تعارف

شرعی کونسل آف انڈیا ،بریلی شریف

از:خلیفہ تاج الشریعہ حضرت مفتی محمد یونس رضا مونس اُویسی

وائس پرنسپل جامعۃ الرضا ،رکن شرعی کونسل آف انڈیا، بریلی شریف


شرعی کونسل آف انڈیا ایک دینی فقہی ادارہ ہے جس کے بانی اور چیئرمین سیدی وسندی استاذی ومولائی تاج الشریعہ حضرت مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری مدظلہٗ العالی مفتی اعظم فی الہند، جانشین مفتی اعظم عالم اسلام ہیں ۔ یہ ادارہ ۷؍جمادی الآخرہ ۱۴۲۴ھ/ ۸؍اگست ۲۰۰۳ء بروز جمعہ سات قواعد وضوابط اور سات کمیٹیوں پر مشتمل عالم وجود میں آیا ۔

حضرت مفتی محمد شعیب رضا قادری صاحب شرعی کونسل کے تیار شدہ خاکہ کے ابتدائیہ میں شرعی کونسل کس طرح اور کیوں عالم وجود میں آئی ہے اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں: ’’عرصہ دراز سے شدت کے ساتھ یہ ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ مرکز اہل سنت بریلی شریف میں ایک ایسی مجلس کا قیام عمل میں لایاجائے جس میں قرآن وحدیث اور فقہائے احناف کے اقوال واعمال ، تحقیقات و ترجیحات کی روشنی میں امت کو درپیش جدید مسائل کا حل پیش کیا جاسکے اگرچہ اس کام کو امام اہل سنت اعلیٰ حضرت کے حقیقی وارث وجانشین حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ الحاج محمد اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہٗ القویتنہا ہی انجام دے رہے تھے مگر اب ضعف قویٰ وبصر اس کام میں ایک حد تک مانع ہیں۔‘‘

کچھ عرصہ قبل شہزادۂ تاج الشریعہ حضرت مولانا محمد عسجد رضا خاں قادری کے مشورہ سے میں نے اور محب گرامی مولانا عبدالرحیم نشتر فاروقی (اور چند احباب)نے اس سلسلے میں ایک خاکہ تیار کیا تھا اور اس کا نام’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘تجویز کیا تھا جس کا تذکرہ ضمنی طور پر قبلہ گاہی حضور تاج الشریعہ سے کیا تو ایسا لگا گو حضور تاج الشریعہ اس احساس کو نہ جانے کب سے محسوس کررہے تھے لیکن یہ امرواقعہ ہے کہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے لئے اکابر ہی زیادہ موزوں ہوتے ہیں اور ان کے کرنے میں برکتیں زیادہ ہوتی ہیں۔

(اسی دوران)ایک دن محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب رضوی امجدی تشریف لائے اور انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ حضور اب مسائل جدیدہ پر کام کرنے کے لئے کسی مجلس کا قیام نہایت ضروری ہے جسے حضور تاج الشریعہ نے بڑی خندہ پیشانی سے قبول فرمایا اور گوکہ حضور تاج الشریعہ کے لبہائے مبارک کو دیکھنے سے لگ رہاتھا کہ محدثِ کبیر کوحضور تاج الشریعہ دعائیں دے رہے ہیں۔

محدثِ کبیر علامہ صاحب نے ایک خاکہ تیار کرایا جو ہمارے خاکہ سے تھوڑا مختلف ہے مگر اس کی جامعیت کا مجھے مکمل احساس ہوا اور یہ احساس بھی کہ جو پختہ کاری بزرگوں کے کاموں اور فیصلوں میں ہوتی ہے وہ ماوشما کے نہیں ۔

حضور تاج الشریعہ نے اس بورڈ کا نام ’’شرعی کونسل آف انڈیا ،بریلی شریف‘‘ منظور فرمایا اس بورڈ کے سات قواعد وضوابط اور سات کمیٹیاں بنائی گئیں۔

۔1۔مجلس سرپرستان 2  ۔مجلس شوریٰ 3۔فیصل بورڈ4۔مرتبین سوالات5۔مباحثین6۔انتظامیہ کمیٹی7۔فائننس کمیٹی

پھر اسی سال اعلیٰ حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوانکی یوم پیدائش کے موقع پر ۱۰؍شوال المکرم ۱۴۲۴ھ کو تیار شدہ خاکہ کے بعد تین ایجنڈوں

