تاج الشریعہ اور اسناد حدیث و فقہ و مصافحہ

مولانا شاہد القادری ، امام احمد رضا اکیڈمی ، کولکاتا، انڈیا


علمی اور روحانی فیوض و برکات کے لئے کسی ایسے شخص کو تلاش کیاجاتاہے جس کاعلمی اورروحانی سلسلہ تسلسل کے ساتھ منبع روحانیت اورسرچشمہ علم وحکمت سے سرشار حضرات سے ہوتا ہوا تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو۔
اکیسویں صدی میں عالم اسلام کی ایک ممتازومتعارف شخصیت اورعالمگیر حیثیت کے مالک نبیرۂ اعلیٰ حضرت حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی الحاج الشاہ محمداختررضاخاں قادری رضوی ازہری مد ظلہ العالی کانام نامی اسم گرامی نمایاں نظر آتا ہے۔آپ بیک وقت علمی اورروحانی سمندر کے سنگم ہیں آپ کی بارگاہ میں کوئی بھی شخص جس آرزو کولے کر آتا ہے چاہے علمی پیاس بجھاناچاہتاہویاروحانیت سے مالامال ہوناچاہتاہو بہرحال سیرابی کی دولت ضرور حاصل ہوتی ہے۔
آئیے ایک نظران نفوس قدسیہ پرڈالتے ہیں جن لوگوں کی نگاہ کرم نے علامہ اختررضا کو تاج الشریعہ اورعلم و عرفاں کا تاجدار بنادیا۔
اساتذہ ٔ کرام:
۱- حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضاخان قادری نوری (م۱۴۰۲ھ/۱۹۸۱ء)
۲-حضور مفسر اعظم ہند علامہ ابراہیم رضاخان قادری رضوی (م ۱۳۸۵ھ/۱۹۶۵ء)
۳-حضور بحرالعلوم مفتی سید محمدافضل حسین مونگیری رضوی (۱۴۰۲ھ/ ۱۹۸۲ء)
۴-استاذ العلماء مفتی محمداحمد جہانگیر اعظمی رضوی قدس سرہٗ
۵-ریحان ملت علامہ ریحان رضاخان رضوی (م ۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵ء)
حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی کے تمام اساتذہ کرام پر ایک گہری نظرڈالی جائے توہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سب کے سب علمی خزانے سے لیس، مالامال اور شہنشاہ علم وفضل ہیں۔ فضل بالائے فضل کہ تمام کے تمام اساتذہ کرام (حضور مفسر اعظم ہند، حضور بحرالعلوم ، حضور استاذ العلماء اورحضرت ریحان ملت) سیدنا حضور مفتی اعظم ہند کی بارگاہ کے تربیت یافتہ ہیںاوران پاکباز ہستیوں کے اسنادحدیث وفقہ اورسلسلہ ٔ طریقت حضور مفتی اعظم ہند سے جاملتے ہیں۔
حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی نے حضور مفتی اعظم ہند کی بارگاہ میں رہ کرجو علمی استفادہ کیا اس کااظہار اس طرح کرتے ہیں:
’’جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے اپنی دلچسپی کی بناپر فتویٰ کاکام شروع کیا۔ شروع شروع میں مفتی افضل حسین صاحب علیہ الرحمہ اوردوسرے مفتیان کرام کی نگرانی میں یہ کام کرتارہا ۔اورکبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکرفتویٰ دکھایاکرتاتھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کام میں میری دلچسپی زیادہ بڑھ گئی اورپھر میں مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔ حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں مجھے وہ فیض حاصل ہوا جوکسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی نہ ہوتاہے۔(مفتی اعظم اوران کے خلفاء ، جلد اول ص ۵۱)
حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کے اسناد کو تین حصوں میںتقسیم کیاجاتا ہے۔ یعنی (۱)سند حدیث(۲)سند فقہ(۳)سند مصافحہ
ان تینوں اسناد کو قدرے تفصیل سے بیان کرنے کی سعادت حاصل کررہاہوں اس لئے کہ حضور مفتی اعظم ہند کو اپنے بزرگوں سے جتنی سندیں اوراجازتیں ملی تھیںوہ سب کے سب انہوں نے اپنے چہیتے نواسے اورجانشین حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضاخان ازھری مدظلہ العالی کو عطافرمادی تھیں۔
حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضور مفتی اعظم ہند کوجو سندیںحضور اعلیٰ حضرت سے ملی ہیں وہ دنیا میںسے اصح واعلیٰ ہیں‘‘۔
(۱) سند حدیث
یہ سند کل تین طرق سے ہے
(۱) بطریق شیخ عبدالحق محدث دہلوی (علیہ الرحمہ)
(۲)بطریق حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (علیہ الرحمہ)
(۳) بطریق صوفی احمدحسن مرادآبادی(علیہ الرحمہ)
حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کی سندوں کے نقشے ملاحظہ ہوں

