چھٹا فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۵/۲۴/رجب المرجب ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۹/۱۸/جولائی ۲۰۰۹ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع۳اموال زکوٰۃ و عشر اور عطیات میں خلط یا تصرف کا شرعی حکم

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

زکات(زکوٰۃ) اعظم فروض دین و اہم ارکان اسلام سے ہے شریعت میں صاحب نصاب پر زکات کی ادائیگی لازم ہے، وہ خود مستحقین کو دے یا اس کا کوئی وکیل ،بہت سے اہل ثروت کسی شخص کو وکیل بنا دیتے ہیں کہ وہ مستحقین کو زکات دیںیہ طریقہ ملک وبیرون ملک  دونوں میں ہوتاہے دینی اداروں اوراسلامی دانش گاہوں کے سفراء مالکان نصاب اور اصحاب ثروت سے زکات و صدقات و عطیات کی رقمیں وصول کرتے ہیں، درحقیقت یہ مالکان نصاب اور ارباب ثروت کے وکیل ہوتے ہیں، اگرچہ یہ اداروں کے اجیر خاص یا اجیر مشترک ہوا کرتے ہیں، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود مستحقین زکات کسی کو تحصیل زکات کا محض وکیل بنا دیتے ہیں، بہرحال اصحاب ثروت و مالکان نصاب وکیل کے ہاتھ میں زکات وغیرہ کی جو کچھ رقمیں دیتے ہیں وہ درحقیقت امانت ہے فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

’’دوسرے شخص کو اپنے مال کی حفاظت پر مقرر کر دینے کو ایداع کہتے ہیں اور اس مال کو ودیعت کہتے ہیں جس کو عام طور پر امانت کہا جاتا ہے۔امانت اسے کہتے ہیں کہ جس میں تلف پرضمان نہیں ہوتا ہے جس کی چیز ہے اسے مودع کہتے ہیں اور جس کی حفاظت میں دی گئی اسے مودع کہتے ہیں‘‘۔

(بہار شریعت ۱۴؍۳۰)

اس کے احکام و شرائط کے تحت فرماتے ہیں:

’’ ودیعت کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز مودع کے پاس امانت ہوتی ہے اس کی حفاظت مودع پر واجب ہوتی ہے اور مالک کے طلب کرنے پر دینا واجب ہوتا ہے‘‘…’’ودیعت کو نہ دوسرے کے پاس امانت رکھ سکتا ہے نہ عاریت یا اجارہ پر دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے ان میں سے کوئی کام کرے گا تا وان دینا ہوگا اس پر ضمان کی شرط کر دینا کہ یہ چیز ہلاک ہوگئی تو تاوان لوںگا یہ باطل ہے‘‘ ۔

(بہار شریعت ۱۴؍۳۰)

’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے :

’’أما حکمھا فوجوب الحفظ علی المودع وصیر ورۃ المال امانۃ فی یدہ و وجوب أدائہ عند طلب مالکہ کذا فی الشمنی والودیعۃ لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترھن وان فعل شیئا منھا ضمن کذا فی البحرالرائق۔‘‘

(۴؍۳۳۸)

حاصل یہ کہ ارباب ثروت و مالکان نصاب سے زکات وغیرہ کی تحصیل کرنیو الے وکیل اور مال زکات کے محافظ وامین ہو ا کرتے ہیں انہیں امانت میں تصرف و تعدی اور اپنے مصالح و حاجات اور مصارف وضروریات میں خرچ کرنا شرعا ناجائز و حرام ہے اس خیانت کے سبب وہ خائن و غاصب اور مرتکب حرام قرار پائیں گے اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ‘‘۔ (الانفال:۲۷)

(ترجمہ)اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت کرو۔ (کنزالایمان)

نیز ارشاد ہے :

’’إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ‘‘۔ ( الانفال:۵۸)

(ترجمہ)بے شک دغاوالے اللہ کو پسند نہیں۔

حدیث پاک میں امانت میں تعدی و خیانت کرنے والے کو منافق فرمایا گیا جیسا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:

’’اٰیۃ المنافق ثلٰث اذا حدث کذب،واذا وعد أخلف واذا اوتمن خان‘‘۔

(صحیح مسلم شریف ۱ ؍۵۶)

