپاک نالیوں سے نکالی گئی اشیا میں بھی یہ پلاسٹک وغیرہ ہوتی ہے پاک و ناپاک کوڑے جہاں جمع ہوتے ہیں وہاں سے بھی ان کاغذ و پلاسٹک کو جمع کیا جاتا ہے اور ان سے کھانے پینے،رکھنے اور پیک کرنے وغیرہ حاجت و استعمال کی چیزیں بنائی جاتی ہیں مثلا کھانے کی پلیٹیں اور پینے کے گلاس اور پیک کرنے کے ڈبے اور پلاسٹک وغیرہ کی تھیلیاں دنیا کے ہر طبقے کے لوگ اپنی حاجت و ضرورت میں انہیں استعمال کرتے ہیں ان میں سیال وغیر سیال جامدوغیر جامد ہر طرح کی اشیا رکھی جاتی ہیں۔

ظاہر ہے کہ جس جمع شدہ پانی کو مصفی اجزا ملا کر آلات اور مشینوں کے ذریعہ صاف و ستھرا کیا گیا اس کی حقیقت وماہیت اپنی جگہ اب بھی باقی ہے کہ اس کی طبیعت زائل نہ ہوئی اس لئے کہ رقت و سیلان باقی ہے ہاں اس کے سابقہ اوصاف اور فضلات زائل ہو گئے تو کیا یہ پانی طاہر و مطہر ہے کہ ان میں غالب پاک ہی ہے جس طرح آب مستعمل قلیل،کثیر ماء غیر مستعمل میں مل جائے تو اسے پاک ہی قرار دیا جاتا ہے کہ غالب کا اعتبار ہے، یا دونوں میں فرق ہے۔یا اسے اس لئے پاک قرار دیا جائے کہ پانی میں اصل طہارت ہے: لأن الاصل فی الاشیاء الحل و الطہارۃ الا ما حکم الشرع بحرمتہ أوبنجاستہ۔

(حلبی کبیر ص ۱۹۵ باب الأنجاس)

لہٰذا جب تک نجاست کاغلبہ ظن ملحق بہ یقین نہ ہو جائے اسے پاک ہی قرار دیا جائے گا جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ سے ظاہر ہے جیسا کہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ذکر فرمایا:۔

’’واستدل بحدیث عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ حین وردماء حیاض مع عمروبن العاص فقال عمرولرجل من أھل الماء أخبرنا عن السباع أتردماء کم ہذا فقال عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ لا تخبرنا عن شیٔ فلولا أن خبرہ عد خبرا لمانہاہ عن ذالک وعمروبن العاص بالسؤال قصدالاخذ بالاحتیاط و قدکرہ عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ لوجود دلیل الطہارۃ باعتبار الأصل‘‘۔

(شرح المختصر للسرخسی ص ۱۶۳)

یا آلات و مشینوں کے اس عمل نے اسے طاہر و مطہر بنا دیا جیسا کہ دباغت حقیقیہ شرعیہ کھال کی نجس رطوبتوں کو زائل کر دیتی ہے اور اسے پاک وصاف اور لائق استعمال بنا دیتی ہے یا اس کی نجس کی حقیقت منقلب ہوگئی اور انقلاب طبیعت نے اسے طاہر و مطہر کر دیا یا آب رواں کے حکم میں ہے یا اس کے حکم میں نہیں اس لئے اب بھی وہ پانی نجس و ناپاک ہی ہے یا اور کچھ؟

اسی طرح پاک وناپاک کاغذ وپلاسٹک وغیرہ سے تیار شدہ استعمال کی اشیا کیا اس لئے پاک ہیں کہ ان میں غالب پاک ہی ہے والعبرۃ للغالب یا ان کے متعلق نجاست کا یقین اور غلبۂ ظن نہیں اور اصل طہارت ہے والیقین لایزول بالشک یا یہ کہ اس کی حقیقت بدل گئی جیسا کہ نجاست، نمک یا خاک یا جل کر راکھ ہو جائے کہ فقہائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ جب ناپاک شی کی حقیقت بدل جائے تو وہ پاک ہے جیسا کہ ’’مراقی الفلاح ‘‘و ’’ نور الایضاح‘‘ میں ہے:۔

’’وتطہر نجاسۃ استحالت عینہا کأن صارت ملحا أوترابا أو أطرونا أواحترقت بالنار فتصیر رمادا طاہرا علی الصحیح لتبدل الحقیقۃ کالعصیر یصیر خمرا فینجس ثم یصیر خلا فیطہر، وبخار الکنیف والاصطبل والحمام اذا قطرلا یکون نجسا استحسانا والمستقطر من النجاسۃ نجس کالمسمی بالعرفی حرام، و بیض مالا یوکل قیل نجس کلحمہ و قیل طاہر‘‘ ۔

