حضورتاج الشریعہ اور تزکیہ و سلوک

مولانا شاہد القادری ، امام احمد رضا اکیڈمی ، کولکاتا ، انڈیا


الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین ورحمۃ للعالمین

عالم ربانی ، فقیہ لاثانی حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری مدظلہ،کی حیات طیبہ کے بے شمار گوشے ہیں۔ دینی، علمی ، فکری، تعلیمی ، تربیتی ، تصنیفی، تالیفی، فقہی، ملی اور روحانی ان میں ’’تزکیہ ٔ سلوک‘‘ بھی ایک اہم گوشہ ہے۔
اللہ نے بندوں کی اصلاح کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبین غیب داں نبی ﷺ تک برابر انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا تاکہ یہ مقدس گروہ تعلیم وتربیت، تزکیہ و طہارت، حکمت و دانائی کی باتیں لوگوں کوسکھانے کا فریضہ انجام دیتا رہے۔جب انسانیت علم و قلم کے چوراہے پر آکھڑی ہوئی تو رسول وقار ﷺکو رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا گیا اورقرآن مجید کو دستور العمل بناکر آپ پر نازل فرمایاگیا۔اس طرح رہتی دنیا تک کے انسانوں کو پاکیزہ اورطاہر بنانے کے لئے ایک عظیم اورمقدس دستاویز قیامت تک کے لئے عطا کیاگیا۔

قلب کی اصلاح:
قرآن مجید حضور سرور کائنات ﷺ کے قلب اطہر پراتار کراللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے جملہ معاملات کو وحی کی روشنی سے منور فرمایا ۔ انسانیت کے عقل و دماغ اور قلب کی اصلاح کے راستے کھول دئے ۱۳؍سالہ مکی اور۱۰؍سالہ مدنی زندگی کی کل۲۳؍سال میں پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی نورانی کرنوں سے ساری انسانیت کومنور کردیا۔ دین اسلام کا اپنے اصول کلیات کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے مکمل طورپر منصب نبوت کاحق اداکردیا اور ’’خیرامت‘‘ کے نام سے آخری امت کی تشکیل جدید ہوئی۔

تخت سلطنت:
دین وایمان کی بنیاد پر سلطنتوں اورحکومتوں کاقیام بھی ہوتارہا ، چونکہ دین دارالایمان ہے لہٰذا حق و باطل کی کشمکش اور ایمان و نفاق کے تنائو کا تسلسل بھی جاری رہا۔ادھر مصطفی جان رحمت ﷺ کے مشن کے مقابلے میںشیطان بھی اپنے قدیم و جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر امت پر اپنا زور آزماتا رہا۔ نیز تخت سلطنت پر جولوگ براجمان ہوئے۔ حکمرانوں کاایک طبقہ ہدایت یافتہ ہوا جو دین اورایمان کاخادم بنارہا اورحکومت و سلطنت کے وسائل واسباب کااستعمال دعوت دین میں ہوتارہا۔ لیکن دوسرا طبقہ فاسقوں فاجروں کابھی رہا۔ جو حکومت و سلطنت جیسی نعمت پر قابض ہوا اورعیش و عشرت میں یادگاریں قائم کرنے اورآپسی مارکاٹ کرنے میں اپنا وقت صرف کرتارہا۔
ایسی حالت میں علماء امت اور مصلحین قوم وملت فی سبیل اللہ بندگان خداکاتزکیہ نفس کرنا اپنے لئے لازم جاننے لگے خانقاہوں کاقیام عمل میں آیا اور قریہ قریہ ، شہرشہر شاگردوں کو بھیج کر عوام کی اصلاح کاسلسلہ شروع ہوا۔

سلسلہ ٔ بیعت:
ان پاک باز نفوس نے دعوت دین ، اصلاح نفس، اورتزکیہ نفس کااہم فریضہ انجام دیا۔ اس کے لئے ان حضرات نے سنت نبوی کااسلوب اختیارکیا جو مکی دور تھا۔ جس میںسرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے رب کی طرف بلانے کاکام انجام دیااورایک خدائے وحدہٗ لاشریک کو ماننے کاعہدوپیمان لیا اورشرک و کفر سے اجتناب کرنے کاحکم صادر فرمایا۔

