حضورتاج الشریعہ اور عربی ادب

مولانا محمد شاہد القادری، چیئرمین امام احمدرضا سوسائٹی کولکاتا،انڈیا


حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی کی علمی، فقہی، اورلسانی صلاحیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ بالخصوص اردواورعربی زبان و ادب پر آپ کومکمل دسترس حاصل ہے۔ عربی زبان پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی پیاری اورمحبوب زبان تھی۔اسی لئے رب کائنات نے جنتیوں کی زبان عربی قراردیا ہے۔حضور تاج الشریعہ نے اس زبان کو اسی لئے سیکھا ، پڑھا کہ یہ میرے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ زبان ہے۔ اوراسلامی ماخذ ومراجع بھی عربی زبان میں بہت زیادہ ہیں۔ آپ کو ایام طالب علمی ہی سے عربی زبان پڑھنے اورلکھنے کاذوق تھا ۔ یہی سبب ہے کہ ۲۱؍سال کی عمر میں بغرض اعلیٰ تعلیم عالم اسلام کی عظیم عربی یونیورسٹی جامعہ ازھر (مصر ) کاسفر کیا۔قبل اس کے کہ آپ کی عربی دانی پرگفتگو کی جائے کچھ باتیں اس فن کے تعلق سے کی جائیں تاکہ ایک ادیب کی ادبی خوبیوں کو اسی کسوٹی پر پرکھاجاسکے۔
مشہور عربی مفکر جاحظ نے ایک ادیب کے لئے یہ ضروری قراردیا ہے کہ جملہ فنون کے اصول اورمبادیات اسے ضرور آنے چاہئیں تاکہ وہ حسب ضرورت ان سے مدد لے سکے۔
ادب کی تعریف کرتے ہوئے مولانا نفیس احمد رقم طراز ہیں ’’اورادب کسی زبان کے شعرا ومصنفین کاوہ نادر کلام جس میں نازک خیالات و جذبات کی عکاسی اورباریک معانی ومطالب کی ترجمانی کی گئی ہو۔ اس زبان کا’’ادب‘‘ کہلاتاہے۔
مزید لکھتے ہیں ’’اسی ادب کی بدولت نفس انسانی میں شائستگی ، اس کے افکار و خیالات میں جلا، اس کے احساسات میں نزاکت وحسن اورزبان میںسلاست وزور پیداہوتاہے۔ ادب کااطلاق ان تصانیف پر بھی ہوتاہے جو کسی علمی، ادبی شعبے میں تحقیق کانتیجہ ہوں۔ اس لحاظ سے گویالفظ ادب ان تمام تصانیف کو اپنے احاطہ میں لے لیتاہے۔ محض علماء کے انکشافات ، مضمون نگاروں کے افکار، شاعروں کے انوکھے تخیلات اورنازک تصورات پرمشتمل ہوں۔
ادب میں جہاں مافی الضمیر کی ادائیگی کے لئے منثور کی افادیت تسلیم کی گئی ہے وہیں منظوم کو بھی تفوق وکمال حاصل ہے۔ ایک شاعر بہت ہی اچھوتے انداز میںقافیہ و ردیف کے پیرائے میں زبان کی شگفتگی کو برقراررکھتے ہوئے اپنی باتیں دوسروں تک پہنچاتا ہے کسی شاعر کاشعر کن خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوچنانچہ ناقدین شعر کی تعریف یوں کرتے ہیں شعر و ہ فصیح وبلیغ کلام ہے جس میں وزن کے علاوہ نادر اوراچھوتے خیالات اور لطیف جذبات واحساسات کی عکاسی اسی طرح کی گئی ہوکہ انسان کے دل و دماغ پر براہ راست اس کا اثر پڑے(یادگار رضا ۲۰۰۸)۔
چودھویں صدی کے مجدد اعظم سیدناامام احمدرضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا گھرانہ علم و ادب کا گہوارہ ہے تقریباً دو صدی سے یہ علمی خانوادۂ مسائل شرعیہ کاسینٹر ہے کروڑوں کی تعداد میں یہاں سے ملک و بیرون ملک فتاویٰ روانہ کئے گئے ہیں مستفتین میں علماء فقہا، مشائخ، ڈاکٹر س، انجینئرس، وکلاء جج اوروزراء شامل ہیں۔
حضور تاج الشریعہ کی علمی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے یہی سبب ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند نے فرمایا تھا کہ اخترمیاں اب گھر میںبیٹھنے کا نہیں ہے کام کرنے کا ہے۔(خلفاء مفتی اعظم ہند)
ماہررضویات پروفیسر مسعود احمد مظہری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ’’ایک مرتبہ سفر پاکستان کے موقع پرنبیرہ ٔ اعلیٰ حضرت مفتی محمداختررضاخاں ازھری صاحب قبلہ کو اپنے مکان میںمدعو کیا دوران گفتگو حضرت سے میں نے چند عربی اشعار سنانے کو کہا آپ نے فی البدیہہ کئی اشعارسناڈالے۔ (اُجالا) 
حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کے اس قول سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ حضرت تاج الشریعہ عربی زبان وادب کے ایک کامیاب ادیب ہیں اورعربی ادب کے نوک وپلک سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں ورنہ فی البدیہہ عربی زبان میںاشعار پیش کرنا ایک مشکل امر تھا۔
حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختررضا ازہری مد ظلہ العالی نے عربی زبان وادب کو سیکھنے کی غرض سے ۱۹۶۳ء میںجامعہ ازھر (مصر) کاسفر فرمایا تقریباً تین سال جامعہ ازھر میں رہ کر محنت شاقہ کے ساتھ اس فن کو سیکھا ۱۹۶۶ء میںسالانہ امتحان میں ممتاز نمبر سے کامیاب ہوئے اورکرنل جمال عبدالناصر صدر مصر نے جامعہ ازھر ایوارڈ سے سرفراز فرمایا۔
آپ کی عربی تصنیفات ، تراجم اورقصائد واشعار سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ آپ نے اپنی صلاحیت و مہارت کے جلوے کہاں کہاں دکھائے ہیں اورنثرو نظم میںزبان وادب کی شگفتگی کے کیسے کیسے جوھر درخشندہ و تابندہ نظر آرہے ہیں۔
آپ کی عربی زبان میں علمی وادبی خدمات کاجائزہ حسب ذیل حیثیت سے لیاجاسکتاہے۔ (۱) نثر (۲) نظم (۳) ترجمہ نگاری
نثر نگاری:

حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کی عربی زبان میںمہارت اورزبان وادب پر قدرت پرقاری محمد افروز قادری چریاکوٹی یوں رقم طراز ہیں’’بخاری شریف پر حضرت کابزبان عربی پرزور حاشیہ حضرت کی جودت طبع ،مکانت علمی اورقوت استحضار کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ ہرزبان میںحضرت کی طوطی بولتی ہے ۔ اردو، فارسی، عربی زبان وادب میںالفاظ کے دروبست اورجملوں کی سجاوٹ دیدنی اورشنیدنی ہوتی ہے ایک شہادت دیکھیں:
کسی موقع پر میں نے حضرت سے قصیدہ بردہ شریف پڑھنے کی اجازت طلب کی تو حضرت نے زبانی عنایت فرمادی ۔ میں نے عرض کیا حضور!تحریری درکار ہے۔ فرمایا تب لکھئے میںاس پردستخط کئے دیتاہوں میں نے لکھناشروع کیا، حضرت نے فی البدیہہ ایسا مُقَفّٰی اور مسجع اجازت نامہ املا کروایا کہ میں توعش عش کراٹھا ۔ ذرا جملوں کے زیروبم دیکھیں بلکہ سیاق و سباق کی تفہیم کے لئے پورا اجازت نامہ ہی نقل کئے دیتاہوں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ الملک المنعام، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد النعمۃ المھداۃ رحمۃ للا نام، وعلیٰ آلہ الکرام وصحبہٖ العظام ،ومن تبعھم باحسان الی قیام الساعۃ و ساعۃ القیام، وبعد!
فقد استجزت لقرأۃ’’ بردۃ المد یح‘‘ فھا أناذا اجیز المستجیز… بھا وبکل مااجزت من مشائخی الکرام- رحمھم اللہ تعالیٰ۔
وأ سٔل اللہ سبحانہ وتعالیٰ -أن یسدد خطای وخطاہ ویوفقنا بمایحبہ ویرضاہ اوصیہ بملازمۃ السنۃ ومصباحۃ اھلھا ومجانبۃالبدعۃ ومفارقۃ أھل الھویٰ والاستقامۃ علی نھج الھدیٰ‘‘۔

حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی کی عربی ادب کی جولانیت کامشاہدہ کرنے کے لئے مرأۃ النجدیہ (دوجلدیں) الحق المبین اورتخریج بخاری کاضرورمطالعہ کریں۔

نظم نگاری:

عربی نثر نگاری کے ساتھ ساتھ حضرت تاج الشریعہ مدظلہ العالی عربی نظم نگاری پر بھی کامل دسترس رکھتے ہیں جس طرح اردو زبان کی شاعری میں آپ کو انفرادیت حاصل ہے اسی طرح عربی شاعری میں بھی ممتاز نظرآتے ہیں۔ برادرطریقت حضرت مولانا انیس عالم سیوانی رضوی مقیم حال لکھنؤ جب بغدادشریف سے اپنی تعلیم مکمل کرکے ہندستان تشریف لائے تو آپ کاکلکتہ بھی آنا ہوا راقم سے ملاقات کے لئے غریب خانہ تشریف لائے دوران گفتگو مولاناسیوانی صاحب نے فرمایا مرشدگرامی حضرت تاج الشریعہ مدظلہ العالیٰ بغداد شریف تشریف لے گئے سیدناغوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میںحاضرہوئے حضرت سے ملاقات ہوئی دست بوسی قدم بوسی کے بعدمیں نے آئندہ کاپروگرام کے تعلق سے عرض کیا حضرت نے فرمایا نجف اشرف کاپروگرام ہے۔ طے شدہ پروگرام کے تحت حضرت کے ساتھ میں اورچندمقامی عراقی طلباء نجف اشرف کے لئے چل پڑے۔ سیدنا علی مرتضیٰ مشکل کشارضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضری ہوئی۔ کسی نے کہا کہ حضور چند کلمات عالیہ ارشادفرمادیجئے۔
حضرت نے فی البدیہہ اشعار پیش کئے۔جن سے حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی کی عربی زبان وادب پرگرفت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔چنداشعارملاحظہ فرمائیں۔