(۱) بطریق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ
حضور نبی اکرم نور مجسم شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت ابوقابوس مولیٰ عبداللہ بن عمرو بن العاص
حضرت سفیان بن عمرو بن دینار
حضرت سفیان بن عینیہ
حضرت عبدالرحمن بن بشر بن الحکم
حضرت ابوحامداحمد بن محمد بن یحیٰ بن بلال البزار
حضرت ابوطاہر محمد بن محمد محمش الزیادی
حضرت ابوصالح احمد بن عبدالملک المو ٔ ذن
حضرت ابوسعید اسماعیل بن ابوصالح احمدبن عبدالملک نیشاپوری
حضرت حافظ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی
حضرت ابوالفرج عبداللطیف بن عبدالمنعم الحرانی
حضرت ابوالفتح محمد بن محمد ابراہیم البکری المیدوی
حضرت شیخ شمس الدین ابوعبداللہ محمد بن احمد التدمری
حضرت شیخ ابوالفضل عبدالرحیم بن حسین عراقی
حضرت شیخ شہاب ابوالفضل احمد بن حجر عسقلانی
حضرت شیخ شمس الدین سخاوی القاہری
حضرت شیخ وجیہہ الدین عبدالرحمن بن ابراہیم علوی
حضرت شیخ محمد افلح الیمنی
حضرت شیخ عبدالوہاب بن فتح اللہ بروجی
حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی
حضرت شیخ ابوالرضابن اسماعیل دہلوی (نواسہ شیخ عبدالحق)
حضرت شیخ سیدمبارک فخرالدین بلگرامی
حضرت شیخ سید طفیل محمد اترولوی
حضرت سید شاہ حمزہ حسنی الواسطی بلگرامی
حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی
حضرت سید شاہ آل رسول احمد مارہروی
حضرت امام احمدرضامحدث بریلوی
حضرت مفتی اعظم مصطفی رضا بریلوی (رضوان اللہ علیم اجمعین)
حضور تاج الشریعہ علامہ اختررضا قادری ازہری (مد ظلہ العالی)

(۲) بطریق حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر حضرت ابوالفتح محمد بن محمد ابراہیم البکری المیدوی تک وہی سند ہے جو گزری ہے اس کے بعد سند یوں ہے۔
حضرت شیخ زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی
حضرت شیخ ابوالفتح محمد بن ابوبکر بن الحسین المراغی
حضرت شیخ سید ابراہیم التازی
حضرت شیخ احمد حجی الوھرانی
حضرت شیخ سعید بن المقری
حضرت شیخ سعید بن ابراہیم الخزائری المعروف قدورہ
حضرت شیخ یحیٰ بن محمد شاوی
حضرت شیخ عبداللہ بن سالم البصری
حضرت شیخ سید عمر
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
حضرت سیدآل رسول احمد محدث مارہروی
حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی
حضرت مفتی اعظم شاہ مصطفی رضا محد ث بریلوی (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
حضور تاج الشریعہ شاہ اختر رضا قادری ازہری (مد ظلہ العالی)

(۳) بطریق صوفی احمد احسن مرادآبادی
(جو بہت عالی ہے)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر شیخ شہاب الدین ابوالفضل احمد بن حجرعسقلانی تک وہ ہی سند ہے جوگزری ۔ اس کے بعد سند یوں ہے۔
حضرت شیخ الاسلام اشرف زکریابن محمد الانصاری
حضرت شیخ ابوالخیر بن عموس الرشیدی
حضرت شیخ محمد بن عبدالعزیز
حضرت شیخ احمدبن محمدالدمیاطی المعروف ابن عبدالغنی
حضرت شیخ مولانا احمداحسن الصوفی المرادآبادی
حضرت سید شاہ ابوالحسین النوری مارہروی
حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی
حضرت مفتی اعظم مصطفی رضا بریلوی (علیہم الرحمہ)
حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا قادری ازھری(مدظلہ العالی)

