نواں فقہی سیمینار

’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ بریلی شریف

منعقدہ:۱۰؍۱۱؍۱۲؍رجب المرجب ۱۴۳۳؁ھ مطابق ۱؍۲؍۳؍جون ۲۰۱۲؁

مقام:علامہ حسن رضا کانفرنس ہال جامعۃ الرّضا بریلی شریف

موضوع:۳-شوال میں عمرہ کرنے والے پر استطاعت کے بغیر حج فرض ہونے کی شرعی حیثیت

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ و بحمدہٖ

سوال نا مہ:

ہمارے زمانہ میں یہ مشہور ہے کہ جس شخص نے پہلے حج نہ کیا ہو، وہ اگر ماہ شوال میں عمرہ کرے تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے، خواہ اس کے پاس ایام حج تک وہاں ٹھہرنے کا اور کھانے پینے کی استطاعت نہ ہو، اور خواہ اس کے پاس وہاں ٹھہرنے کے لیے سعودی عرب کا ویزا نہ ہو، اگر وہ حج کیے بغیر واپس آگیا تو اس کے ذمہ حج فرض ہوگا، اور اس پر لازم ہے کہ وہ کسی سے قرض لے کر یا کسی بھی طرح حج کرے، اگر اس نے حج نہیں کیا اور مر گیا تو گنہگار ہوگا، جبکہ قرآن مجید میں ہے کہ:

’’وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ ‘‘(اٰل عمران: ۹۷)

اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔ 

اس آیت کریمہ کے تحت حضور صدرالافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں :

’’اس آیت میں حج کی فرضیت کا بیان ہے، اور اس کا کہ استطاعت شرط ہے۔ حدیث شریف میں کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر زاد و راحلہ سے فرمائی ہے، زاد یعنی توشہ، کھانے پینے کا انتظام اس قدر ہونا چاہیے کہ جاکر واپس آنے تک کے لیے کافی ہو،اور یہ واپسی کے وقت تک اہل و عیال کے نفقہ کے علاوہ ہونا چاہیے، راہ کا امن بھی ضروری ہے، کیوں کہ بغیر اس کے استطاعت ثابت نہیں ہوتی‘‘۔

(خزائن العرفان ص ۱۰۰ مطبوعہ رضا اکیڈمی)

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ استطاعت کے بغیر حج فرض نہیں ہوتا۔ استطاعت کی تفسیر و تشریح و توضیح میں فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمۃ الرضوان رقمطراز ہیں :

’’سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اس کی حاجت سے فاضل ہوں، یعنی مکان و لباس و خادم اورسواری کا جانور۔ اور ہمیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان، اور دین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے، اور وہاں سے سواری پر واپس آئے، اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی چھوڑ جائے، اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل و عیال کے نفقہ میں قدر متوسط کا اعتبار ہے، نہ کمی ہو نہ اسراف ، عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نفقہ اس پر واجب ہے، یہ ضروری نہیں کہ آنے کے بعد بھی وہاں اور یہاں کے خرچ کے بعد بھی کچھ بچے‘‘۔

(درمختار ، عالمگیری، بہار شریعت ج۱ ؍مطبوعہ فاروقیہ بکڈپو دہلی ص۱۰)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’ ومنہا القدرۃ علی الزاد و الراحلۃ۔ و تفسیر ملک ، الزاد والراحلۃ ان یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ و ہو ما سوی مسکنہ و لبسہ و خدمہ و اثاث بیتہ قدر ما یبلغہ الی مکۃ ذاہباً و جائیاً راکباً ، لا ماشیاً ، و سوی ما یقضی بہ دیونہ و یمسک لنفقۃ عیالہ و مرمۃ مسکنہ الی وقت انصرافہ کذا فی محیط السرخسی و یعتبر فی نفقتہ و نفقۃ عیالہ الوسط من غیر تبذیر و لا تقتیر ۔ کذا فی التبیین۔ و العیال من تلزمہ نفقتہ کذا فی البحر الرائق‘‘

( جلد ۱ ص۲۱۷ مکتبہ زکریا دیوبند سہارنپور)

