حضورتاج الشریعہ اورردمذاہب باطلہ

مولانا اسلم  رضوی ،بھیونڈی، انڈیا


 سرزمین ہندستان پر مسلمانوں میں مختلف عقائد و نظریات کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ میری امت میں تہتر فرقے ہوںگے ایک ناجی اور۷۲ناری ان میں سے کئی فرقے برصغیر میں پائے جاتے ہیں جن میں دیوبندی، (تبلیغی جماعت)رافضی(شیعہ) وہابی (غیرمقلد) قادیانی، مودوری، (جماعت اسلامی) دیندار ، نیچری، چکڑالوی (اہل قرآن)سرفہرست ہیں۔
میں اپنے اس مضمون میں رافضی، وہابی، دیوبندی اور قادیانی کے مذاہب کے تعلق سے ان کاتعارف، ان کے باطل عقائد و نظریات جواسلامی قوانین سے متصادم ہیںان کاذکر اورہمارے ممدوح حضورتاج الشریعہ علامہ مفتی محمداختررضا خاں قادری ازہری مد ظلہ العالی نے ان کے باطل عقائد کی تردید اپنے فتاویٰ اورکتابوں میں کی ہے ان کی نشاندہی کرنی ہے تاکہ اہل ذوق تاج الشریعہ کے اسلامی افکار و نظریات سے مستفیض ہوسکے۔

رافضی جماعت:

سیدنا عثمان غنی (رضی اللہ عنہ)کی شہادت کے بعد سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلامی تخت و تاج پرمتمکن ہوئے ۔ کوفہ دارالسلطنت قرار پایا۔حضرت عائشہ صدیقہ اورحضرت امیرمعاویہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگیں ہوئیںجنہیں ہم جنگ جمل اورجنگ صفین کے نام سے جانتے ہیں۔مسلمانوں کے اس باہمی اختلاف سے یہودیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اورعبداللہ بن سبا کواسلامی لبادہ پہناکرکوفہ بھیجا اورمحبت علی (رضی اللہ عنہ) میںلوگوںکواکٹھا کرناشروع کیا اورخلفاء ثلاثہ (سیدنا صدیق اکبر، سیدنا عمر فاروق اورسیدنا عثمان غنی رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی مخالفت اورانہیں طعن و تشنیع کانشانہ بناناشروع کیااوراپنے گروپ کانام ’’شیعان علی‘‘قراردیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبرملی توآپ نے اسے ملک دربدر کیااوروہ مصر میں جاکر پناہ گزیں ہوالیکن اپنی اسکیم کے تحت وہ ان حرکتوں سے باز نہیں آیااوروہاںبھی اپنامشن جاری رکھا رفتہ رفتہ ہردر زمانہ کے تحت شیعان علی ایک جدید فرقہ کی شکل میںنمودار ہوئے اوریہ اسلام کے حقیقی قانون سے ہٹ کرجدید قانون کے موجد ہوئے اوریہ پہلافرقہ مسلمانوں میں سے وجود میں آیا لیکن سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ اس نئے فرقہ اورہمارے درمیان خط امتیاز کیسے کھینچا تاکہ عوام الناس اہل حق اوراہل باطل میں تمیز کرسکے اسے وقت اہل سنت اوراہل تشیع کااستعمال معرض وجود میں آیا۔
اہل تشیع کے مبلغین محبت حضرت علی، حضرت حسن حسین اورحضرات اہل بیت اطہار کی شان و عظمت اوررفعت میںاس حد تک غلوکرتے چلے گئے کہ اصل اسلامی قوانین سے ان کے افکار ونظریات متصادم ہوںگے۔ مثلاً(۱)ائمہ اطہار اہل بیت معصوم عن الخطاء ہیں مثل انبیاء اورملائکہ کہ۔(۲) خلفاء راشدین کاذب اورظالم تھے کہ اپنی طاقت کے بل پر تخت خلافت پرمتمکن ہوئے جب کہ اصل خلافت کے حقدار حضرت علی رضی اللہ عنہ اوران کے اہل خاندان تھے (۳)ازواج مطہرات ، صحابیات اوراصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع کرنا باعث فخرسمجھتے ہیں۔ (۴) قرآن شریف کو تیس پارے کے بجائے چالیس پارے والے قراردینا اوریہ کہنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بربنائے مصلحت دس پارے کوچھپادیا ہے تاکہ امت مسلم اختلاف کاشکار نہ ہوجائے اوراسی دس پارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تصدیق میں آیات کریمہ موجود ہے۔ (۵)اللہ تبارک وتعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو وحی لے کرحضرت علی کے پاس بھیجا تھا ہم شکل ہونے کے سبب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھول کرچلے گئے (۶)اذان میںحضرت علی اورحسنین کریمین کاذکر کرنالازمی ہے جب کہ اسلامی قانون کے خلاف عمل ہے(۷) متعہ شریعت اسلامیہ میں حرام ہے اہل تشیع حلال جانتے ہی نہیں ہے بلکہ شدت سے اس کے عامل بھی ہیں۔ (۸)شہادت اہل بیت پرہرسال ماہ محرم میں نوحہ کرنا، سینہ کوبی کرنا، کالا کپڑا پہننا اورسوگ مناناباعث برکت اورتوشہ آخرت سمجھتے ہیں(۹)حالت نماز میں زمین پرسجدہ کرناناجائزسمجھتے ہیںاس لئے سجدہ لکڑی کی تختی پرکرتے ہیں۔ (۱۰)نماز میں قوانین پرائمہ اربعہ کے اصول سے ہٹ کرعمل کرتے ہیں(۱۱)ماہ صیام میں نماز تراویح کاکچھ تصور نہیں ہے۔
اہل تشیع میں بھی بعض نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر بہت سے فرقے پیداہوگئے جن میں شیعہ امامیہ، شیعہ زیدیہ، شیعہ تفضیلیہ، شیعہ حنفیہ، شیعہ غرابیہ، شیعہ اسماعیلیہ، شیعہ بوہرہ ۔ شیعہ برہانیہ کے اسماء سرفہرست ہیں۔
حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی نے اپنی کتابوں اوراپنے فتاویٰ میںشیعوں کے بعض عقائد و نظریات پرقلمی ضربیں لگائی ہیں اورعوام اہلسنت ان کی صحبت سے اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے۔

