آٹھواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ: ۲۲؍۲۳؍۲۴؍رجب المرجب ۱۴۳۲؁ھ مطابق ۲۴؍۲۵؍۲۶؍جون ۲۰۱۱؁ء

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱-قرعہ اندازی کی وجہ سے ادائیگی حج میں تاخیر کا مسئلہ

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

گذشتہ کئی سالوں سے عازمین حج وزیارت کی تعداد گورنمنٹ کے مقررہ کوٹے سے تجاوز کر جانے کی وجہ سے حکومت ہندقرعہ کے ذریعہ حج میں جانے والوں کا انتخاب کر رہی ہے ، قرعہ میں جن کا نام آجاتا ہے وہی حج و زیارت کے مستحق قرار دیئے جاتے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے عازمین حج کودو یا تین یا کئی سالوں تک اپنے نمبر کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے ، جس کی وجہ سے حج کی ادئیگی میں غیر معمولی تاخیر ہوجاتی ہے ، اس دوران کچھ عازمین حج مرض یا حادثہ یا مالی بحران کا شکار ہوکر حج کرنے کے لائق نہیں رہتے ، اور کچھ اسی انتظار میں دنیا سے چل بستے ہیں ، ان میں خاصی تعداد ایسے عازمین کی بھی ہوتی ہے جو پرائیوٹ ٹورز سے حج میں جانے کی استطاعت رکھتے ہیں،لیکن حج کمیٹی کی بہ نسبت ان میں خرچہ زیادہ آتا ہے ، اس لئے مزید خرچے سے بچنے کے لئے وہ حج کمیٹی ہی سے جانے کے لئے اپنے نمبر کے آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جب کہ حکم شرعی یہ ہے کہ حج کے شرائط وجوب پائے جانے کے بعد فوراً اس کی ادائیگی نہ کرنا گناہ اور سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے ۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

’’من ملک زادا او راحلۃ تبلغہ الی بیت اللہ الحرام فلم یحج فلا علیہ ان یموت یہودیا او نصرانیا۔ اخرجہ الدارمی فی سننہ بہذا اللفظ عن یزید بن ہارون عن شریک عن لیث عن عبد الرحمن بن سابط عن ابی امامۃ مرفوعا۔‘‘

(بدائع الصنائع للکاسانی ج۲ص۲۹۱مکتبہ زکریا)

فتاوی عالمگیری میں ہے :

’’وہو فرض علی الفور وہو الاصح فلا یباح لہ التاخیر بقدر الامکان الی العام الثانی۔ کذا فی خزانۃ المفتین۔‘‘

(ج۱ ص۲۱۶ مکتبہ زکریا)

بلکہ کئی سالوں تک اس کو مؤخر کرنے والا آدمی فاسق اور مردود الشہادۃ ہو جاتا ہے ۔

در مختار میں ہے :

’’علی الفور فی العام الاول عند الثانی واصح الروایتین عن الامام ومالک و احمد۔ فیفسق ترد شہادتہ بتاخیرہ ای سنینا‘‘

(ج۲ ص ۴۵۴ مکتبہ زکریا)

البحر الرائق میں ہے :

’’ویاثم باالتاخیر لترک الواجب۔ وثمرۃالاختلاف تظہر فیما اذا اخرہ فعلی الصحیح یأثم ویصیر فاسقا مردودالشہادۃ وعلی قول محمد،لا۔‘‘

(ج ۲ ص ۵۴۲ مکتبہ زکریا)

قرعہ میں نام آنے کے لئے کچھ لوگ رشوت بھی دیتے ہیں، جب کہ رشوت دینے اور لینے پر حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے ۔
ارشاد نبوی ہے :

’’الراشی والمرتشی کلاھما فی النار ‘‘

فتاوی قاضی خان میں ہے :

