مرحبا اے گل گلشن قادری

محمدتوقیر القادری،کلکتہ ،ہند


صاحب معرفت رب کا سچا ولی

رونق قادری ، نازشِ برکتی

جس طرف یہ چلے رب کی رحمت چلی

جن کے دامن سے وابستہ ہے بہتری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

علم و حکمت کے ہیں گوہر بے بہا

جن کو عَالم نے ’’تاجِ شریعت ‘‘ کہا

واں بریلی کا سکہ کھنکتا رہا

جس جگہ بھی ہوئی ان کی جلوہ گری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

نازشِ فکر و فن ، وارث علم دیں

چرخ رشد و ہدایت کے ماہِ مبیں

مفتیٔ اعظم ہند کے جانشیں

نازِ اسکندری ، نازش خسروی

شاہ اختر رضا قادری ازہری

حج کے موقع پہ جب آپ پہنچے حرم

مصطفی نے کیا خاص فضل و کرم

سارے نجدی وہابی کا ٹوٹا بھرم

حق نے بخشی تمہیں عزت و برتری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

باغِ احمد رضا میں بہار آپ سے

اہل سنت کے رخ پہ نکھار آپ سے

دین حق کا چمن مشک بار آپ سے

مرحبا اے گل گلشن قادری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

نائب غوث ، شیدائے محبوب رب

اور ’’تاجِ شریعت ‘‘ ہے جن کا لقب

اچھے اچھے بھی کرتے ہیں جن کا ادب

جن کے بازو میں ہے قوت حیدری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

شانِ اقدس کوئی کیا کرے گا بیاں

زہد و تقویٰ کے ہیں قلزمِ بے کراں

’’مسلک اعلیٰ حضرت‘‘ کے روح رواں

صاحب علم مخفی و علم سری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

ماہ و انجم رہیں جب تلک چرخ پر

یاخدا ان کا سایہ رہے میرے سر

ساتھ ’’حضرت‘‘ کے اے مالک بحر وبر

ہو مدینے میں توقیرؔ کی حاضری

شاہ اختر رضا قادری ازہری

Menu
error: Content is protected !!