خورشید جہاں تاب کی ضوتیرے شرر میں

از:پروفیسر شاہد اخترحبیبی،غلام نبی کاٹیج، فیض کالونی، تیلنی پاڑہ، ہگلی


پاکستان کے مشہور شہر راولپنڈی کے پاس جہلم سے سولہ کلومیٹر شمال مغرب میں رہتاس کاقلعہ شیر شاہ سوری نے اس وقت کے بہلولی سکے میں چوبیس کروڑ پندرہ لاکھ پانچ ہزار ڈھائی دام خرچ کرکے اس لئے بنوایاتھاتاکہ وہاں کے گھکڑ قبائلیوں کی سرکشی دبانے کے ساتھ ا فغانستان کے قندھار سے آنے والے جیالوں کے تیز وتندقدموں سے اپنی جنت ہندستان کو بچایاجاسکے راجہ ٹوڈر مل کی حکمت عملی اورشیرشاہ کے پیسوں سے تعمیر ہونے والا رہتاس کاقلعہ زیادہ دنوں تک قندھاریوں کی آمد نہیں روک سکا ۔ شیرشاہ کی وفات ہوئی۔ مغلوں کا عروج ہواپھر اورنگ زیب علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد کمزور ہوتی ہوئی مغل سلطنت کو انہیں افغانیوں بالخصوص قندھاریوں نے دوران خون فراہم کیا۔

آنے والوں میں قندھار کے قبیلہ بڑھیچ کے ایک شہزادے سعید اللہ خاں بھی تھے جو محمد شاہ کے عہد میں ہندستان آئے ۔ لاہور میں کچھ دنوں قیام کے بعد دارالخلافہ وارد ہوئے بادشاہ وقت تک باریابی ہوئی بادشاہ نے شجاعت اورجنگی مہارت سے لے کر حکمت و دانائی کاادراک کیااورفوج کااعلیٰ عہدہ عطاکیا۔ روہیل کھنڈ کی بغاوت فرو کرنے کے لئے بریلی بھیجے گئے اوریہیں متمکن ہوئے۔ صاحبزادے سعادت یارخاں بھی دہلی دربار سے منسلک تھے۔ مرکزی حکومت کی کمزوری کافائدہ اٹھاکر جب اودھ خود مختاری چاہ رہاتھا سعادت یار خاں نے اس بغاوت کو دبانے میں اہم رول اداکیا۔

آپ کے فرزند رضاعلی خاں ۱۸۵۷ء میں انگریزی استعماریت کے خلاف محاذ آرائی کی وجہ سے معتوب ہوئے جری بھی تھے اورخداترس بھی۔ خاندان کاموروثی جنگی مزاج علوم دینیہ کی طر ف موڑنے میں آپ نے اہم کردار اداکیا۔ آپ کے دو فرزند ہوئے علامہ نقی علی خاں اورمولاناتقی علی خان ۔ علامہ نقی علی خاں نے علوم دینی میں کمال حاصل کیا اورفتویٰ نویسی شروع کی آپ کے تین صاحبزادے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خا ں بریلوی ، مولانا حسن رضاخاں بریلوی اورمفتی محمد رضا خاں بریلوی ۔

اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخاں بریلوی نے فقہ حنفیہ کو استحکام عطاکرنے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کو ابن تیمیہ کے پھیلائے ہوئے زہر سے آلودہ دل و دماغ کو سواد اعظم پر گامزن کرنے کے لئے اپنی زندگی کی ساری سانسیں وقف کردیں ۔ بھائی مولانا حسن رضاخاں بریلوی نے خدمت دین کے ساتھ ساتھ اردو نعتیہ شاعری کو نئی رفعتوں سے آشنا کیا ۔ فتویٰ نویسی کو مشغلہ ٔ روز و شب بناکر مفتی محمد رضاخاں بریلوی نے افتا کی خاندانی خدمت کومزید اونچائیاں عطا کردیں۔

’’ایں ہمہ خانہ آفتاب‘‘ کے نیر اعظم بلاشبہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی علیہ الرحمتہ والرضوان رہے۔ اعلیٰ حضرت کے دو صاحبزادے حجتہ الاسلام مولانا حامد رضاخاں اوران سے سترہ سال چھوٹے مفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضاخاں (رحمتہ اللہ علیہم اجمعین) آسمان علم و معرفت کے تابندہ ستارے ثابت ہوئے ۔ حجتہ الاسلام علیہ الرحمہ کے صاحبزادے مفسر اعظم مولانا ابراہیم رضاخاں اورمفتی اعظم علیہ الرحمہ کی صاحبزادی کے درمیان رسم مناکحت اداہوئی اورانہیں دونوں حضرات کے آنگن میں ۲۳؍ نومبر ۱۹۴۳ء؁ کو ایک پھول کھلا محمد اسمٰعیل رضاخاں نام رکھاگیا اوراختر رضا خاں کی عرفیت ملی۔

پیدائش کے وقت ملکی اوربین الاقوامی حالات دگرگوں تھے ہندستان میں تحریک آزادی آخری مرحلے میں داخل ہورہی تھی ’’ہندستان چھوڑدو‘‘ کی تحریک موثر انداز میں آگے بڑھ رہی تھی ۔ قرارداد پاکستان منظور کیاجاچکاتھا۔ انگریزی حکمت عملی پورے طورپر اپنے اثرات دکھارہی تھی۔ فرقہ پرست طاقتیں شیاما پرساد مکھرجی اورگروگولوالکر اورساورکر کی قیادت میں مسلمانوں پر بزن بولنے کے لئے مجتمع ہورہی تھیں ۔ اقتدار پسند لوگ انگریزوں کے انخلاء کی صورت میں آئندہ اقتدار میں اپنی شراکت یقینی بنانے میں لگے ہوئے تھے ۔ مسلمانان ہند کے مسلکی اختلافات کے قلعے انگریزی سرپرستی میں سربلند ہورہے تھے ۔ دوسری جنگ عظیم تباہ کن دور میں داخل ہورہی تھی۔ اتحادی فوجیں شکستوں کے مزے چکھ رہی تھیں۔ جاپان برما تک پہنچ چکا تھا نیتاجی کی آزاد ہند فوج جاپان کی مدد سے ہندستان میںانگریزی اقتدار کوبزور قوت ختم کرنے کے درپے ہورہی تھیں۔ اس دور تخریب میں تعمیر کا ایک گل سرسبد بریلی کی سرزمین پر نشوونما کی منزلیں طے کررہاتھا۔

دیکھتے دیکھتے چار سال چار مہینے چار دن ہوگئے۔ والد گرامی مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضاخاں بریلوی نے اپنے لاڈلے کی تسمیہ خوانی کی۔ لوگ ایسی تقریبات میں امراء ورئوسا اورصاحبان اقتدار کو مدعو کرتے ہیں۔ مفسر اعظم ہند نے دارالعلوم منظراسلام کے تمام طلبہ کی دعوت کااہتمام کیا۔ جو بچہ کل ہو کے نیابت رسول کے منصب جلیلہ پر فائز ہونے والا تھا اس کی تسمیہ خوانی میں مہمانان رسول کی ضیافت آنے والے دنوں کااشاریہ تھی۔ بسم اللہ شریف کی ادائیگی بھی وہ ذات بابرکت کررہی تھی جو علم وفضل اوررشد وہدایت کامینارۂ وقت تھی یعنی حضور مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضاخاں بریلوی علیہ الرحمہ ناناجان نے بسم اللہ خوانی کرائی اورپھر نگاہ توجہ بھی مرکوز رکھی ۔ اس نواسے کو بھی کسی نواسے کے طرز پر نانا کی وراثت کاجانثار امین بننا تھا۔ حضور مفتی اعظم ہند کی نگاہ محبت مفسراعظم ہند کی بے پایاں شفقت اورصاحبزادی ٔ مفتی اعظم ہند کی تربیت خاص میں پلنے والے بچے کی قسمت پر جس قدر رشک کیاجائے کم ہی ہوگا۔