’’ومن الشرائط امن الطریق حتی قال ابو القاسم الصفار رحمہ اللہ تعالیٰ لا اری الحج فرضا منذ عشرین سنۃ خرجت القرامطہ ۔وہکذا قال ابو بکر الاسکاف رحمہ اللہ تعالی فی سنۃ ست و عشرین وثلٰث مأۃ قیل انما کان ذلک لان الحاج لا یتوصل الی الحج الابالرشوۃ للقرامطہ وغیرہا فتکون الطاعۃ سببا للمعصیۃ ۔والطاعۃاذا صارت سببا للمعصیۃ ترتفع الطاعۃ ‘‘

(ج ۱ ص ۲۸۳ مکتبہ زکریا)

لیکن البحر الرائق میں اس کے بر خلاف یہ کہا گیا ہے کہ فرض ادا کیا جائے گا اگر چہ اس کی ادئیگی میں کسی معصیت کا ارتکاب کیوں نہ کرنا پڑے ۔

اس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے :

’’وما قال الصفار من انی لا اری الحج فرضا من حین خرجت القرامطہ وما علل بہفی الفتاوی الظہیریۃ بان الحاج لا یتوصل الی الحج الا بالرشوۃلقرامطۃوغیرہا ۔فتکون الطاعۃ سببا للمعصیۃ مردود بان ہذا لم یکن من شانہم لانہم طائفۃ من الخوارج کانوا یستحلون قتل المسلمین واخذ مالہم وکانوا یغلبون علی اماکن ویترصدون للحاج۔ وعلی تقدیر اخذہم الرِشوۃ فالا ثمفی مثلہ علی الآخذ لا المعطی ۔۔۔۔۔ولا یترک الفرض لمعصیۃ عاص۔‘‘

(ج۲ ص ۵۵۰مکتبہ زکریا)

لہٰذا ان مسائل کے حل کے لئے ارباب فقہ و افتا کی خدمات جلیلہ میں مندرجہ ذیل سوالات پیش کئے جا رہے ہیں، امید کہ اپنے علمی و تحقیقی جوابات قلمبند فرماکرامت مسلمہ کی رہنمائی فرمائیں گے ۔

سوال(۱)وہ عازمین حج و زیارت جو قرعہ میں نام آنے کے انتظار کے دوران مرض یا حادثہ یا مالی بحران کا شکار ہو کر حج ادا نہ کر سکے یا تاخیر سے ادا کرے یا اسی درمیان اس کا انتقال ہو جائے ، ایسے عازمین حج کے لئے کیا حکم شرعی ہے ؟

سوال(۲) وہ عازمین حج جنہیں پرائیویٹ ٹورز سے حج میں جانے کی استطاعت ہوتی ہے مگر زیادہ خرچے سے پچنے کے لئے حج کمیٹی ہی سے جانا چاہتے ہیں، اور اپنے نمبر کے آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں ، ایسے عازمین حج کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟

سوال(۳) پھر اگر یہ عازمین اسی انتظار کے دوران اگر فوت ہو جائیں یا کسی مرض یا حادثہ یا مالی بحران کا شکار ہو کر حج ادا نہ کر پائیں یا تاخیر سے ادا کریں ،تو کیا ان پر بالقصد ترک حج یا تاخیر حج کا الزام آئے گا ، اور وہ گنہ گار ہوں گے ؟

سوال(۴)کیا قرعہ میں نمبر آنے کے لئے رشوت دینا جائز ہے ؟ جب کہ اس کا لینا دینا دونوں حرام ہیں ؟ کیا سبب معصیت کے وقت طاعت ، طاعت نہیں رہتی؟

سوال(۵)اسی کے ساتھ یہ بھی واضح فرمائیں کہ تصویر کھنچوانا حرام ہے جب کہ آج کے دور میں تصویر کے بغیر حج کی ادائیگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا ، تو آج کے ان بدلتے ہوئے حالات میں کیا حاجت شرعیہ، دفع حرج اور تعامل جیسے اسباب تخفیف کے سہارے اس کے حکم میں کچھ تبدیلی ہوگی ؟

