حضورتاج الشریعہ کا عشق رسول

حاجی محمد بدرالدین بدرؔ(ایڈوکیٹ) ہائی کورٹ ، کولکا تا ، انڈیا


یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میںعالم اسلام کی ممتاز شخصیتوں میںایک عظیم علمی اورروحانی عالم گیر شخصیت نبیرۂ اعلیٰ حضرت حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمداختر رضاازہری مدظلہٗ العالی کااسم گرامی نہایت بلند ومتعارف ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ رحمتہ کے متعلق کون نہیں جانتا کہ وہ ایک سچے عاشق رسول تھے اورظاہر ہے کہ انہیں کے حسب و نسب سے تعلق رکھنے والے تاج الشریعہ کاکلام عشق رسول سے کیسے خالی رہ سکتاہے۔ محبت اورتڑپ کاایک حسین امتزاج ان کے کلام میں ملتاہے۔
محبت ایک ایسا لفظ ہے جو لغوی اورمعنوی ہردواعتبار سے دل کشی ، لطافت وسوزوگدازکاحامل ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قافلۂ حیات کی ساری ہماہمی اسی سے ہے۔ اسی کے حلقۂ دام میں آکرزندگی کوذوق تمنانصیب ہوتاہے اورمحبت ہی کی بدولت روح انسانی کو بقا کی منزل سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ محبت ہی سے آواز میں لوچ، بات میںشیرینی چہرے پرحسن، رفتار میںانکساری اورکردار میں وسعت وپختگی پیدا ہوتی ہے۔ خطاکاروں کی خطائیں بخشنا گالیوں کاجواب دعائوں میں دینا، غریبوں سے پیارکرنا، یتیموں سے حسن سلوک سے پیش آنا، محتاجوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ، مغرور اورتند مزاج لوگوں کے ساتھ بھی انکساری برتنا، محبت ہی کے کرشمے ہیں۔ یہ محبت ہی ہے کہ ایمان اس کے بغیرکامل نہیں ہوتا اورعبادت اس کے بغیر ناقص وادھوری رہتی ہے۔ یہ قلب کی قوت اورزندگی کے لئے شیریں چشمہ ہے۔ حضرت علامہ اختررضا ؔازہری صاحب قبلہ نے بھی اس رمز کو بخوبی محسوس کیااورسفینۂ بخشش کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتاہے کہ ’’حب نبی‘‘ کے بغیرایمان نامکمل ہے۔
جہاں تک عقیدت کاسوال ہے تو بغیرعقیدہ کے عقیدت کی حد ممکن نہیں۔ بغیر عقیدت کے محبت کی انتہاممکن نہیں۔ یہ اتنی باریک شئے ہے جسے عام ذہن سمجھنے سے قاصر ہوتاہے۔دراصل یہ وہ سلسلہ ہے جس کے زینے پر پاکباز دل ہی قدم رکھ سکتاہے۔ متزلزل ہونادور کی بات ہے، لغزش کاگمان بھی نہیں ہوتا جس کی زندہ مثال ’’سفینہ بخشش‘‘ ہے جس کی نمو کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی، استاد زمن علامہ حسن رضاخان حسنؔ اورمفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضاخان نوریؔ سے بے انتہا عقیدت واحترام ایک لازمی عنصر ہے۔ اگریہ جذبہ موجزن نہ ہوتوپھر ایسے اشعار کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ یہی وہ نورانی سلسلہ ہے جو درشاہ امم صلی اللہ علیہ وسلم پرلاکھڑا کرتاہے۔

خلد زارِطیبہ کااس طرح سفر ہوتا
پیچھے پیچھے سر جاتا آگے آگے دل جاتا

ترا ذرہ وہ ہے جس نے کھلائے ان گنت تارے
تراقطر ہ وہ ہے جس سے ملا دھارا سمندر کا

یوں تو جیتاہوں حکم خداسے مگرمیرے دل کی ہے ان کو یقیناخبر
حاصل زندگی ہوگا وہ دن مرا ان کے قدموں پہ جب دم نکل جائے گا

آسماں تجھ سے اٹھائے نہ اٹھیں گے سن لے
ہجر کے صدمے جو عشاق اٹھا جاتے ہیں

ان اشعار کی روشنی میں یہ حقیقت جسے ہم محبوبیت کہتے ہیں، کھلتی ہوئی نظرآتی ہے ۔ بغیراندرونی ضرب کے یہ کیفیت جوہمیشہ پوشیدہ رہتی ہے ممکن نہیں کہ عیاں ہوجائے۔ اگریہ حقیقت نہیں تو پھر درجاناں کاتصور یاقربت کوئی معنی نہیںرکھتی۔
حضرت علامہ اختر رضاخان ازہری کے کلام کاسرمایہ سفینہ بخشش ایک ایسی روداد عشق ہے جس میں ذہن کم ، دل زیادہ بولتااورسنتا ہے ۔ ذہن کابولناایک منطقی پہلو ہے جب کہ دل کابولنا عشق کی وہ منزل ہے جہاں سے اللہ والوں کی شروعات ہوتی ہے۔ ؎

درجاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو
زندگی آکے جنازے پر تماشائی ہو

دراصل اس طرح کے تخلیقی عمل کاتعلق منطق سے پرے رگ جاں کی قربت سے ہوتاہے جو حقیقی آئینہ ہوتاہے جس میں فناوبقا کی صورتیں عیاں ہوتی ہیں۔ درجاناں پر فدا ہونے والے کے لئے موت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ یہاں موت میں زندگی پنہاں ہوتی ہے جسے بقا کہاجاتاہے۔ بظاہر اس کی شکل فناجیسی ہوتی ہے لیکن پس فنا بقا ہی بقا کی صورت مضمر ہوتی ہے ۔ یہ رمز جابجا سفینہ بخشش کے اوراق پر پھیلانظر آتا ہے۔

تم سے کوہ و صحرا، تم سے یہ گلستاں
تم بقائے خلقت، یارسول اللہ

نہ فیض ِراہِ محبت میں تو نے کچھ پایا
کناراکیوں نہیں کرتاتو اہلِ دنیا سے

یہ کیفیت آگے چل کر کیفیت تجسس کہلاتی ہے اورتجسس کامزہ شدت کیفیت میں ظاہر ہوتاہے اور یہ کیفیت فقراء کی نظر میں ’’کیفیت امین‘‘ کہلاتی ہے۔ اگریہ کیفیت نہ ہو تو پھر شدت کیفیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ کیفیت شاعر کے اپنے تیور کو بھی ظاہر کرتی ہے جیسا کہ علامہ اختررضاخاں ازہری کے اشعار سے ظاہر ہے۔

ذرا اے مرکبِ عمرِ رواں چل برق کی صورت
دکھا پرواز کے جوہر مدینہ آنے والا ہے

مدینہ آگیا اب دیر کیاہے صرف اتنی سی
تو خالی کریہ دل کاگھر مدینہ آنے والا ہے

یہاں علامہ اختررضاخان صاحب نے جس طرح اپنے روحانی تیور کو بروئے کار لاکر ’’دل کاگھر‘‘ استعمال کیاہے وہ دراصل فناکی رہ گزر کی ابتدائی صداہے اور حاصل مقصد بھی یہی ۔ علامہ کی شاعری کی شناخت ہے۔ بالخصوص زبان و بیان کے معاملے میں علامہ کی یہی فکر کاخاصہ روح کی سرگوشیوں کی وہ صدا ہے جسے سن کر ذہن ودل یکساں نم دیدگی کے سرمائے سے نہ صرف آشنا ہوتے ہیں بلکہ متاثر بھی ہوتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

اے نسیم کوئے جاناں ذرا سوئے بدنصیباں
چلی آکھلی ہے تجھ پہ جوہماری بے کسی ہے

اب پس مرگ ابھرتے ہیں یہ دیرینہ نقوش
ہم فنا ہوکے بھی ہستی کانشاں دیتے ہیں

کہ ایں سجدہ ہائے بغیر محبت
نہ یابند ہرگز قبول ازالٰہی

ان تمام اشعار کے باوجود علامہ کافکری کینوس اتناوسیع اورجامع ہے کہ قاری مطالعہ کے بعد بغیر متاثر ہوئے نہیں رہ سکتا ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ فکری تکنک اتنی وسیع ہے کہ اشارے وکناے کاکینوس پیش کرتی ہے اوروہ بھی سہل ممتنع ہے ۔حسب ذیل مطلع سیدنا امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں کہاگیاہے۔ مطلع اگرچہ حضرت امام حسین ؓ کی شان میں کہاگیا ہے لیکن ایسی تمام ہستیاں جو پروردگار کی پسندیدہ ہیں۔ ان کی شان میں بھی ضم ہوسکتاہے۔ یہی Multidimensionalism کاوصف علامہ کی فکری اساس ہے

صداقت ناز کرتی ہے امانت ناز کرتی ہے
حمیت ناز کرتی ہے مروت ناز کرتی ہے

اس طرح دوسرا شعر ملاحظہ فرمائیں۔

حیات وموت وابستہ تمہارے دم سے ہیںدونوں
ہماری زندگی ہواوردشمن کی قضاتم ہو

اخیر میں حضور مجاہدملت علیہ رحمتہ کے متعلق علامہ اختررضا خاں صاحب ازہری کی منقبت کے اس شعر پر خامہ فرسائی بند کررہاہوں کہ کہیں بے ادبی نہ ہوجائے۔

ہم زیر آسماں انہیں یوں دیکھتے رہے
وہ کب کے آسماں کے پرے خلد میں گئے
٭٭٭

 

Menu
error: Content is protected !!