’’طحطاوی علی المراقی‘‘ میں ہے :

’’وتطہر نجاسۃ استحالت عینہا فیجوز الا نتفاع بہا و ہذا قول محمد و ہوالمختار للحقیقۃ لأن زوال الحقیقۃ یستتبع زوال الوصف وقال أبو یوسف لا تطہر‘‘۔

اسی ’’مراقی الفلاح‘‘ ص ۸۶،۸۷میں ہے :

’’والا ستحالۃ تطہر الأعیان النجسۃ کالمیتۃ اذا صارت ملحا والعذرۃ ترابا أو رمادا کما سنذ کرہ والبلۃ النجسۃ فی التنور بالاحراق ورأس الشاۃ اذا زال عنہا الدم بہ،والخمر اذا خللت کما لوتخللت والزیت النجس صابونا‘‘۔

’’طحاوی علی مراقی الفلاح‘‘ ص۸۷ میں ہے :

’’والزیت الخ‘‘ مثلہ ما اذا وقع فی المصبنۃ وزالت أجزاء ہ‘‘۔

’’تنویر الابصار‘‘ اور ’’درمختار‘‘ میں ہے :

’’(و) لا (ملح کان حمارا) أو خنزیرا ولا قذر وقع فی بئر فصار حمأۃ لا نقلاب العین بہ یفتی۔

’’ردالمحتار‘‘ میں صاحب درمختار کے قول ’’لا نقلا ب العین‘‘ کے تحت ہے:

’’علۃ للکل،وہذا قول محمد، وذکر معہ فی الذخیرۃ والمحیط ابا حنیفۃ،حلیۃ قال فی الفتح وکثیر من المشائخ اختاروہ،وہوالمختار لأن الشرع رتب وصف النجاسۃ علی تلک الحقیقۃ و تنتفی الحقیقۃ بانتفاء بعض أجزاء مفہومہا فکیف بالکل؟ فان الملح غیر العظم والفحم،فاذا صار ملحا ترتب حکم الملح۔ونظیرہ فی الشرع النطفۃ نجسۃ و تصیر علقۃ وہی نجسۃ وتصیر مضغۃ فتطہر،والعصیر طاہر فیصیر خمرا فینجس و یصیر خلا فیطہر، فعرفنا ان استحالۃ العین تستتبع زوال الوصف المرتب علیہا اھ۔
(تنبیہ) یجوز أکل ذالک الملح والصلاۃ علی ذالک الرماد کما فی المنیۃ وغیرہا ،ومافیہا من أنہ لوو قع ذالک الرمادفی الماء فالصحیح أنہ ینجس فلیس بصحیح ،الا علی قول ابی یوسف کما ذکرہ الشارحان‘‘۔

(ردالمحتار ۱؍۵۳۴ کتاب الطہارۃ باب الانجاس)

ردالمحتار میں ہے:۔

(والا) أی وان لا نقل أنہ لا یکون نجسا،وظاہرہ أن العلۃ الضرورۃ ،وصریح الدرروغیرہا أن العلۃ ہی انقلاب العین کما یاتی،لکن قدمنا عن المجتبی أن العلۃ ہذہ وأن الفتوی علی ہذا القول للبلویٰ،فمفادہ أن عموم البلوی علۃ اختیار القول بالطہارۃ المعللۃ بانقلاب العین،فتدبر‘‘۔

(ردالمحتار ۱؍۵۳۴ کتاب الطہارۃ باب الانجاس)

’’منیہ‘‘ اور اس کی شرح میں ہے :

’’والطین النجس اذا جعل منہ الکوزاوالقدر أوغیرہما (فطبخ یکون) ذالک المعمول (طاہرا) لاضمحلا ل النجاسۃ بالنار وزوالہا وہذا اذالم یکن أثرالنجاسۃ ظاہرا فیہ بعد الطبخ‘‘(ص ۱۸۸)۔

یا انہیں پاک وصاف کرکے اور ان کی نجاست وکثافت وغیرہ کو زائل کرکے پھر ان سے حاجت و استعمال کی اشیا کو تیار کیا جاتا ہے۔یا یہ کہ وہ ناپاک ہی ہیں کہ پاک اور ناپاک چیزیں مخلوط ہیں اور ناپاک شی کا پاک سے اختلاط اسے نجس و ناپاک بنا دیتا ہے اور یہی صحیح ہے جسے فقیہ النفس امام قاضی خاں نے ذکر فرمایا اور فقیہ ابو اللیث کا مختار اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی بھی ہے۔ جیسا کہ منیہ اور اس کی شرح میں ہے :۔