۔1۔شرعی کونسل کے تیار شدہ خاکے میں ترمیم و اضافہ سے متعلق غور وفکر

۔2۔شرعی کونسل کے پہلے سیمینار کے لئے موضوعات کا انتخاب

۔3۔شرعی کونسل کے سیمینار کے انعقاد کی تاریخ پر غوروفکر

پرمشتمل علمائے کرام اور عہدیداران شرعی کونسل کی موجودگی میں ایک میٹنگ ہوئی ۔ میٹنگ کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

شرعی کونسل آف انڈیا کی تیاری کے بعد پہلی میٹنگ جو تین ایجنڈوں پر مشتمل تھی ۱۰ ؍شوال المکرم ۱۴۲۴ھ کو منعقد ہوئی جس میں تینوں ایجنڈوں پر بھرپور تبادلہ خیال کرنے کے بعد پہلے ایجنڈے میں قدرے ترمیم واضافہ کے بعد’’ شرعی کونسل‘‘ کے اصول وضوابط طے ہوگئے اوردوسرے ایجنڈے میں کچھ موضوعات طے ہوئے اور کچھ مرتبین سوال کی ٹیم نے طے کیا اور تیسرا ایجنڈا بھی طے ہوگیا تھا کہ شرعی کونسل کا پہلا سیمینار ۱۳، ۱۴ ؍ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ کو ہوگا مگر کسی سبب سے نہ ہوسکا۔ میٹنگ کی سرپرستی کونسل کے سرپرست حضرت سید شاہ محمد نجیب میاں صاحب برکاتی مارہروی نے فرمائی اور صدارت حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختررضا خاں قادری ازہر ی مدظلہٗ العالینے فرمائی اور نظامت کے فرائض محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ نے انجام دیئے اور شرکائِ میٹنگ میں کم وبیش تیس علمائے کرام شامل تھے چند حضرات مندرجہ ذیل ہیں۔

حضور صدرالعلماء علامہ محمد تحسین رضا خاں علیہ الرحمہ، حضور استاذ الفقہاء علامہ مفتی قاضی محمد عبدالرحیم علیہ الرحمہ ، حضرت علامہ عاشق الرحمن صاحب،حضرت مولانا سید شاہد علی صاحب، حضرت مفتی مطیع الرحمن صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد ایوب صاحب (مراد آباد ) ،حضرت مولانا مفتی قاضی شہید عالم صاحب ، حضرت مولانا رحمت حسین صاحب (بائسی )، حضرت مولانا معراج القادری صاحب، حضرت مفتی ولی محمد صاحب (باسنی) ، حضرت مولانا بہاء المصطفیٰ صاحب، حضرت مولانا مفتی مظفر حسین صاحب( مرکزی دارالافتائ)، حضرت مولانا مفتی ناظم علی صاحب (مرکزی دارالافتاء )، حضرت مولانا مفتی محمد شعیب رضا صاحب(اسلامی مرکز، دہلی) ، حضرت عبدالقادر یار علوی صاحب، حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب( جامعہ نوریہ) ، حضرت مولانا فاروق صاحب( بمبئی )، راقم الحروف محمد یونس رضا وغیرہم

اور شہزادۂ تاج الشریعہ حضرت مولانا محمد عسجد رضا قادری مدظلہٗناظم شرعی کونسل آف انڈیانے پہلے فقہی سیمینار کے خطبۂ استقبالیہ میں شرعی کونسل کی اہمیت اور قیام کے تعلق سے فرمایا: ’’آج کے حالات سے کون آشنا نہیں اس پرفتن دور کے حالات ومعاملات عجیب وغریب ہیں جگہ جگہ نئے مسائل کا سامنا ہے اور صورتِ حال یہ ہے کہ ذی صلاحیت ، فقہی بصیرت رکھنے والے علماء دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں اور جو افتاء کے اہل نہیں مفتیان کرام کی مسند پر بیٹھے ان کا قلم سنبھالے ہوئے ہیں جیسا عوام چاہتی ہے بے چوں وچرا،ویساہی فتویٰ صادر فرمارہے ہیں اور ماہرانِ افتاء ہیں بھی تو ان کے سامنے مختلف مصروفیات درپیش ہیں۔ اس لئے عوام وخواص کو اختلاف سے بچانے اور صحیح راہ بتانے کے لئے ’’شرعی کونسل‘‘وجود میں آئی ہے۔