سنیاس یارھبانیت نہیں:
حکمت ودانائی اور تزکیہ و سلوک پر نہایت خوبی سے کام کرنے والے نفوس قدسیہ، مرشد برحق، صوفی باصفا اورپیر طریقت تارک الدنیا درویش نہیں تھے بلکہ دعوتِ دین میںسنت کے طرز پر راہ ِ سلوک طے کرنے والے اورکرانے والے تھے۔ حکومت و سلطنت توان کے پاس تھی نہیں کہ وہ اپنا بادشاہی حکم چلاسکتے ، اس لئے انہوں نے راہ سلوک کے لئے مصطفی جان رحمت ﷺ کے طریقہ میں سلسلہ بیعت کواختیار کیا۔ ان کے پاس حکومت کی طاقت نہیں تھی۔ سادہ اورموٹالباس اورکم سے کم ضروریات زندگی کے سبب یہ حضرات صوفیا کہے جانے لگے۔ اسی وجہ سے لفظ تصوف بھی ان کے نام کے ساتھ جاری ہوا۔
مخدومی و مرشد ی حضور تاج الشریعہ مدظلہ ٗ العالی کی حیات طیبہ پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو لباس میں رہن سہن میں سادگی ہی سادگی نظر آتی ہے۔ ارباب حکومت ہویاسیاسی حضرات ، امراء ہویا عام آدمی ہرایک طبقہ سے آپ کی ملاقات کاانداز اورملبوسات یکساں ہی نظر آتا ہے یوں تو اپنے اسلاف کے طرزعمل کواپناتے ہوئے حکومتی سطح کے افراد سے ملنا ہی پسند نہیں فرماتے ہیں عرس اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے موقع پر اس وقت کا وزیراعظم ظالم نرسمہا رائو بریلی شریف پہنچا اورحضور تاج الشریعہ سے شرف ملاقات چاہا حضرت کوجونہی خبر ملی آپ اپنے کاشانۂ اقدس کوچھوڑ کر بریلی کے کسی قصبہ میں تشریف لے گئے۔

اللہ کی رحمت:
حضور تاج الشریعہ اس دور قحط الرجال میں امت مصطفویہ کے لئے ایک عظیم رحمت ہیں یہی سبب ہے کہ آج آپ کی ذات اطہر صلح کلیت کے لئے ضرب شدید ہے۔ آپ نے صاف صاف ارشاد فرمایا اللہ ورسول کے فیصلے کے خلاف میرے خاندان کاکوئی فرد ہی کیوں نہ نظر آئے اگروہ سچے دل سے توبہ نہیں کرتا ہے تو میرا رشتہ اس سے نہیں ہے آپ کافرمان سیدنا عمر فاروق کے اقوال کا پر تو نظرآتا ہے۔ ہندستان میں بالخصوص جب بھی کوئی مسئلہ ابھرکر آتا ہے عوام وخواص کے مرجع آپ ہی ہوتے ہیں۔ آپ امت مصطفویہ کے لئے کیونکر رحمت ہیں اس کااندازہ اس وقت لگتا ہے جب آبادی کی آبادی شرف زیارت کے لئے سیلاب کی طرح امنڈپڑتی ہے اورسلسلہ طریقت سے دامن کووابستہ کرنااپنے لئے رحمت سمجھتی ہے۔

بیعت کے ذریعہ دعوت کاطریقہ:
بیعت کے ذریعہ بندگان خدا کو وہ عہد وپیمان یاد دلایا جاتاہے جب فرمایا گیا ’’الست بربکم‘‘ تمام روحوں نے جواب دیا تھا’’قاَلُوابَلٰی‘‘ آج فرمان الٰہی سے امت دور ہورہی ہے خوف خدا قلب سے نکلاجارہاہے قلب منور ہونے کے بجائے سیاہ ہوتا جارہا ہے۔ بیعت کے ذریعہ مرشدان برحق یہ دعوت دیتے ہیں۔ میں اپنے ہاتھوں میں تمہارا ہاتھ لے کر اس عہد و پیمان کاازسرنو اعادہ کررہاہوںجوعالم ارواح میں تم سے لیاگیاتھا۔ اب تم وعدہ کرو کہ میںشرک و بدعت اورگمراہیت سے بچتا رہوں گا۔ بدمذہب یعنی (وہابی، دیوبندی،شیعہ، قادیانی ، مودودی، غیر مقلد) سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہوگا اور تمام گناہوں سے اجتناب کرتے ہوئے نماز کی پابندی کرتارہوں گا ۔ میرے مرشد گرامی بیعت لیتے وقت انہیں چیزوں کااعادہ بالخصوص کرتے ہیں اورعورتوں کوداخل سلسلہ کرتے وقت پردہ میں رہنے کی تلقین فرماتے ہیں۔

