حضور تاج الشریعہ ایک فقید المثال شخصیت

حافظ شمس الحق رضوی، لدھیانہ،انڈیا


حضور تاج الشریعہ کی شخصیت جہاں دور حاضر میں منفرد اور فقید المثال ہے وہیں بے پناہ اوصاف و خصوصیات کی حامل ہے ۔ علم و حمکت ، فضل و کمال ، اتباع شریعت و طریقت ،عبادت و ریاضت ، عزم و استقامت ، ایفائے عہد ، تواضع و منکسر المزاجی ، تقویٰ و طہارت ، زہد و ورع ، سادگی فروتنی ، عفان و آگہیاور کردار کی بلندی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ آپ علمی تبحر کے سات ھساتھ بیک وقت عربی ، فارسی،اور انگریزی جیسی عالمی زبانوں میں کامل مہارت اور قدرت ولیاقت رکھتے ہیں۔آپ کی شخصیت علمی و عالمی ہونے کے سات ھآپ کے فضائل و کمالات اور خدمات و کارنامے کا ڈنک آج شش جہات عالم میں بج رہا ہے ۔ آج آپ کی ذات اپنے خانوادے کے علمی و عملی میراث کے مکمل طور سے وارث و ضامن اور دنیائے اسلام کے لئے مرجع کی حیثیت رکھی ہے ۔
حضرت مفتی قاضی عبد الرحیم بستوی ، صدر مرکزی دارالافتاء بریلی شریف آپ کے کمالات علمی و عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضآ قادری بریلوی، حضرت مفسر اعظم مولانا محمد ابراہیم رضا قادری ، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا قادری ، مفتی اعظم ہند مولانا مصطیف رضا قادری سب ہی حضرات گرامی کے کیمالات علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملا ہے ۔ فہم و ذکا،قوت حقافظ ہ و اتقا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے ، جودت طبع و مہارت تامہ(عربی ادب ) حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہٗ سے ، فقہ میں تبحر و اصابت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے ، قوت خطابت و بیان پدر بزرگورر حضرت جیلانی میں قدس سرہٗ سے ۔ گویا مذکورۃ الصدر ارواح اربعہ سے وہ تمام کمالات علمی و عملی آپ کو وراثۃً حاصل ہوگئے ہیں جس کی رہبر شریعت و طریقت کو ضروت ہوتی ہے ۔(پیش گفتار شرح حدیث نیت ملخصاً)
یہی وجہ ہے کہ معروف علما ومفتیان شریعت جہاں آپ کے علمی فضل و کمال اور بلندی کردار کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہیں آپ کو آپ کیعلمی جلالت کے اعترافمیں شایان شان القابات و خطابات سے بھی نوازا ہے ۔
عالم عرب کے مشہور عالم دین ،کثیر التصانیف بزرگ فضیلۃ الشیخ حضر ت العلام مولانا شیخ محمد بن علوی مالکی شیخ الحرم مکہ معظمہ علیہ الرحمہ اور قطب مدینہ حضر ت علامہ مولاناشاہ ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ و تلمیذ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادریعلیہ الرحمہ نے آپ کو ’’تاج الشریعہ ‘‘،’’مرجع العلماء والفضلاء‘‘ جیسے عظیم القابات سے نوازاہے ۔ ابھی پچھلے دوسال پہلے نومبر۲۰۰۵ء میں شرعی کونسل آپ انڈیا کے زیر اہتمام ملک بھر سے آئے جید علمائو مفتیان کرام نے آپ کو ’’ قاضی القضاۃ فی الہند‘‘ کا خطا بدیا ہے جسے ملک بھر کے علماء و مشائخ نے قبول کیاہے ۔