(الماء والتراب اذا) خلطا و (کان أحدہما نجسا فالطین) الحاصل منہما (نجس ) لأن اختلاط النجس بالطاہر ینجسہ ہذا ہو الصحیح کما ذکرہ قاضی خاں وہواختیار الفقیہ أبی اللیث وکذاروی عن ابی یوسف ذکرہ فی الخلاصۃ وقیل العبرۃ للماء ان کان نجسا۔ فالطین نجس والافطاہر و قیل العبرۃ للتراب وقیل للغالب قال ابن الہمام والاکثر علی انہ أیہما کان طاہرا فالطین طاہر انتھی وہو اختیار ابی نصر محمدبن سلام قال البزازی وھو قول محمد وقدذکر أن الفتویٰ علیہ انتہی و وجھہ فی الخلاصۃ بصیرورتہ شیئا اٰخروہوتوجیہ ضعیف اذیقتضی أن جمیع الأطعمۃ اذا کان ما ء ھا نجسا أودہنہا أونحوذالک أن یکون الطعام طاہرا لصیر ورتہ شیئا اٰخر و علی ہذا سائر المرکبات اذا کان بعض مفرداتہا نجساولا یخفی فسادہ فللہ درالفقیہ أبی اللیث وللہ درقاضی خاں حیث جعل قولہ ہوالصحیح مشیرا الی أن سائرالاقوال لا صحۃ لھا بل ہی فاسدۃ لأن النتیجۃ تابعۃ لاخس المقدمتین دائما‘‘ (ص ۱۸۸)

بہر حال جو بھی صورت ہو اس طرح کا پانی اور اس طرح کی اشیا کا استعمال عام ہو چکا ہے عوام و خواص اور علما وجہلا سبھی استعمال کرتے ہیں اس لئے یہ مسئلہ خاص توجہ کا طالب ہوا اور اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کا شرعی حکم واضح کیا جائے اس لئے درج ذیل سوالات پیش خدمت ہیں امیدکہ جواب باصواب سے شاد کام فرما کر ’’شرعی کونسل‘‘ کا علمی و فقہی تعاون فرمائیں گے اور عند اللہ ماجور و عند الناس مشکور ہوں گے۔

سوالات :

۱-پاک و ناپاک جمع شدہ جسے آلات اور مشینوں اور مصفی اجزا کی مدد سے صاف کرکے پینے نہانے پکانے ا ور دھونے وغیرہ حاجت واستعمال کے لائق بنایا جاتا ہے اس کا حکم کیا ہے پاک یا ناپاک اور کیوں؟

۲- پاک و ناپاک اور صاف و آلودہ کاغذ وپلاسٹک سے حاجت و استعمال کی بنا ئی جانے والی اشیا کا کیا حکم ہے ؟ فقط۔

۔( مولانا) محمد عسجد رضا قادری
ناظم : شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:دربارۂ ری سائیکل پانی و کاغذ

 آج مورخہ ۱۷؍جولائی ۲۰۰۹؁ء بعد نماز مغرب ’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ کا چھٹا سیمینار منعقد ہوا جس میں ناظم شرعی کونسل کے خطبہ استقبالیہ و سرپرست اعلیٰ حضور تاج الشریعہ مدظلہ کے خطبۂ صدارت و رکن فیصل بورڈ حضرت محدث کبیر مدظلہ کے خطبۂ تنقیح مسائل کے بعد مستعمل پانی و کاغذ اور پلاسٹک کی ری سائیکل شدہ سامانوں کی طہارت سے متعلق بحث ہوئی اور باتفاق رائے درج ذیل فیصلہ ہوا۔

’’ری سائیکل پانی و دیگر اشیا کے ری سائیکل شدہ سامانوں کا حکم‘‘

(۱) پانی کی ری سائیکلنگ۔

(الف) جو پانی گھروں میں سپلائی ہوتا ہے یا بسلیری وغیرہ کی بوتلوں میں دستیاب ہے وہ طاہرو مطہرہے ، اس کے پینے اور دیگرحاجات و ضروریات میں استعمال کرنے میںکوئی کراہت نہیں تاوقتیکہ وہ الگ سے کسی نجاست سے آلودہ نہ ہو۔

(ب) ری سائیکلنگ کے ٹینک کا پانی پاک ہے یا ناپاک؟ ا س سلسلہ میں اس پر نجاست کا حکم اس وقت تک عائد نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ یہ نہ ثابت ہوجائے کہ اس کا کوئی وصف نجاست ہی سے متغیر ہے۔

(۲)ری سائیکل کئے ہوئے کاغذ اور پلاسٹک ، فائبر اور دیگر اشیا سے بنے ہوئے ظروف وغیرہ اپنی اصل کے مطابق پاک ہیں اور ان کا استعمال بلاکراہت جائز ہے۔ لان الاصل فی ہذہ الاشیاء ہی الطہارۃ فلایعدل عنہ الابدلیل مثلہ۔ واللہ عالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!