تزکیہ وسلوک کی مبارک کڑی:
مرد تو مردخواتین اسلام کو بھی حضورسرورکائناتﷺ نے سلسلہ بیعت میں شریک کیاتاکہ ایمان والے معاشرہ میں اللہ کی وحدانیت عام ہوشرک و بدعت ، خرافات ، چوری غیبت، چغلی ترک صلواۃ اوردوسرے گناہوں سے امت کو بچایا جاسکے اور تلاوت و درود شریف اوراوراد وظائف اورتوبہ استغفار کے حسین تحفے سے قلب و جگر کوپاکیزہ بنایاجاسکے تزکیہ و سلوک کی اس مبارک کڑی میں جن نفوس قدسیہ کے اسماء مشہور ومعروف ہیں ان میں ایک ممتاز ومتعارف نام حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خاں قادری برکاتی رضوی مدظلہٗ العالی کاہے ان کے دست کرم پر اس امت کے لاکھوں لوگ سلسلہ ٔ بیعت میںمنسلک ہیں الحمدللہ ان کے فیوض وبرکات سے مالامال بھی ہورہے ہیں۔
حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالیٰ سلسلۂ بیعت وارشاد اورراہ سلوک میںاختلافی مسائل سے ہٹ کر کتاب وسنت کی روشنی میںاکیسویں صدی میںاس کارخیر کوایسی حکمت عملی ، دانش مندی اوردانائی سے چلارہے ہیں جس کے سبب الحمدللہ ثم الحمد للہ حضور تاج الشریعہ سے لاکھوںلاکھ لوگ راہ حق کوپالینے میں قلبی سکون محسوس کررہے ہیں اوراس طریقہ کار پر ناک بھوں چڑھانے والے بھی حضرت کے چہرہ کادیدار کرتے ہی دامن کرم سے وابستہ ہونے کے لئے بے قرار نظر آتے ہیں۔

مروجہ پیری مریدی:
بعض کم علم اورنادان لوگوں نے سلسلہ ٔ بیعت کامذاق بھی اڑانا شروع کردیا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کتاب و سنت پران کی گہری نگاہ نہیں ہے اوردوسری وجہ یہ ہے جاہل پیروں کی جیب بھروتحریک ہے علم سے نابلد اورغیر شرعی امور کی تشہیر جس کی وجہ سے اسلام کااصل چہرہ مجروح ہوتاہوا نظر آتا ہے۔
بعض اہل علم اورمخلص لوگ بھی سلسلۂ بیعت کانام پیری مریدی رکھ کر اس پرلعن طعن کرتے ہیں اور اعتراض وارد کرتے ہیں چونکہ اصلاح امت کایہ طریقہ ،نبوی طریقہ ہے اس لئے اسے مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔ مرشدی ومخدومی حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی نے بیعت کے طریقہ میںایساطرزاختیار کیاجس کی سنت نبوی سے مماثلت ہے حضور تاج الشریعہ کاطریقۂ بیعت موجودہ کاروباری پیری مریدی سا کبھی نہیں رہابلکہ عین سنت قائمہ کے دائرے کے اندر راہ سلوک میں تزکیہ نفس اورتربیت کاہے۔
آپ کا کبھی منشا یہ نہیں رہاکہ دولت مندوں کومرید کرکے خزانوں کاانبارلگادیں اوردولت مندوںکے گھروں میں عام پیروں کی طرح ہفتہ ہفتہ براجمان ہوکر لمبے لمبے لفافہ والانذرانہ غریب وامیر مریدوں سے لیتے رہیں۔
بلکہ آپ کے تبلیغی اسفار کامقصد یہی ہوتا ہے کہ سلسلہ طریقت کی ترویج واشاعت اورمسلک اہلسنت کی آبیاری اورایسے بھی ہرکس و ناکس ان کی حیات طیبہ کو دیکھ کر مشاہدہ کرسکتاہے۔