(۲) سند فقہ حنفی
اس سند کی خوبی یہ ہے کہ اس سند کے تمام اساتذہ و شیوخ حنفی المسلک ہیں ۔
حضور اقدس نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
حضرت علقمہ نخعی حضرت الاسود
حضرت ابراہیم
حضرت حماد
حضرت سراج الامہ سید نا امام اعظم ابوحنیفہ
حضرت ابوعبداللہ محمد بن الحسن الشیبانی
حضرت شیخ احمد بن حفص
حضرت شیخ عبداللہ بن ابی حفص البخاری
حضرت امام ابوعبداللہ السبند مونی
حضرت شیخ ابوبکر محمدبن الفضل البخاری
حضرت شیخ القاضی ابوعلی النسفی
حضرت امام شمس الائمہ الحلوانی
حضرت امام فخرالاسلام البزودی
حضرت امام برہان الدین (صاحب الہدایۃ)
حضرت امام عبدالستاربن محمد الکردری
حضرت شیخ جلال الدین الکبیر
حضرت شیخ عبدالعزیز البخاری
حضرت شیخ سیدجلال الدین الخبازی
حضرت شیخ علاء الدین سیرافی
حضرت شیخ السراج قاری الہدایۃ
حضرت شیخ الکمال بن الہمام (صاحب فتح القدیر)
حضرت شیخ سری الدین عبدالبربن الشخۃ
حضرت شیخ اسماعیل بن عبدالغنی النابلسی(صاحب شرح الدر والغرر)
حضرت شیخ عبدالغنی بن اسماعیل بن عبدالغنی النابلسی (صاحب الحدیقۃ الندیۃ)
حضرت شیخ اسماعیل بن عبداللہ الشہیر علی زادہ البخاری
حضرت شیخ عبدالقادر بن خلیل
حضرت شیخ یوسف بن محمد علائو الدین المزحاجی
حضرت شیخ محمد عابد الانصاری المدنی
حضرت شیخ جمال بن عبداللہ بن عمر مفتی مکہ
حضرت شیخ عبدالرحمن السراج بن شیخ عبداللہ السراج مفتی مکہ
حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی
حضرت مفتی اعظم مفتی مصطفی رضاقادری بریلوی(علیہم الرحمہ)
حضور تاج الشریعہ مفتی محمداختر رضا قادری ازھری (مدظلہٗ العالیٰ)

سند روایت:

یہ سند فقہ ۵۴ واسطوں سے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے ہوتی ہوئی حضرت سیدنا ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے۔ اس سند کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں تاریخ مقام روایت کی پوری تفصیل موجود ہے سیدنامحدث بریلوی علیہ الرحمہ نے کب اور کہاں کن سے روایت کی ہے۔
قال الامام احمد رضا البریلوی
شیخ عبدالرحمن السراج نے باب صفا کے پاس اپنے گھر ۲۲ ذوالحجۃ ۱۲۹۵ھ کو اپنی تمام روایات کی اجازت دی خواہ وہ حدیث کی صورت میں تھیں یافقہ کی صورت یا اس کے علاوہ تھیں فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ہشتم ص ۵۱۲)
۱- شیخ عبدالرحمن السراج مکی
۲-جمال بن عبداللہ بن عمرمکی
۳-شیخ اجل عابد سندھی
۴-شیخ محمد حسین انصاری
۵-شیخ عبدالخالق بن علی مزجاجی
۶- شیخ محمد بن علائو الدین مزجاجی
۷-شیخ احمد نخلی
۸-شیخ محمد بابلی
۹-شیخ سالم سنوری
۱۰-شیخ نجیم غیطی
۱۱-حافظ زکریا انصاری
۱۲-حافظ ابن حجر عسقلانی
۱۳- شیخ ابوعبداللہ جریری
۱۴-شیخ قوم الدین اتقانی
۱۵-شیخ برہان الدین احمد بن سعد بن محمد البخاری السغنانی
۱۶- حافظ الدین محمد بن محمد بن نصر بخاری
۱۷-شیخ محمد بن عبدالستار الکردری
۱۸-عمر بن عبدالکریم الدرسکی
۱۹-عبدالرحمن بن محمد الکرمانی
۲۰-ابوبکر محمد بن الحسین بن محمد
۲۱-شیخ عبداللہ الزوزنی
۲۲- شیخ ابوزید الدبوسی
۲۳-ابوجعفر الاستروشی
بقول امام احمد رضا کے یہ سند چاردرجے عالی ہے
حضور خاتم الاکابرسید آل رسول احمدی علیہ الرحمہ نے مارہرہ منورہ میں اپنے آستانے پر ۵؍ جمادی الاولیٰ ۱۲۹۴ھ کو تمام روایات کی اجازت دی جوانہیں ان کے شیخ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے ملی تھیں۔ (ایضاً)
۱-شیخ سید آل رسول احمد مارہروی
۲- شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
۳ -شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
۴-شیخ تاج الدین القلعی
۵-شیخ حسن عجمی
۶-شیخ خیرالدین رملی
۷-شیخ محمد بن سراج الدین الخانوتی
۸-شیخ احمد بن شبلی
۹-شیخ ابراہیم الکرکی
۱۰- شیخ امین الدین یحی بن محمد اقصرائی
۱۱-شیخ محمد بن محمد البخاری
۱۲-حافظ الدین محمد بن محمد علی بخاری طاہری
۱۳-صدرالشریعہ ۱۴-تاج الشریعہ
۱۵-صدرالشریعہ ۱۶-جمال الدین محبوبی
۱۷-محمد بن ابوبکر بخاری ۱۸-شمس الائمہ الزرتجری
۱۹-شمس الائمہ حلوائی ۲۰- امام اجل ابوعلی نسفی
۲۱-ابوبکر محمد بن الفضل بخاری
۲۲-ابومحمد عبداللہ بن محمد یعقوب الجارثی
۲۳- عبداللہ محمد بن ابی حفص الکبیر
۲۴-ابوحفص الکبیر
۲۵- محمد بن حسن الشیبانی
۲۶- سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ
۲۷-شیخ حماد
۲۸- شیخ ابراہیم نخعی
(۳) حدیث مسلسل بالمصافحہ
’’حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالیٰ کو بتوسل حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ ، اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی ان تمام اسناد کی اجازت حاصل ہے۔ جوالاجازت المتینہ میں مطبوع ہیں جن میںسند فقہ بھی ہے اور سند مصافحات المصافحات الاربع کے الفاظ کے ساتھ مطبوع ہیں جن کے بارے میںحضور محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا مجھے بحمدہٖ تعالیٰ ان چار مصافحوں کے ذریعہ رب ذوالجلال کے خلیفہ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ رسالت تک متصل ہونے کاشرف حاصل ہے۔