بہار شریعت اور فتاوی عالم گیری کی مذکورہ فقہی عبارت سے واضح ہو گیا کہ شوال میں عمرہ کرنے والے جس شخص کے پاس حج کرنے تک مکہ مکرمہ میں ٹھہرنے اور طعام کی استطاعت نہیں ہے تو اس پر حج فرض نہیں ہوناچاہیے۔

امام دارمی روایت کرتے ہیں :

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حج کرنے سے کوئی ظاہری حاجت (طعام، قیام اور سفر خرچ کی کمی) مانع نہ ہوئی نہ ظالم بادشاہ ، نہ کوئی ایسی بیماری جو حج سے مانع ہو، وہ شخص اس حال میں مرجائے کہ اس نے حج نہ کیا ہو تو خواہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر‘‘۔

اس حدیث کو حافظ منذری اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ الرضوان نے بھی ذکر کیا ہے، حدیث پاک کے اصل الفاظ یہ ہیں :

’’عن ابی امامہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من لم یمنعہ من الحج حاجۃ ظاہرۃ او سلطان جائر او مرض حابس فمات و لم یحج فلیمت ان شاء یہودیاً و ان شاء نصرانیاً رواہ الدارمی‘‘ ۔

(مشکوۃ شریف ج۱ ص۲۲۲، کتاب المناسک مطبع اصح المطابع، سنن دارمی ج۱ص۳۶۰)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ ظالم بادشاہ کے منع کرنے سے بھی حج فرض نہیں ہوتا، اور جو شخص شوال میں واپسی کا ویزا لے کر عمرہ کرنے گیا ہے اس کو سعودی حکام حج کرنے سے منع کرتے ہیں، وہ لوگوں کی تلاشی لیتے رہتے ہیں اور جو پکڑا جائے اس کو پہلے گرفتار کر کے سزا دیتے ہیں، پھر واپس اس کے ملک بھیج دیتے ہیں، اس لیے شوال میں عمرہ کرنے والے پر حج فرض کہنا اس حدیث کے بھی خلاف ہے، نیز جو نادار آدمی کسی کی طرف سے حج بدل کرتا ہے، وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ پہنچ جاتا ہے، اگر صرف حج کے ایام میں مکہ مکرمہ پہنچ جانے سے حج فرض ہوجاتا تو حج بدل کرنے والے نادارر پر بھی حج فرض ہونا چاہیے، حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہے، نیز شوال حج کا مہینہ ہے، اور فقہا نے لکھا ہے کہ حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرنا جائز ہے۔

عالمگیری میں لکھا ہے کہ:

’’ المفرد بالعمرۃ یحرم للعمرۃ من المیقات او قبل المیقات فی اشہر الحج او فی غیر اشہر الحج‘‘

صرف عمرہ کرنے والا میقات سے عمرہ کا احرام باندھے یا میقات سے پہلے حج کے مہینوں میں یا حج کے مہینوں کے علاوہ۔

(عالمگیری ج۱ص۲۳۷، مطبوعہ مطبع امیریہ کبریٰ بولاف مصر ۱۳۱۰؁  ھ)

اور اس جگہ یہ نہیں لکھا کہ جو شخص حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرے اس پر حج لازم ہوتا ہے،حالانکہ موضع بیان میں بیان کرنا لازم ہوتا ہے۔اس مسئلہ میں بعض فقہائے کرام نے فتوی دیا کہ شوال میں عمرہ کرنے پر حج فرض ہوجاتا ہے۔ اورتائید میں فتاوی ہندیہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ : ’’ مکہ مکرمہ اور اس کے اردگرد رہنے والوں پر حج فرض ہوجاتاہے، خواہ ان کو سواری پر قدرت نہ ہو، بہ شرطیکہ وہ خود چل سکتے ہوں۔

اول:تو ہمارا کلام اس شخص کے بارے میں ہے جو یہاں سے عمرہ کے لیے جاتے ہیں، کیونکہ حج کرنے تک رہائش اور کھانے کی استطاعت اسی سے متعلق ہے، مکہ میں رہنے والوں کے لیے رہائش کی استطاعت کا مسئلہ نہیں ہے۔

