حضور تاج الشریعہ کی پرکشش شخصیت

مفتی ولی محمد رضوی ،  ناگور،انڈیا


بندے کے لئے عزت ومقبولیت جس کی بنیاد احکام شریعت کی بجاآوری سے ہوتی ہے وہ یقینا من جانب اللہ ہوتی ہے۔ خداکے نیک اورمحبوب بندوں کی مقبولیت ایک لازوال نعمت کانام ہے زیادہ تر یہ حضرات سادگی کی زندگی گزارتے ہیںریاو نمود سے اپنے کو دور رکھتے ہیں مگران کاسچا چاہنے والا خدا ان پراتنا مہربان ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں کو ان کی محبت سے بھردیتاہے لوگ خود بخود ان کی طرف مائل ہوتے ہیں تاریخ اسلام ایسی مقبول ہستیوں سے بھری ہوئی ہے جن حضرات کاتاریخ اسلام سے تعلق رہا ہے اورتاریخی کتب پرجن کی نظرہے وہ کبھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے مثال کے طور پر حضور سیدنا غوث اعظم دستگیر روشن ضمیر رضی اللہ عنہ اورحضور سیدنا خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی ذات گرامی ہی کو لے لیں آج ان بزرگوںکو جوخداداد مقبولیت حاصل ہے وہ فضل ربی ہے کہ صدیوں سے کروڑوں انسانوں کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں اہل ایمان عقیدت مندان اولیائے کرام صدیوں سے ان کی عقیدت کادم بھررہے ہیں اورحب اولیاء میں سرشار رہتے ہیں۔ یہ نہ ظاہر میں ہمارے درمیان موجود ہیں نہ ان کا لشکر اورظاہری دولت کاخزانہ ہے نہ کسی قسم کی مادی قوت کاسامان ہے مگر قسم رب ذوالجلال کی دین وسنیت کے ان رہبروں کوجو عالمگیر شہرت حاصل ہے وہ نہ کسی شاہ زمن کو ملی نہ کسی سلطان وقت کو حاصل ہوئی بلکہ سچ پوچھو تو یہ روحانی حکومت کے تاجدار ہیں اوریہ حکومت روز بروز ترقی حاصل کرتی جارہی ہے اس سے بارگاہ رب میں ان کی شان وقرب کاپتہ چلتاہے دنیوی بادشاہوں کی سلطنت کے لئے زوال ہے مگر سبحان اللہ ان مقبولین کے لئے جومقبولیت ہے اس میں نہ کمی ہوتی ہے نہ کبھی وہ فنا ہوگی۔ کیوںکہ ان کی عزت و عقیدت کی اصل بنیاد خداکی معرفت اوراطاعت مصطفیٰ ہوتی ہے۔ اس سچے تعلق نے انہیں بلند وبالا مقام تک پہنچادیا ہے اوریہاں پہنچنے والا پستی کی طرف نہیں جاتا ۔ دیندار ی کی بنیاد پر جو عزت ملتی ہے اس کی قدر ومنزلت بڑھتی ہے۔
خدائے کریم نے دینداری کی بنیاد پر شہروں ، علاقوں اورملکوں کو مقبولیت ومحبوبیت عطا کی ہے شہر مکہ اورشہر مدینہ اہل ایمان کے دلوں کانور ہیں ، بغداد، اجمیر اورمارہرہ و کچھوچھہ شریف انہی شہروں کی نسبت سے روشن ہیں۔ان کے علاوہ اولیاء اللہ کے مسکن ہونے کی وجہ سے کئی شہر مقبولیت و شہرت حاصل کئے ہوئے ہیں۔
الحمدللہ آج شہر بریلی دینی وسنی عظمتوں کے لحاظ سے کروڑوں مسلمانوں کامحبوب بناہواہے ایساکیوں؟صدیوں سے لوگ اسے بریلی کہتے رہے کئی معروف اشیاء کے سبب اسے یاد کیاجاتاتھا مگر پٹھان خاندان کے ایک نامور فرزندعالم باوقار علامہ رضاعلی خاں علیہ الرحمہ کی صلاحیت وقابلیت کاشہرہ ہواتو اب ایک طبقہ اہل علم کا اس بزرگ کی نسبت سے اس شہر کو محبت کی نگاہ سے دیکھنے لگا اوردلوں کی دنیامیں ایک چمک پیداہوتی رہی ، ایک زمانہ کے بعد ان کے آنگن میں ایک اورخوش بخت ذات علامہ نقی علی خان نے جنم لیا ان کی علمی شان کاچرچا ہونے لگا تو اب اور زیادہ اہل علم کی توجہ اس کی جانب ہونے لگی اب دو چراغ نور بکھیر رہے ہیں نوابوں والیوں کو بھی اس کی خبر ہوگئی کہ علم وعمل کے یہ چراغ یہاں موجود ہیں ، علم کے ساتھ ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت سے یہ حضرات مالامال تھے اوراسی دولت کو دوردور تک لٹاتے رہے۔ اللہ اکبر۔ وہ مبارک دن آیا کہ شہر بریلی کا نصیبہ جاگا اس خاندان کی قسمت بلند ہوئی کہ اس گھرانے میں اب وہ تولد ہوا کہ جسے دادا جان نے ’’احمد رضا‘‘ کہا اورخود اس فرزند نیک نے اپنے کو عبدالمصطفیٰ کے نام سے پہچنوایا اوریوں اپنے دل کو تسلی دی کہ

تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے

اس ذات بابرکت کے قدم کیاآئے کہ انعام واکرام خداوندی کی بارش ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ یہ نومولود رفتہ رفتہ علم وفن کے میدان میں ممتاز مقام حاصل کرنے لگا فتویٰ نویسی کی طرف متوجہ ہوا تو ایسے علم کے دریا بہائے کہ اہل علم ا س کے فتاوے دیکھ کر حیران رہ گئے یقینا خدائے تعالیٰ جسے بڑھاناچاہے تو اسے کون گھٹا سکتاہے۔اب تو عوام وخواص کامرکز یہی شہر ہونے لگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کی توجہ اس طرف کس نے کی تھی کون سامیڈیا یاموبائل فون وغیرہ ترسیلی نظام تھا پھر دلوں کی دنیا کیسے فتح ہورہی تھی اہل دل کامرکز بریلی کیسے بن گیا۔ یہ فضل ربی ہے اورشرافت والے گھرانے سے اسے عالمگیر شہرت مل گئی اوراب عقیدت مند اسے بریلی ہی نہیں بلکہ مرکز اہل سنت بریلی شریف کہتے ہیں۔ اہل اللہ اورصاحبان کرامت جد ھر چلے گئے ادھر ہی عزت وعظمت کی بارش ہونے لگتی ہے ۔ پھر کیاوجہ ہے کہ بعض چہرے اس کی عظمت و فضیلت کودیکھ کر مرجھاجاتے ہیں۔ مگر وہ جل کرراکھ ہوجائیں گے عظمت محبوبان خدا میں تو اضافہ ہی ہوتا رہے گا اوران کے طفیل ان کے شہروں کو بھی شہرت وعزت ملتی رہے گی ؎
گونج گونج اٹھے ہیں نغمات ِرضا سے بوستاں
نہ صرف امام احمدرضا بلکہ ان کے اکابر و آباء واجداد اوران کے صاحبزادگان کی علمی حیثیتوں کے چرچے دنیا بھر میں گونج رہے ہیں۔ حجتہ الاسلام علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ اورمفتی اعظم علامہ محمد مصطفیٰ رضاخاں رضی اللہ عنہ پھر ان کے جانشینوں کو جو عظمت حاصل ہوئی وہ سب پر ظاہر ہے آج لاکھوں کروڑوں دلوں میں ان کی عقیدتوں کے دیپ جل رہے ہیں ۔ پھر فضل رب سے آج کے دور میں جانشین مفتی اعظم ہند تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختررضا خاں قادری دام ظلہ العالی کو جو خداداد عزت و شہرت ملی ہے وہ بے مثال ہے وہ چمکتے دمکتے آفتاب کی طرح ہیں، جہاں دیکھو علماء و فضلا کے جھرمٹ میںیاشیوخ طریقت کے مجمع میں ہرجگہ وہ بلند نظر آتے ہیں بناوٹ و نمود سے مستغنی، خود ستائی سے دور و نفور، دنیوی منشاء وچاہت سے نظریں پھیرنے والے حرص و طمع سے تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے نذر ونذرانہ سے بے نیازی ، تعریف و توصیف سے بے پرواہی کبھی کسی دنیادار کی تعریف کے لفظ نہ سنے گئے نہ اہل دنیا سے دنیا طلبی کے مظاہرے دیکھے گئے ان تمام نامناسب باتوں سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھا ہے جو دنیا وی خواہشات سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے اخلاق رذیلہ سے اجتناب کرتاہے اس کی تو خوب فضیلت بیان ہوئی ہے کیوں نہ وہ دلوں میں بسے گا۔وہ اب اس مقام پر عظیم شمع ہے اورہر طرف سے پروانے اس پر نثار ہورہے ہیں سبحان اللہ چہرہ پرنور صورت وجیہ کہ لوگ دیکھنے کو ترستے ہیں ، دھکے کھاتے گرتے پڑتے ہیں مگر قربان ہوناچاہتے ہیں تمنا کرتے ہیں کہ بس ایک جھلک چمکنے والے اختر رضا کو دیکھنے کومل جائے۔شہزادۂ مفتیٔ اعظم ہند اورنبیرۂ اعلیٰ حضرت کا دیدار ہوجائے، جہاں چلے جاتے ہیں جنگل میں منگل کردیتے ہیں۔ جس نے بھی سن لیا کہ فلاں جگہ تاج الشریعہ کی آمد ہے پروانہ وار دوڑ پڑتاہے عام لوگ ہی نہیں علماء وفضلا کشاں کشاں جاتے ہیں دیندار بھی اوردنیادار بھی، ایک امنگ کے ساتھ کہ دامن سے وابستہ ہوں گے فیض پائیںگے اوراعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے اپناکنکشن جوڑ لیں گے ، جب دیکھتے ہیں دیکھتے رہ جاتے ہیں پھر جب وہ بولتے ہیں تو پھول جھڑتے ہیں ان کے ظاہر و باطن سے تقویٰ کی جھلک نظرآتی ہے اورعلم و کمال کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔ تصلب فی الدین کا توپوچھنا ہی کیا ؎

چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنائے صحرا کو

بحمدہ تعالیٰ آپ کی ذات صدابہار ہے علم کے کوہ گراں ہیں حق گوئی میں بے مثال اوراحقاق حق و ابطال باطل میں کبھی کسی کی پرواہ نہیں کرتے، حکومت وطاقت زور وظلم آپ کو مرعوب نہ کرسکے ۔ ؎

آئین جواں مردی حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

وقت آنے پر نجدیوں کی ضلالت وگمراہیت کو بے نقاب کیا اوراسلام وسنیت کی حقانیت کے پرچم گاڑ دئیے، آپ جدھر سے گزر جائیں فصل سنیت پر بہار کاسماں ہوجاتاہے۔ نجدیت کی کھیتی راکھ ہوجاتی ہے۔ آپ کے قلم کی کاٹ سے نجدیت کی گردنیں کٹتی جاتی ہیں آپ کے رسائل و فتاویٰ اس پر شاہد ہیں اگرکسی جلسہ میں تشریف لے جائیں تو خواص وعوام کی توجہ کامرکز ہوتے ہیں ۔ ہرطرف آپ کی چاہت ہے سیکڑوں آپ کے دست حق پر بیعت ہوکر توبہ کرتے ہیں یہ فیضان غوث اعظم ہے اوران کی غلامی کا صدقہ ہے پیران طریقت آپ کی عظمتوں کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ازھری میاں سے مرید ہوجائو وہ تمہیں کامیابی کے راستے پر لے جائیں گے۔ سبحان اللہ۔
یہ عظمت و فضیلت اورعزت وکرامت وہی ہے جو قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ، چنانچہ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کومحبوب کرتاہے تو جبرئیل سے فرماتاہے کہ فلاں میرا محبوب ہے جبرئیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر جبرئیل آسمانوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کومحبوب رکھتاہے سب اس کو محبوب رکھیں تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں۔ پھر یہ من جانب اللہ ہے یہ خداداد مقبولیت کہ دلوں میں عقیدت جوش ماررہی ہے جو آپ کو ایک نظر دیکھ لیتاہے اپنی سعادت مندی سمجھتاہے باغ باغ ہوجاتاہے اور کوئی باوجود سعی کے دیدار نہیں کرپاتا تو حسرت رکھتاہے بڑے بڑے شرفا بھی آپ کے دامن سے وابستہ ہیں۔ علم وعمل ، ذہانت و فطانت ، محبت خدا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بے مثال ہیں جس کا علماء ومشائخ بھی اعتراف کرتے ہیں، عربی دانی بھی بہت خوب ہے ۔زبانی عربی کتب کے ترجمے املاکرادینا آپ کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔ آپ کے علمی مضامین اورفتاویٰ استناد کا درجہ رکھتے ہیں تصنیف و تالیف سے بھی شغف ہے اردو کے علاوہ عربی میں بھی آپ لکھتے ہیں کئی کتب اعلیٰ حضرت کے ترجمے کرچکے ہیں جنہیں دیکھ کر آپ کی عربی دانی کامزید اعتراف کرناپڑتاہے۔ سفر میں بھی عربی کتابوں کے ترجمے کراتے ہیں۔ آپ کی کتب علمیہ سے اہل علم بھی استفادہ کرتے ہیں کئی جواہر پارے منظر عام پر آچکے ہیں۔
الحمدللہ ہماری جماعت میں کئی ایک مشائخ طریقت اورعلم وعمل والے موجود ہیں جو لائق عزت واحترام ہیں مولا تعالیٰ ان کے وجود کو برقراررکھے مگرہمارے حضرت کی شخصیت میں عجیب کشش ہے ان کی ذات میںخاندانی برکات کے جلوے ہیں اکابر کے نمونے ہیں اورخود ان کے علمی و فکری اثرات بھی ہیں۔آج آپ تاروں میں مثل ماہ کامل منور ہیں نورباری اور گل فشانی کررہے ہیں۔
اللہ کریم آپ کے وجود مسعود کو دین و سنیت کے حق میں محمود باجود رکھے عمر وصحت میں برکتیں عطافرمائے تاکہ تادیر مسلک حق اعلیٰ حضرت کی ترجمانی فرماتے رہیں اورعلوم رضا کے موتیوں سے تادیر اہلسنت کوچمکاتے رہیں ، مولائے کریم ان کے علم و کمال میںاضافہ فرمائے اوران کے صاحبزادہ محترم کو بھی آپ کا پرتو بنائے آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔

 

Menu
error: Content is protected !!