سید ی والد گرامی حضور تاج الشریعہ فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا قادری ازہری دام ظلہٗ العالی نے عرصہ دراز سے شدت کے ساتھ ایک ایسی مجلس کے قیام کی آرزو کی تھی جس میں ماہرانِ افتاء شریک ہوں اور قرآن وحدیث اور فقہائے احناف کے اقوال ، تحقیقات وترجیحات کی روشنی میں امت کو درپیش جدید مسائل کا حل بتاکر رہنمائی کریں۔

آخر کار ۷؍ جمادی الآخر مطابق ۸؍ اگست ۲۰۰۳ء بروز جمعہ اس مجلس کا قیام عمل میں آیا اور والد گرامی حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی نے اس مجلس کا نام ’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘تجویز فرمایا جو گیارہ قواعد وضوابط اور سات کمیٹیوں پر مشتمل ہے۔ ’’شرعی کونسل‘‘ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ۱۰ ؍شوال المکرم ۱۴۲۴ھ کو تین ایجنڈوں پر مشتمل ایک میٹنگ ہوئی جس میں اتفاقِ رائے سے ’’شرعی کونسل‘‘کے قواعد وضوابط طے ہوگئے ۔‘‘ [ خطبۂ استقبالیہ پہلا فقہی سیمینار ۲۰۰۴ء]

اور استاذی سید ی الکریم فاتح عرب وعجم شیخ الاسلام حضور تاج الشریعہ مد ظلہٗ العالی خود شرعی کونسل کے تعلق سے فرماتے ہیں:’’آج جدید مسائل کے شرعی حل کے لئے فقیہانہ بصیرت کے حامل افراد کی علمی و فقہی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے ۔ بد مذہب فقہ اسلام کی اصلی روح کو ختم کردینا چاہتے ہیں ۔ عوام کی سہولت کے پیش نظر شریعت اسلامیہ میں من مانی تحریف کررہے ہیں ، جدید ذرائع ابلاغ پر شکنجہ کس کر اپنے باطل نظریات ،غلط مسائل اور زہریلے اثرات کو پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں اور نتیجتاً سُنّی عوام رفتہ رفتہ ان کے دام فریب میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔

مجھے عرصۂ دراز سے ان فرقہائے باطلہ کی مذکورہ سرگرمیوں سے شدید فکر لاحق رہی میری دینی غیر ت و حمیت مسائل جدیدہ کے صحیح حل کیلئے ایک’’شرعی کونسل‘‘ کے قیام کا شدت سے احساس دلاتی رہی جو فقیہانہ صلاحیتوں کے حامل افراد پر مشتمل ہو، جواپنی علمی ذکاوت اور فقیہانہ فراست سے ان مسائل کا صحیح حل نکال سکیں۔

ظاہر ہے کہ ہر کس وناکس ان مسائل کا شرعی حل تلاش کرنے کا اہل نہیں ہے اور اس دورِ کم مائیگی میں نہ ہر فقہی بصیرت رکھنے والا فرد واحد تنہا یہ کارنامہ انجام دے سکتا ہے اور اگر کوئی مفتی اپنی خداداد فقہی صلاحیتوں سے ان مسائل کے صحیح احکام کا استخراج کربھی لے تو اندیشہ ہے کہ دیگر علماء یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کردیں گے کہ یہ فلاں کا ذاتی نظریہ ہے ، یہ فلاں کا قیاس ہے ، یہ متون وشروح وفتاویٰ کے خلاف ہے ، اقوالِ مجتہدین سے متصادم ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے ایک ’’شرعی کونسل‘‘کاقیام ناگزیر ہوجاتاہے تاکہ جدید مسائل میں سب کے غور وفکر کے بعد کوئی متفقہ حل تلاش کیا جاسکے۔

بحمداللہ !دلی تمنائیں پوری ہوئیں اور ۸؍ اگست ۲۰۰۳ئ/۷؍جمادی الآخر ۱۴۲۴ھ کو ’’شرعی کونسل آف انڈیا‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔‘‘[خطبۂ صدارت پہلا فقہی سیمینار ۲۰۰۴ء]
میٹنگ کے بعد سات (۷)کے بجائے گیارہ(۱۱) قواعد وضوابط طے ہوئے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