ثانیاً : فتاوی ہندیہ کی پوری عبارت کچھ اس طرح ہے :

’’و فی الینابیع یجب الحج علی اہل مکۃ و من حولہا ممن کان بینہ و بین مکۃ اقل من ثلاثۃ ایام اذا کانوا قادرین علی المشی و ان لم یقدروا علی الراحلۃ ولکن لابد ان یکون لہم من الطعام مقدار ما یکفیہم و عیالہم بالمعروف الی عودہم کذا فی السراج الوہاج‘‘۔

(فتاوی عالم گیری ج۱ص۲۱۷ مکتبہ زکریا سہارنپور دیوبند)

ینابیع میں مذکور ہے اہل مکہ اور تین دن کی مسافت سے کم اس کے گرد رہنے والوں پر حج کرنا واجب ہے، جبکہ وہ چلنے پر قوت رکھتے ہوں، خواہ ان کو سواری پر قدرت نہ ہو، لیکن یہ ضروری ہے کہ ان کے پاس دستور کے مطابق طعام کی اتنی مقدارہو جو ان کے اور ان کے اہل و عیال کے لیے واپس آنے تک کے لیے کافی ہو۔ غور فرمائیں جب اہل مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والوں پر بھی واپس آنے تک طعام کی استطاعت کے بغیر حج فرض نہیں ہے، تو دوردراز کے علاقوں سے مکہ مکرمہ پہنچنے والوں پر رہائش اور طعام کی استطاعت کے بغیر حج کیسے فرض ہوگا، اس تفصیل سے ظاہر و عیاں ہو گیا کہ شوال میں عمرہ کرنے والے پر بغیر استطاعت کے حج فرض نہیں ہو نا چاہیے۔بہر حال تفصیل مذکور کے تناظر میں علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ علم و فضل میں چند سوالات حاضر کیے جارہے ہیں۔ ان کے علمی و تحقیقی جوابات سے نوازکر شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کا علمی و فقہی تعاون فرمائیں ۔

سوالات :

۱: جس شخص نے ابھی حج فرض ادا نہ کیا ہو وہ اگر ماہ شوال میں عمرہ کرے تو کیا اس پر حج فرض ہو جاتا ہے؟ جب کہ اس کے پاس ایام حج تک وہاں ٹھہرنے اور کھانے پینے کی استطاعت نہ ہو، اور اس کے پاس وہاں ٹھہرنے کے لیے سعودی عرب کا ویزا بھی نہ ہو۔ اگر وہ حج کیے بغیر واپس آگیا تو کیا اس کے ذمہ حج فرض ہوگا؟ کیا اس پر لازم ہے کہ وہ کسی سے قر ض لے کر یا کسی بھی طرح حج کرے؟ اگر اس نے حج نہیں کیا اور مر گیا تو کیا وہ شخص گنہگار ہوگا؟

۲:شخص مذکور نے اگرماہ شوال میں عمرہ کیا ، اور اس کے پاس ایام حج تک وہاں ٹھہرنے کے لیے سعودی ویزا توہے مگر ایام حج تک اس کے خود کے کھانے پینے کی استطاعت نہیں، تو کیا ایسی صورت میں اس پر حج کرنا فرض ہو گا؟

۳:شخص مذکور نے ماہ شوال میں عمرہ کیا ،اور ایام حج تک کا اس کے پاس سعودی ویزا بھی ہو، اور اپنے کھانے پینے کی استطاعت بھی ہو، مگر اہل وعیال کے قدر متوسط نفقہ کی اس کے پاس استطاعت نہیں تو کیا ایسی صورت میں اس پر حج کرنا فرضـ ہوگا؟

۴:حج بدل کرنے والے نادار فقیر پر کیا اپنا حج کرنا فرض ہے؟ کہ وہ مکہ مکرمہ میں سال بھر رکے، دوسرے سال حج ادا کرے؟۔ اور اگر واپس آگیا تو کیا دوسرے سال اس پر حج کے لیے جانا فرض ہوگا ؟ جب کہ وہ نادارو فقیر ہے؟