بسم اللہ خوانی سے جس علم کی ابتداء حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے کرائی ظاہر ہے کہ اس کی تکمیل بھی عالی شان ہوناتھی۔ والدہ ماجدہ نے قرآن ختم کرایاتو والد گرامی نے اردو کی کتابیں پڑھائیں۔ ابتدائی درسی کتابوں سے لے کراعلیٰ معیار کی ادبیات کے مطالعے کاشرف حاصل کیا۔ دس سال کی عمر میں ایف آر اسلامیہ انٹرکالج میں داخلہ لیا جہاں انگریزی اورہندی زبانو ں نیز ریاضیات اوردوسرے علوم جدیدہ سے آشنائی حاصل کی ۔۱۹۶۳ء میں آپ کاداخلہ جامعہ ازہر مصر کے کلیہ اصول الدین میں ہوگیا۔

داخلے کے وقت اساتذہ کرام کوایک نیاتجربہ ہواجب آپ نے عربی زبان میں بے تکلف گفتگو فرمائی۔ عام طور سے عجمی طلبہ شروع کے ایام میں عرب اساتذہ کے سامنے زبان کھولتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں یہ تجربہ اساتذہ کے لئے اتنا خوش کن رہا کہ انہوں نے اس عجمی طالب علم کو اپنی توجہ کامرکز بنالیا۔ پہلے سالانہ امتحان میں تحریری امتحان کے ساتھ جنرل نالج کا زبانی امتحان لیاگیا۔ زبانی امتحان میں ایک استاد نے علم کلام کا ایک سوال پوچھ لیا۔ سارے طلبہ خاموش رہے مگراعلیٰ حضرت کے خانوادے کے چشم و چراغ نے نہ صرف سوال کاجواب دیا بلکہ اتنی صراحت کے ساتھ جواب دیا کہ استاد کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کر ممکن ہے اصول حدیث کاطالب علم،علم کلام پر اپنی دسترس کامظاہرہ کرے۔ آپ نے بتایاکہ دارالعلوم منظراسلام کے زمانہ ٔ طالب علمی میں ہی انہوں نے چند کتابیں اس علم کی سرسری پڑھ لی تھیں وہ حافظے میں تھیں استادگرامی کی حیرت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے یہ بتایاگیا سوال بہت آسان تھا اگرمشکل سوالات بھی ہوتے تو ان کے تشفی بخش جواب دئیے جاتے۔ ظاہر ہے کہ ایک ایسا طالب علم جو شامل نصاب مضامین سے آگے کی ایسی معلومات فراہم کرے اسے تو اپنے درجے میں اول ہوناتھا۔اولیت کایہ تاج جو پہلے سال سرچڑھا فضیلت کے حصول تک چڑھا رہا۔ ۱۹۶۶ء میں ایک عجمی طالب علم نے اپنی نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر جامعہ ازہر اوارڈ حاصل کیا۔ایک اورامتیاز یہ حاصل ہواکہ کلیہ اصول الدین کے طالب علم کومجموعی بہتر کارکردگی کی بنیاد سند الفراغت والتحصیل علوم الاسلامیہ کی اضافی ڈگری بھی دی ۔

ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی میں اس کے ایڈیٹر ’’کوائف آستانہ رضویہ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں اس کامیابی کاتذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’نبیرہ ٔ اعلیٰ حضرت و حجۃ الاسلام علیہما الرحمہ اورحضرت مفسراعظم کے فرزند دلبند مولانا اختر رضاخاں صاحب نے عربی میں بی اے کی سند فراغت نہایت نمایاں اور ممتاز حیثیت سے حاصل کی۔ مولانا اختر رضا خاں صاحب نہ صرف جامعہ ازہر میں بلکہ پورے مصر میں اول نمبروں سے پاس ہوئے۔ مولیٰ تعالیٰ ان کو اس سے زیادہ بیش از بیش کامیابی عطافرمائے اورانہیں خدمات کااہل بنائے اوروہ صحیح معنی میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے جانشین کہے جائیں۔اللّٰھم زد فزد‘‘(ماہنامہ اعلیٰ حضرت جمادی الاولیٰ۱۳۸۵ھ /۱۹۶۵ء)

والد گرامی نے جامعہ ازہر بھیج دیا مگربیٹے کی کامیاب واپسی کے بچشم خود مشاہدے کی لذت سے مفسراعظم ہند ابراہیم رضا خاں علیہ الرحمہ محروم رہے۔مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خان بریلوی ۱۲؍ جون ۱۹۶۵ء کو ساٹھ سال کی عمر میں انتقال فرماگئے۔ وقت رخصت والد گرامی کی آنکھوں میں مستقبل کی عظیم کامیابیوں کا جو خواب بیٹے کو نظر آیاتھا اس خواب کی تعبیر کے ساتھ واپسی سے قبل والد گرامی کی رحلت ایک بڑا صدمہ تھی اس صدمے کااظہار انہوں نے اپنے بڑے بھائی مولانا ریحان رضاخاں رحمانی کو لکھے گئے تعزیتی خط میں کیا ہے جو ان کے دلی کرب اورذہنی کیفیت کاغماز ہے اس خط میں انہوں نے ایک تعزیتی نظم بھی رقم کی ہے جس کایہ شعر اس وقت کی ان کی حالت کاصحیح عکاس ہے۔

ہائے دل کاآسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہواجاتا ہے دل

فراغت کے بعد واپسی کے موقع پر وہ غم اوربھی سوا ہوجاتاہے مگرناناجان حضور مفتی اعظم ہند نے بہ نفس نفیس اسٹیشن پہنچ کراستقبال کیااور تہنیتی کلمات سے نہ صرف ملول ہونے سے بچالیا بلکہ یک گونہ مسرت سے ہمکنار فرمادیا۔بقول الحاج محمد ناصر رضوی بریلوی:
’’آپ کو لینے کے لئے حضرت بذات خود بنفس نفیس تشریف لے گئے ، اورٹرین کا بے تابانہ انتظار فرماتے رہے ، جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پراتری ، سب سے پہلے حضرت نے گلے لگایا ، پیشانی چومی اوربہت دعائیں دیں اورفرمایا کہ کچھ لوگ گئے تھے مگر بدل کر آئے مگرمیرے بچے پر جامعہ کی تہذیب کاکچھ اثر نہیں ہوا، ماشاء اللہ۔‘‘
دارالعلوم منظراسلام سے لے کرجامعہ ازہر تک کے سفر میں جن اساتذہ کرام نے آپ کی علمی تشنگی کو چشمہ ہائے فیض سے سیراب کیا۔ ان کے اسماء حسب ذیل ہیں۔
۱-حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی رضی اللہ عنہ
۲-بحرالعلوم حضرت مفتی سیدافضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ
۳-مفسراعظم حضرت علامہ ابراہیم رضاخان بریلوی علیہ الرحمہ
۴-فضیلت الشیخ مولانا محمد سماحی شیخ الحدیث والتفسیر جامہ ازہر (مصر )
۵- حضرت مولانا عبدالغفار استاذ الحدیث جامعہ ازہر (مصر)
۶-مولانا حافظ انعام اللہ خان تسنیم حامدی بریلوی

ان صاحبان کاملان سے تحصیل علم کے بعد اب تشنگان علم ومعرفت کو اپنے سرچشمہ ٔ و فضل وکمال سے سیراب کرنے کی باری تھی ۔ ۱۹۶۶ء میں جامعہ ازہر سے واپسی ہوئی ایک سال کی قلیل مدت میں ہی آپ نے دارالعلوم منظراسلام کے مسند درس کو رونق بخشی ۔ یہ سلسلہ قائم رہا۔ اسی دوران آپ کے کاندھے پر ایک اور بڑی ذمہ داری دے دی گئی ۔ مفسراعظم ہند نے اپنی حیات مبارکہ میں ہی آپ کارشتہ ملک الشعراء استاد زمن حضرت حسن بریلوی کی پوتی یعنی مولانا حسنین رضاخاں بریلوی علیہ الرحمہ کی صاحبزادی سے طے فرمادیاتھا۔لہٰذا ۳۱ ؍نومبر۱۹۶۸ء کو بریلی کے محلہ کانکر ٹولہ میں آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے ۔ ماشاء اللہ اس مبارک جوڑی سے مولانا عسجد رضاخاں قادری بریلوی جیسے لائق اورفائق فرزند کے ساتھ پانچ صاحبزادیاں تولد ہوئیں الحمدللہ وہ سب کی سب عقد مسنونہ سے سرفرازی حاصل کرچکی ہیں۔