وہابی جماعت:

عرب کی سرزمین پرتر کی کی حکومت بہت ہی آن بان اورشوکت ودبدبہ کے ساتھ چل رہی تھی جس طرح مسلمانوں میں نظریاتی اختلاف پیداکرکے یہودیوں نے شیعہ جماعت کو وجود بخشا اسی طرح مسلمانوں کو تربتر کرنے اورحکومت اسلامیہ ترکیہ کو تہہ و بالاکرنے کے لئے متحدہ عیسائی حکومتوں نے برطانیہ سے ایک عظیم اسکیم کے تحت ہمنوے نامی ایک جاسوس کو بھیجا جس نے ترکی پہنچ کرعربی اورترکی زبان سیکھی اسلامی مدرسوں میں اسلامی اصول و ضوابط سیکھ کرسیدھا نجد پہنچا اورایک ایسے آدمی کامتلاشی ہوا جس کاذہن و فکر اسلاف کے عقائد و نظریات سے متصادم نظر آرہاتھااس کی ملاقات ایک قہوہ کی دکان پر محمد بن عبدالوہاب نجدی سے ہوئی اور آہستہ آہستہ باطل عقائد و نظریات پرآمادہ کرناشروع کیاایک دن وہ آیا کہ محمدبن عبدالوہاب نجدی اپنے اساتذہ، والد گرامی اوربھائیوں کے مسلک سے انحراف کرکے ایک نئے مسلک کابانی بنا اورکتاب التوحیدنامی کتاب لکھ کرعرب کی سرزمین پرایک تہلکہ برپا کردیا علامہ سبکی اورعلامہ شامی نے بھی اس فرقہ ضالہ کی شد ت سے مخالفت کی محمد بن عبدالوہاب نے جنگجو قبیلہ کے سردار محمد بن مسعودکواپنے ساتھ لیااورحجاز مقدس پرحملہ کردیا۔ ترکی حکومت نے حرمین طیبین کے تقدس کوبحال رکھتے ہوئے خونریزی سے اجتناب کرتے ہوئے حجاز مقدس کو خیرباد کہا۔ ان نجدیوں نے حجاز مقدس کے علماء ، ائمہ، فقہا، محدثین، رئوسا اور عوام پرظلم وبربریت کے پہاڑ توڑااور مسجد الحرام اورمسجد نبوی کی بے حرمتی کی گئی بالآخر ۱۹۲۴ء میں حجاز مقدس پرنجدیوں کی حکومت کا پرچم لہرانے لگاجنت المعلیٰ اورجنت البقیع میںازواج مطہرات، انباء النبی، منات النبی اور اصحاب النبی کے مزارات کے قبوں اورگنبدوں کو شہید کردیاگیاعام قبروں کی مثل مزارات کی شہادت کردی گئی عالم اسلام نجدیوں کی ان رذیل حرکتوں سے چیخ پڑا۔
ان وہابیوں نے اپنے جدید مسلک کے لئے کچھ ایسے عقائد جنم دئیے جن سے اسلامی قوانین کے متصادم نظر آنے لگے وہ یہ ہیں(۱)رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم غیب داں نبی نہیںہیں (۲)رسول پاک کے بارے میں حاضر و ناظر کا عقیدہ کفر ہے (۳)رسول پاک کے مثل پیداہونا ممکن ہے(۴)جشن عید میلاد النبی، عرس، اسلامی جلسہ، جلوس کرنا اورصلاۃ وسلام پڑھنا جائز وحرام ہے(۵)رسول پاک کے روضۂ اطہر پر نیت کرکے جانا شرک ہے (۶)یارسول اللہ، یاعلی ، یاحسین ، یاغوث یاخواجہ کہنا شرکیہ عمل ہے(۷)تقلید ائمہ اربعہ شرک ہے(۸)اللہ کے علاوہ کسی کوعطائی مالک ومختار کہنا شرک ہے (۹)مسجد حرام ، مسجد نبوی اوربیت المقدس کے علاوہ کسی اورجگہ کی نیت کرکے سفرکرناناجائز ہے(۱۰) ایک ہی مجلس میںتین طلاق ایک ہی طلاق ہے(۱۱)قرآن وحدیث کے علاوہ اقوال ائمہ وفقہا و محدثین غیرمعتبر ہے۔
