نواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۰؍۱۱؍۱۲؍رجب المرجب ۱۴۳۳؁ھ مطابق ۱؍۲؍۳؍جون ۲۰۱۲؁

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۱– مدارس میں لی جانے والی فیس کی شرعی حیثیت

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

اسکولوں، کالجوں،یونیورسٹیوں و دیگر دنیاوی اداروں میں ایڈمیشن، تعلیم و تدریس، طعام و قیام، لائبریری و کمپیوٹر و دیگر چیزوں کے عوض فیس لینے کا رواج بہت پہلے سے چلا آرہا ہے، دینی تعلیمی اداروںمیں آج سے چند سال پہلے تک ان چیزوں پر فیس لینے کا کوئی تصور نہیں تھا، ہمارے مشائخ و اکابر نے مدارس و ادارے قائم کیے، طلبہ کے قیام و   طعام اور ان کی تعلیم و تربیت کا معقول انتظام کیا، انہوں نے سارے اخراجات عوامی چندے سے پورے کیے، اور عوامی اخراجات سے پورے نہ ہونے کی صورت میں،انہوں نے اپنا مال تک خرچ کر دیا، لیکن کبھی بھی ان طلبہ دین سے کسی قسم کی کوئی فیس وصول نہیں کی،ان کے زمانے میں چندے کی فراہمی کا مسئلہ بھی آج کی بنسبت کا فی دشوار تھا،اکثر مدارس مالی زبوں حالی کے شکار تھے،آج جب کہ مدارس کی مالی حالات کا فی بہتر ہو چکے ہیں، فطرہ و زکوۃ، صدقات و عطیات کی تحصیل کا دائرہ بھی خاصاوسیع ہواہے، اس کےباوجود مدارس ودینی اداروں کے ذمہ داران و منتظمین دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے کئی قسم کی فیس وصول کررہے ہیں،فیس وصول کرنے والے بعض مدارس میں طلبہ کے مستطیع و غیر مستطیع ہونے کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا۔

دنیاوی تعلیم گاہوں کے ذمہ داروں کو تو اس سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، لیکن ہمارے مذہبی ادارے کیونکہ علوم دینیہ کے امین و محافظ ہیں، یہاں حلت و حرمت کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں، اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم تمام معاملات کے بارے میں شریعت کا نقطہ نظر معلوم کریں اور پھر آئندہ کے لیے اسی روشنی میں لائحہ عمل تیار کریں۔

راقم الحروف پہلے مدارس میں لی جانے والی ان تمام فیسوں کا تذکرہ کرتا ہے،تا کہ اس کی روشنی میں مسئلہ مبحوث عنہا کے ہر ہر پہلوکا حکم شرعی تلاش کیا جاسکے، اور امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کی جاسکے۔

فارم فیس برائے داخلہ:یہ وہ مخصوص رقم ہے جو فارم دیکر ہر نئے طالب علم امیدوارداخلہ سے وصول کی جاتی ہے۔

داخلہ فیس:ہرامیدوار داخلہ کا اولاً امتحان لیا جاتا ہے، کامیاب ہونے کی صورت میں وہ داخلے کا مجاز ہوجاتا ہے اور پھر اس سے بنام داخلہ فیس ایک مخصوص رقم وصول کی جاتی ہے۔

تجدید داخلہ فیس:فیس کی یہ رقم ہر قدیم طالب علم سے لی جاتی ہے، در حقیقت یہ رقم سابقہ داخلے کی برقراری کی توثیق ہوتی ہے۔

مطبخ فیس:جن طلبہ کے قیام و طعام کا انتظام ادارے کی جانب سے کیا جاتا ہے ان سے بنام ’’مطبخ فیس‘‘ ایک خاصی رقم وصول کی جاتی ہے، بعض مدارس میں یہ رقم داخلہ فیس کے ساتھ یک مشت وصول کر لی جاتی ہے، جب کہ بعض دوسرے مدارس میں یہ رقم ماہ بماہ لی جاتی ہے۔

سند فیس:متعلقہ درجات(حفظ، قرأت، فضیلت) کی تعلیم سے فراغت حاصل کر نے والے طلبہ کو ادارہ کی جانب سے سند و مارکشیٹ دی جاتی ہے،اور اس کے عوض ان سے ایک مخصوص رقم لی جاتی ہے۔