تدریسی سلسلہ سے وابستگی جو ۱۹۶۷ء سے شروع ہوئی تھی وہ ازدواجی زندگی کی مصروفیات کے باوجود نہ صرف قائم رہی بلکہ پختہ تر ہوتی رہی اس لئے درس وتدریس کاتعلق ان کے جسم سے نہیں روح سے رہا ہے۔ گیارہ سال بعد حضرت رحمانی میاں نے دارالعلوم منظراسلام کے صدر المدرسین کابارگراں بھی آپ کے کاندھوں پر ڈال دیا۔ آپ اس عہدے پر رہتے ہوئے تعلیمی اورتنظیمی اعتبار سے دارالعلوم کی شہرت اورنام آوری کاپایہ بہت بلند فرمادیا۔

مصروفیتوں کادائرہ وسیع تر ہوتا چلاگیا تو باضابطہ تدریس ممکن نہیں رہ سکا تو اپنے دولت کدے پر درس قرآن وحدیث کی محفل سجادی۔ یہاں کی تدریس کی افادیت اس طرح اوربڑھ گئی کہ اس حلقہ ٔ درس میں زانوئے تلمذتہہ کرنے کے لئے تین تین جامعات منظراسلام ، مظہراسلام اورجامعہ رضویہ کے طلبہ کی بڑی تعداد اکٹھی ہوگئی ختم بخاری شریف بھی تدریس کی اونچی منزل ہے آپ نے یہ کام بھی بطوراحسن ادافرمادیا۔

۱۴۰۷ھ اور۱۴۰۸ھ کو مدرسہ الجامعہ الاسلامیہ گنج قدیم رام پور میں ختم بخاری شریف کرایا۔ ۱۴۰۸ء کو جامعہ فاروقیہ بھوجپور ضلع مراد آباد میں بخاری شریف کاافتتاح فرمایا اورذی الحجہ ۱۴۰۹ء کو الجامعۃ القادریہ رچھا ضلع بریلی شریف میں شرح وقایہ کاطویل سبق پڑھایا۔ اب تک ملک وبیرون ممالک میں نہ جانے کتنے مدارس و جامعات میں درس بخاری دئیے اورجامعہ فاروقیہ بنارس میںختم بخاری کے موقع پر صاحب بخاری اورآخری حدیث پر ڈھائی گھنٹہ تقریر فرمائی اور دارالعلوم ضیاء السلام ہوڑہ میں ختم بخاری کے موقع پر علامہ ارشد القادری ، مولانا غلام آسی پیا، عزیز ملت مولانا عبدالحفیظ عزیزی اوردرجنوں علماء کرام کی موجودگی میں آخری حدیث پاک پر سیر حاصل گفتگو کی۔

آپ کا تعلق جس خانوادے سے ہے اس خانوادے کامابہ الامتیاز وصف فتویٰ نویسی ہے۔ خاندان میں فن سپہ گری کے محبوب مشغلے کو ترک کرکے فتویٰ نویسی اختیارکرنے کاسہرا حضرت مولانا رضاعلی خاں بریلوی کے سربندھتا ہے جنہوں نے ۱۸۳۱ء میں اس کاآغاز کیا۔ مجدد دین وملت نے فتاویٰ نویسی کاآغاز ۱۸۶۹ء فرمایا۔ حجۃ الاسلام مولاناحامد رضا خاں بریلوی نے فتویٰ نویسی ۱۸۹۵ء میں شروع کی حضور مفتی ٔ اعظم ہند نیء اس کارخیر کی ابتداء ۱۹۱۰ء میں کی جو ان کی رحلت ۱۹۸۱ء تک جاری رہا۔ ناناجان کے فضل و کمال کے سچے وارث حضرت تاج الشریعہ نے اس مبارک کام کاآغاز چودہ سال کی عمر میں کردیا۔ آپ نے اس دشوار گزارراہ کی منزل کو پانے کی خاطر شروع شروع میں ناناجان حضور مفتی اعظم ہند اورمفتی سید محمد افضل حسین مونگیری کی نقوش ہائے قدم کی پیروی کی یعنی ان باکمال ہستیوں کی نگاہوں سے دئیے گئے فتاوے گزارتے رہے ۔ پہلافتویٰ لکھا تو مفتی سید افضل حسین مونگیری کو دکھایا انہوں نے دیکھ کر شاباشی دی مگرکہاکہ ناناجان کی عمیق نگاہ تک اس کی رسائی ہونی چاہئے۔ ناناجان نے دیکھا تو فرط مسرت سے باچھیں کھل گئیں۔ داد تحسین سے نوازا ۔ یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک نہیں چلا۔ جلد ہی حضور مفتی اعظم ہند نے یہ عظیم ذمہ داری بھی آپ کو سونپ دی۔ مفتی اعظم ہند کے الفاظ میں بحوالہ حیات تاج الشریعہ:

’’اخترمیاں اب گھر میں بیٹھنے کاوقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے ۔ کبھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے اب تم اس (فتویٰ نویسی) کے کام کوانجام دو۔میں (دارالافتاء)تمہارے سپرد کرتاہوں۔

موجودہ لوگ سے مخاطب ہوکر حضورمفتی اعظم نے فرمایا:

آپ لوگ اب اخترمیاں سلمہ سے رجوع کریں ، انہیں کو میرا قائم مقام اورجانشین جانیں‘‘۔

ماہنامہ استقامت کانپور کی ۱۹۸۳ء کی ایک اشاعت میں اپنی فتویٰ نویسی کے تعلق سے آپ خود رقم طراز ہیں:

’’میں بچپن سے ہی حضرت (مفتی اعظم) سے داخل سلسلہ ہوگیاہوں۔ جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے اپنی دلچسپی کی بناء پر فتویٰ کاکام شروع کیا۔ شروع شروع میں مفتی سیدافضل حسین صاحب علیہ الرحمہ اوردوسرے مفتیان کرام کی نگرانی میں یہ کام کرتارہا اورکبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر فتویٰ دکھایاکرتاتھا ، کچھ دنوں کے بعد اس کام میں میری دلچسپی زیادہ بڑھ گئی اورپھر میں مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا، حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں وہ فیض حاصل ہوا کہ جوکسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی نہیں ہوتاہے۔

حیات تاج الشریعہ کے حوالے سے تاج الشریعہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

’’میں نے دارالعلوم منظرالاسلام میں پڑھا اورپڑھایا ، جامعہ ازہر میں بھی پڑھا ، شروع سے ہی مجھے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ اپنی درسی کتابوں کے علاوہ شروح وحواشی اورغیر متعلق کتابوں کاروزانہ کثرت سے مطالعہ کرتا، اورخاص خاص چیزوں کو ڈائری پر نوٹ کرلیاکرتاتھا۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مجھے جوکچھ بھی ملا وہ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی صحبت واستفادہ سے حاصل ہوا۔ ان کے ایک گھنٹہ کی صحبت، استفسارات اور استفادہ سالوں کی محنت ومشقت پر بھاری پڑتے تھے۔ میں آج ہر جگہ حضور مفتی اعظم کاعلمی وروحانی فیضان پاتاہوں ۔ آج جو میری حیثیت ہے وہ انہیں کی صحبت کیمیا اثر کاصدقہ ہے‘‘۔

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ میں یہ کام چند مفتیان کرام کے تعاون سے گھر سے ہی کرتے رہے۔ مگران کی رحلت کے بعد یعنی ۱۹۸۱ء میں اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ باضابطہ طور پر دارالافتاء کاقیام عمل میں لایا جائے لہٰذا اسی ضرورت کی تکمیل کی خاطر مرکزی دارالافتاء کاقیام عمل میں لایا گیا۔ آپ کی قیادت میں مفتی قاضی عبدالرحیم بستوی ، مفتی محمد ناظم علی قادری اورمفتی حبیب رضا خاں بریلوی پر مشتمل قافلہ تشکیل دیاگیا ۔ مفتی عبدالوحید خاں بریلوی کونقل فتاویٰ کاکام سونپا گیا۔ مولانا عبدالوحید خان بریلوی کے انتقال ۲۰۰۵ تک فتاویٰ کے اسی رجسٹر تیار ہوچکے تھے۔ مرکزی دارالافتاء کے فتاویٰ کے یہ رجسٹرطبع ہوکر منظر عام پر آجائیں تو فقہ حنفیہ کاعالمی سرمایہ ہوں گے۔