اس جماعت کے بطن سے بھی بعض فروعی عقائد کے سبب کئی فرقے وجود میں آئے ان میں دیوبندی، مودودی، نیچری، چکڑالوی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ ہندستان میں وہابی نظریات کے بانی سید احمد رائے بریلوی، اسماعیل دہلوی،نواب صدیق حسن بھوپالی، نذیر حسین دہلوی، ثناء اللہ امرتسری ہوئے اوران لوگوں نے حضور تاج الشریعہ نے ان کے باطل عقائد و نظریات کابھرپور تعاقب کیا ردبلیغ فرمایا ہے ۔
حضور تاج الشریعہ نے مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویۃ الایمان میں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفعت کی توہین کی ہے آپ نے اپنی کتاب دفاع کنزلایمان میںاس کے خلاف سخت نوٹس لی ہے ص ۴۹ پرتحریر فرماتے ہیں۔
تمہارے امام الطائفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف صاف بھائی کہا ہے اورجگہ جگہ محبوبان خداکو تمام انسانوں کے ساتھ عجز ونادانی میں شریک بتاکر اپناجیسا بشر قرار دیا ہے۔
تقویۃ الایمان میں کہا:
’’ان کو اللہ نے بڑائی دی وہ بڑے بھائی ہوئے ہم چھوٹے‘‘ ص -۸۱’’سو بڑے بھائی کی تعظیم کیجئے‘‘ ص -۸۰
نیز کہا:’’جو بشر کی سی تعریف ہے سووہی کرواس میں بھی اختصار ہی کرو‘‘ ۔ ص-۸۵
نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرقوم کے چودھری اورگائوں کے زمیندار سے تشبیہ دی اس کی یہ عبارت ہے۔
’’جیسا ہر قوم کاچودھری اورگائوں کازمیندار اسی طرح سے ہمارے پیغمبر سارے جہاں کے سردار ہیں‘‘۔ ص-۸۵، ۸۶
نیزاسی تقویۃ الایمان میں ہے:
ان باتوں میں سب بندے بڑے ہوں یاچھوٹے یکساں بے خبر ہیںاورنادان‘‘ نیز سب انبیاء کے لئے لکھ مارا:
’’سب انبیاء اس کے روبرو ذرہ ناچیز سے کمترہیں‘‘
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ… حالانکہ آیۃ کریمہ میں حضور سے فرمایاگیا کہ آپ تواضعاً فرمادو کہ میں تم جیساہوں نہ کہ ہمیں حکم ہواکہ ہم کہیںکہ حضور ہم جیسے بشر ہیںاور ہمیں یہ کیسے رواہوسکتاہے کہ ہم یہ کہیں جب کہ اللہ عزوجل حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات کے بارے میں فرماتاہے یانساء النبی لستن کأ حد من النساء-اے نبی کی بیبیوں تم عورتوں میں کسی طرح کی نہیں ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے فرماتے ہیں کہ تم میں کون مج ھ جیسا ہے ’’لست کاحم منکم میں تم میں کسی طرح نہیں (دفاع کنزالایمان اول ص ۴۹تا۵۱)
نوٹ:- تفصیل کے لئے ’’دفاع کنزالایمان‘‘ مکمل مطالعہ کریں۔