حمد باری تعالیٰ:

اللہ اللہ اللہ مالی رب الاھو
من کان لعربی دنیاہ عاش شھیداً اخراہٗ
من مات یتلو اللہ ذاک الخالد محیاہ
الرضوان لہ نزل جنۃ خلد ماواہ

مکمل اشعار سفینہ ٔ بخشش میں دیکھیں۔

حضرت مفتی محمدعیسیٰ رضوی لکھتے ہیں!
’’تاج الشریعہ کو عربی ادب پر ایسی دسترس حاصل ہے کہ وہ فی البدیہہ عربی میںاشعار اورقصیدے کہتے ہیں ان کی عربی تصانیف کو دیکھ کراندازہ لگایاجاسکتاہے کہ انہیںعربی زبان پرکتنا عبور ہے۔ ان کی عربی دانی سے بعض علماء عرب انگشت بدنداں رہ گئے کہ انہیں کہناپڑاکہ ہندستان کاایساعربی داں عالم ہمیں آج تک نظر نہیںآیا۔ان سے گفت وشنید کے بعد وہ ان کی عربی دانی کے معترف ومداح ہوگئے۔
مولانا محمد توفیق احسن برکاتی لکھتے ہیں ’’سفینہ بخشش میں نعت ومنقبت ، سلام، غزل، نظم، رباعی وغیرہ اصناف کاایک جہاں آباد ہے ، ۹۶صفحات پرمشتمل یہ نعتیہ دیوان دنیائے شعر و ادب میںایک مقام رکھتاہے، ادبیت کی چاشنی اورشریعت و طریقت کی نوازشات کاحسین امتزاج قاری کوجہاں عشق وعقیدت کے حقائق دریافت کراتا ہے وہیں ادب وفن کے باریک رموز ونکات سے آگاہی دیتاہوانظرآتا ہے، بزبان عربی گیارہ کلام موجود ہیں جن میں نعتیں، منقبتیں ،سلام اورنظمیں ہیں ان کے مطالعہ سے آپ کی عربی زبان میں مہارت تامہ کابخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔
سلام بطور نمونہ چنداشعارنذرقارئین ہیں۔

ھادی السبل یامنار سلام
عدد البر والبحار سلام
قدر السماء والارض
عدد اللیل والنھارسلام
یاصبا بلغی الی حبی
من بعید عن الدیار سلام
اجعلونی من اھل بلدتکم
وعلیکم ذوی الفخار سلام
أختر المجتدی یبلغکم
سائلا منکم البحوار سلام

نعت رسول

رسول اللہ یاکنزالأمانی
علی أ عتابکم وقف المعانی
بھٰذاالباب یعتزّ الذلیل
لھذا الباب یاتی کل عان
رسول اللہ انی مستجیر
لدی أ عتا بکم من کل جان
وکم فاضت بحارک کل حین
وکم جادت سماء ک کل آن
منقبت درشان مجاہد ملت
کیف الوصول صاح لدی الشامخ الأ شم
من أ عجزالشوامخ العلیا من الشمم
فاق المجاھدین ھذا المجاھد
ھذا الفتی بذا کو شھد المشاھد
قالو متیٰ مضیٰ ارأیت اختر
نادیت خاص فی النعما ء یحبر

ترجمہ نگاری:

ترجمہ نگاری ایک مشکل امر ہے ترجمہ کرتے وقت دونوں زبانوں پر مہارت حاصل ہونا اشدضروری ہے ورنہ ترجمہ ناقص ہونے کے ساتھ ساتھ زبان وبیان کی چاشنی اور ندرت سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالیٰ اردواور عربی زبانوں پر یکساں دسترس رکھتے ہیں اوردونوں زبان کے نوک وپلک اورادبیت پرمکمل عبور حاصل ہے یہی سبب ہے کہ ایام علالت میں ہونے کے باوجود سیدناامام احمدرضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی کئی کتابوںکااردوسے عربی زبان میںترجمہ کرکے امت مسلمہ پر احسان فرمایا تاکہ اہل عرب سیدنامجدداعظم کے افکار ونظریات اوران کی اسلامی تعلیمات سے واقف ہوسکے ۔
سیدناامام احمدرضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی مندرجہ ذیل کتابوں کااردوسے عربی میںترجمہ فرمایا ہے۔
(۱) تیسرالمامون (۲)شمول الاسلام
(۳)العطایا القدیر (۴) الہادی الکاف
(۵)اھلاک الوھابین (۶) فقہ شہنشاہ
(۶) آذر تحقیق کے آئینے میں
حسب ذیل کتابوں کاعربی سے اردو میں ترجمہ کیا
(۱) المعتمد المستند (۲)قصید تان رائعتان

 

Menu
error: Content is protected !!