تاج الشریعہ کے فقہی کمالات اورباوقار فتاویٰ نویسی کی سب سے بڑی مثال وہ فتویٰ ہے جس نے ایوان اقتدار کو لرزہ براندام کردیاتھا۔ زمانہ ۱۹۷۵ء کاہے۔ قیام بنگلہ دیش کی تحریک میں اخلاقی اورفوجی مدد اورسقوط ڈھاکہ نے اس وقت کی وزیراعظم ہند آنجہانی اندراگاندھی کے حوصلے اتنے بلند کردئیے تھے اورانہوں نے اپنے اقتدار کواس قدر ناقابل تسخیر سمجھ لیاتھا کہ ملک میں ایمر جنسی لگادی۔ ایمرجنسی یعنی ہنگامی صورت حال کے نفاذ کے بعد شہریوں کے دستوری حقوق تقریباً چھین لئے جاتے ہیں۔ تحریر و تقریر پرسنسر بٹھادیاجاتا ہے۔ سرکاری عمال خود سر ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ان کوکسی مواخذے یامحاسبے کا خوف نہیں ہوتا وہ بے دریغ سرکاری احکامات کی تعمیل کرتے ہیں بلکہ بے لگام ہواکرتے ہیں ۔

ایمرجنسی کے کریلے پر سنجے گاندھی کانیم چڑھاتو حالات اور دگرگوں ہوگئے۔اسی وقت خاندانی منصوبہ بندی کابخار حکومت کے سر چڑھ گیا آبادی پر کنٹرول کاایک نادر منصوبہ ہاتھ آگیا ۔ حکم دے دیاگیا کہ مردوں کی نس بندی کردی جائے نس بندی ایک آپریشن جومردانہ عضوتناسل کی چند مخصوص رگوں کاہوتا ہے اورجس آپریشن کے بعد مردمادہ ٔ منویہ تولید کی طاقت گنوادیتا ہے۔ حکومت کے اشارے پریہ کام دھڑلے سے شروع کردیاگیا بزور قوت اس سفاکانہ عمل کی انجام دہی پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب کے جواز کا فتویٰ گنجے کو ناخن کے مصداق ہوگیا۔ ایسے افراتفری کے عالم میں تاج الشریعہ نے نس بندی کوازروئے شرع حرام قرار دیا۔ اس فتویٰ کے آتے ہی حکومت کی کارروائی کے خلاف ردعمل شروع ہوگیا۔ حکومت پریشان ہوگئی۔ چند بارسوخ لوگ بریلی بھیجے گئے تاکہ فتویٰ واپس لیاجائے مگر۔۔؎

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

آپ نے کسی صورت فتویٰ واپس لینے سے انکار کردیا۔ کسی دھمکی کی پروانہیں کی بلکہ صاحبان اقتدار کو تنبیہہ کی کہ ظلم اپنی انتہاپر پہنچ کر ختم ہوجاتاہے ۔ ۱۹۷۷ء کاجنرل الیکشن ان کی پیش گوئی کاثبوت بن گیا۔ پورے ملک سے کانگریسی اقتدار کاخاتمہ ہوگیا۔ حتیٰ کہ اپنے آپ کو درگا کی اوتار سمجھنے والی اندراگاندھی کوراج نرائن جیسے اوسط درجے کے لیڈرنے شرمناک شکست دی اوربعد کومرکز میں کانگریس کی واپسی ہوئی مگر بعض صوبوں میں تو آج تک واپسی نہیں ہوئی مثلاً مغربی بنگال جہاں ۱۹۷۷ء سے لے کر آج تک بایاں محاذ کی حکومت برقرار ہے۔

خاندان میں فتویٰ نویسی کی روایت کے علاوہ ایک اورروایت ایسی ہے جواس خانوادے کوامتیاز عطا کرتی ہے اور وہ ہے عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستحکم اورناقابل ترمیم روایت۔ اقبال نے صرف اظہار تاسف کیاتھا۔۔؎

عشق کی تیغ جگر داداڑائی کس نے
عقل کے ہاتھ میں خالی ہے پیام اے ساقی

مگر عقل کے ہاتھ کے خالی پیغام میں عشق کی تیغ جگر دار ڈالنے کاکام اعلیٰ حضرت نے کیا۔ انہوں نے عشق مصطفیٰ کی دولت لازوال کوامت مسلمہ کے دلوں میں بھردینے کے لئے جواقدامات کئے وہ حیرت انگیز ہیں مگراللہ جس سے جتنا بڑا کام لیناچاہتاہے اس کواتنا ہی مضبوط قلب و جگر عطا کرتاہے ۔ بہرحال عشق مصطفی کی دولت لازوال کے امین حضور تاج الشریعہ کو اس دیار پاک کی خوشبو اپنی طرف بلاتی رہی اورآپ نے پہلا حج ۱۹۸۳ء دوسرا حج ۱۹۸۵ء اورتیسراحج ۱۹۸۶ء میں کیا ۔ متعدد بار عمرہ سے مشرف ہوئے اورمصدقہ ذرائع کے مطابق تقریباً ہرسال رمضان المبارک میں مکہ مکرمہ اورروضۂ سرکار ابداقرار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کاشرف حاصل کرتے ہیں۔ ۱۹۸۶ء کے حج کے موقع سے کربناک صورت حال کاسامنا ہواجب ہندستانی مفسدین کے بہکاوے میں آکر سعودی حکام نے ایذا رسانی شروع کی۔چند واہیات قسم کے سوالات کئے اورمعقول جواب ملنے کے بعد بھی گرفتارکرلیا جیل میں رکھا ، اذیتیں دیں۔ سعودی حکومت اپنی جابرانہ پالیسی پرفخر و مباہات بھی نہیں کرسکی اس لئے کہ اس واقعہ کے خلاف بین الاقوامی احتجاج شروع ہوگیا۔ ملت کے زعماء نے لندن میں شاہزادہ عبداللہ اورترکی بن عبدالعزیز وزیر مملکت سے ملاقاتیں کیں اورانہیں اپنی غلطی پر نادم ہونے پر مجبور کردیا۔ ملاقات کرنے والے اکابرین میں علامہ ارشد القادری، مولانا عبدالستار خاں نیازی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، مولاناسید غلام السیدین، مولانا شاہد رضانعیمی، شاہ محمد جیلانی صدیقی، مولانایونس کاشمیری مولانا عبدالوہاب صدیقی، شاہ فرید الحق اوردیگر نے اجتماعیت کاثبوت دیتے ہوئے سعودی شاہزادوں کو اس اعلان پرمجبور کردیا:

’’حرمین شریفین میں ہر مسلک ومذاہب کے لوگ اب آزادانہ اپنے طور وطریقوں سے عبادت کریں گے ۔ کنزالایمان پرپابندی میرے حکم سے نہیں لگائی گئی ہے۔ مجھے اس کاعلم بھی نہیں ہے اب میلاد کی محافل آزادانہ طریقہ پر ہوں گی۔ کسی پر مسلط نہیں کیاجائے گا ۔ سنی حجاج کرام کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ (روزنامہ الاحرام قاہرہ ۱۲؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ/۱۹۸۷ء)

احتجاج کی بلند ہوتی لے کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے سعودی سفیر برائے ہندستان فواد صادق نے بریلی فون کرکے کہا:

’’حکومت سعودی عرب نے آپ کو زیارت مدینہ منورہ اورعمرہ کے لئے ایک ماہ کاخصوصی ویزا دیاہے اورہم آپ سے گزشتہ معاملات میں معذرت خواہ ہیں‘‘۔(حیات تاج الشریعہ ص ۳۱)

یہ حضرت تاج الشریعہ پر انعام ربانی کے ساتھ باطل پرحق کی بالادستی کاواضح اعلان ہے۔ حضور تاج الشریعہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات میں ہی نائب مفتی اعظم کے مسند جلیلہ پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ اس روحانی سلسلے کے سالارکارواں بھی بن چکے تھے حضور مفتی اعظم ہند کی پیری اورضعف کی وجہ سے ان کے نائب کو بننا ہی تھا۔ متعدد تبلیغی دوروں میں سلسلہ قادریہ رضویہ میں آپ کے متوسلین کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہوتا ہی جا رہاتھا مگر باضابطہ دورہ ۱۹۸۴ میں گجرات کافرمایا۔ ویراول ، پور بندر ، جام جودھپور، دھوراجی ، اپلیٹا اورچیت پور میں سینکڑوں گم کردہ راہوں کوسلسلہ قادریہ کی غلامی کاشرف بخشتے ہوئے امریلی شریف پہنچے تو وہ ہندستان کی اڑتیسویں آزادی کادن تھا وہاں ہزاروں لوگوں نے آپ کے دامن کرم سے وابستگی اختیار کی تین دنوں بعد چوناگڑھ کی ’بزم رضا‘ کی جانب سے رضا مسجد میں منعقد ایک جلسہ عام میں امیر شریعت حاجی نورمحمد رضوی مارفانی نے ’تاج الاسلام‘ کالقب دیا ۔