۵:جوشخص رمضان شریف میں عمرہ کو گیا اور مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ہی عیدالفطر کا چاند نظر آگیا تو کیا اس پر اس سال حج فرض ہوگیا؟

۶:رمضان شریف میں عمرہ کو جانے والااگر ایام حج تک رکنے (ویزا) اور قیام وطعام کی استطاعت نہیں رکھتاتو کیا اس پر لازم ہے کہ یکم شوال سے پہلے حدود حرم یا میقات سے باہر ہوجائے؟

محمد عالمگیر رضوی مصباحی
دارالعلوم اسحاقیہ، جودھپور، راجستھان

ۘ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

باسمہٖ تعالیٰ

فیصلہ:شوال میں عمرہ کرنے والوں پر حج کی شرعی حیثیت

۱-کسی شخص نے ماہ شوال میں عمرہ کیا اور اس کے پاس ایام حج تک وہاں ٹھہرنے اور کھانے پینے کی استطاعت نہ ہو تو اس پر حج فرض نہیں ، یونہی اہل و عیال کے نفقہ پر قدرت نہ ہو جب بھی حج فرض نہیں کہ استطاعت زاد اور نفقۂ عیال شرط وجوب ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

’’ومنہا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ وہو ماسوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ وأثاث بیتہ قدرما یبلغہ إلی مکۃ ذاہباً وجائیاً وراکباً لاما شیاً وسوی ما یقضی بہ دیونہ ویمسک لنفقۃ عیالہ ومرمۃ مسکنہ إلی وقت انصرافہ کذا فی محیط السرخسی ویعتبر فی نفقتہ ونفقۃ عیالہ الوسط من غیر تبذیر وتقتیر کذا فی التبیین، والعیال من تلزمہ نفقتہ کذا فی البحر الرائق۔

(فتاویٰ ہندیہ ج۱ ص۲۱۷)

’’ وفی الینابیع یجب الحج علی اہل مکۃ ومن حولہا ممن کان بینہ وبین مکۃ اقل من ثلثۃ أیام إذا کانوا قادرین علی المشی وإن لم یقدروا علی الراحلۃ ولکن لابد أن یکون لہم من الطعام مقدار ما یکفیہم وعیالہم بالمعروف إلی عودہم کذا فی السراج الوہاج‘‘۔

(بحوالۂ سابق)

رد المحتار میں لباب سے ہے:

’’الفقیر الآفاقی إذا وصل إلی میقات فہو کالمکی‘‘

(رد المحتار ج۳ص۴۵۹)

یہاں بعض لوگوں کو خانیہ کی عبارت ’’ان المکی یلزمہ الحج ولو فقیراً لازادلہ‘‘ سے دھوکہ ہوا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ مکی کے لئے زاد پر عدم قدرت کے باوجود حج فرض ہو جاتا ہے اور فقیر آفاقی مکی کے حکم میں ہے تو زاد پر قدرت شرط نہیں۔یہ خانیہ کی عبارت کو مطلق ماننے کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ وہ مقید ہے۔

اس سلسلہ میں علامہ ابن ہمام نے نظر پیش فرمائی اور یہ بتایا کہ یہاں مکی سے مراد وہ ہے جس کے لئے راستے میں اکتساب زاد ممکن ہو اسی کو علامہ شامی نے نقل فرمایا اور برقرار رکھا:

’’والحاصل أن الزاد لابد منہ ولو لمکی کما صرح بہ غیر واحد کصاحب الینا بیع والسراج وفی الخانیۃ والنہایۃ من أن المکی یلزمہ الحج ولو فقیرا لازادلہ، نظرفیہ ابن الہمام الا أن یراد ما إذا کان یمکنہ الاکتساب فی الطریق‘‘۔

(رد المحتار ج۳ ص۴۵۸)