لائبریری فیس: دینی و دنیوی، ملکی و عالمی معلومات حاصل کرنے کے لیے،بعض مدارس میں ایک لائبریری ہوتی ہے، جس کی ترقی و فروغ کے لیے ہر طالب علم سے سالانہ کچھ رقم لی جاتی ہے، اور اس سے کتابیں، رسالے اور اخبار وغیرہ وغیرہ خریدے جاتے ہیں۔

امتحان فیس:سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحان کے لیے طلبہ سے برائے امتحان کچھ رقم وصول کیے جاتے ہیں۔یہ رقم امتحان فیس کہلاتی ہے۔

فاروڈنگ فیس: عربی، فارسی بورڈ کے امتحانات ،منشی، مولوی، عالم، کامل، اور فاضل میں شامل ہونے کے لیے ہر پرائیوٹ امیدوار سے ایک مخصوص رقم وصول کی جاتی۔جو بورڈ کی مقررہ فیس سے خاصی زائد ہوتی ہے۔اس کے بعد ہی بھرے ہوئے فارم کی توثیق ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں بعض مدارس میں ایک مخصوص رقم ان طلبہ سے بھی وصول کی جاتی ہے جو اپنی مطلوبہ منظور شدہ رخصت گذار کر بغیر کسی اطلاع کے تاخیر سے مدرسہ پہنچتے ہیں۔

نوٹ:فیس وصول کرنے والے بعض مدارس میں طلبہ کے مستطیع اور غیر مستطیع ہونے کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا، دونوں قسم کے طلبہ سے فیس وصول کی جاتی ہے۔

ان تفصیلات کے بعد ارباب فقہ و افتا کی خدمات جلیلہ میں مندرجہ ذیل سوالات پیش کیے جا رہے ہیں،امیدہے کہ ان کا تسلی بخش جواب قلم بند فرما کر قوم و ملت کی بروقت رہنمائی فرمائیں گے، اور عند اللہ ماجور و مثاب ہوں گے۔

سوالات:

۱۔داخلہ فارم کی لین دین کا معاملہ کس عقدشرعی کے تحت آتا ہے، بیع ہے یا اجارہ یا کچھ اور؟اگر بیع ہے تو یہاں مبیع کیاہے؟ اس کی بیع صحیح ہے یا فاسد یا باطل؟

۲۔داخلہ فیس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اجارہ ہے یا تبرع؟ اگر یہ اجرت ہے تو یہ کس کی اجرت ہے؟ بہر صورت یہ جائز ہے یا   ناجا ئز ؟
۳۔بنام مطبخ فیس طلبہ دین سے جو رقم وصول کی جاتی ہے،شرعاً اس کی حیثیت کیا ہے؟یہ رقم کھانے کی قیمت ہے یا قیام و طعام کی اجرت؟ اس کی بیع و اجارہ صحیح ہے یا فاسد؟، بہر حال طلبہ علوم دینیہ سے اس کی اجرت و قیمت لینا کیا جائز ہے؟جب کہ مدارس میں عموماً طلبہ کے قیام و طعام کا انتظام عوامی چندے سے کیا جاتا ہے۔

۴۔تجدید داخلہ فیس کس کا عوض ہے؟ یہ معاملہ عقود شرعیہ میں سے کس کے تحت آتا ہے؟

۵۔سند و مارکشیٹ مال ہے یا وثیقہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

۶۔امتحان فیس یوں ہی فاروڈنگ فیس لینے دینے کا معاملہ کس عقد شرعی میں داخل ہے؟بیع ہے، اجارہ، تبرع ہے یا کچھ اور؟ بہر حال اس کا لینا کیسا ہے؟

۷۔رخصت گذار کر بلا اطلاع تاخیر سے مدرسہ پہنچنے والے طلبہ سے جو رقم لی جاتی ہے شرعی طورپر وہ رقم جرمانہ ہے یا کچھ اور،پھر کیا اس کا لینا جائزہے؟

۸۔ان تمام معاملات میں مستطیع و غیر مستطیع دونوں قسم کے طلبہ سے فیس وصول کرنے کا حکم یکساں ہوگا یا الگ الگ؟