مذکورہ بالا خطابات و القابات وہ ہیں جسے مولاناشہاب الدین رضوی صاحب نے ’’حیات تاج الشریعہ‘‘ ص۹پر درج کیا ہے ۔ ورنہ اس کے علاوہ اس طرح کے بے شمار خطابات و القابات ملک و بیرون ملک کے اصحاب علم و فضل اور دانشوران نے آپ کے علمی تبحر، فضلو کمال اور بند خدمات و کارنامے کے اعتراف میں دیئے ہیں۔ جس کا ذکر یہاں طوالت سے خالی نہیں۔
راقم السطور کو مرشد برحق ، پیر طریقت سیدی وسندی تاج لالسلام حضرت علامہ مفتی شاہ محمد اختر رضا خاں قادری ازہری دامت برکاتہم القدسیہ کی سب سے پہلے زیارت کا شرف ۱۹۸۷ء میں کٹیا نیپال کے عظیم الشان ’’رسول اعظم کانفرنس‘‘ میں حاصل ہوا اور اسی جلسہ میں آپ کے دست حق پرست پر بیعت بھی ہوا۔ پہلی ہی نظر میں آپ کی علمی جلالت ، تقویۃ و طہارت اور عظمت و بزرگی کا سکہ میرے دل مپر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد سے تو سینکڑوں بار دورو قریب سے حضرت کی زیارت بافیض سے مشرف ہوا۔ اسی جلسہ میں آپ نے مہوتری نیپال سے تعلق رکھنے والی ہندستان کی معراف دینی و علمی شخصیت ، استاذا لعلماء حنیف ملت حضرت علامہ و مولانا محمد حنیف قادری علیہ لارحمۃ کو خلافت و اجازت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ جنہوں نے نیپال اور قرب وجوار کے علاقے میں زبردست تبلیغی خدمات انجام دی تھیں۔
آپ کی بین الاقوامی شہرت و مقبولیت اور پذیرائی و محبوبیت کو دیکھ کر بر ملا دل اس بات کااظہار کرتاہے کہ یہ مقبولیت آپ کو من جانب اللہ حاصل ہے ۔ اور بہت سے باکمال علماء و مشائخ کو مین نے اس کااظہارو اعتراف کرتے ہوئے دیکھا اور سنا ہے کہ حضرت تاج الشریعہ ازہری میاں صاحب قبلہ کو خلق خدامیںیہ مقبولیت اللہ رب العزت کا خاص عطیہ اور انعام ہے جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے : اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو عظیم دینی خدمات کے لئے منتخب کرنا چاہتاہے تو بواسطہ جبریل علیہ السلام اس کی محبوبیت کا اعلان کراتاہے اور فرماتاہے ’’مجھ کو فلاں بندے سے محبت ہے تم اس سے محبت کرو‘‘ چنانچہ حضر ت جبریل کو اس بندے سے محبت ہوتی ہے اور وہ آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کوفلاں بندے سے محبت ہے تم اس سے محبت کرو‘‘ چنانچہ حضرت جبریل کو اس بندے سیمحبت ہوتی ہے اور وہ آسمان میں منادی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو فلاں بندے سے محبت ہے تم سب اس سے محبت کرو۔چنانچہ آسمان والے اس بندے سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام ہوجاتی ہے یعنی زمین پررہنے والوں کے دلوں میں اس کی محبت ہوجاتی ہے خؤد اس کی طرف دل مائل ہونے لگتا ہے (مشکوٰۃ المصابیح)
اس حدیث پاک کے مکمل مظہر ہیں حضورتاج الشریعہ جس کازندہ ثبوت عالمی سطح پر آپ کی غیر معمولی مقبولیت اور مرجعیت ہے ۔
