سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ کے 38ویں امامۣ
حضرت سید شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ عنہ
نام: سراج العارفین ابوالحسین حضرت سید احمد نوری عرف نوری میاں بن سیّد شاہ ظہور حسن بن حضرت سیّد شاہ آلِ رسول مارہروی۔
آپ کا تعلّق زیدی سادات سے ہے۔
تاریخِ ولادت: 19؍شوّال المکرم1255ھ،مطابق 26؍دسمبر 1839ء بروز جمعرات۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت اورپرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگ وار(حضرت سیّد شاہ آلِ رسول مارہروی) کی آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسینِ خانقاہِ برکاتیہ سےمختلف علوم و فنون کی تحصیل وتکمیل ہوئی ،جن میں بالخصوص حضرت مولانا شاہ محمد سعید بدایونی (المتوفّٰی1277ھ)،حضرت مولانا فضل اللہ جالیسری (المتوفّٰی 1283ھ)، حضرت مولانا نور احمد بدایونی اور حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی (المتوفّٰی 1322ھ) () ہیں ۔
اساتذۂ کرام:
حضرت نوری میاں نے جن حضرات سے عُلومِ ظاہری حاصل کیےان میں چند نام یہ ہیں:
خاتم الاکابر حضرت سیّدشاہ آلِ رسول مارہروی
حضرت میاں جی رحمت اللہ
حضرت جمال روشن
حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی(المتوفّٰی 1322ھ)
حضرت مولانا محمد عبدالقادر عثمانی بدایونی(متوفّٰی 1319ھ)
بیعت وخلافت:
12؍ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگ وارخاتم الاکابر حضرت سیّد شاہ آلِ رسول مارہروی سے12سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
جلیل البرکات نورالعارفین حضرت مولانا سیّد شاہ ابولحسین احمد نوری مارہروی بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے۔آپ وہ خوش قسمت شخصیت ہیں جن کی تربیت وقت کے ایک ولیِ کامل کے ہاتھوں ہوئی ۔چھوٹی سی عمر میں آپ کی تربیت، ریاضت ومجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپ کی دادی صاحبہ، حضرت شاہ آلِ رسول سے فرماتیں:
’’کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کردوگے؟‘‘
حضرت شاہ آلِ رسول فرماتے:
’’ہاں، فقیر کردوں گا! اور یہ ایسا فقیرہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور اُمراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے۔‘‘
آپ نے اپنے پوتے کو تمام علومِ ظاہری و باطنی کی تعلیم دے کر جملہ رُموز واَسرار اور اپنے اَسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادۂ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنادیا۔
حضرت نوری میاںسرورِ عالمﷺکےاَخلاقِ کریمانہ کا پرتوتھے۔ میراثِ مصطفیٰﷺ (یعنی عُلوم ِ نبویّہ) کےسچے وارث تھے۔عقیدے میں حد درجہ تصلّب تھا، شریعت کی پوری پابندی تھی۔ محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے۔ ریاضت ومجاہدہ، سخاوت وکرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی ،غربا و مساکین کی مشکل کشائی ،اور ان سے اُنس ومحبت ،بالخصوص سنّی مسلمانوں کی خیر خواہی،اور ہر وقت اُن کے لیے دست بَہ دعا رہنا،بد مذہبوں سے دوری، فساق وفجار سے وحشت، اوراہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نوری میاں کے اَخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں۔
خلفائے کرام:
حضرت نوری میاں کے بعض خلفا کے نام یہ ہیں:
1. اعظم الخلفا مخدومِ زمن حضرت سیّد شاہ مہدی حسن (صاحبِ سجادۂ برکاتیہ احمدیہ نوریہ)، حضرت حضرت سیّد شاہ ظہور حیدر، حضرت صاحبزادہ حاجی سیّد شاہ حامد حسن، حضرت صاحبزادہ سیّد ابنِ حسن، حضرت صاحبزادہ حاجی سیّد شاہ اسماعیل حسن، حضرت صاحبزادہ سیّد شاہ ارتضا حسین عرف پیر میاں، حضرت صاحبزادہ سیّد محمد ایوب حسن، حضرت صاحبزادہ نواب معین الدین خاں صاحب بہادر رئیس بڑودہ، حضرت صاحبزادہ سیّد اسحاق حسن، حضرت صاحبزادہ سیّد اقبال حسن، حضرت صاحبزادہ سیّد فضل حسین، حضرت صاحبزادہ حکیم سیّد آلِ حسن ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی، حضرت مولانا محمد عطاء اللہ خاں رامپوری، حضرت مولانا محمد جمیل الدین خطیب عباسی بدایونی، حضرت مولانا حکیم محمد عبدالقیوم عثمانی بدایونی، حضرت مولانا قاضی محمد مبشر الاسلام عباسی بدایونی، حضرت مولانا غلام حسنین صدّیقی بدایونی
اعلیٰ حضرت کی طرف استفتا:
حضور نوری میاں نے اعلیٰ حضرت سے بعض مسائل کےحل کے لیے استفتا بھی بھیجے،وہ سوالات اور اعلیٰ حضرت کے جوابات فتاوٰی رضویہ میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
مَناقبِ حضور نوری میاں:
اعلیٰ حضرت نے حضور نوری میاں کی شان میں مناقب بھی لکھے ہیں۔ ایک منقبت کے چند شعر درجِ ذیل ہیں:
بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابو الحسین
سدرہ سے پوچھو رفعتِ بامِ ابو الحسین
میلا لگا ہے،شانِ مسیحا کی دید ہے
مُردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّے کو مہر ،قطرے کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخششِ عامِ ابوالحسین
ہاں طالعِ رضؔا تِری اللہ رے یاوری
اے بندۂ جُدودِ کرامِ ابو الحسین
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں نے اپنے مشہورِ زمانہ قصیدۂ نور کے مقطع میں حضور نوری میاں کا ذکر اِس طرح کیا ہے:
اے رضؔا! یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے
ہو گئی میری غزل بڑھ کر قصیدہ نور کا
پہلی شادی:
حضرت نوری میاں کی پہلی شادی آپ کے حقیقی چچا حضرت سیّد شاہ ظہور حسین عرف چھٹو میاں کی صاحبزادی صاحبہ سے ہوئی۔ اُن سے ایک صاحبزادے پیدا ہوئے، جن کا نام ’’سیّد محی الدین جیلانی‘‘ تھا۔ ان صاحبزادےکا ایک سال سات ماہ کی عمر میں بمقام مارہرہ مطہرہ انتقال ہو گیا اور بی بی صاحبہ کا انتقال 17؍ جمادی الآخرہ 1286ھ (1869ء) کو مارہرہ شریف میں ہوا۔
دوسری شادی:
حضرت نوری میاں کا دوسرا نکاح آپ کی حقیقی پھوپھی اور حقیقی ماموں حضرت سیّد محمد حیدر کی صاحبزادی سے 1287ھ میں ہُوا۔
تصانیف:
حضرت نوری میاں کی تصانیف کی فہرست حسبِ ذیل ہے:
1. اشتہارِ نوری
2. اَلْعَسَلُ الْمُصَفّٰی فِیْ عَقَائِدِ اَرْبَابِ سُنَّۃِ الْمُصْطَفٰیﷺ
3. سوال و جواب
4. تحقیقِ التراویح
5. دَلِیْلُ الْیَقِیْن مِنْ کَلِمَاتِ الْعَارِفِیْن
6. عقیدۂ اہلِ سنّت نسبت محاربین جمل و صفین و نہروان
7. کشف القلوب (لطائفِ طریقت)
8. اَلنُّوْرُ وَالْبَھَاء فِیْ اَسَانِیْدِ الْحدِیْثِ وَسَلَاسِلِ الْاَوْلِیَاء
9. سِرَاجُ الْعَوَارِف فِیْ الْوَصَایَا وَالْمَعَارِف
10. الجفر
11. النجوم
12. تخلیلِ نوری
13. صلوٰۃِ غوثیہ
14. صلوٰۃِ معینیہ
15. مجموعہ
16. صلوٰۃِ نقشبندیہ
17. صلوٰۃِ صابریہ
18. صلوٰۃِ ابی العلائیہ
19. صلوٰۃِ مداریہ
20. صَلٰوۃُ الْمَرْضِیَّۃ لِفُقَرَآءِ الْمَارَھْرَوِیَّۃ
21. صلوٰۃ الاقرباء
22. اَسرارِ اکابرِ برکاتیہ
23. مجموعہ ہائے اعمال و اشغال
وصالِ پُر ملال: حضرت نوری میاں کا وصال 11؍ رجب المرجب 1324ھ کو ہوا۔
مزارِ پُر اَنوار: مارہرہ مطہرہ(انڈیا) میں آپ کا مزارِ مبارک منبعِ فُیوض و برکات ہے۔