تو جو مکی راستہ میں اکتساب زاد پر قادر ہے اس پر حج فرض ہے ۔واﷲ تعالیٰ اعلم

۲- (الف)جو شخص کھانے پینے کی استطاعت نہ رکھتا ہواگرچہ اس کے پاس حج تک کا ویزا ہو اس پر حج فرض نہ ہوگا۔ لعدم استطاعۃ الزاد۔ وﷲ تعالیٰ اعلم

(ب)جو غنی مکہ مکرمہ میں ہے اور ایام حج تک وہاں ٹھہرنے کا ویزا نہیں۔ اورشوال کا ہلال ہوچکا ہو ، تو شرائط وجوب ادا پائے جانے کی وجہ سے اس پر حج کی ادائے گی واجب ہو گی اور وہ حکم محصر میں ہوگا ، اور منع من السلطان کی وجہ سے وہ سال رواں حج نہ کرسکے تو گنہگار نہ ہوگا ۔ البتہ سال آئندہ ادائے گیٔ حج لازم ہوگی اور اگرکسی عذر کی وجہ سے خود حج نہ کرسکے تو حج بدل یا وقت اخیر میں وصیت کرے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۳- حج بدل کرنے والا اگر غنی ہے اور اس نے ابھی اپنا حج فرض ادا نہیں کیا ہے تو اسے دوسرے کی طرف سے حج کرنا مکروہ تحریمی ہے ، لیکن اگر ا س نے دوسرے کی جانب سے حج کر لیا تو آمر کا حج ادا ہو جا ئے گا اور غنی ہونے کی وجہ سے خود اس پر بھی ادائیگئی حج لازم ہوگی اور از خود حج نہ کر پانے کی صورت میں حج بدل کرانا یا وقت اخیر میں وصیت کرنا واجب ہوگا ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

۴- حج بدل کرنے والا اگر فقیر ہے اور اس نے دوسرے کی طرف سے حج کیا تو آمر کی جانب سے بلا کراہت حج فرض ادا ہو گیالیکن کیا ایسے فقیر پر مکہ مکرمہ میں آئندہ حج تک قیام کرنا یا سال آئندہ وطن سے واپس آکر حج کرنا واجب ہوگا اس پر بحث ہوئی اور طے ہوا کہ علامہ عبد الغنی نا بلسی قد س سرہٗ نے یہ فرمایا ہے کہ وہاں قیام کرنے کا حکم دینے میں سخت حرج و مشقت ہے کہ سال بھر تک گھر اور بال بچوں سے دور رہنے میں حرج عظیم ہے، اور واپس آکر حج کرنے کا حکم دینا تکلیف مالا یطاق ہے۔ لہٰذا اسے مکہ میں قیام کا یا واپس آکر حج کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا ، کیونکہ اس پر حج فرض نہیں۔

رد المحتار میں ہے:

’’وأفتی سیدی عبد الغنی النا بلسی بخلافہ وألف فیہ رسالۃً لأنہ فی ہذا العام لایمکنہ الحج عن نفسہ لأن سفرہ بمال الآخر ویحرم عن الآمر ویحج عنہ وفی تکلیفہ بالإقامۃ بمکۃ إلی قابل لیحج عن نفسہ ویترک عیالہ ببلدہ حرج عظیم وکذا فی تکلیفہ بالعود وہو حرج عظیم ایضاً وما فی البدائع فإطلاقہ الکراہۃ المنصرفۃ إلی التحریم یقتضی أن کلامہ فی الصرورۃ الذی تحقق الوجوب علیہ من قبل کما یفیدہ مامرعن الفتح‘‘۔وﷲ تعالیٰ اعلم

(رد المحتار ج۴ ص۲۲ باب الحج عن الغیر)

۵؍۶-رمضان شریف میں کوئی شخص عمرہ کو گیا اور اس کے پاس ایام حج تک کا نہ ویزا ہے نہ اسے قیام و طعام کی استطاعت ہے تو اسے یہ حکم نہ دیا جائے گا کہ قبل شوال وہ حدود حرم یا میقات سے باہر آجائے کہ شرائط حج مفقود ہونے کی وجہ سے اس سے وجوب حج متعلق ہی نہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

 

Menu
error: Content is protected !!