حضورتاج الشریعہ اور اصلاحِ امت

مولانا نصیر احمد رضوی ، ناگور ، انڈیا


عالم اسلام کے مسلمانوں کی دینی وعلمی ،فقہی واصلاحی ، تعلیمی و دینی رہنمائی اوراسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کا سہرا قریب دوصدیوں سے خانوادۂ رضویہ کے سر سجا ہوا ہے۔ حالات بدلتے رہے انقلاب برپا ہوتے گئے۔ ترقی وتنزلی اورنشیب و فراز آئے ۔ اسلام دشمن تحریکیں چلیں۔ اسلام کے نام پر باطل فرقوں نے جنم لیا۔ دین و مذہب اوراس کی تعلیمات سے دوریاں بڑھتی گئیں بدعات ومنکرات کاچلن ہوا۔ خرافات پھیلے۔ حالات ناسازگار بھی ہوئے اورسیاسی گرما گرمی بھی ہوئی مگر خانوادۂ رضویہ نے ہمیشہ اپنی علمی جاہ و جلال کے ساتھ ہر تحریک اورہر جماعت کا مقابلہ کیااوربدعات و منکرات سے معاشرے کو پاک کرنے کے لئے اپنی قلمی و لسانی قوتوں کاخوب استعمال کیا۔
اس خانوادہ کے سرخیل حضرت علامہ رضا علی اورعلامہ مفتی نقی علی خان صاحب ہیں جو زندگی بھر دین و سنیت کے فروغ میں مصروف رہے۔ ان کے بعد مجدد اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی کا دور آیا آپ نے تمام فتنوںکاسدباب کرکے احیاو تجدید دین کے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے جنہیں دیکھ کر اہل علم وفضل نے مجددین و ملت کا خطاب آپ کو عطا کیا۔ ان کے صاحبزادگان نے اپنے دور کے مسلمانان عالم اسلام کی صحیح رہنمائی فرماکران کے دین وایمان کی حفاظت فرمائی اوراب موجودہ دور میں خانوادہ رضویہ کے چشم و چراغ اورامام احمد رضا کے علوم کے وارث حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خان صاحب ازہری دام ظلہ العالی ہیں جو اپنے بزرگوں کی جانشینی کاحق اداکرتے ہوئے بڑی ذمہ داری کے ساتھ بدعات و منکرات کے خلاف علم جہاد بلند کئے ہوئے ہیں۔
حضور تاج الشریعہ کی زندگی مفتی اعظم علیہ الرحمہ کے نقوش کاعکس جمیل ہے اسی لئے آپ کی ہرہرادامیں حضور مفتی اعظم ہند کی ادائیں نمایاں طور سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ سردست آپ کے ان فتاویٰ پرروشنی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جن میں آپ نے خرافات کارد کرکے مسلمانان عالم کو اسلام کی روشنی دکھائی ہے۔
درس توحید و رسالت: اپنے ایک فتویٰ میں درس توحید کے ساتھ عقیدۂ رسالت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اس پرایمان لانے کی تعلیم دیتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
’’اللہ کی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کااقرار بھی شرط ایمان و اسلام ہے۔ لہٰذا جو محمد رسول اللہ نہ کہے وہ مومن نہ ہوگا۔ وہ شخص مذکورہ نہایت ہدایت صبری جری، بے باک اوراصل دین سے بالکل غافل ہے بلکہ اس کامنکر اوربیدین کافر ہے توبہ تجدید ایمان لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ پڑھ کرکرے ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑدے اوراسے ہرگز کوئی مدد نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ علم(ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف بابت فروری مارچ ۲۰۰۱)
کعبہ کو سجدہ:
اہل سنت وجماعت کاعقیدہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کوسجدہ کرناجائز نہیں اس سلسلے میں محدث بریلوی نے ایک تحقیقی رسالہ تحریر فرمایا جس کانام ’’الزبدۃ الزکیۃ لتحریم السجدۃو دالتحیۃ ہے میں غیراللہ کے لئے سجدہ ٔ عبادت کوکفر وشرک اورسجدہ تعظیمی کوحرام ثابت کیاگیا ہے۔ حضور تاج الشریعہ سے بھی ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیاگیا کہ جو کعبہ کوسجدہ کرنے کامدعی ہوتو کیاوہ ایمان پرقائم رہ سکتاہے؟ توحضور تاج الشریعہ نے فرمایا