قواعد وضوابط

۔1۔جوابات اور فیصلہ میں فقہاء حنفیہ کی کتب معتمدہ کا لحاظ رکھا جائیگا اور اس سے انحراف قبول نہ ہوگا کتب غیر مذہب سے استدلال قابل تسلیم نہ ہوگا جبکہ قواعد حنفیہ کیخلاف ہو۔

۔2۔اختلافِ اقوال و ترجیح و تنقیح کی صورت میں سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا و مفتیٔ اعظم ہند و صدر الشریعہ علیہم الرحمۃ کے فتاویٰ وترجیحات ہی پر اعتماد کیا جائے گا اگر ان حضرات کے اقوال میں اختلاف ہو اور اس کی وجہ اسبابِ ستہ نہ ہوں تو اعلیٰ حضرت کی تصریحات کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

۔3۔مسائل جدیدہ میں جن کی تصریحات نہ ملے ان کے نظائر حسب ضابطہ نمبر ایک (۱)،نمبردو(۲) تلاش کئے جائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کی راہ متعین کی جائے گی۔

۔4۔جن احکام میں اسبابِ ستہ میں سے کسی سبب سے تغییر حکم کی حاجت ہو تو شرائط تغییر کا لحاظ لازم ہوگا۔

۔5۔مسلک اعلیٰ حضرت کے پیروکار مفتیان کرام سے ہی جوابات طلب کئے جائیں گے اور انہیں کے جوابات پڑھے جائیں گے۔

۔6۔کسی بھی فیصلہ پر فیصل بورڈ کے ممبران میں سے نصف اکثر کی شمولیت سے کورم پورا ہوجائے گا اگر فیصل بورڈ کے ممبران ہی مختلف الرائے ہوں توان کا اختلاف نوٹ کرلیا جائے گا اور نظر ثانی کے لئے دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا یاخلاف کرنے والے کا اختلاف نوٹ کرلیا جائے گا۔ فیصلہ صرف حکم ہوگا اور جانب مخالف کی دلیل کو نقل کرکے ہدایہ کی طرح نوٹ کرلیا جائے گا جس میں حضور تاج الشریعہ کی موجودگی لازمی ہوگی۔

۔7۔مباحثین کی بحث کو فیصل بورڈ کے اراکین سماعت فرمائیں گے اور جہاں مناسب سمجھیں گے اپنی رائے کا اظہار فرمائیں گے ، مباحثین کی اتفاق رائے یا اختلافِ رائے بہر دو صورت حتمی فیصلہ فیصل بورڈ کا ہی ہوگا۔

۔8۔سیمینار بریلی شریف ہی میں منعقد ہوگا مگر ہاں بوقت حاجت کسی دوسرے شہر میں منعقد کیا جاسکتاہے۔

۔9۔حضور تاج الشریعہمدظلہٗ شرعی کونسل آف انڈیا کے مستقل چیئرمین ہیں اور جملہ امور میں ترمیم وتنسیخ حذف واضافہ وغیرہ کا کلی اختیار چیئرمین ہی کو ہوگا۔

۔10۔جس مقالہ نگار کے مقالہ پر مباحثین کی بحث جاری ہو اس میں اگر کوئی مقالہ نگار سے استفسار کی ضرورت پڑتی ہے یا مقالہ نگار اپنی رائے مضبوط سمجھتا ہے تو چیئرمین کی اجازت سے مباحثہ میں شامل ہوسکتاہے۔

۔11۔سیمینار کی تاریخ چیئرمین اور فیصل بورڈ طے کرے گا۔

شرعی کونسل آف انڈیا سات(۷) سیمینار کرچکی ہے ہر سیمینار تین(۳) عناوین پرمشتمل ہوتاہے اب تک اکیس(۲۱) عناوین پر تکمیل بحث کے بعد فیصلے دیئے جاچکے ہیں۔ جن پر ارکانِ فیصل بورڈ کے ساتھ جملہ شرکاء مندوبین کے دستخط ثبت ہیں ۔ ان فیصلوں کو ماہنامہ سنی دنیا میں ہر سال سیمینار کے بعد نکلنے والے شمارہ میں سیمینار کا خصوصی نمبر کرکے شائع بھی کیا جاچکا ہے اور تیسرا فقہی سیمینار کا فیصلہ ’’راشٹر یہ سہارا‘‘ اخبار میں شائع ہوچکا ہے ۔ وہ اکیس(۲۱) عناوین مندرجہ ذیل ہیں۔