مفتی گجرات مولانا مفتی محمد میاں نے تائید فرمائی اورہزاروں کے مجمع نے نعرۂ ہائے تکبیر ورسالت سے تاج الاسلام کے لقب کااستقبال کیا۔ خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند مولانا مفتی سید شاہد علی رضوی رام پوری نے ہی سیدالمحققین اورفقیہہ اسلام کے القابات سے نوازا۔ ۱۹۸۵ء میں تاج العلماء حضرت سید اولاد رسول محمد میاں مارہروی کے خلیفہ مولانا حکیم محمد مظفر احمد رضوی بدایونی نے مفکر اہلسنت ، فقیہہ اعظم اورشیخ المحدثین کے القابات دئیے۔

تاج الشریعہ اورمرجع العلماء والفضلاء کے القابات قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا شاہ ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ اورفضیلت الشیخ حضرت العلام مولانا شیخ محمد بن علوی مالکی شیخ الحرم مکہ معظمہ نے دئیے اورکہاکہ ان القابات کے لئے موزوں ترین شخصیت کاانتخاب کیاگیا۔ ۲۰۰۵ میں شرعی کونسل آف انڈیا کے اجلاس میں مفتیان عظام اورعلمائے کرام کے جم غفیر نے قاضی القضاۃ فی الہند کاخطاب دیا۔ حق بہ حقدار رسید:

’’بے شک اللہ تعالیٰ نیک کاموں کااجر ضائع نہیں فرماتا‘‘۔(القرآن)

جیسا کہ عرض کیاجاچکا ہے کہ خانوادہ اعلیٰ حضرت میں علمی اورفقہی سربراہی کے شانہ بشانہ روحانی قیادت کی روایت چلتی آرہی ہے اورحقیقت یہی ہے کہ روحانی قیادت بھی اسی کوزیب دیتی ہے جو فضل وکمال کی وسعت اورتفقہ فی الدین کی گہرائی اورگیرائی کاحامل ہوتاہے۔ تاج الشریعہ کی ذہانت اورفطانت نے حضور مفتی اعظم ہند کو اس وقت اپنا گرویدہ بنالیاتھا جب آپ کھیلنے کودنے کی عمر کے تھے۔ ان کی نگاہ ولایت نے ان کے قلب منور اور مجلیٰ میں روحانی اقدارکی فراوانی بھی دیکھ لی تھی لہٰذا نیس سال کی عمر میں یعنی ۱۵؍ جنوری ۱۹۶۲ء کوایک خصوصی محفل میلاد میں جس میں شرکت کی دعوت علماء فضلاء شیوخ اورطالبان علم دینوی کو دی گئی تھی حضور مفتی اعظم ہند نے مستقبل کے تاج الشریعہ اورقاضی القضاۃ فی الہند مولانا محمد اختر رضاخاں ازہری کو اپنے قریب بٹھایا ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کرجمیع سلاسل عالیہ قادریہ سہروردیہ نقشبندیہ اورچشتیہ اورجمیع سلاسل احادیث کی اجازت و خلافت مرحمت فرمائی۔ ساتھ ہی اورادوظائف ، اعمال واشغال ، دلائل الخیرات حزب البحر اورتعویذات وغیرہ کی اجازت عطا کی۔

ماہنامہ نوری کرن فروری ۱۹۶۲ء کی اپنی اشاعت اس روحانی نظر کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

’’ علماء اورمشائخ کی اتنی بڑی جماعت ایک ساتھ ایک ایسی خلافت واجازت کی گواہ نہیں ہوئی ہوگی جیسی کہ اس تقریب کی۔ بھلا جس کے گواہ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ برہان ملت مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ، مولانا خلیل الرحمن محدث امروہوی،علا مہ مشتاق نظامی وغیرہم کی ذات بابرکات ہو۔ اس خلافت واجازت کے فیوض وبرکات کاشمار کیسے ممکن ہوسکتاہے۔‘‘

مارہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میںاحسن العلماء کے یہ الفاظ:

فقیرآستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتی اعظم علامہ اختررضا خاں صاحب کوسلسلہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت واجازت سے ماذون و مجاز کرتاہوں۔ پورا مجمع سن لے، تمام برکاتی بھائی سن لیں اوریہ علمائے کرام (جو عرس میں موجود ہیں ) اس بات کے گواہ رہیں۔

سید العلماء کی اجازت وخلافت، برہان الملت کی اجازت وخلافت اورماہنامہ اعلیٰ حضرت میں کوائف دارالعلوم کے عنوان سے ریحان ملت مولانا ریحان رضاخاں کی تحریر کایہ ٹکڑا:
’’بوجہ علالت یہ توقع نہیں تھی کہ اب زیادہ زندگی ہو، بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو۔ لہٰذا اختر رضا سلمہ کو قائم مقام وجانشین اعلیٰ حضرت بنادیاگیا ، جانشینی کاعمامہ باندھا گیااور عبا پہنائی گئی۔ یہ دستار اورعبا اورطلبہ کی دستار عبااہل بنارس کی طرف سے ہوئی۔‘‘

حضرت تاج الشریعہ کے علمی اورروحانی مدارج کی تکمیل کے شواہد ہیں۔

جیسا کہ عرض کیاجاچکا ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند کی نگاہ ولایت نے تاج الشریعہ کی ذات گرامی میں چھپے ہوئے ان جواہرات کو دیکھ لیا تھا جوانہیں رشد وہدایت کامینارہ بنانے والی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کمسنی میں بیعت کے شر ف سے نوازا اورنوجوانی میں خلافت واجازت کااعزازبخشا خود اپنے سامنے حضور مفتی ٔ اعظم ہند اس گوہر آبدار کو اوربھی آب دار اس طرح سے بناتے رہے کہ کوئی حلقہ ارادت میں شامل ہونے کی غرض سے حاضر خدمت ہوتاتوآپ اس متلاشی حق کو تاج الشریعہ کے دامن سے وابستگی کی تلقین کرتے ۔ اس طرح نانا جان کی حیات مبارکہ میں ہی نواسے کے غلاموں کاحلقہ اچھا خاصا وسیع ہوگیا تھاان کی رحلت کے بعد خلق خدا کی امیدوں اورتمنائوں کامرکز آپ ہی ہوگئے۔

اب تو حالت یہ ہے کہ تاج ا لشریعہ کے مریدین برصغیر ہندو پاک بنگلہ دیش کے علاوہ مدینہ منورہ، مکہ معظمہ ، ماریشش ، سری لنکا ، برطانیہ ، ہالینڈ، جنوبی افریقہ ، امریکہ ، عراق، ایران، ترکی، ملایا ، جرمنی ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، لبنان ، مصر، شام ، کناڈا اوردیگرایشیائی افریقی اوریوروپی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ حلقہ ارادت میں شامل مختلف ملکوں کے ا فراد کی ایک بڑی تعداد معاشرے کے کریمی لئیر (Cremmy Lair) پر مشتمل ہے۔ چاہے وہ عام آدمی ہو یاخاص سبھی اپنی قسمت پرناز کرتے ہیں کہ ان کو تاج الشریعہ جیسا آقا اوررہبر نصیب ہوا۔ مریدوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ایک تذکرہ نگار کایہ دعویٰ درست لگتاہے کہ ان کے مریدین کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ تعداد لامحدود ہوتی اگرانہوں نے اپنے مریدین میں سے اپنی مناسبت کے لائق افراد کو خلاف واجازت نہیں دی ہوتی۔ خلفاء کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے ۔ ذیل میں تاج الشریعہ کی خلافت سے سرفراز افراد کی فہرست پیش خدمت ہے۔