’’کعبہ کوسجدہ کرنادواحتمال رکھتاہے۔ کعبہ کی طرف سجدہ کرنااوراس میں اصلاً کوئی حرج نہیں واقعی کعبہ مسجود الیہ ہے اورسجدہ خداکے لئے ، اوردوسرااحتمال یہ ہے کہ کعبہ کو مسجود بنانا اوریہ ناجائز ہے کہ سجدہ بہرنوع خدا کے لئے خاص ہے۔اورقائل کی تکفیر اب بھی نہ ہوگی کہ جب اس کاکلام متحمل ہے تو معنی کفری پر کلام ڈھالنا روانہیں بلکہ اس معنی پرعمل کرنا ضروری ہے جو غیر کفری ہو ہاں اگرمدعی تصریح کرے کہ میں کعبہ کومعبودجانتاہوں تو اب ضرور کافر ہے کہ کفری عنی مراد ہونے کی تصریح کرچکا‘‘۔(ماہنامہ سنی دنیا نومبر ۱۹۹۹ء)
قرآن مجید مخلوق یاغیرمخلوق:
یورپین تو قرآن اوراس کی تعلیما ت پر اعتراض کرتے ہی ہیں اورلوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے قرآن کے خلاف آئے دن پوری زور آوری کے ساتھ پروپگنڈہ کرتے رہتے ہیں مگربعض ایسے ناخواندہ افراد بھی ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اورمصلیٰ امامت پربھی کھڑے ہوجاتے ہیں مگربولی دشمنان اسلام جیسی بولتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کے بارے میں حضور تاج الشریعہ سے دریافت کیاگیا کہ جو قرآن مجید کو خاموش مخلوق کہے کیااس کی اقتدا میں نماز درست ہوسکتی ہے؟ اس کے جواب میں حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں۔
’’قرآن مجید اللہ تعالیٰ کاکلام غیرمخلوق ہے۔ اسے مخلوق بتانا اعتراض ضلال و بیدینی ہے امام پر توبہ لازم ہے۔ جب تک توبہ صحیحہ نہ کرے امام بناناگناہ ہے اوراس کی اقتداء منع ‘‘۔(ماہنامہ سنی دنیا نومبر ۲۰۰۰)
بد مذہبوں سے اتحاد ناممکن:
ایسے دنیاپرست لوگ بھی اس زمین پر زندہ ہیں جو اپن ی بساط سیاست چمکانے کے لئے سنی مسلمانوں کے عقائد سے کھلواڑ کرنے سے بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ سستی شہرت اوراپنی ووٹنگ لسٹ کوبڑھانے کے لئے صلح کلیت کاپرچار کرتے رہتے ہیں۔ بدمذہبوں کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر بیٹھ کر اتحاد کا نعرہ بڑے کروفر سے لگاتے ہیں جس سے بھولے بھالے عام سنی مسلمانوں کو سخت تردد ہوتاہے اور بیچارے کبھی کبھار ان کی پرفریب باتوں میںآجاتے ہیں ایسے ہی افراد کے بارے میں حضور تاج الشریعہ سے سوال ہوا جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ:’’یہ فعل دشمنان نبی ہے اورایسے لوگ اس فرمان نبوی کے بدرجہ اولیٰ مصداق ہوکر ھادم اسلام ہیں‘‘ (ماہنامہ سنی دنیا نومبر ۱۹۹۲ء)
اور جب یہ دریافت کیاگیا کہ اگر بدعتیوں سے سیاسی ملاپ کیاجائے تو پھر بدمذہبوں کی تردید جو حسب استطاعت فرض ہے کیوں کر اداہوگی؟ تو فرمایا
’’بے شک یہ میل ملاپ فر ض کی ادائیگی میں خلل انداز ہے اوراتحاد بنانا حکم خداورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مخالفت بلکہ مشیت الہٰی کی مخالفت۔ اور مشیت الٰہی کاخلاف ناممکن ہے۔(ایضاً -۱۳)
بدمذہب کی اقتداء:
جولوگ جاہل ہیں وہ تو غلطی کرتے ہی ہیں مگرپڑھے لکھے اگرمعلومات کے باوجود غلط بات پر عمل کریں تو تعجب ہوتاہے بدمذہب سے ہمارا کیارشتہ ؟ ان سے میل جول اوران کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے تاج الشریعہ فرماتے ہیں ۔کسی بدمذہب کے پیچھے کہیں کوئی نماز پڑھنا ہرگز جائز نہیں جولوگ نجدی کی اقتداء کرتے ہیں اپنی نمازیں برباد کرتے ہیں اورہرگز کوئی سنی صحیح العقیدہ اسے نجدی جان کر اقتدا نہ کرتاہوگا۔ جو نادان اور بے خبر ہیں ان پر کیاالزام ہاں جودانستہ نجدی کی اقتداکرے وہ ضرور ملزم ہے‘‘۔ (ماہنامہ سنی دنیا نومبر ۱۹۹۹ء)
ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں !
’’دیوبندی منکر ضروریات دین ہیں شاتمان خدااور رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ان پر علماء حرمین وغیر ھمانے ایسا کافر مرتد بتایا کہ جوانہیں ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوکر مسلمان جانے بلکہ ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اوریہی حکم وہابیہ زمانہ کاہے تو ان کے پیچھے نمازمحض باطل ہے۔ بلکہ دانستہ انہیںامام بنانا کفر ہے تو ان کی اقتدا حلال جاننا بدرجہ اولیٰ کفر ہے ۔کفایہ میںہے۔’’اماالکافر فلاصلاۃ لہ فالا قتداء بہ باطل‘‘
ٹائی باندھنا:
ٹائی کی بابت حضور تاج الشریعہ دام ظلہ ، نے ایک تحقیقی رسالہ لکھا جس میں ثابت کیاگیا کہ یہ عیسائیوں کا مذہبی شعار ہے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں!
’’اہل بصیرت کو توخود ٹائی کی شکل سے اس کاحال معلوم ہوگیا مگراس کی عیسائیوںکے یہاں اتنی اہمیت ہے کہ وہ مردے کو بھی ٹائی پہناتے ہیں تو ضرور ان کایہ مذہبی شعار ہے جو مسلم کے لئے حرام ہے اورباعث عار ونار ہے مسلمانوںکو اس کی ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی ان کے اوپرلازم ہے کہ اس سے شدید احتراز کریں‘‘۔ (ٹائی کامسئلہ)
نسبندی حرام ہے:
نسبندی شرعاً حرام ہے اوریہ ایسی حرام مبین ہے کہ جس کی حرمت میں عالم تو عالم کسی جاہل غبی کو بھی ادنیٰ شک نہیں ۔ اولاً کون نہیں جانتا کہ بلاضرورت شرعیہ ننگا ہوناحرام ہے اوربے حیائی کاکام ہے اور اس امر کی قباحت نہ صرف اسلام میں بلکہ دیگرمذاہب میں بھی ثابت ومقرر ہے اس پر آدمی کادوسرے کے عضو غلیظ کوچھوناقباحت بالائے قباحت ہے ثانیا ً یہ تغیر خلق اللہ ہے اورتغیر خلق اللہ شرعاً حرام اورشیطانی کام ہے‘‘۔(ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور جون ۱۹۹۴ء)
داڑھی منڈانا :
داڑھی منڈانے کے تعلق سے فرماتے ہیں۔
داڑھی منڈانا یاحد شرع سے کم کرانا اوراس کی عادت گناہِ کبیرہ ہے بحرم علی الرجل قطع لحیۃ اور داڑھی کی حد شرع یکمشت ہوناچاہئے اس میں ہے ’’اعلان گناہ کامرتکب فاسق معلن ہے۔(سنی دنیا نومبر ۲۰۰۰)
قبر پر اذان:
آج کل بعض لو گ قبر پر اذان دینے کو ناجائز و بدعت قرار دے کر لوگوں کو سخت تردد میں مبتلا کردیتے ہیں جب کہ یہ عمل ہمیشہ مسلمانوں میں رائج رہا ہے۔ حضو ر تاج الشریعہ سے اس سلسلے میں دریافت کیاگیا تو فرمایا:
’’جائز اورمستحسن ہے اوردلائل کثیرہ سے اس کاجواز واستحباب ثابت ہے اوربعض نے اسے مسنون بھی فرمایا‘‘ ۔ (ماہنامہ سنی دنیا اپریل ۱۹۸۶ء)
اور جب یہ پوچھا گیا کہ بچے نابالغ کی قبر پر اذان دینی چاہئے یانہیں تو آپ نے فرمایا’’اذان قبر تلقین ہے۔ اوربچہ سے سوال نہ ہوگا تووہ تلقین کامحتاج نہیں مگر رحمت الہٰی کے محتاج سب ہیں۔ اوراذان مثل سائراذکار الٰہی موجب رحمت وبرکت ہے پھر قبر کاضنغطہ(بھینچنا)سب کے لئے ہے اور ذکرالٰہی ایسے میں موجب تخفیف اور وہ اذان میںحاصل ہے ۔(سنی دنیا مارچ تامئی ۱۹۹۸ء)
قبرکھولنا:</stro ng>
آج کل قبر کھولنے کی بدعت بھی عام ہوتی جارہی ہے زیادہ تر یہ بدعت بڑے بڑے شہروں میں پائی جاتی ہے ۔ اس طرح اموات المسلمین کی ایذا رسانی کی جاتی ہے۔اس کے تعلق سے حضور تاج الشریعہ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا!