(ترجمہ)منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے ،وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے،اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں ہے :

’’اذا کان عند رجل و دیعۃ دراھم أودنا نیر أو شیئا من المکیل أوالموزون وأنفق شیئا منھا فی حاجۃ حتی صار ضا منا لما انفق‘‘۔

(فتاویٰ عالمگیری۴؍۳۴۸)

مجدد اعظم ،فقیہ اسلام سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

’’زرامانت میں اس کو تصرف حرام ہے ،یہ ان مواضع میں ہے جن میں در اہم و دنانیر متعین ہوتے ہیں اس کو جائز نہیں کہ اس روپے کے بدلے دوسرا روپیہ رکھ دے اگرچہ بعینہ ویسا ہی ہو اگر کرے گا امین نہ رہے گا اور تاوان دینا آئے گا۔
والمسألۃ منصوص علیھا فی الدرالمختار و کثیرمن الاسفار

(فتاویٰ رضویہ ۸؍۳۱)

فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ مال زکات کے وکیل کے متعلق فرماتے ہیں:

’’زکات دینے والے نے وکیل کو زکات کا روپیہ دیا وکیل نے اسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکات میں دے دیا تو جائزہے اگر یہ نیت کی ہو کہ اس کے عوض موکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکات میں دیا تو زکات ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور موکل کو تاوان دے گا‘‘۔

(درمختار ردالمحتار ۱؍۱۵بہار شریعت ۵؍۲۰)

’’ردالمحتار مع درمختار‘‘ میں یوں ہے :

’’ولو تصدق الخ أی الوکیل بد فع الزکاۃ اذا امسک دراہم الموکل و دفع من مالہ لیرجع ببدلھا فی دراھم موکل صح،بخلاف مااذا انفقھا اولا علی نفسہ مثلا،ثم دفع من مالہ فھو متبرع۔‘‘

(ردالمحتار ۳؍۱۷۶ کتاب الزکاۃ مطلب فی ثمن مبیع الوفاء)

اپنی حاجت میں خرچ کرنا تو کجا فقہائے کرام یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کسی خاص شخص کو دینے کا وکیل کیا اسے نہ دے کر اپنے فقیر لڑکے یا فقیر بیوی کو دیا تو جائز نہیں جبکہ یہاں پر تملیک مستحق ہے بہار شریعت میں ہے:

’’وکیل کو اختیار ہے کہ مال زکات اپنے لڑکے یا بیوی کو دے دے جب کہ یہ فقیرہوں اور لڑکا اگر نابالغ ہے تو اسے دینے کے لئے جو اس کا وکیل ہے اس کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے مگر اپنی اولاد یا بیوی کو اس وقت دے سکتا ہے جب موکل نے ان کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لئے نہ کہہ دیا ہو ورنہ نہیں دے سکتا‘‘۔

(ردالمحتار ۲؍۱۴و۱۵ بہار شریعت ۵؍۲۰)

خود وکیل اگر فقیر ہے تو اسے بھی زکات لینے کا اختیار نہیں جب تک زکات دینے والا یہ نہ کہہ دے جس جگہ چاہو صرف کرو۔

’’ بہار شریعت‘‘ میں ہے:

وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے ہاں اگر زکات دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو دے سکتا ہے‘‘

(درمختار ۲؍۱۵،بہار شیریعت ۵؍۱۲۰)

فقیہ اسلام،مجدد اعظم ،مفسر اکبر،محدث اجل سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:

’’جس کے مالک نے اسے اذن مطلق دیا کہ جہاں مناسب سمجھودو تو اسے اپنے نفس پر بھی صرف کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ یہ اس کا مصرف ہو،ہاں اگر یہ لفظ نہ کہے جاتے تو اسے اپنے نفس پر صرف کرنا جائز نہ ہوتا مگر اپنی بیوی یا اولاد کو دے دینا جب بھی جائز ہوتا اگر وہ مصرف تھے۔‘‘

’’درمختار‘‘ میں ہے:

’’للوکیل ان ید فع لو لدہ الفقیر وزوجتہٖ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت۔‘‘