میں ہندستان کے جس ضلع سے تعلق رکھتا ہوں وہ ہندستان کا مردم خیز علمی و تاریخی شہر سیتا مڑھی ہے جہاں ایک سے ایک علم و فن کے شہسوار پید ہوئے ۔ اسی ضلع سے کا معروف قصبہ پوکھریرا شریف ہے جہاں اپنے وقت کے عارف باللہ سیدنا عبدالرحمن سرکر محبی پوکھریروی ہیں ۔آپ اعلیٰ حضرت کے احبُّ الخلفاء میں سے ہیں۔ جنہوں نے اس پورے علاقے میں اسلام و سنیت کی بے لوث خدمت انجام دی ۔ اس پورے علاقے میں آج جو دین و سنیت کی بہاریں ہیں وہ انہیں کی مرہون منت ہیں۔
پورے علاق یسے بد عقیدگی کے طوفان کو آپ نے مضبوطی کے ساتھ روک دیا ۔ اور اسلام و سنیت کی اشاعت کے لئے آہنی ستون بن کر ڈٹے رہے ۔ آپ نے جہاں مدارس و مساجد کے قیام کے ذریعہ دین کی خمت کی وہیں پورے علاقے میں اپنے وعظ و ہدایت کے ذریعہ خلق خدا کی خوب خوب رہنمائی کی ۔ آپ کا عائم کردہ دینی و علمی ادارہ مدرسہ نور الہدیٰ پوکھریرا آج بھی طالبان علوم نبویہ کی علمی پیاس بجھا رہا ہے ۔ آپ نے حدیث ، تفسیر، اسلامیات میں کثیر تصانیف یادگار چھوری ہیں ۔اصلاح عوام کے لئے آپ نے ایک دینی و علمی مجلہ بھی جاری کیا تھا جوآپ کے بعد بند ہوگیا۔ آپ کے ایک علمی رسالہ پہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادیر علیہ الرحمۃ کی زبردست تقریظ جلیل بھی ہے جس سے آپ کے اور اعلیٰ حضرت علیہ لارحمۃ کے درمیان علمی و فکری روابط کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔اعلیٰ حضرت سے گہرے تعلقات ہی کا نتیجہ ہے خانوادہ رضویہ کے مشائخ کرام میں حضور حجۃ الاسلام ، مفتی اعظم ہند ، ریحان ملت وغیرہم سیتا مڑھی کا تبلیغی دورہ فرماتے رہے اور سیتا مڑھی کے باشندگان سنی مسلمانوں کی علمی و عملی اور دینی رہنمائی فرماتے رہے ۔
مرشد گرامی حضور ازہری میاںصآحب قبلہ دامت فیضہ بھی متعدد بار ضلع سیتا مڑھی میں اپنے تبلیغی دورے اور پروگرام کے تحت تشریف لائے ۔ پورے علاقتے میں آپ کے ہر ہر پروگرام میں آپ کی آمد پہ مسرت اور خلق خڈا کا ہجوم دیدنی تھی ۔ اس ضلع کے سینکٹروں مواضعات تو ایسے ہیں جہاں کی پوری پوری آبادی آپ کی زیارت کے بے تابانہ اشتیاق اور دست بوسی و قدم بوسی کے لئے امنڈ آئی اور شرف بیعت سے مشرف ہوئی ۔ یہاں تک کہ اکثر علاقہ کے غیر مسلم بھی آپ کے نورانی چہرے کی زیارت کے بعد بہت اچھے الفاظ میں آپ کو یاد کرتے نظر آئے ۔
خلق خدا کا جس قدربے ساختہ ہجوم میں انے ان علاقوں میں حضرت قبلہ ازہری میاں کے لئے مشاہدہ کیا وہ کسی اور کے تعلق سے آج تک دیکھنے کو نہ ملا۔ اس قدر مقبولیت فی الخلق یقیانا آ کے بارگاہ الٰہی میں مقبولیت پہ شاہد عدل ہے ۔ ایک عربی شاعر کے مندرجہ ذیل اشعار آپ کے اخلاق و اوصاف اور قبول فی الخلق کے تعل ہمارے احساسات کے مکمل ترجمان ہیں:

یبین نور الدجی عن نور طلعتہ
کاشمس بنجاب عن اشراقھالظلم
یغضیٰ حیاء ویغضیٰ سہایۃ
فما یکلم ال حین یتبسم
سہل الحلیقۃ لا یخفیٰ بوادرہ
یزیّنۃاثنان حسن الخلق والتم