چار مصافحے:

(۱) سند مصافحہ جنیہ (۲) سند مصافحہ خضریہ (۳)سند مصافحہ منامیہ (۴) سند مصافحہ معمریہ

۱– سند مصافحہ جنیہ
حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی نے اپنے مرشد برحق حضور مفتی اعظم ہند سے مصافحہ کیا
انہوںنے سید ناامام احمد رضامحدث بریلوی سے
انہوںنے سیدنا آل رسول احمدی مارہروی سے
انہوں نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے
انہوںنے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے
انہوں نے سید عبداللہ بن عیدروس بن شیخ علی العید روسی سے
انہوں نے سید جعفر صادق بن سید مصطفی العیدروسی سے
انہوںنے فرمایا میں نے ۱۰۹۸ ھ میں ’’غانم‘‘ نامی ایک جن سے مصافحہ کیا۔ اس جن نے ایک دن مسجد میں نماز عصر میرے والد کے ساتھ پڑھی نماز کے بعد والد صاحب نے حکم دیا کہ وہ مجھ سے مصافحہ کرے کیوں کہ اس جن نے والد صاحب کو بتایاتھا کہ سورۃ الجن میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کی جس جماعت کاذکر کیاہے ان میں سے ایک ایسے جن سے مصافحہ کیا ہے جس نے سات سو سال سے زیادہ عمر پائی اوررسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرنے کاشرف حاصل کیا ہے۔

۲- سند مصافحہ خضریہ:
حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی نے اپنے مرشد برحق حضور مفتی اعظم ہند سے مصافحہ کیا
انہوں نے سیدنا امام احمد رضامحدث بریلوی سے
انہوں نے سیدنا آل رسول احمدی مارہروی سے
انہوں نے سیدنا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے
انہوں نے سیدنا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے
انہوں نے حضرت شیخ سید عمر سے
انہوں نے شیخ عبداللہ سے
انہوں نے شیخ محمد بن محمد بن سلیمان سے
انہوں نے شیخ ابوعثمان سعید بن ابراہیم الجزائری سے
انہوں نے شیخ ابوسعید بن احمد المقری القریشی سے
انہوں نے شیخ احمد مجی الوھرانی سے
انہوں نے شیخ سالم التازی سے
انہوں نے شیخ صالح الزاوادی سے
انہوں نے شیخ حافظ عبداللہ بن محمد بن موسیٰ العیدروسی سے
انہوں نے شیخ ابوعبداللہ بن محمد بن جابر الغسانی سے
انہوں نے امام ربانی شیخ ابوعبداللہ محمد بن علی المراکشی سے
انہوں نے عبداللہ الصوفی سے
انہوں نے الامام العالم ابوالعباس احمد بن البنا سے
انہوںنے ولی اللہ شیخ ابوعبداللہ سے
انہوں نے سیدنا ابوالعباس الخضر علیہ السلام سے
انہوں نے سرکار سیدناسرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا۔