قرآن مجید اورسنت نبوی:
مخدومی حضرت تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی سلسلہ بیعت میںحضور مفتی اعظم ہند شاہ مصطفی رضاخاں نوری علیہ الرحمہ کے مریدہیں اورحضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے علاوہ حضور برہان ملت ، حضور سیدالعلماء ، حضور مفسراعظم ہند اورحضور احسن العلماء سے اجازت وخلافت حاصل ہے اوران پاکبازہستیوں کے علاوہ بہت سی اہم شخصیات سے روحانی اورعلمی فیضان حاصل ہیں جس کے سبب آپ کے سینے میں بے شمار لوگوں کے فیض کاعطر یکجا ہوگیاہے۔میں نے بھی دیکھا ہے اورآپ بھی میری بات کی تصدیق کریں گے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کثیر افراد نے سلسلہ بیعت میںحضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی سے منسلک ہوکر کسب فیض کیاہے میرے نزدیک اس کاسب سے بڑا کریڈٹ قرآن مجید اورسنت نبوی کو ہے۔ آپ کی صحبت وتربیت میں جوبھی رہااللہ تعالیٰ نے اس کی ظاہری باطنی روحانی کیفیات کو بلندی پر پہنچایا اوراس کی زندگی کے تمام معاملات شریعت کے مطابق ہوگئے۔

نظریۂ تزکیہ وسلوک:
حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالیٰ کے طرز اصلاح وتربیت کی وضاحت اورتذکرہ مقصود ہے تو آپ سے جو بھی قریب ہوا وہفَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنتَ لَهُمْ ۖکے تحت حضرت والا کی محبت و مؤدت، ترحم اورنرمی کامستحق ہوا۔ تعلیم نبوی کی جونورانی کرنیں آپ کی ذات میں موجود ہیںاس کاعکس ہرایک نے اپنی طلب اوراستعداد کے مطابق اخذ کیا اورجو شخص بھی بیعت کے سلسلے میں حضور تاج الشریعہ سے جڑا وہ دنیا اورآخرت کے اعتبار سے کچھ نہ کچھ بن گیا۔سلسلہ بیعت بہت اہم اوربھاری نعمت ہے۔

صالح بندوں کی محبت کااثر:
سورہ کہف کی آیت ۶۰ سے ۸۲تک ۲۳ آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کاجو واقعہ بیان ہوا اس میں بھی بیعت وارشاد کے تعلق سے بیشتر مضامین مل سکتے ہیں اس مضمون سے ہم صرف اتنا لیناچاہیں گے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا(ترجمہ) کیامیں آپ کی اتباع میںکچھ عرصہ تک رہوں کہ جومفید علم آپ کو سکھایاگیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی آپ سکھادیں ۔ان آیات بینات سے معلوم ہوتا ہے کہ علم و تزکیہ کے لئے کسی کی اتباع کرنااس کے ساتھ رہنا ضروری اورمفید ہے اورتزکیہ قلوب اورتطہیر نفس کے لئے اولیاء اللہ کی صحبت میں رہناسعد۔مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے حضور تاج الشریعہ مدظلہ ٗ العالی کے دست مبارک پر بیعت کی۔ حضور تاج الشریعہ مد ظلہٗ العالی مسترشدین کی تربیت و تعلیم اس طرح فرماتے ہیں کہ کہیں بھی ریاونمود اوردکھاوا کاشائبہ تک نہیں ہوتا ہے آپ کی زندگی چمتکار اورنمسکار سے خالی ہے۔