مشتقۃ عن رسولہ اللہ نعمتہ
طابت عناصرہ والخیم والشیم
کلتایدیہ غیاث عما نفعھا
تستوکفان والایعروہماالحرم
من معشر حسبھم دین و بعضہم
کفر و قربھم منجی و معتصم

(۱)ان کی پیشانی کی چمک سے ظلمتیں دور ہوتی ہیں، جس طرح طلوع آفتاب سے اندھیرا چھٹ جاتاہے ۔
(۲)شرم و حیا کی وجہ سے آنکھیںنیچی رکھتے ہیں، اور ان کی ہیبت سے لوگوں کی آنکھیں جھک جاتی ہیں۔
(۳)وہ نرم خو ہیں ، ان کی خصلتیں پوشیدہ نہیں ہیں، خوش خلقی اور خوش مزاجی نے ینت بخشی ہے ۔
(۴)ان کی صفات ، صفات رسول اللہ کی آئنیہ دار ہیں۔ ان کی عادتیں و خصلتیں بہت خوب ہیں۔
(۵)دونوں ہاھت موسلادھار بارش کی طرح فیض رساں ہیں چاہے مال ہو یانہ ہو۔
(۶)وہ اس مقدس گروہ کے فرد فرید ہیں، جن کی محبت دین ہے اور بغض کفر ، ان کا قرب نجات دینے والا ہے ۔(بحوالہ حیات تاج الشریعہ۔ص۶،۷)
آپ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ خلق خدا کی رشد و ہدایت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکرمیں بسر ہورہاہے ۔ عالمی سطح پر آپ کے تبلیغی دورے سے خلق خدا آپ سے بھر پور مستفیض ہورہی ہے ۔ آپ کی زندگیاسلاف کی ندگی کا مکمل نمونہ پیش کرتی ہے ۔کسی بزرگ نے کامل زندگی کے لئے اپنے دو شعر میں معیار ندگی کو اس طرح پیش کیاہے: شاعر کہتاہے۔

عاشق را شش نشان ست اے پسر
آہ سرد، زرد رنگ و چشم تر
گر ترا پرسیدند سہ دیگر کو ام
کم خوردن ، کم گفتن و خفتن حرام

ان اشعار میں شاعر نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ عشق کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی صداقت کی یہ نشانیاں ہیں۔(۱)ٹھنڈی آہیں بھرنا (۲)خؤف الٰہی سے رنگ پیلا ہونا (۳)اور آنکھ کا روتے رہنا (۴)کم کھانا(۵)کم بولنا (۶)اور نہ سونا یعنی بیدار رہنا۔
یہ نشانیاںحضرت قبلہ ازہری میںا صاحب کے اند پور ی کی پوری پائی جاتی ہیں۔آپ کے دربار کے حاضر باشوں اور صحبت با فیض میں رہنے والوں کا بیان اس تعلق س:ے اہمیت کا حامل ہے۔جو لوگ سفر و حضرمیں شب و روز آپ کی صحبت میں رہتے ہیںاور آپ کے معمولات و مشاغل دیکھتے ہیں ان کے بیان کے مطابق بلکہ عام مشاہد کی زبانی بھی ان کی تصدیق ہوتی ہے کہ وظائف ومعمولات اور تلاوت قرآن کریم اور خؤف خڈامیں آنسو بہانا اور بیدار رہنا آپ کی زندگی کا محبوب مشغلہ ہے ۔ اس طرح آپ کی زندگی شریعت و طریقت اور سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مکمل طور پر ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے ۔
اس کے ساتھ ہی آپ کی حق وئی و بے باکی بھی عام پیروں کے لئے نمونۂ عمل ہ ے۔ آپ کبھی بھی کسی منفعت کا خیال نہ رکھتے ہوئے ہر کسی سے جس سے خلاف شرع امور انجام پاتا ہوا دیکھتے ہیںبلا کسی خوف کے برملا اس پر اظہار کرتے ہیں۔اور اس سے منع کرتے ہیں۔اس وقت آپ کسی کی ناراضگی کا ذرّہ برابر بھی خیال نہیں رکھتے ہیں اس حق گوئی کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ پہلے سے زیادہ آپ کی استقامت و عزیمت کا قائل اور عقیدت مند ہوجاتاہے ۔ آپ کی شان حق گوئی کو بتاتے ہوئے آپ کے سوانح نگار مولانا شہاب الدین رضوی لکھتے ہیں:
’’ اللہ رب العزت نے جانشینِ مفتیٔ اعظم کو جن گوناگوںصفات سے متصف کیا ہے ان صفات میں ایک حق گوئی اور بے باکی بھی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت و حقانیت کادامن ہاتھ نے نہیں چھوڑا ۔ چاہے کتنے ہیں مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں ۔ چاہے کتنے ہی قید و بند ،مصائب و آلام اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا پڑیں۔ کبھی کسی کو خوش کرنے کے لئے اس کی منشاء کے مطابق فتویٰ نہیں تحریر فرمایا۔ جب کبھی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اسلاف ،اپنے آباؤ اجدادد کے قدم بقدم ہوکر تحریر فرمایا۔ جس طرح جد امجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتیٔ اعظم مولانا مصطفی رضانوری بریلوی نے بے خوف و خطرفتاویٰ تحریر فرمائے اسی طرح اپنے اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جانشین مفتیٔ اعظم نظر آتے ہیں ۔اس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاویٰ اور واقعات ہیں۔ جو ملک اور بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں۔( حیات تاج الشریعہ۔ص۲۳)
مولانا شہاب الدین صاحب رضوی کے اس مذکورہ اقتباس کی اگر تفصیل کی جائے اور وقعاتی حوالے سے اس کے شواہد پیش کئے جائیںتواس کے لئے دفتر کا دفتر درکار ہے۔یہاں محض ایک واقعہ درج ذیل کیاجاتاہے ۔
نسبدی کے تعلق سے حکومت وقت کے سامنے آپ کی حق گوئی اور تصلب فی الدین کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا شہاب الدین لکھتے ہیں:
’’اندرا گاندھی سابق وزیر اعظم ہند کامزاج آمرانہ تھا ، ان کے دور اقتدار میں عوام پر ظلم و جبر کیاگیا ، کانگریس پارٹی کی ساری قوت کا نقطۂ ارتکاز صڑف اور صڑف اندرا گاندھی کی ذات تھی۔ انہوں نے یہ سب بالاشرکت غیراقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے ہی کیا تھا۔ وہ سیاسی مخالفین کو بے دردی سے کچل دینے کے لئے سخت سے سخت اقدام کرنے پر بی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی تھیں اندرا گاندھی کے ساتھ ان کے بیٹے سنجے گاندھی کا تانہ شاہی نظریہ پس پشت کام کررہا تھا ۔۱۹۷۵ء میں پورے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا گیا ، تمام شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرلئے گئے ، رقیبوں کو قید ِ سلاسل میں جکڑ کر نذرِ زنداں کردیا گیا، ’’میسا‘‘ جیسے جابر قانون کو نافذ العمل کردیاگیا۔ ان تمام حالات کے ساتھ ہی دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر سختی سے پابندی عائدکر دی گئی اور ان لوگوں پر نسبندی کرنا ضروری قرار دے دیا۔