چند خلفاء کے اسماء حسب ذیل ہیں
٭مولانا عسجد رضاخاں قادری رضوی
٭مولاناسید غلام محمد حبیبی (اڑیسہ)
٭مفتی اخترحسین رضوی (خلیل آباد)
٭مولانا انیس عالم سیوانی (لکھنؤ)
٭مولانا ابوالکلام احسن القادری (ہوڑہ)
٭صوفی عبدالرحمن رضوی (ہوڑہ)
٭علامہ قمرالحسن بستوی (امریکہ)
٭ڈاکٹر غلام زرقانی (امریکہ)
٭علامہ عبدالحکیم شاہ جہاں پوری (پاکستان)
٭مولانا حنیف القادری (نیپال)
٭مولاناجمال ا حمد خاں رضوی (نوادہ)
٭مفتی ولی محمد رضوی (ناگور شریف)

حضور تاج الشریعہ نے خانوادہ رضویت کی ڈیڑھ سوسالہ علمی اورروحانی قیادت کی علم برداری کافریضہ کماحقہ ٗ اداکیا ہے۔ آپ نے راہ سلوک کے مسافروںکی رہنمائی کے ساتھ بحرعلوم کی غوطہ زنی بھی کی ہے۔آپ معقولات اورمنقولات میںیکساں طورپر دست گاہ کامل رکھتے ہیں آپ تحریر کے بادشاہ ہیں۔ تحریر کی ظاہری اورمعنوی خوبیاں قابل دید ہوتی ہیں ۔ آپ کاقلم رواں بھی ہے اورتوانا بھی یہی وجہ ہے کہ آپ جس موضوع پراظہار خیال فرماتے ہیں قلم برداشتہ اوربے تکان اوربے تکلف تحریر فرماتے ہیں ۔ بقول محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی علامہ ازہری کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتاہے کہ ہم اعلیٰ حضرت کی تحریر پڑھ رہے ہیں۔ آپ کی تحریرمیں دلائل اورحوالہ جات کی بھرمار بعینہ ویسی ہی ہوتی ہے۔
(بحوالہ حیات تا ج الشریعہ)

تاج الشریعہ کی مختلف علوم وفنون میں مہارت بلاشبہ ہمیں اعلیٰ حضرت کی یاد دلاتی ہے کہ ان کے آگے مشکلات علوم وفنون کی عقدہ کشائی یوں ہوتی تھی کہ بقول غالب ۔۔؎

سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

اورایک صدی کے بعد اس خاندان کے اس ذی وقار چشم و چراغ کاعالم یہ ہے کہ تفسیر ، علوم قرآن، حدیث، اصول حدیث، فقہ، معانی وبیان، ہیات الجدیدہ مربعات، علم الجفر ، عقائد و کلام ،جبر ومقابلہ ، فلسفہ، منطق صرف ، نحو ، تصوف ، تاریخ ، ادب، لغت، توقیت، حساب ، ہیت ، ہندسہ، تجوید وقرأت اورفن کتابت جیسے علوم ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔۔؎

زفرق تابقدم ہرکجا گرمی نگرم
کرشمہ دامن دل کی کشد کہ جااینجاست

مختلف علوم کے علاوہ اردو فارسی، عربی، انگریزی اور ہندی زبان میں اہل زبان کی طرح تحریر و تقریر میں احتمال پرقادر ہیں۔ یورپی ممالک کے اپنے دوروں میں آپ انگریزی زبان میں تقریر فرماتے ہیں عرب اور افریقی ممالک میں تقریر کی زبان عربی ہوتی ہے ۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کے اس شید ائی پر نوازشات کی بارش فرمادی ہے۔

ملکی اورغیرملکی تبلیغی دوروں کی بے انتہا مصروفیت کے باوجود تقاضائے فضل و کمال انہیں تصنیفات وتالیفات نیز تراجم پر مجبور کرتاہے۔ حیرت ہوتی ہے زہد و اتقا اوررشد وہدایت کی یہ قندیل تحریر کے اندھیاروں میں روشنی کیوں کر بکھیرپاتی ہے اورمطبوعہ اورغیر مطبوعہ تحریروں کایہ انبار کیسے جمع ہوپاتاہے ۔ فہرست دیکھئے اورآئینہ حیرت بن جائیے۔

مطبوعہ

۱-الحق المبین (روزنامہ الہدیٰ ابوظہبی کارد) (عربی)

۲- دفاع کنزالایمان (جمعیۃ العلماء ہند کے ترجمان کاجواب)(حصہ اول)

۳-ٹی وی اورویڈیو کاآپریشن (مولانامدنی میاں کے فتویٰ کاجواب)

۴-مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ جلد اول (عربی)

۵-تصویروں کا شرعی حکم (اردو)

۶-شرح حدیث نیت (اردو)

۷- شرح حدیث الاخلاص (عربی)

۸-حضرت ابراہیم کے والد تارخ یاآزر (عربی اردو)

۹-دفاع کنزالایمان (کتابچہ اردو)

۱۰-ایک اہم فتویٰ (اردو)

۱۱-تقدیم: التجلی السلم (مصنفہ امام احمد رضافاضل بریلوی)

۱۲-تین طلاقوں کا شرعی حکم (اردو)

۱۳-آثار قیامت (اردو)

۱۴-ہجرت رسول (اردو)

۱۵-القول الفائق لحکم الاقتداء الفاسق

۱۶- برکات الامداد (مصنفہ امام احمد رضابریلوی)
(اردو سے عربی)

۱۷- حاشیۃ البخاری (عربی بخاری شریف پر حاشیہ)

۱۸- تیسیرالماعون (مصفنہ امام احمد رضا بریلوی)
( ترجمہ ا ردو سے عربی)

۱۹-شمول الاسلام (مصنفہ امام احمد رضا بریلوی)
(ترجمہ اردو سے عربی)

۲۰-العطایاالقدیر (مصنفہ امام احمدرضا بریلوی)
(ترجمہ اردو سے عربی)

۲۱-قصید تان رائعتان (مصنفہ امام احمد رضا بریلوی)
(عربی سے اردو)

۲۲-المعتقد المستند (مصنفہ علامہ فضل رسول بدایونی)
(عربی سے اردو )

۲۳- فقہ شہنشاہ (مصنفہ امام احمد رضا بریلوی)(اردو سے عربی)

۲۴-اہلاک الوہابین (مصنفہ امام احمد رضا بریلوی) (اردو سے عربی)

۲۵-الہادی الکاف (مصنفہ امام احمد رضا بریلوی) (اردو سے عربی)

۲۶-نموذج حاشیۃ الازہری (عربی)

غیر مطبوعات
۲۷-مرآت النجدیہ بجواب البریلویہ جلد دوم (عربی)

۲۸- حاشیہ عصیدہ الشہد ہ شرح القصیدۃ البردہ (عربی)

۲۹-الحق المبین (اردو)

۳۰-دفاع کنزالایمان (حصہ دوم)

۳۱-کیادین کی مہم پوری ہوچکی (عہد جامعہ ازہر کامقالہ)

۳۲-ترجمہ:الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی (مصنفہ امام احمد رضا بریلوی) (عربی)

۳۳-اسمائے سورۂ فاتحہ کی وجہ تسمیہ

۳۴-جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم (عہد طالب علمی کامقالہ )

۳۵- مسٹر عارف سنبھلی نے عقائد وہابیہ کی تائید میں ایک تفصیلی گمراہ کن مضمون اخبارات میںشائع کرایا، تاج الشریعہ نے اس مضمون کامسکت جواب دیاااوررد بلیغ فرمایا، حضرت کے اس مقالہ کو ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی نے دو قسطوں میں شائع کیاتھا۔

۳۶- آپ نے درمیان درس وتدریس قرآن شریف لکھنے کاآغاز کیا۔ ہر ماہ جن آیات کی تفسیر تحریر کرتے اس کو ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی میںشائع کرادیتے۔ تفسیر کے لب ولہجہ ، سلاست وروانی اورافادیت واہمیت کو دیکھتے ہوئے جناب امید رضوی بریلوی ایڈیٹر ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی نے ’’ضیاء القرآن‘‘ کے عنوان سے ایک کالم مخصوص کردیاتھا۔ آپ کی لکھی ہوئی تفسیر مذکورہ عنوان سے مسلسل قسط وار شائع ہوئی۔ آپ نے جب ماہنامہ سنی دنیا بریلی سے نکالنے کی اجازت حکومت ہند سے طلب کی تو ابتدائی دور میں آپ نے ’’تفسیر سورہ فاتحہ‘‘ کے عنوان سے پانچ قسطوں میں سورہ فاتحہ کی شاندار تفسیر فرمائی جوماہنامہ سنی دنیا بریلی میں شائع ہوئی ۔ مذکورہ علمی ذخائر کو تلاش و جستجو کے بعد جمع کرکے منظر عام پر لانا بہت مفید ہوگا۔