’’بے وجہ شرعی میت کی قبر کھولنا حرام اوراشد حرام کبیرہ گناہ عظیم ہے۔ اورجس نے قبر کھود کر اس میں دوسرے کو دفن کیا وہ سخت گناہ گار مستوجب نار حق اللہ وحق العباد میں گرفتار ہے ان لوگوں پر توبہ لازم ہے او ر اپنی میت کو الگ قبر بناکر دفن کرے۔(سنی دنیا نومبر ۲۰۰۰)
سود لینا:
آج کل بعض مسلمان بھی سودی کاروبار میں گرفتار ہیں اور اپنا سارا کاروبار اس پر چلاتے ہیں۔ اس تعلق سے حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں:
’’سود لینا اوردینا دونوں حرام بدکام بدانجام ہیں ۔ حدیث میں ہے ’’اللہ کی لعنت ہے سود کھانے اورکھلانے والے پر‘‘۔ (سنی دنیا جنوری ۲۰۰۵ء)
شادی کاوقت:
شادی کب کرنی چاہئے؟ اس سلسلے میں آپ سے استفسار کیاگیا تو آپ نے فرمایا’’ہردن اورہرماہ میںجائز ہے کسی دن اورکسی مہینہ کی تخصیص نہیں‘‘۔ (سنی دنیا اپریل۱۹۹۳ء)
بے اصل رسم و رواج:
آج کل ہمارے معاشرے میں لوگوں نے اپنی طرف سے ایسی باتوں کو رواج دے دیا ہے جس کی اصل شریعت میں کہیں نہیں ملتی ۔ لوگ شرعی احکام پر عمل کرکے اپنی آخرت کوتونہیں سنوارتے بلکہ اتباع نفس میں معاشرے ہی کوبے اصل باتوں سے پراگندہ کرتے ہیں ۔ ایساہی ایک سوال حضرت تاج الشریعہ سے بھی کیاگیا کہ کسی کے انتقال کے بعد اس کے گھر کی کوئی چیز قابل استعمال نہیں سمجھتے بلکہ تیار شدہ کھانے کو بھی نہیں کھاتے توآپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ !
’’پانی پھینکنا ناجائز و گناہ اور وہ خیال محض بیہودہ خیال ہے جسے دور کرنا لازم‘‘ (ماہنامہ سنی دنیا فروری مارچ ۱۹۸۶ء)
اور جب دریافت کیاگیا کہ ہندہ کہتی ہے کہ حیض و نفاس کی حالت میں چالیس روز تک کھانا نہیں پکاسکتی اوراس گھر میں جس میں حائضہ ہو فاتحہ تلاوت قرآن یاکوئی دینی کتاب نہیں رکھی جاسکتی توآپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں ’’وہ غلط کہتی ہے ان میں (جوباتیں) مذکورہوئیں کوئی ممنوع وناجائز نہیں اس (ھندہ) پرتوبہ لازم ہے۔(سنی دنیا دسمبر۱۹۹۷ء)
مرد کیلئے سونے چاندی کااستعمال!
اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’سونے چاندی کی چین عورتوں کوجائز ہے مردوں کوحرام ہے اورتانبہ ، پیتل ، اسٹیل وغیرہ مرد عورت دونوں کو حرام ہے۔(سنی دنیا نومبر ۱۹۹۶ء)
مزارات پرچادر پوشی کے بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’نیاز ، فاتحہ، اوراولیاء کرام کے مزارات پر چادر ڈالنا اورکلمہ شریف کاورد مروجہ معمولات اہلسنت ہیں جن کی ممانعت پر شرع مطہرہ سے اصلاً دلیل نہیں بلکہ ان کے جواز واستحسان پر دلیل ہے اوران امور پر سنیوں پر طعن ممنوع وحرام ہے بلکہ گمراہی و بیدینی‘‘۔
(ماہنامہ سنی دنیا جون جولائی ۱۹۹۶ء)
مسلمان کی غیبت اورچغلی کھانا:
فرماتے ہیں ’’حرام بدکام بد انجام ہے۔ (سنی دنیا جنوری ۱۹۶۷ء)
آج بہت سے مسلمان تعزیہ داری کرتے ہیں ۔ حضور تاج الشریعہ مروجہ تعزیہ داری و نوحہ کوحرام قرار دیتے ہیں۔(سنی دنیا جنوری ۱۹۶۷ء)
مسجد میں اگربتی جلانے کو حضور تاج الشریعہ جائز قرار دیتے ہیں۔ (سنی دنیا جون ۱۹۹۸ء)
بعض لوگ چالیسواں وغیرہ کے کھانے فخریہ طورپر اپنی ناک مونچھ کے لئے کرتے ہیں ایسے کھانے کو حضور تاج الشریعہ ممنوع قرا ر دیتے ہیں۔ (سنی دنیا نومبر ۱۹۹۱ء)
ضرورت ہے کہ ان تعلیمات پر عمل کیاجائے اپنے عقائد واعمال کی حفاظت کی جائے اورمذہب اہلسنت سے وابستگی مضبوط رکھی جائے۔

 

Menu
error: Content is protected !!