۹۔فقہا متاخرین نے دینی امور کے تحفظ و بقا کے لیے تعلیم قرآن، امامت و اذان وغیرہ پر اجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے،اسی طرح سے نظام تعلیم کو منظم و مستحکم کرنے کے لیے کیا مذکورہ فیس لینے کی اجازت ہو گی؟ عدم جواز کے صورت میں ان معاملات سے حاصل شدہ رقوم کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

۱۰۔کیا مدارس کی استطاعت مالی کم یا مفقود ہونے کی صورت میں احکام میں فرق ہوگا یا نہیں؟

۱۱۔مذکورہ معاملات میں کل یا بعض کے عدم جواز کی صورت میں اگر اس کے جواز کا کوئی حیلہ ہو تو اسے بھی قلم بند فرمائیں:

جزئیات:

مندرجہ ذیل فقہی عبارات ان مسائل کے حل کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔

٭ اما تعریفہ (ای البیع) فمبادَلۃ المال بالمال بالتراضی،کذا فی الکافی

(فتاوی ہندیہ ج۳ ص۲)

٭ و منہا (ای من شرائط الانعقاد) فی البدلین و ہو قیام المالیۃ حتی لا ینعقد عند فقد المالیۃ ہکذا فی محیط السرخسی

(عالمگیری ج۳ص۲)

٭ اما تفسیرہا (ای الاجارۃ) شرعاً فہی عقد علی المنافع بعوض

(ہدایہ ج۳ ص۲۷۷)

٭ و اما شرائط لصحۃ فمنہا رضا المتعاقدین

(عالمگیری ج۴ ص ۴۱۱)

٭ و منہا (ای شرائط الصحۃ) ان لا یکون المستاجر لہ فرضاً و لا واجباً علی الاجیر قیل لا اجارۃ، فان کان فرضاً او واجباً قبلہا لم یصح ۔

٭ و منہا (ای شرائط الانعقاد) الملک و الولایۃ فلا تنفذ اجارۃ الفضولی لعدم الملک و الولایۃ (ایضاً)۔

٭ المال عین یمکن احرازہا و امساکہا

(فتح القدیر ج ۶ ص ۶۴)

فتاوی رضویہ میں بحوالہ ہندیہ ہے:

’’لا یجوز بیع الکلا او اجارۃ و ان کان فی ارض مملوکۃ اذا نبتت بنفسہ فاذا کان سقی الارض و اعدہا بلا نبات فنبتت ففی الذخیرۃ و المحیط و النوازل یجوز بیعہ لانہ ملکہ و ہو مختار الصدر الشہید ‘‘۔

(ج۸ص۱۳۸)

٭ و بعض مشائخنا استحسنوا الاستیجار علی تعلیم القرآن الیوم لانہ ظہر التوانی فی الامور الدینیہ ففی الامتناع عنہ یضیع حفظ القرآن و علیہ الفتوی

(ہدایہ ج؍ص ۲۸۷)

٭ فتاوی رضویہ میں ہے:

فان ائمتنا لا یقولون التعزیر بالمال و علی القول بہ فذاک للامام دون العوام

(ج۹؍ نصف اول ص ۴۳)

اسی میں ہے:

ولاجبر علی المتبوع۔

(۸؍۲۵۱)

شامی میں ہے:

’’معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساک شی من مالہ عند مدۃ لینزجر ثم یعیدہ الحاکم الیہ لا ان یاخذ الحاکم لنفسہ او لبیت المال کما یتوہمہ الظلمۃ اذ لا یجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی ۔ شرح معانی الاثار امام طحاوی پھر مجتبی ابن عابدین میں ہے ۔ ’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ‘‘

(فتاوی رضویہ ج ۸ ص۱۷۰)

ماضی قریب کے عظیم اور نامور فقیہ و محدث امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ الرضوان۔سرکاری اسٹامپ پیپرکی خرید و فروخت کے تعلق سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

’’یہ تجارت اکثرصورتوں میں خالی از خباثت نہیں، اللہ عزوجل نے جواز تجارت کے لیے تراضی باہمی شرط فرمائی ،

قال اللہ تعالیٰ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ (النساء: ۲۹)

جناب سید عالمﷺ فرماتے ہیں:

’’لا یحل مال امری مسلم الا بطیب نفسہ‘‘۔

اور فرماتے ہیں:

’’لا یحل لمسلم ان یاخذعصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ ۔ قال ذلک لشدۃ ما حرم اللہ من مال المسلم علی المسلم‘‘۔

ظاہر ہے کہ آدمی نالش اپنے استخراج حق کے لیے کرتا ہے جب کہ خود اس کی تحصیل پر قادر نہیں ہوتا۔ یہ معنی اگر چہ منافی اختیار نہیں کہ کسی نے اس پر اپنے حق لینے کا جبر نہ کیا تھا، اسے اختیار تھا کہ بالکل خاموش رہتا تو یہ صرف نہ پڑتا، مگر مفسد رضا بے شک ہے کہ اگر بے اس کے اگر وصول ممکن جانتا ہرگز اختیار نہ کرتا، اختیارو رضا میں زمین آسمان کا فرق ہے، اور عقود بیع و شراء و ہبہ و امثالہا صرف بے اختیاری سے ہی فاسد نہیں ہوتے۔ بلکہ عدم رضا بھی ان کے فسادکو بس ہے۔

کما مر فی قولہ تعالیٰ : ’’عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ ‘‘ ، و فی الحدیث: ’’الا بطیب نفسہ‘‘

درمختار میں ہے:

’’الاکراہ الملجی و غیر الملجی یعدمان الرضا و الرضا شرط لصحۃ ہذہ العقود‘‘

یہ خریداری ہر گز بطیب خاطر نہیں ہوتی، اور جو روپیہ اس کے بدلے نذر فروشندگان ہوتا ہے، زنہار رضائے قلب سے نہیں لیا جاتا، تو بحکم قرآن و حدیث اسے مال حلال و طیب نہیں کہہ سکتے، اس کا سہل سا ایک امتحان یہ ہے کہ مثلاً اس کاغذ ہی کی نسبت ریاست کا حکم ہوجائے کہ ضروری نہیں سادے پر بھی دعوی سن لیں گے، پھر دیکھئے کتنے خریدنے جاتے ہیں، حاشا کلا، کوئی پا س بھی نہ پھٹکے گا، کہ بلا وجہ اپنا خرچ کسے بھاتا ہے، تو قطعاً عدم رضا دائمی و ابدی ہے، اور یہ شرائے مکرہ کی حالت میں ہے، و بعد اللتیا و اللتی عدم رضا وہ فقدان طیب نفس میں کلام نہیں اور اسی قدر انعدام حلت میں کافی، بالجملۃ فقیر غفر لہ ٗجہاں تک نظر کرتا ہے اس تجارت کے مطلقاً حلال و طیب ہونے کی راہ نہیں پاتا‘‘۔

(فتاوی رضویہ مع حذف ج۷؍ ص ۲۸؍۲۹؍۳۰ رضا اکیڈمی ممبئی)۔

محمد رفیق عالم رضوی
استاذ جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:مدارس میں فیس کی شرعی حیثیت

۱- داخلہ فارم اگرچہ مال ہے مگر اس کی بیع دلالۃً عدم رضائے متعلم کی وجہ سے ناجائزہے جیسے مقدمہ کی نالش کے لئے اسٹامپ پیپر کی بیع ناجائز ہے۔ یہی حال داخلہ فارم کی بیع کا ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۲؍۴- داخلہ فیس اجازت تعلم کے لئے ہوتی ہے اور اذن تعلم بیع واجارہ کے قابل نہیں اس لئے داخلہ فیس لینا ناجائز ہے۔ یہی حکم تجدید داخلہ فیس کا بھی ہے۔واﷲ تعالیٰ اعلم