سوال(۶)اس حرمت سے بچنے کے لئے اگر کوئی صاحب استطاعت حج نہ کرے، تو اس کا کیا حکم ہے ؟

سوال(۷)اس تعلق سے حج فرض و نفل یوں ہی عمرہ و حج بدل سب کا حکم یکساں ہوگا یا اس میں کچھ تبدیلی ہوگی؟

سوال(۸)کیا فرضیت حج کے لئے استطاعت مالی میں ٹور کے مصارف کا اعتبار ہوگا یا حج کمیٹی کے مصارف کا ؟ یاغنا کے اعتبار سے کسی کے لئے یہ اور کسی کے لئے وہ؟اس ضمن میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے :

پرائیویٹ ٹور والے زیادہ سے زیادہ افراد کو اکٹھا کرنے کے لئے مختلف تدبیریں اور اسکیمیں اپناتے ہیں چنانچہ ایک اسکیم یہ بناتے ہیں کہ حج و عمرہ کا خرچ مثلا عام طور سے دو لاکھ روپے ہوتا ہے تو وہ اعلان کرتے ہیں کہ جو شخص فلاں تاریخ سے پہلے کل رقم جمع کردے تو اسے ہم اپنے ٹور سے بجائے دو لاکھ کے ڈیڑھ لاکھ میں حج و عمرہ کے لئے لے جائیں گے اور اگر فلاں تاریخ کے بعد جمع کرے گا تو دو لاکھ میں ہی لے جائیں گے تو ان کا ایسا کرنا اور مسلمانوں کا اس طرح کی اسکیم کے تحت کم خرچ دے کر جانا کیسا ہے ؟

فقط
محمد رفیق عالم رضوی
استاذ جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:عنوان :قرعہ اندازی کی وجہ سے ادائیگی حج میں تاخیر کا مسئلہ

(۱) وہ عازمین حج فرض جو قرعہ میں نام آنے کے انتظار کے دوران مرض یا حادثہ یا مالی بحران کا شکار ہوکر حج ادا نہ کر سکیں تو وہ گنہگار نہیں کہ قرعہ اندازی میں نام نہ آنا عذر ہے ۔البتہ بعد صحت خود جانا اور عدم صحت یابی کی صورت میں حج بدل کرانا لازم ہے اور اگر حج بدل کرانے کے بعد خود صحت یاب ہو جائیں تواب خود جانا ضروری ہے اور مالی بحران کی صورت میں قرض لے کر حج کو جائیں، اور اگر موت کے آثار ظاہر ہوں تو وصیت کرنا لازم ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۲)وہ عازمین حج جنہیں پرائیویٹ ٹورز سے حج میں جانے کی استطاعت ہوتی ہے مگر زائد خرچ سے بچنے کے لیے حج کمیٹی ہی سے جانا چاہتے ہیں اور اپنے نمبر آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں ایسے عازمین حج تاخیر کی وجہ سے گنہگار ہوتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(۳)اگر یہ عازمین حج یونہی انتظار کرتے ہوئے فوت ہو جائیں تو ان پر ترک حج کا گناہ ہوگا۔مرض اور مالی بحران کی صورت میں فیصلہ نمبر (۱) میں مذکور عازمین حج کا حکم ان پر بھی نافذ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

(۴)جو عازمین حج ٹور سے جانے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کو حکم ہے کہ قرعہ میں نام آنے کے لیے رشوت دینے کے بجائے ٹور سے جائیں۔واللہ تعالیٰ اعلم

(۵،۶،۷) کے جوابات آئندہ سیمینار تک کے لیے زیر غور ہیں ۔

(۸) فرضیت حج کے لیے استطاعت مالی میں حج کمیٹی کے مصارف کا اعتبار ہے۔ اور پرائیویٹ ٹور والے جو کرایہ کے سلسلہ میں کم و بیش خرچ کا اعلان کرتے ہیں اور عازمین حج ان اسکیموں کے تحت روپیہ جمع کرتے اور حج کو جاتے ہیں تو یہ طریقہ شرعاً درست ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!