حضورتاج الشریعہ کا مجاہدانہ کردار

مولانا محمد ثاقب رضاعلیمی، ریسرچ اسکالر علی گڑھ یونیورسٹی،انڈیا


اس عالم رنگ و بو اور نگار خانہ ٔ قدرت میں بے شمار شخصیتیں ایسی موجود ہیں جن کے گیسوئے علم و حکمت کی خوشبو سے پوری دنیا عطر بیز ہے۔ ان اقبال مند اورعظیم ہستیوں میں ایک نام ’’محمد اسماعیل رضا کاہے‘‘ جسے دنیا جانشین مفتی اعظم ہند، صدر المفتین ، سند المحققین ، فقیہہ اسلام ، مفکر اہل سنت، فقیہ اعظم، شیخ المحدثین، تاج الشریعہ ، مرجع العلماء و الفضلاء اورقاضی القضاۃ علامہ الشاہ محمد اختررضا ازہری میاں قبلہ دام ظلہ العالی کے نام سے جانتی اورپہچانتی ہے۔ آپ کی ذات محتاج تعارف نہیں ، اگر آپ فقہ کے ایک مسلم الثبوت بحر متلاطم ہیں تو دوسری طرف میدان حدیث کے آپ مشہور محدث ہیں غرض یہ کہ علوم عقلیہ و نقلیہ پر آپ کو دسترس حاصل ہے۔ مگران سب کے باوجود آپ کا جونمایاں وصف ہے وہ آپ کامجاہدانہ کردار ہے۔
نسبندی کے خلاف فتوی: اندرا گاندھی سابق وزیراعظم ہند کامزاج آمرانہ تھا ، ان کے دوراقتدار میںعوام پر ظلم و جبر کیاگیا، کانگریس پارٹی کی ساری قوت کانقطہ ارتکاز صرف اورصرف اندرا گاندھی کی ذات تھی۔ انہوں نے یہ سب بلااشتراک غیراقتدار پراپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے ہی کیاتھا۔ وہ سیاسی مخالفین کو بے دردی سے کچل دینے کے لئے سخت سے سخت اقدام کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی تھی۔ اندرا گاندھی کے ساتھ اس کے بیٹے سنجے گاندھی کاتانا شاہی نظریہ پس پشت کام کررہاتھا۔ ۱۹۷۵ء میں پورے ملک میں ہنگامی حالات کااعلان کردیا گیا، تمام شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرلئے گئے ، رقیبوں کو قید سلاسل میںجکڑ کرنذر زنداں کردیاگیا’’میسا ‘‘ جیسے جابر قانون کو نافذ العمل کردیا گیا۔ ان تمام حالات کے ساتھ ہی دو سے زیادہ بچہ پیداکرنے پر سختی سے پابندی عائد کردیااوران لوگوں پرنسبندی کرناضروری قراردے دیا۔ پولس عوام کو جبراً پکڑ پکڑ کر نسبندی کرارہی تھی۔ اسی اثناء میں نسبندی کے جواز یاعدم جواز پر شرعی نقطہ نظر جاننے اور عمل کرنے کیلئے دیوبندی وہابی دارالافتاء سے قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے نسبندی کے جائز ہونے کافتویٰ دے دیا۔ ملک کی ہیجانی کیفیت اورامت مسلمہ میں انتشار کو دیکھتے ہوئے جابر و ظالم حکمراں کے خلاف تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے حکم پر تاج الشریعہ نے نسبندی کے حرام و ناجائز ہونے کافتویٰ صادر فرمایا اس فتویٰ پرحضور مفتی اعظم کے علاوہ حضرت مولانا مفتی قاضی عبدالرحیم بستوی ، مولانا مفتی ریاض احمدسیوانی کے دستخط ہیں۔
فتویٰ کی اشاعت کے بعد حکومت نے اس بات کے لئے دبائو ڈالا کہ یہ فتویٰ واپس لے لیاجائے مگرحضرت نے فتویٰ سے رجوع کرنے سے انکار کردیا اورنمائندگان حکومت سے صاف صاف کہہ دیاگیا کہ فتویٰ قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھاگیا ہے ۔ کسی بھی صورت میںواپس نہیں لیاجاسکتا۔
حق گوئی و بے باکی : اللہ رب العزت نے جانشین مفتی اعظم کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیا ہے ۔ ان صفات میںایک حق گوئی اور بے باکی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت وحقانیت کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چاہے کتنے ہی مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں ۔چاہے کتنے ہی قید و بند، مصائب وآلام اورہاتھوں میںہتھکڑیاں پہننا پڑیں۔ کبھی کسی کوخوش کرنے کے لئے اس کی منشاء کے مطابق فتویٰ نہیں تحریر فرمایا۔ جب کبھی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اسلاف، اپنے آباء واجداد کے قد م بقدم ہوکر تحریر فرمایا۔ جس طرح جد امجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضافاضل بریلوی اورمفتی اعظم مولانا مصطفی رضا نوری بریلوی نے بے خوف و خطرفتاویٰ تحریر فرمائے۔ اس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاویٰ اورواقعات ہیں جو ملک اوربیرون ممالک میںپھیلے ہوئے ہیں۔حضور تاج الشریعہ تین بار حج اورمتعدد بار عمرہ سے فیضیاب ہوئے ۔ پہلا حج۴؍ستمبر ۱۹۸۳ء دوسرا حج ۱۹۸۵ء تیسراحج ۱۹۸۶ء میںاداکئے۔
سعودی مظالم کی کیفیت جانشین مفتی اعظم کی زبانی:
ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ جانشین مفتی اعظم اپنی شریک حیات(پیرانی اماںصاحبہ) کے ساتھ حج و زیارت کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ عرفات سے واپس لوٹنے کے بعد سعودی حکومت نے رات کے وقت مکہ معظمہ میںآپ کو قیام گاہ سے گرفتارکرلیا بلاوجہ گیارہ دن جیل میںرکھ کر بغیر مدینہ شریف کی زیارت کرائے ہندستان بھیج دیا۔
مندرجہ ذیل سطور میں حضرت کی زبانی رپورٹ کی تلخیص پیش ہے۔
’’۳۱؍ اگست ۱۹۸۶ء شب میں تین بجے اچانک سعودی حکومت کے سی آئی ڈی اورپولس کے لوگ آپ کی قیام گاہ پر آئے اور سامان کی تلاشی لی اور مختلف سوال کئے ۔ آپ نے اس کابحسن وخوبی جواب دیا۔ ایک سوال آپ سے نماز سے متعلق کیاکہ آپ حرم شریف میںکیوں نہیں نمازپڑھتے ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ میںحرم سے دوررہتاہوں ۔ اس لئے نہیں جاتاہوں ۔ پھر سی آئی ڈی نے سوال کیا کہ آپ محلہ کی مسجد میں بھی نماز نہیں پڑھتے ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ میرے مذہب میںاور آپ کے مذہب میں اختلاف ہے۔ آپ حنبلی کہلاتے ہیں اورمیں حنفی ہوں، اورحنفی مقتدی کی رعایت غیرحنفی امام اگرنہ کرے تو حنفی کی نماز درست نہیں ہوگی۔ اسی وجہ سے میں علیحدہ نماز پڑھتاہوں ۔
مختصر یہ کہ آپ کو قیدکردیاگیا حضرت والا فرماتے ہیںک ہ میراجرم میرے باربار پوچھنے کے بعد بھی مجھے بتایانہیںبلکہ یہی کہتے رہے کہ آپ کا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی اوربغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اورگیارہ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیاگیا تو میرے ہاتھوں میں جد ہ ائیرپورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اورراستہ میں نماز ظہر کے لئے موقع بھی نہ دیاگیا۔ اس وجہ سے میری نماز ظہر قضا ہوگئی۔
اخیر میں چلتے چلتے اتنا ضرور عرض کروں گا کہ گلستان رضویت کے مہکتے پھول چمنستان اعلیٰ حضرت کے گل خوش رنگ حضرت علامہ محمد اختر رضاخان صاحب ابن حضرت مفسر اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت جو شریعت و طریقت کے مجع بحرین ہیں بہت کم ایسا ہوتاہے کہ شیخ طریقت شیخ شریعت بھی ہو، یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں کی تعداد میں آپ کے مریدین پائے جاتے ہیں ،کرناٹک کے منطقہ حسن میں ایک مرتبہ ساٹھ ہزار لوگ بیک وقت داخل سلسلہ رضویہ برکاتیہ قادریہ ہوئے ۔ آپ لوگوں سے کم ملنا چاہتے ہیں۔ تنہائی پسند ہیں۔ بھیڑ بھاڑ ، دست بوسی، قدمبوسی سے دوری اختیارفرماتے ہیں، نماز کے پابند ہیں۔ شریعت کے اوامر و نواہی پرپوری سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں اوراس کی تاکید کرتے ہیں اورغیرمستحسن فعل پرلوگوں کی اصلاح فرماتے ہیں۔

 

Menu
error: Content is protected !!