۳- مطبخ فیس: جو طلبہ معاوضۂ خوراک کے نام پر روپئے مدرسہ میںجمع کرتے ہیں وہ ناظم کو اس رقم سے اپنے کھانا تیار کرنے کا وکیل عام بناتے ہیں کہ ناظم ان کے کھانے کا انتظام کرے خواہ وہ معاوضہ دینے والے اور معاوضہ نہ دینے والے کے کھانوں کا انتظام ایک ساتھ کرے یا الگ الگ کرے، بہر صورت وہ رقم لینا جائز ہے خواہ معاوضہ دینے والا طالب علم کھانا تیار ہونے کے بعد کھانا کھائے یا نہ کھائے البتہ اگر اس نے مدرسہ سے غیر حاضر رہنے کی رخصت لے لی ہو یا کھانے کی تیاری سے پہلے کھانا تیار کرنے سے منع کر دیا ہو یا کسی سبب سے اس کا کھانا کسی روز تیار نہ کیا گیا ہو تو ان دنوں کا معاوضۂ خوراک واپس کیا جائے یا آئندہ کے حساب طعام میں ضم کردیا جائے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۵- سند ومار کشیٹ مالِ متقوم نہیں ہے بلکہ یہ ایک وثیقہ اور علمی لیاقت کی دستاویز ہے۔ البتہ سند سازی ایک عمل ہے اس کی اجرت لینا جائز ہے اس اعتبار سے سند سازی کی عرفاً جو اجرت ہوتی ہے طلبہ سے لیناجائز ہے۔ اور یہ تصریحاً یا دلالۃً عقد اجارہ ہے ۔

بہارشریعت میں ہے: ’’مفتی فتویٰ لکھنے کی یعنی تحریر و کتابت کی اجرت لے سکتا ہے نفسِ فتویٰ کی اجرت نہیں لے سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاغذ پر اتنی عبارت کسی دوسرے سے لکھوائو تو جو کچھ اس کی اجرت عرفاً دی جاتی ہے وہ مفتی بھی لے سکتا ہے۔‘‘

(بہار شریعت ج۱۴ ص۱۶۷)

تنویر الابصار و رد المحتار میں ہے:’’یستحق القاضی الأجر علی کتب الوثائق والمحا ضرو السجلات قدر ما یجوز لغیرہ کالمفتی فإنہ یستحق أجر المثل علی کتابۃ الفتوی لأن الواجب علیہ الجواب باللسان دون الکتابۃ بالبنان‘‘۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

(درمختار کتاب الإجارۃ باب فسخ الإجارۃ ج۹ ص۱۲۷ بیروت)

۶-(الف) مدرسہ بورڈ کے امتحانات کے پرائیویٹ امیدواران کے فارم کو فارورڈ کرنا اگر صدر المدرسین کے واجبات ملازمت میں داخل ہے تو اس پر اجرت لینا جائز نہیں کہ اس کام کی اجرت اس کی تنخواہ میں محسوب ہے، اور اگر فارورڈ کرنا اس کی ذمہ داری میں داخل نہیں ہے تو صدر المدرسین فارورڈ کرنے پر متعارف اجرت طے کرے ورنہ اجر مثل کا مستحق ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(ب)مدرسہ کے اندرونی امتحانات لوازمات تعلیم سے ہیں جو مدرسے کے فرائض میں داخل ہیں اور اس کی فیس لینا ناجائز ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۷- جو طلبہ ختم رخصت کے بعددیر سے آتے ہیں ان سے لیٹ فیس کے نام پر لی جانے والی رقم ایک قسم کا مالی جرمانہ ہے اس کا لینا ناجائز ہے البتہ تادیبی کار روائی کے طور پر چند روز ان کا کھانا بند کردیں پھر اگر وہ مدرسہ میں کھانا چاہیں تو کھانے کا عوض لیا جا سکتا ہے، اور اگر طالب علم پہلے سے ہی معاوضۂ خوراک دے کر کھاتا تھا تو اس کے معاوضۂ خوراک میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں یا کوئی دوسری تادیبی کارروائی کی جائے البتہ معاوضۂ خواراک لینے میں اس امر کا لحاظ ضروری ہوگا کہ معاوضۂ خوراک وہی لیا جائے جو واقع میں معاوضہ ہوتا ہو اس سے زائد نہ ہو۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۸- فیس کے معاملہ میںجواز اور عدم جواز کا جو حکم مذکور ہوا وہ مستطیع اور غیر مستطیع طلبہ دونوں کے لئے یکساں ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۹- نظام تعلیم کو مستحکم و منظم کرنے کے لئے مذکورہ ناموں سے فیس لینے کے سلسلہ میں جن کا جواز مذکور ہوا وہ جائز ہیں اور جن کا عدم جواز بیان کیا جا چکا وہ ناجائز ہیں۔واﷲ تعالیٰ اعلم

۱۰- مدارس کی استطاعت مالی کے کم یا مفقود ہونے سے احکام مذکورہ میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۱۱– حیلہ جوئی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

Menu
error: Content is protected !!