(درمختار کتاب الزکاۃ ۱؍۳۰ مطبع مجتبائی دہلی،فتاویٰ رضویہ مترجم ۱۰؍ ۱۵۸و۱۵۹،برکات رضا)

وکیل کا اپنے مصارف وحاجات میں خرچ کرنا تو کجا مال زکات کو دو سرے مال زکات میں ملا دینا شرعاً ناجائز اور موجب ضمان ہے اور اس خلط و استہلاک کے سبب زکات ادا نہ ہوئی جیسا کہ فقیہ اعظم حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

’’بہت سے لوگ مال زکات اسلامی مدرسوں میں بھیج دیتے ہیں ان کو چاہئے کہ متولی مدرسہ کو اطلاع دیں کہ یہ مال زکات ہے تاکہ متولی اس مال کو جدا رکھے اور مال میں نہ ملا دے اور غریب طلبہ پر صرف کرے کسی کام کی اجرت میں نہ دے ورنہ زکات ادا نہ ہوئی‘‘۔

(بہار شریعت ۵؍۵۸)

مزید فرماتے ہیں کہ اگر عرف ہواور موکل اس عرف سے واقف ہو تو اجازت ہے۔

’’اگر موکلوں نے صراحۃً ملانے کی اجازت نہ دی مگر عرف ایسا جاری ہو گیا کہ وکیل ملا دیا کرتے ہیں تو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی جب کہ موکل اس عرف سے واقف ہو مگر دلال کو غلط کی اجازت نہیں کہ اس میں عرف نہیں‘‘۔

(بہار شریعت ۵؍۱۹و ۲۰)

مجدد اعظم، فقیہ اسلام ،سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:

’’اس طریقہ سے زکات ادا نہیں ہو سکتی،یہ لوگ بطور خود چندہ کرتے ہیں اور زکات وغیر زکات بلکہ مسلم و غیر مسلم سب کے چندے خلط کرلیتے ہیں وہ روپیہ فورا ہلاک ہو جاتا ہے اور قابل اداء زکات نہیں رہتا فان الخلط استھلاک۔

’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں ہے :

’’رجلان دفع کل منھا زکاۃ مالہ الی رجل لیودی عنہ فخلط مالھما ضمن الوکیل مال الدافعین وکانت الصدقۃ عنہ کذا فی فتاویٰ قاضی خان‘‘۔

(فتاویٰ ہندیہ الباب الثالث فی زکاۃ الذھب الخ ا؍۱۸۳نورانی کتب خانہ پشاور)

’’درمختار‘‘ میں ہے :

’’لوخلط زکاۃ موکلیہ کان متبرعا الا اذا وکلہ الفقراء‘‘۔

(درمختار کتاب الزکاۃ ۱؍۳۰مطبع مجتبائی دہلی)

اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ زکات دینے والے خالص مسلمان اپنی اپنی زکات ایک معتمد متدین کے پاس جمع کر دیںاور وہ روپیہ ملا لینے کی اجازت دیں اور اس میں کوئی پیسہ غیر زکات کا خلط نہ کیا جائے نہ کسی وہابی یا رافضی یا نیچری یا قادیانی یا حد کفر تک پہونچے ہوئے گاندھوی کی زکات اس میں شامل ہو کہ ان لوگوں کی زکات شرعاً زکات نہیں یہ خالص زکات شرعی کا جمع کیا ہوا مال کہ مالکوں کے اذن سے خلط کیا گیا ان فقرائے مظلومین کو پہنچایا جائے ۔’’ردالمحتار‘‘ میں زیر عبارت مذکورہ ’’درمختار‘‘ ہے۔

’’قولہ ضمن وکان متبرعا لانہ ملکہ بالخلط وصارمودیامال نفسہ قال فی التتارخانیۃ الا اذا وجد الاذن او اجاز المالکان الی اٰخرہ و تیصل بھذا العالم واذا سال للفقیر شیئًا وخلط ضمن، قلت و مقتضاہ لووجد العرف فلاضمان لوجود الاذن حینئذٍ دلالۃ‘‘

(ردالمحتار کتاب الزکاۃ ۲؍۱۲ مصطفی البابی مصر،فتاویٰ رضویہ ۴؍۴۷۱)