پولیس عوام کو جبراًپکڑ پکڑ کر نسبندی کرارہی تھی ، اسی اثناء میں نسبندی کے جواز یا عد م جواز پر شرعی نقطہ نظر جاننے اور عمل کرنے کے دارالافتاء بریلی سے عوام نے رجوع کرنا شروع کردیا۔ دوسری طرف دیوبندکے دارلافتاء سے قاری محم طیب مہتمم دار العلوم دیوبند نے نسبندی کے جائز ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ ملک کی ہیجانی کیفیت اور امت مسلمہ میں انتشار کو دیکھتے ہوئے جابر و ظالم حکمراں کے خلاف تاجدار اہل سنت حضور مفتیٔ اعظم ہند قدس سرہٗ کے حکم پر تاج الشریعہ نے نسبندی کے حرام و ناجائز ہونے کافتویٰ صادر فرمایا۔ اس فتویٰ پر حضور مفتیٔ اعظم کے علاوہ حضرت مولانا مفتی قاضی عبدالرحیم بستوی ، مولانا مفتی ریاض احمد سیوانی کے دستخط ہیں۔
فتویٰ کی اشاعت کے بعد حکومت نیاس بات کے لئے دباؤ ڈالا کہ یہ فتویٰ واپس لے لیا جائے مگر حضرت نے فتویٰ سے رجوع کرنے سے انکار کردیا اور نمائندگانِ حکومت سے صاف کہہ دیا گیا کہ فتویٰ قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھا گیا ہے کسی بھی صورت میں واپس نہیں لیا جاسکتا۔(حیات تاج الشریعہ ۔ص۲۲،۲۳)
تصلب فی الدین اور استقامت بالشریعت کے ساتھ ساتھ تقویٰ شعاری کے سلسے میں بھی آپ شخصیت اس دور قحط الرجال میں یقینا نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ جہاں خود شریعت پہ عمل کے سلسلے میں ایک کوہ گراں کی حیثیت رکھتے ہیں ، وہیں اپنے مریدین و متوسلین کو ہمہ وقت عمل بالشریعت کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں تھوڑا بھی خلاف شرع عمل ہوتے دیکھا آپ اس کو بروقت تنبیہ فرماتے ہیں لیکن اس تنبیہ فرمانے میں مکمل موعظت حسنہ پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں ۔ صحیح مسئلہ سے آگاہی ایسے لب ولہجہ اور مشفقانہ انداز میں فرماتے ہیںکہ وہ بات ہمیشہ کے لئے لوح دل پر نقش ہوجاتی ہے ۔۱۹۹۵ء کا وہ واقعہ مجھے آج تک یاد ہے جب میں مراد آباد سے ایک سفر کے سلسلے میں حافظ محمد مسلم صاحب اشرفی کٹیا نییپال کے ساتھ دہلی کے لئے آیا۔حسن اتفاق دہلی اسٹیشن پہ حضورتاج الشریعہ کی زیارت ہوئی ہم دونوں بے ساختہ حضور کی قدم بوسی و دست بوسی کے لئل یبارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام و دست بوسی و قدم بوسی سے نیاز مندی حاصل کی ۔اتفاق اس وقت میں چین والی گھڑی پہنے ہوا تھا ۔ آپ نے فرمای: آپ یہ گھڑی پہنے ہوئے ہیں اسے پہن کر نماز بھی پڑھتے ہوں گے پھر آ پ نے بڑی شفقت سے پورے مسئلہ کی تفصیل سے بیان فرمای اور چین والی گھڑی نہ پہننے کا حکم دیا۔ پھر کیا تھا میں نے اسی وقت اس گھڑی کو ہاتھ سے نکال دیا ۔ جب سے آج تک میں نے چین والی گھڑی نہیں پہنی۔ اس سفر پر ظفر میں ،میںپہلی بار ڈیڑھ گھنٹے حضرت کے رو برو رہااور خدمت کی سعادت بھی میسر آئی ۔ اس ڈیڑھ گھنٹے میں آپ کے پند نصائح سے میں نے ایسے فیوض و برکات حاصل کئے جسے میری کوتاہ قلم حیطہّ تحریر میں لانے سے عاجز ہے ۔ پہل بار کسی نجی مجلس میں آپ کی شیرنیٔ گفتار اوررس گھولتی ہوئی انداز نصیحت کے لطف سے میں محظوظ ہوا تھا۔جی تو یہ چاہ رہا تھا کہ یہ گھڑی دراز ہوہوتی رہے اور میں آپ کے رخ روشن کی زیارت سے اپنے دل کے بند دریچے کھولتا رہوں لیکن پھر آپ کو کسی سفر کے لئے فوراًروانہ ہونا تھا۔ آپ نے مجھ فقیر کو ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور رخصت ہوگئے ۔ آج ان دعاؤں کا ثمرہ ’’رضا ہوزری،لدھیانہ‘‘اور’’ ازہری مارکیٹ،پریہار‘‘اور ’’ازہری کمپلیکس،سرسنڈ،سیتا مڑھی‘‘کی شکل میں عام لوگوں کے مشاہدے میں ہے ۔
سچا تعلق باللہ اور خوف وخشیت خدا وندی کہ انسان جہاں کہیں بھی ہو مالک حقیقی سے اس کا رابطہ نہ ٹوٹے ۔ خوف و خشیت اس کے دل میں ہمہ وقت قائم رہے اللہ تعالیٰ سارے مسلمانوں کو اپنا خوف عطا فرمائے ۔
استقامت بالشریعت کے ساتھ ساتھ آپ استقامت ملک کے سلسلے میں بھی مثالی شخصیت ہیں۔آج عام طور سے لوگ صلح جویانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ کہ آج صلح کلیت کا فتنہ بڑی تیزی کے ساتھ پنپ رہا ہے ۔حضورتاج الشریعہ ملک کے معاملے میں بھی کسی قسم کی صلح پسندانہ رویہ کے قائل نہیں آپ ہر جگہ بر ملا ’’مسلک اعلیٰ حضرت‘‘کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں ۔ بڑی مجلس یاجلسۂ عام یا چھوٹی مجلس ہو ، بیعت و ارادت کا معاملہ ہو یاوعظ و نصیحت کاآ پ اپنی نصیحت میں ’’مسلک اعلیٰ حضرت ‘‘پہ استقامت کی تلقین اور بیعت و ارادت کے وقت بر ملا اپنے مریدین و متوسلین سے مسلک اعلیٰ حضرت پر استقامتکا وعدہ لیتے ہیں ۔بد مذہبوں و بد عقیدوں خصوصاً وہابیو ں،نجدیوں ،شیعوں اور قادیانیوں سے میل جول نہ رکھنے کی سخت تاکید کرتے ہیں۔ آپ اس معاملے میں کسی کی ملامت یا رضا کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ، خواہ مرید کتنا ہی بااذر اور اہل ثروت کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے مرید ین و معتقدین ملسک کے معاملے میں پورے پکے ہوتے ہیں وہ کسی مصلحت وقت کے قائل نہوں ہوتے ۔ اپنے مسلک و شناخت کا ہر جگہ بر ملا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
بلا شبہ جس طرح محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی پہچان ہے اسی طرح عصرحاضر میں سیدنا امام اہل سنت ، مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی محبت سنیت و حقانیت کی پہچان ہے ۔ اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ فی زمانہ حضورتاج الشریعہ سے محبت مسلک اعلیٰ حضرت سے محبت اور ان سے بغض مسلک اعلیٰ حضرت سے بغض ہے ۔
دعا ہے مولیٰ عزوجل ہم سنی مسلمانوں پہ حضور تاج الشریعہ کی حیات بابرکات کا سایہ و ظل ہمایوں تادیر قائم رکھے اور ہم سب کو مسلک اعلیٰ حضرت پہ عامل اور اس کی تبلیغ کی توفیق رفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

Menu
error: Content is protected !!