۳– سند مصافحہ منامیہ:

جو تفصیل مصافحہ خضر یہ میں صالح الزاوادی تک گزری وہی یہاں ہے۔
انہوں نے شیخ عزالدین بن جماعتہ سے مصافحہ کیا
انہوں نے شیخ محمد شیرین سے
انہوں نے شیخ سعدالدین الزعفرانی سے
انہوںنے شیخ ناصر الدین علی بن ابوبکر ذوالنون الملیطی سے
انہوں نے شیخ محمد بن اسحاق القونوی سے
انہوں نے شیخ اکبر محی الدین ابن العربی سے
انہوں نے شیخ احمد بن مسعود شداد المقری الموصلی سے
انہوں نے شیخ علی بن محمدالحائکی البایری سے
انہوں نے شیخ ابوالحسن علی الباغوزائی سے
انہوں نے فرمایا کہ میں نے خواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی آپ نے اپنے دست اقدس کی انگشتان مبارک میرے ہاتھوں کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا: اے علی ! میری انگلیوں میں انگلیاں ڈال، جو میری انگلیوں میں انگلیاں ڈالے گا جنت میں جائے گا اورآپ گنتے گئے یہاں تک سات تک پہنچے پھر بیدار ہوگیا اس وقت میری انگلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس انگلیوں میں تھیں۔

۴- سند مصافحہ معمریہ :

حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالیٰ نے اپنے شیخ کامل سیدنا حضور مفتی اعظم ہند سے مصافحہ کیا۔
انہوں نے سیدناامام احمد رضامحدث بریلوی سے
انہوں نے سیدنا سید آل رسول احمدی مارہروی سے
انہوں نے سیدناشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے
انہوں نے سیدنا ابوطاہر سے
انہوںنے شیخ احمد النخلی سے
انہوں نے عارف کبیر شیخ تاج الدین الہندی النقشبندی سے
انہوں نے سیدناشیخ عبدالرحمن سے
انہوں نے سیدنا شیخ حافظ علی الاربہی سے
انہوں نے شیخ محمود الاسفرائنی اورسید امیر علی الہمدانی سے، اوران دونوں نے معمر صحابی ابوسعید الحبشی سے اورانہوں نے سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا۔

«حضور نورالعارفین سیدنا سرکار ابوالحسین نوری علیہ الرحمہ کا رسالہ مبارکہ ’’النور والبھاء فی اسانید الحدیث سلاسل الاولیا ء میں ۳۹ سلاسل قرآن مجید واحادیث کریمہ اورسلاسل اولیاء کرام درج ہیں ۔ ان سب کی اجازت بتوسل حضور مفتی اعظم ہند حضرت تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کو حاصل ہیں۔

«حضور مفتی اعظم ہند نے اپنے جانشین حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کو نسائی شریف کی اس حدیث کی بھی سندواجازت عطافرمائی جو سند الحفاظ علامہ علی بن احمد بن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے فتح الباری کے اخیر میں اپنی سند کے ساتھ ذکر فرمائی ہے۔

«حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کوبواسطہ حضور مفتی اعظم ہند اورحضور مفسراعظم ہند، حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی ان تمام اسناد کی اجازتیں حاصل تھیں جو ’’الاجازات المتینہ‘‘ میں مطبوع ہیں۔ ان میںفقہ کی بھی ایک اہم اور عظیم الشان سند شامل ہے جو اوپرگزر چکی ہے۔

«حضور تاج الشریعہ مد ظلہ العالی کو حضورمفتی اعظم ہند کے توسل سے جن سلاسل کی اجازت حاصل ہے وہ دس اجازتوں پر مشتمل ہیں۔ ۵؍سلسلہ خاندانیہ ۵؍سلسلہ مارہرہ مطہرہ اورحضرت بحرالعلوم علامہ عبدالعلی فرنگی محلی لکھنوی علیہ الرحمہ کے واسطے سے صحاح ستہ کے مصنفین تک پہنچتی ہے۔

«مزید یہ سندیں حضور تاج الشریعہ کو حضور مفتی اعظم ہند سے حاصل ہیں وہ یہ ہیں۔
صحاح ستہ، مؤ طا امام مالک، حصن حصین، بقرات اطراف، اجازت سنن ابودائود بقرات اطراف

 

 

Menu
error: Content is protected !!