’’ردالمحتار‘‘ میں اس کے بعد ہے :

’’والظاھر أنہ لابد من علم المالک بھذا العرف لیکون اذنا منہ دلالۃ‘‘۔

(کتاب الزکاۃ،مطلب فی زکاۃ ثمن مبیع الوفاء)

ان عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ زکات کی رقم اپنی حاجت میں خرچ کرنا اور زکات کو غیر زکات میں مالکوں کی اجازت یا عرف شائع کے بغیر ملانا ناجائز ہے۔

اموال زکات کی طرح مساجد وغیرہ کی تعمیر کے لئے حاصل کر دہ رقم اپنی حاجت میں استعمال کرنا اور اس کا بدل مسجد کے خرچ میں دینا جائز نہیں فقیہ النفس امام قاضی خان فتاویٰ قاضی خان میں فرماتے ہیں:

’’رجل جمع مالا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد وانفق من تلک الدراھم فی حاجۃ نفسہ ثم رد بدلھا فی نفقۃ المسجد لا یسعہ ان یفعل ذالک واذافعل ان کان یعرف صاحب المال ردالضمان علیہ أویسالہ لیا ذن لہ بانفاق الضمان فی المسجد وان لم یعرف صاحب المال یرفع الأمرالی القاضی حتی یامرہ بانفاق ذلک فی المسجد فان لم یقدر علی ان یرفع الا مرالی القاضی قالوا نرجو لہ فی الاستحسان ان ینفق مثل ذلک فی المسجد فیجوزویخرج عن الوبال فیمابینہ و بین اللہ تعالیٰ وفی القضاء یکون ضامنا فیکون ذلک دینا علیہ لصاحب المال وھو نظیر ماذکر فی الأصل الوکیل بقضاء الدین اذا صرف مال الموکل فی حاجۃ نفسہ ثم قضی بمال نفسہ فی دین الموکل یکون تبرعا فی قضاء دین الموکل‘‘۔

(فتاویٰ قاضی خان ۳؍۲۹۹)

ان ارشادات عالیہ کے باوجود آج کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ وکیل تملیک مستحق سے پہلے امانت میں تصرف کرتے ہیں اور موکل سے وصول کردہ رقم اپنے خرچ میں لاتے ہیں اور اس کا بدل ادا کرتے ہیں بسا اوقات انہیں اس تصرف کی حاجت پیش آتی ہے کہ مصارف سفر ان پر تنگ ہو جاتے ہیں اور وصول کردہ رقم کے علاوہ مزید رقم ان کے پاس نہیں ہوتی اور نہ اس کی کوئی صورت نظر آتی ہے بسا اوقات وکیل اپنے استعمال میں تو نہیں لاتے مگر مستحقین تک پہنچانے کے لئے انہیں تصرف کی حاجت پیش آتی ہے ظاہر ہے ایک ملک سے دوسرے ملک مستحقین تک پہنچانے کے لئے بینک،ڈاکخانہ اور حوالہ کمپنی وغیرہ معتمد ذرائع کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ ان معتمد ذرائع سے مستحقین بآسانی حاصل کر سکتے ہیں اور راستے کے خطرات سے امن بھی رہتا ہے کہ اگر وکیل خود لائے یا کسی کے ذریعہ وصول کردہ رقم مستحق تک پہنچائے تو اس میں ضیاع کا خطرہ و اندیشہ رہتا ہے۔یا موکل سے وصول کردہ رقم خود وکیل ہی لایا مگر کرنسیوں کی تبدیلی کے بغیر وکیل یا مہتمم ادارہ وہ رقم مستحقین پر صرف نہیں کر سکتے اندرون ملک بہت سے حضرات اجرت اور بے اجرت کسی ایک شہر میں رہ کر وہاں کے لوگوں سے اموال زکات کی وصولیابی کر کے بینک و ڈاکخانہ وغیرہ کے ذریعہ مستحقین پر صرف کرنے کے لئے رقم ارسال کرتے ہیں، بہت سے ادارہ کے لوگ منی آرڈر فارم پیشگی مخصوص شہروں میں خاص افراد کے نام روانہ کر دیتے ہیں اور یہ خاص افراد وصول کردہ رقم بینک، ڈاکخانہ وغیرہ کے ذریعہ روانہ کرتے ہیں ظاہر ہے تملیک مستحق سے پہلے یہ تصرفات ہوتے ہیں اور اس میں مختلف لوگوں کے اموال زکات بلکہ بسا اوقات زکات اور غیر زکات کا خلط بھی ہوا کرتا ہے ساتھ ہی ترسیل زر کے اخراجات بھی بہت سے لوگ اسی وصول کردہ رقم سے وضع کر لیتے ہیں کہ وکیل کے پاس عموما کوئی فنڈ اس کام کے لئے نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے طور پر یہ کام انجام دیتا ہے ممکن ہے بعض وکیل اس بات کا لحاظ رکھتے ہوں ظاہر ہے ان صورتوں میں تملیک مستحق سے پہلے یہ سارے تصرفات ہوتے ہیں اور مستحق تک زکوٰۃ دہندگان کی رقم من و عن بے تبدیل و تغییر نہ پہونچی بلکہ مثل اور بدل پہونچا مجدد اعظم سیدنا اعلیٰحضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں :

’’مہتممان انجمن نے اگر صراحۃ بھی اجازت دے دی ہو کہ تم جب چاہنا صرف کر لینا پھر اس کا عوض دیدینا جب بھی نہ سیٹھ کو تصرف  جائز نہ مہتمموں کو اجازت دینے کی اجازت،کہ مہتمم مالک نہیں اور قرض تبرع ہے اور غیر مالک کو تبرع کا اختیار نہیں،ہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیں ،اس حالت میں جب تصرف کرے گا روپیہ امانت سے نکل کر اس پر قرض ہوجائے گا جو عند الطلب دینا لازم آئے گا اگرچہ کوئی میعاد مقرر کر دی ہو ’’فان التاجیل فی القرض باطل کما فی الدرالمختار وغیرہ‘‘۔

(فتاویٰ رضویہ ۶؍۳۱)

ان حالات کے تناظر میں چند سوالات خصوصی توجہ کے طالب ہیں امید کہ غور و فکر اور کامل تفحص و جستجو کے بعد جواب باصواب سے شاد کام فرمائیں گے مجھے آپ حضرات کی گونا گوں مصروفیات کے باوجود امید قوی یہی ہے کہ درج ذیل سوالات کے جوابات وقت مقرر پر عنایت فرماکر شکریہ کا موقعہ فراہم فرمائیں گے۔

(۱) الف :- کیا مصارف سفر تنگ ہونے کے وقت وکیل کے لئے یہ جائز ہے کہ بقدر ضرورت وکفایت موکل سے وصول کردہ زکات کی رقم استعمال کرے اور اس کا مثل و بدل مستحق کو ادا کرے بصورت عدم جواز کیا جواز کی کوئی ایسی صورت نکلتی ہے جس سے وکیل کے مصارف پورے ہوں؟

ب:- پھر عدم جواز تصرف مال زکات کے ساتھ خاص ہے یا دیگر صدقات و عطیات کو بھی عام ہے ؟

(۲) کیا تملیک مستحق سے پہلے وکیل کے لئے اس تصرف کی اجازت ہے کہ ایک ملک سے دوسرے ملک یا اندرون ملک ایک شہر سے دوسرے شہر مستحقین تک پہنچانے کے لئے بینک اور ڈاکخانہ وغیرہ معتمد ذرائع کا استعمال کرے کیا اس تصرف کے سبب وہ غاصب و خائن و مرتکب حرام کہلائے گا؟ اور زکات ادا نہ ہوگی اور وکیل متبرع ہوگا اورا س پر ضمان و تاوان لازم ہوگا؟ اسی طرح تملیک مستحق سے پہلے کرنسیوں کی تبدیلی کیا ناجائز ہے جبکہ اس تصرف کے بغیر مستحقین پرصرف کی راہ نہ ہو؟ اسی طرح موکل نے کسی خاص ادارہ کے مستحقین کے لئے وکیل کو زکات وغیرہ کی رقم دی تو کیا کسی دوسرے مستحق کی تملیک یا دوسرے ادارہ کے مستحقین پر صرف جائز ہے؟