تقاریظ و تاثرات

۱-دعائیہ کلمات برسامان بخشش ، از حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفی رضانوری بریلو ی قدس سرہ،
۲ -دعائیہ کلمات برجمال مصطفی ہمارا میگزین، منجانب طلبہ مجلس رضا الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رام پور ۔
۳-تقریظ برمجدد اسلام بریلوی: از مولانا صابر القادری نسیم بستوی
۴-تقریظ برشرح مثنوی رداامثالیہ : از قاری غلام محی الدین شیری خطیب ہلدوانی رحمتہ اللہ علیہ۔
۵-تقریظ مرشدبرحق: ازحافظ افتخار ولی خاں رضوی پیلی بھیت
۶- تقریظ برتجلیات امام احمد رضا: قاری الحاج محمدامانت رسول نوری پیلی بھیتی
۷-تقریظ برتذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ : از مولانا عبدالمجتبیٰ رضوی سندر پوری مرحوم ، مدرس، مدرسہ مجیدیہ بنارس۔
۸-تقریظ براعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں انصاریوں کامقام: از قاری محمد امانت رسول پیلی بھیتی۔
۹- تقریظ برپندرہویں صدی ہجری کے مجدد: از قاری امانت رسول نوری
۱۰-تقریظ برمکاشفۃ التجوید: از قاری ابوالحمادحامد علی رضوی شاہ پوری شیخ التجوید والقرآت منظراسلام بریلی
۱۱-تقریظ برمفتی اعظم اوران کے خلفاء : از محمد شہاب الدین رضوی بہرائچی ثم بریلوی
۱۲-تقریظ برمولانا رضاعلی خان بریلوی اورجنگ آزادی از: محمد شہاب الدین رضوی بہرائچی ثم بریلوی
تحریر اورتقریر کے شہنشاہ وقت کی عملی زندگی کی شروعات درس و تدریس سے ہوئی لہٰذا ان کے آگے زانوئے ادب تہہ کرنے والے خوش نصیب طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہے ۔ اس نیر تاباں نے جس کواپنی کرنوں سے ضیابار کیا وہ انجم درخشاں بن گیا ۔ اس لمبی فہرست میں چند ایسے نام پیش ہیں جو علم و فضل کے آسمان پر تابندگی بکھیر رہی ہے۔

چند تلامذہ کے اسماء یہ ہیں
٭مفتی سید شاہد علی رضوی (رامپور)
٭مولانا منان رضاخاں منانی میاں (بریلی شریف)
٭مفتی ناظم علی بارہ بنکوی (بریلی شریف)
٭مولانا عسجد رضاخاں بریلوی (بریلی شریف)
٭مولانا مظفر حسین کٹیہاری (بریلی شریف)
٭مولانا وصی احمد رضوی (برمنگھم)
٭مولانا شبیر الدین رضوی (بنگال)
٭مولانا ایوب رضوی (بنگال)
٭مولاناشاہ الحمید الباقوی (کیرالا)
٭مفتی عبید الرحمن رضوی (بریلی شریف)

فقاہت اورعلمیت کے ساتھ شاعری بھی اس خانوادے کی میراث ہے۔ میلاد کی محفلوں میں حصول برکت کی خاطر پڑھی جانے والی نعتوں کواعلیٰ حضرت نے اپنے کمال شاعری سے ادبیات عالیہ کاناقابل فراموش حصہ بنادیا مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام ہے۔ استاد زمن حضرت حسن بریلوی نے اردو نعت کاکینوس وسیع تر کیا اور آپ کا یہ شعر تو اردو ادب میں لافانی ہوگیا۔۔؎

جو سر پر رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

ناناجان مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضاخاں نوری نے نعت کی اس روایت کو اورتوانائی بخشی ان کایہ شعر تو زبان زدعام ہوگیا۔

سنگ در جاناں پہ کرتاہوں جبیں سائی
سجدہ نہ سمجھ نجدی سردیتاہوں نذرانہ

تاج الشریعہ نعت پاک کی اس پاک وراثت کے امین ہیں اس لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ فقاہت، علمیت اورروحانیت کے میدانوں میں توان کے کمالات ظاہر ہوتے شاعری رہ جاتی۔ لہٰذا اس فن کو بھی آپ نے عشق رسول میں ڈوب کر لازوال سرمائے عطا کئے بس ایک شعر دیکھئے۔

بناتے جلوہ گاہ ناز میرے دیدہ و دل کو
کبھی رہتے وہ اس گھر میں کبھی رہتے وہ اس گھر میں

تاج الشریعہ کی قائدانہ صلاحیتوں سے انکارنا ممکن ہے۔ ایمرجنسی کے ایام میں نس بندی کے خلاف فتویٰ دے کر آپ نے ملی جذبات کی بھرپور ترجمانی کی اوراس بات کی قطعاً پرواہ نہ کی کہ حکومت وقت کامعاندانہ رویہ کس صورت ظاہر ہوگا۔ شاہ بانو بنام احمد مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے شریعت اسلامیہ کو جس طرح نشانہ بنایاتھا وہ کسی طرح اسلامیان ہند کے لئے قابل قبول نہیں تھا مسلم پرسنل لابورڈ جس کے ارکان کی اکثریت حکومت کے حاشیہ برداروں پر مشتمل تھی (صورت حال آج بھی نہیں بدلی ہے ملی قیادت کے نام پر ایک مخصوص طبقہ پرسنل لا بورڈ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور آج بھی جاہ طلب لوگوں کی اکثریت ہی اس کے مجلس خاص سے جڑی ہوئی ہے) اس لئے کوئی موثر تحریک اس کی جانب سے ممکن نہیں تھی اس وقت مسلم پرسنل لا کانفرنس کے بینر کے تحت پورے ہندستان میں جوبڑے بڑے احتجاجی جلسے ہوئے انہوں نے حکومت وقت کے ہوش اڑادئیے اورایسے تمام جلسوں میں تاج الشریعہ نے ضرور شرکت کی عوام کو ایک صالح قیادت فراہم کی۔ (یہ اوربات ہے کہ جن حضرات نے مسلم پرسنل لا کانفرنس قائم کی تھی انہوں نے وہی وطیرہ اختیارکیا جو پرسنل لاکانفرنس ہوامیں تحلیل ہوگئی اورتاج الشریعہ جیسی شخصیتوں کی صالح قیادت سے ملت اسلامیہ ایک بار پھر محروم ہوگئی)بابری مسجد کی بازیابی کی تحریک میں بھی آپ نے اپنا موقف اٹل رکھا۔اور ایسے ظالموں کو باریابی بھی نہیں بخشی جن کے ہاتھ بابری مسجد کے خون سے رنگے تھے۔ اس معاملے میں ان کی جرأت کی انتہایہ ہوئی کہ سابق وزیراعظم نرسمہارائو کے بریلی پہنچنے پر نہ صرف انہوں نے ملنے سے انکار کردیا بلکہ خدام تاج الشریعہ نے لاحول کی کثرت سے وزیراعظم کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ آپ نے ایک وقت میں سنی جمیعۃ العلما کی صدارت بھی فرمائی۔ ملی اتحاد اورملی سربلندی کے سلسلے میں ان کے جذبات کا پتہ مختلف اداروں کی ان کی سرپرستی سے چلتاہے۔ فہرست حاضر ہے۔