پہلا فقہی سیمینار ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء

موضوعات: (۱)نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال(۲)اجارۂ تراویح (۳)سفر میں جمع بین الصلاتین

دوسرا فقہی سیمینار ۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ء

موضوعات: (۱)انٹرنیٹ و فون سے بیع وشراء کا حکم(۲)رمی جمار (۳)رویت ہلال بذریعہ جدید آلات

تیسرا فقہی سیمینار ۱۴۲۷ھ/۲۰۰۶ء

موضوعات: (۱)میڈیکل انشورنس(۲)مساجد کی آمدنی کے مصارف (۳)بیع قبل القبض

چوتھافقہی سیمینار ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷ء

موضوعات: (۱)ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنا(۲)رشوت دے کر مدارس ایڈ کرانے اور مدرسین کی تقرری کا حکم(۳)اختلافِ زمان و مکان کی صورت میں وکیل وموکل کے یہاں قربانی کے اوقات واسباب

پانچواں فقہی سیمینار ۱۴۲۹ھ/۲۰۰۸ء

موضوعات: (۱)حوالہ و دو ملک کی کرنسیوں کے تبادلے کا حکم(۲)تبدیلیٔ جنس کی شرعی حیثیت (۳)منیٰ ومزدلفہ کی توسیع و تحدید کی شرعی حیثیت

چھٹافقہی سیمینار ۱۴۳۰ھ/۲۰۰۹ء

موضوعات: (۱)جدیدطریقۂ بیع (بیع در بیع )کی شرعی حیثیت(۲)ری سائیکل پانی و کاغذ وغیرہ کا شرعی حکم(۳)اموالِ زکوٰۃ ،عشر اور عطیات میں خلط یا تصرف کا شرعی حکم

ساتواں فقہی سیمینار ۱۴۳۱ھ/۲۰۱۰ء

موضوعات: (۱)حق طباعت ، حق تصنیف ، حق ایجاد کی خرید وفروخت(۲)بے اذن ولی غیر کفو سے نکاح(۳)عوامی جگہوں پر لگی تصویروں کا حکم نماز کے حوالے سے۔

آٹھواں فقہی سیمینار ۱۴۳۲ھ/۲۰۱۱ء

موضوعات: (۱)قرعہ اندازی کی وجہ سے ادائیگی حج میں تاخیر کا مسئلہ(۲)میموری کارڈ ،سی ڈی اورکمپیوٹرمیں آیات قرآنیہ و دینی معلومات وغیرہ کے محفوظ کرنے اور ایسی سی ڈی وغیرہ کا حکم(۳)کھانے کے بعد یا استنجاء کے لئے ٹشو پیپر کے استعمال کا حکم

نواں فقہی سیمینار ۱۴۳۳ھ/۲۰۱۲ء

موضوعات: (۱)مدارس میں فیس کی شرعی حیثیت(۲)شوال میں عمرہ کرنے والے پر استطاعت کے بغیر حج فرض ہونے کی شرعی حیثیت(۳)میڈیکل لیبا ریٹری اور اطباکے مابین کمیشن کا شرعی حکم

دسواں فقہی سیمینار ۱۴۳۴ھ/۲۰۱۳ء

موضوعات: (۱)آرٹی فیشیل (مصنوعی) زیورات کے استعمال اور اس کی خرید وفروخت کا شرعی حکم(۲)ممالک بعیدہ میں عشا وفجر کے اوقات کا شرعی حکم(۳)قصر صلوٰۃ کے جدید مسائل اور مسافت ِسفر کی تحقیق

گیارہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۵ھ/۲۰۱۴ء

موضوعات: (۱)آپریشن سے ولادت کا شرعی حکم(۲)قربانی اور اس کی ٹھیکہ داری کا شرعی حکم(۳)مساجد میں قائم مکتبوں اور سماجی خدمات کے نام سے زکوٰۃ کی تحصیل و استعمال کا شرعی حکم

بارہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۶ھ/۲۰۱۵ء

تیرہواں فقہی سیمینار ۱۴۳۷ھ/۲۰۱۶ء

موضوعات: (۱)مساجد میں زائد مصاحف، پوسٹروں میں مقد س کلمات اور مصلوں میں معظم نقشوں کا حکم

Menu
error: Content is protected !!