(۳) مختلف لوگوں کے اموال زکات اسی طرح زکات وغیر زکات کا باہم خلط شرعاً ناجائز ہے؟ یا آج خلط کی اجازت پر عرف قائم ہو چکا ہے بہر صورت بصورت خلط،زکات ادا ہوئی یا نہیں؟ اثمان اصطلاحیہ اور غلے اور نقود کے خلط کا حکم یکساں ہے؟

(۴) کیا کسی مخصوص مدرسے یا انجمن کی رسید پر وصول کی گئی زکوٰۃ یا مزکی کی طرف سے اسی ادارہ کے مستحقین کے لئے مخصوص ہے یا دوسرے مصارف زکوٰۃ پر بھی صرف کرنا جائز ہے ؟

والسلام مع الاحترام
(مفتی) محمد محمود اختر امجدی
رکن شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:د ربارۂ منیٰ و مزدلفہ کی توسیع

 سفرا زکوٰۃ دہندگان و چندہ دہندہ کے اس بات میں وکیل ہوتے ہیں کہ زر زکوٰۃ و صدقات نافلہ ناظمین مدرسہ و انجمن تک پہنچائیں اور ان کے ہاتھ میں وصول شدہ مال زر امانت ہے ۔ بے اذن معطی ان اموال میں تصرف یا تبدیلی ناجائز ہے ۔ اذن کے لئے ضروری نہیں کہ صراحۃً ہی ہو بلکہ دلالۃً یا عرفاً اذن بھی کافی ہے ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ معطی کو اس عرف کا علم ہو۔

اموال زکوٰۃ و صدقات یا چند افراد کے اموال زکوٰۃ کو باہم مخلوط کرنا بھی بے اذن معطی جائز نہیں۔

مختلف لوگوں کے اموال زکوٰۃ کو خلط کرنا یا زکوٰۃ و عطیات کو خلط کرنا امانت میں تصرف ہے لیکن اس زمانے میں اس تصرف کا عرف قائم ہوچکا ہے ۔ لہٰذا اموال زکوٰۃ کا خلط یا زکوٰۃ وغیر زکوٰۃ کا خلط جائز ہے ۔

’’درمختار‘‘ میں ہے:

’’ولوخلط زکوٰۃ مؤکلیہ ضمن وکان متبرعاً، الاّ اذا وکلہ الفقراء‘‘ ۔

’’ردا لمحتار‘‘ میں ہے:

’’قولہ (ضمن وکان متبرعاً) لانہ ملکہ بالخلط وصار مؤدیا مال نفسہ، قال فی التاتار خانیۃ: الااذا وجد الاذن أواجاز المالکان اھ: أی أجاز قبل الدفع الی الفقیر …… ثم قال فی التاتار خانیۃ: أو وجدت دلالۃً الاذن بالخلط کما جرت العادۃ بالاذن من أرباب الحنطۃ   بخلط  ثمن الغلات …… قلت: ومقتضاہ انہ لو وجد العرف فلاضمان لوجود الاذن حینئذ دلالۃ۔ والظاہر انہ لابد من علم المالک بہذا العرف لیکون اذنا منہ دلالۃ۔ مختصراً ‘‘۔

(رد المحتار ۳؍۱۸۸ زکریا بکڈپو)

اگر زکوٰۃ کا مذکورہ بالا محصل واقعۃً عسرت و تنگی میں پڑجائے تو وہ وصول شدہ رقم میں سے بقدر ضرورت بطور قرض لے سکتا ہے اگر متبادل سبیل نہ ہو اور اس پر واجب ہے کہ عند الطلب اتنا ہی مال ناظم ادارہ کو دے ۔اور چونکہ اسے صراحۃً یا عرفاً مال امانت میں حق تصرف حاصل ہے تو اس کا قرض لینا درست ہے ۔

مگر چونکہ اپنے اوپر خرچ کے لئے قرض لے رہا ہے اس لئے اس میں عسرت شرط ہے تو عسرت و تنگی جتنے سے دفع ہو سکتی ہے اتنا ہی لے اس سے زیادہ لینے کی اس کو اجازت نہیں ۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!