۱-مرکزی دارالافتاء ، سوداگران بریلی شریف
۲- مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا متھراپور بریلی
۳- ماہنامہ سنی دنیا و مکتبہ سنی دنیا، بریلی شریف
۴-آل انڈیا جماعت رضا ئے مصطفی ، بریلی شریف
۵-اختر رضالائبریری ، صدر بازار چھائونی، لاہور( پاکستان)
۶-مرکزی دارالافتاء ، ڈین ہاگ، ہالینڈ
۷-رضااکیڈمی ، دونٹااسٹریٹ کھڑک ممبئی
۸-جامعہ مدینۃ الاسلام ،ڈین ہاگ ، ہالینڈ
۹-الانصار ٹرسٹ ، ملکی پور، بنارس
۱۰-الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رامپور
۱۱-الجامعۃ النوریہ ، عینی قیصر گنج ضلع بہرائچ
۱۲-الجامعۃ الرضویہ و ماہنامہ نور مصطفیٰ ، مغل پورہ ، پٹنہ، بہار
۱۳-مدرسہ عربیہ غوثیہ حبیبیہ ، برہان پور، ایم پی
۱۴-مدرسہ اہل سنت گلشن رضا ، بکارواسٹیل ، دھنباد ، جھارکھنڈ
۱۵-مدرسہ غوثیہ جشن رضا ، پٹیلا گجرات
۱۶- دارالعلوم قریشیہ رضویہ، گوہاٹی، آسام
۱۷-مدرسہ رضاء العلوم گھوگار ی محلہ ممبئی
۱۸ – مدرسہ فیض رضا ، کولمبو، سری لنکا
۱۹-سنی رضوی جامع مسجد ، نیو جرسی، امریکہ
۲۰ – النور سوسائٹی ومسجد ، ہوسٹن، امریکہ
۲۱-جامعہ امجدیہ ، ناگپور
۲۲- درالعلوم حنفیہ ضیاء القرآن ، لکھنو
۲۳-امام احمدرضا سوسائٹی (کولکاتا)

نیز آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء ممبئی کاصدر دفتر ۱۹۷۰ء میں بنایاگیااورابتداء سے تادم تحریر مشہور ومعروف اشاعتی ادارہ رضا اکیڈمی ممبئی کی سرپرستی بھی کررہے ہیں۔

حضرت علامہ ارشدالقادری کی تحریک پر ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۵ئ/۱۴۰۵ھ کو اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میںاکابر اہلسنت کادینی وعلمی اجتماع ہوا۔ افتتاحی تقریر علامہ ارشد القادری کی ہوئی۔ کافی دیر تک بحث و مباحثہ کے بعد جانشین مفتی اعظم کی قیادت میںسارے ملک سے فقہی مسائل اورعلوم شرعیہ میں رسوخ رکھنے والے مفتیان کرام پر مشتمل ’’شرعی بورڈ ‘‘ کی تشکیل عمل میں لائی گئی اورجانشین مفتی اعظم کواس کاصدر منتخب کیاگیا۔
دسمبر ۱۹۸۶/۱۴۰۶ھ کو مسلم پرسنل لاکونسل کی ادارہ ٔشرعیہ اترپردیش رائے بریلی میں تشکیل ہوئی ۔ آپ کو بحیثیت صدر مفتی پیش کیاگیا۔ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی کے زیراہتمام چلنے والی شرعی کونسل آف انڈیا ، اورامام احمد رضاٹرسٹ کے آپ صدر نشین ہیں۔

حجاز کانفرنس لندن:

عالم اسلام کے بنیادی اور عالمی مسائل کی پیچیدگیوں کے پیش نظر ورلڈ اسلامک مشن لندن کے زیراہتمام ہونے والی حجازکانفرنس میں جانشین مفتی اعظم اور علامہ ارشد القادری شرکت کے لئے ۲۱؍ اپریل ۱۹۸۵ئ/۱۴۰۵ھ کو بذریعہ طیارہ لندن تشریف لے گئے۔ ۵؍ مئی کو کانفرنس کاانعقاد ہوا اوراس میں جانشین مفتی اعظم نے خطاب بھی فرمایا۔ تقریر بی بی سی لندن سے نشر ہوئی۔ حجاز کانفرنس میں شرکت کے بعد عمرہ کے لئے حرمین شریفین تشریف لے گئے اورواپسی یکم جون ۱۹۸۵ئ/۱۴۰۵ھ کو بریلی شریف ہوئی۔ یاد رہے کہ حجاز کانفرنس کی صدارت آپ ہی نے فرمائی تھی۔ اس کانفرنس کی اہمیت اس لئے ہے کہ یہ بین الاقوامی کانفرنس تھی جس میں پوری دنیا کے قائدین نے شرکت کی اور درپیش مسائل پر کھل کر بحث ہوئی اورحل کے لئے لائحہ عمل تیارکیاگیا۔

  مظہراسلام کمیٹی کی تشکیل:
حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی سرپرستی میں’’رضوی دارالعلوم مظہرالاسلام‘‘ کے نام سے مسجد اسٹیشن بریلی میں ایک مدرسہ قائم کیاگیا۔ جس کی ایک مجلس عاملہ تشکیل دی گئی اورساتھ ہی ساتھ ایک طویل اتحادی معاہدہ بھی طے ہوا۔ یہ بات یاد رہے کہ اس سے قبل حضور مفتی اعظم قدس سرہ تحریری صورت میں تاج الشریعہ کومظہرالاسلام کاصدر بناچکے تھے۔

اس مسودہ میں۸ معاہدے ہیںاورپانچویں معاہدے میں مفتی اعظم قدس سرہ کی تحریر کی توثیق کی گئی ۔ من وعن ملاحظہ ہو۔
رضوی دارلعلوم مظہر اسلام سٹی بریلی شریف کادستورو نظام حضرت مفتی اعظم کی تحریر وخواہشات کے مطابق ہوگا۔اور خاندانی دستوری کمیٹی وہ ہوگی جو معاہدے کے ساتھ منسلک ہے کیوں کہ حضرت (مفتی ٔ اعظم) کی تحریر کے مطابق مولانااختر رضا خاں صاحب دارالعلوم ہذا کے صدر ہیں۔

رضوی دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کے سرپرست مولانا ریحان رضا رحمانی بریلوی منتخب ہوئے اورصدر ومتولی تاج الشریعہ کوبنایاگیا ، نائب صدر امین شریعت مولانا سبطین رضاخاں بریلوی ، مولانا الحاج خالد علی خان کو ناظم اعلیٰ ، مولانا منان رضاخان کو نائب ناظم، جناب عثمان رضاخاں انجم کو محاسب، حضرت علامہ تحسین رضا خاں محدث بریلوی کو خازن ، عبدالحسیب عرف انوبھائی نگراں ہوئے۔ اورمجلس عاملہ کے ممبران میں خاص طورپر مولانا قمر رضاخاں ، مولانا محمد توصیف رضاقادری کے نام قابل ذکرہیں۔

حضرت تاج الشریعہ کی ذات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اتنے کمالات ظاہری اورباطنی بھردئیے ہیں کہ ان کی ذات فی نفسہ کرامات بن گئی ہے۔ اللہ نے حسن وجمال میں یکتائی کے ساتھ چہرے پر بزرگی کے ایسے نقوش قائم کردئیے ہیں کہ ان کے چہرہ زیبا پر نگاہ پڑتے ہی لوگوں کے قلوب منقلب ہوجاتے ہیں ۔ بدعقیدگی کی گرد چھٹنا شروع ہوتی ہے اور آدمی ان کے دست حق پرست پر ہاتھ رکھ کر خوش عقیدہ ہوجاتا ہے۔ دعوت وتبلیغ کی حکمت شان ولایت سے مملو ہوتی ہے تو کتنے مشرکین آپ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوجاتے ہیں ۔ آپ کا قلم جب علم کی تابانیاں بکھیرتا ہے تو ضلالت منہ چھپاتی ہے ۔ عبادت وریاضت اورخشیت الٰہی کا یہ عالم ہے کہ کسی حال میں نماز قضا نہیں ہوتی اورایک بھی سنت ایسی نہیں ہے کہ اداہونے سے رہ جاتی ہے ۔ حکمت و دانائی اورملی جذبے سے سرشاری رگ و پے میں ہے۔ ایسی شخصیتیں روز روز پیدانہیں ہوتیں۔ مگر ہم کتنے کم نصیب ہیں کہ ان کی ذات میں چھپے ہوئے جواہرات سے استفادہ نہیں کرتے ان کی دست بوسی کے لئے ایسے ہنگامے کرتے ہیں کہ بعض اوقات اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ ان سے تعویذات لکھوائے اوران کے قدوم بابرکات سے اپنے گھروں اورمحلوں کو فیض یاب کرکے انہیں رخصت کردیتے ہیں۔

اے کاش ملت اسلامیہ اپنی قیادت کے خلاء کو پرکرنے کے لئے ان سے فیض پاتی مگرمادہ پرستی کے اس دورمیں جہاں مادی فائدہ نقصان ہی سب کچھ ہے اس بات کی توقع بھی کیوں کی جائے۔

 

 

Menu
error: Content is protected !!