حرام سے اجتناب:
لاکھوںلاکھ لوگوں کے قلوب کی اصلاح کرنا، اعمال صالحہ کی پابندی ، محرمات و منہیات سے اجتناب کرنے کی طرف متوجہ کرنا اللہ ورسول اورصحابہ و اولیاء سے محبت کاشوق دلانا، دنیا کے مال و متاع سے کچھ پرے رہ کر استغناء کی زندگی گزارنا ہمارے اس دور میں آسان کام نہیں ہے۔ لیکن مرشدی ومخدومی حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی نے تزکیہ اوراحسان کی اس راہ کو اس دور کے لوگوں کے لئے آسان کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اوامر ونواھی:
حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی کی ذات ستودہ صفات عام پیروں سے ماوراء ہے آپ نے ہرحال میں احکام شریعت کو فوقیت دی ہے کسی لومۃ لائم کی ہرگز پرواہ نہیں کی ہے اورنہ ہی کسی دولت مند کے خزانے پر نگاہ کی ہے نہ کبھی یہ سوچا کہ کسی کوشریعت کے معاملات میں تنبیہ کریں گے تو وہ ہمارے ارادت سے کہیں باہر نہ چلاجائے۔
آپ کی زندگی کا شبینہ روز شریعت مطہرہ کی پابند رہتی ہے آپ نے جب بھی کسی کوشریعت کے خلاف عمل کرتے ہوئے دیکھا فوراً متنبہ کیا۔
آپ کے سامنے کوئی ٹائی پہن کرآتا ہویا چین کی گھڑی استعمال کرنے والا آتا ہو ، داڑھی کترنے والا کوئی شخص آتا ہو یا صلح کلیت کادلدادہ ہوتا ہوآپ سب پرحکم شرع نافذ فرماتے ہیں۔
مغربی بنگال ، ہوڑہ، ٹکیہ پاڑہ میں دارالعلوم ضیاء الاسلام میں حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالی تشریف لائے مجلس ختم بخاری شریف کے بعد ایک نوجوان شرف زیارت کے لئے حاضر ہوا اورعرض کرنے لگاحضور آپ میرے لئے دعاء فرمادیں میںفجر کی نماز کی پابندی کروں حضرت نے دعائوں سے نوازتے ہوئے فرمایا میں نے یہ واحدنوجوان دیکھا جس نے نماز کی پابندی کے لئے دعا کرائی ہے ورنہ لوگ تعویذات ، مال و بزنس میںخیر و برکت کے لئے دعاء کراتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت عطافرمائے سامعین نے آمین کہا۔

خواتین کی بیعت:
آج کل شہر شہر ، گائوں گائوں پیروں کی برات نظر آتی ہے عمل سے دور شریعت سے بیگانہ پن اورپیری مریدی میں بے باک ، نماز سے پرہیز اورعورتوں سے بے پردگی اورحال یہ ہے کہ آج کے پیروں کاکہ مرید کرتے وقت تو عورتوں کے ہاتھ پرہاتھ رکھ کریہ کہتے ہوئے مرید کرتے ہیں کہ مریدہ بیٹی کے حکم میں ہوتی ہے اس لئے پیر کے لئے جائزہے(العیاذ باللہ) ہزار ہزار صلاۃ و سلام ہو مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کی بارگاہ عالی جناب میں کہ سرکار ﷺ نے کبھی بھی عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کربیعت نہیں کی بلکہ کسی پیالے میں پانی ڈال کراپنا دست مبارک پانی بھرے پیالے پہنچادیاجاتا، وہ بھی اس میںہاتھ ڈال کر بیعت اورتوبہ کے الفاظ دھراکر بیعت ہوجاتیں۔ اسی احتیاط اورنبوی طریقے پر حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالیٰ بھی عمل پیرا ہیں وہ بیعت کے وقت کبھی کسی خاتون کے ہاتھ کو ہاتھ میں لے کربیعت نہیں فرماتے ہیں بلکہ چادر کاایک سرا آپ پکڑ لیتے ہیںاور دوسرا بیعت ہونے والی خاتون پکڑ لیتی ہے۔ زیادہ مجمع ہونے پر چادریں ایک دوسرے سے جوڑ کر درازکردی جاتی ہیں جس سے خواتین کے لئے بڑی سہولت ہوتی اورالحمدللہ پردے اورحجاب کاشرعی تقاضہ بھی پورا ہوتاہے۔
یہ طریقہ تزکیہ سلوک اکیسویں صدی میںحضور تاج الشریعہ مفتی محمداختررضاخاں ازہری قادری رضوی مدظلہٗ العالی کا تزکیہ اور سلوک کا نظریہ ہے جو کتاب و سنت سے ہر طرح ثابت ہے اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت عطافرمائے اورآپ کاسایہ رحمت ہم غلاموں پر قائم ودائم رہے۔ (آمین)

 

Menu
error: Content is protected !!