دیوبندی جماعت:

انگریزی دور حکومت میں اسماعیل دہلوی حجاز مقدس سے واپسی پر کتاب التوحید مصنفہ، محمد بن عبدالوہاب نامی کتاب لے کرآیااسی نظریات کو سامنے رکھ کر تقویۃ الایمان کتاب تریب پائی۔ جس نے پورے ہندستان کے مذہبی حلقوں میں ہنگامہ پیداکردیااوراپنے اباء واجداد شاہ عبدالرحیم دہلوی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اورشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے افکارو نظریات پرکفر و شرک کے فتاویٰ صادر کرنے لگا ۔ اس سیلاب پربندھ باندھنے کے لئے علامہ فضل حق خیرآبادی ، علامہ فضل رسول بدایونی ، مفتی صدرالدین آزردہ ، مفتی منورالدین دہلوی نے اسماعیل دہلوی سے جامع مسجد دہلی میں تاریخ ساز مناظرہ کیااور مولوی اسماعیل کوشکست کاسامنا کرناپڑا۔ اس نے عدم تقلید کابیڑا اٹھایا اس کے عقائد و نظریات سے متاثر ہوکر مولاناعبدالحئی اورمولانا اسحاق اس کی ٹولی میں آگئے مولانا عبدالحئی عدم تقلید کے ساتھ اس کے غیراسلامی عقائد کے پرچارک بنے اورمولانا اسحاق تقلید پرعمل پیراہوتے ہوئے اس کے باطل نظریات کے خوگر بن گئے ۔
مولانااسحاق کے شاگرد مولانا عبدالرشید گنگوہی اور مولاناقاسم نانوتوی نے مولانا اسحاق کے عقائد ونظریات کو ہندستان میں پھیلا اوردارالعلوم دیوبند (بانی حاجی عابد حسین چشتی)پرناجائز قبضہ کرکے اپنے مشن کو ترقی دیناشروع کیااسی سبب یہ اپنے خالص عقائد ونظریات پرعامل ہونے کے سبب دیوبندی جماعت کے نام سے ایک جدید فرقہ کی شکل میں یہ جماعت معرض وجود میں آئی جس کے سرخیل مولوی رشیداحمد گنگوہی، مولوی قاسم نانوتوی ،مولوی خلیل احمد اینٹھوی، مولوی اشرف علی تھانوی، مولوی عبدالقادر رائے پوری، مولوی منظور نعمانی وغیرہ مشہور ہوئے۔
ان باطل عقائد و نظریات حسب ذیل ہیں۔
علماء دیوبند چونکہ عقائد کے پیروکار ہیں لیکن بعض وہابی عقائدکوتشدد پر محمول کرتے ہیں اس بعض نظریات اختلاف کی بنیاد پر ان کے الگ ہوگئے۔
دیوبندی جماعت کے عقائد و نظریات حسب ذیل ہیں
(۱)شب معراج کے موقع پر عبادات اورروزے کی کوئی حقیقت نہیں (۲)مزارات پرجانا، پھول چڑھانا، چادر چڑھانا بدعت ہے (۳)رسول پاک کاعلم شیطان کے علم کی طرح ہے (۴)حمل میں امتی رسول پاک سے بڑھ سکتاہے (۵)نبی آخرالزماں کے بعد نبی پیداہوسکتاہے (۶)خداجھوٹ بول سکتاہے (۷) رسول پاک کو پیٹ کے پیچھے کی خبر نہیں (۸) میدان کربلا میں رسول پاک جب نواسوں کونہیں بچا سکے تو قیامت کے امت کو کیابچاسکے گا۔ (۹) مدد کے لئے بزرگوں کو پکارنا شرک ہے (۱۰) اجمیر، بہرائچ اورکلیر جاکر بزرگوں سے مانگنا یہ شرک ہے(۱۱)نبی، غوث، قطب اورولی کو دور سے پکارنا شرک جلی ہے (۱۲)نماز میں رسول پاک کاخیال آنا نماز کوباطل کردیتاہے لیکن گدھے اورخچر کے خیال آنے سے نماز باطل نہیں ہوتی ہے۔ (۱۳) سلام و قیام کی کوئی حقیقت نہیں ۔
حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی نے ان باطل عقائد ونظریات کاشدت سے بائیکاٹ کیاہے اوراپنی تحریروں سے دندان شکن جواب دیا۔
قاسم نانوتوی ’’تحذیرالناس‘‘ میں رقم طراز ہیں
’’معجزہ خاص جوہر نبی کو مثل پروانہ تقرری بطور سند نبوت ملتاہے اوربنظر ضرورت ہروقت قبضہ میں رہتاہے‘‘۔
مثل عنایات خاصہ گہ و بیگاہ کا قبضہ نہیں ہوتا۔ پتہ لیجئے آپ تو فرماتے ہیںکہ معجزہ کسی پیغمبر کااپنا فعل نہیں ہوتامعجزہ اللہ کافعل ہوتاہے اورآپ کے قاسم العلوم والخیرات معجزہ کی نسبت یہ لکھ رہے ہیں کہ وہ بنظر ضرورت ہروقت قبضہ میں رہتاہے ، تو آپ کے طورپرقاسم نانوتوی نے اللہ کے فعل کو نبی کے قبضہ میں بتایا۔ کہئے حالاچہ می گویند علمائے ملت دیوبند۔ اس لئے معجزہ کی وجہ سے کسی پیغمبرمیں خدائی صفت ماننا صحیح نہیں ہوسکتا‘‘۔علم عطائی کو خدائی صفت پاگل ہی کہے گا پھر فرماتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے بطور معجزہ مردوں کو زندہ کردیاکرتے تھے ۔ اس کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام محی الموتیٰ یعنی مردوں کو زندہ کرنے والا نہیں کہیں گے‘‘
جی نہ کہنے کی کیادلیل!آپ نے ابھی خود کہاکہ ’’مردوں کو زندہ کردیاکرتے تھے ‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف احیاء (زندہ کرنے والا) کی طرف نسبت کی جب میداء اشتقاق ثابت تو اس مشتق کے اطلاق سے کون سی چیز مانع ہوگئی۔ اب اگرعرف میں اس اسم کے خاص بذات باری ہونے کا دعویٰ کیجئے تو اولاً اس میں نظر کروکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء میں محی وارد ہواہے ، کمافی دلائل الخیرات و شرحہ مطالع المسرات للقاضی عیاض اوراگر خصوصیت سے مان لی جائے تو حاصل یہی ہوگا کہ محی الموتیٰ کااطلاق خداکے غیرکے لئے نہ کیاجائے نہ یہ حکم احیاء ابعطائے الٰہی کس کے لئے ثابت نہ ہوآخر خود آپ بھی تو کہہ رہے ہیں اللہ کے حکم سے بطور معجزہ مردوں کو زندہ کیاکرتے تھے پھر یہ کیسی جہالت بے خرد کہ نفی اطلاق کو نفی حکم کی دلیل بناناچاہتے ہیں۔ لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم۔ (دفاع کنزالایمان ص ۸۵/۸۶)

قادیانی جماعت:

ہندستان میںایسٹ انڈیا کمپنی اپنے قدم مضبوط کرنے کے بعد متحدہ ہندستان پرحکومت کرنے کی خواب دیکھنے لگی اس کے لئے ایک اسکیم تیار کی گئی پھوٹ ڈالو اورحکومت کروہندوئوں میں سے آریہ سماج پیداکیا اورمسلمانوں میںسے قادیانی ، وہابی اوردیوبندی پیداکئے گئے اوراپنا آلہ کار بناکر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیاگیا۔ پنجاب کی سرزمین سے قادیان کے علاقہ سے ایک نیم مولوی ، مرزا غلام احمدقادیانی کوانگریزوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرناشروع کیا اوراسلامی عقائد ونظریات سے ہٹ کر ایک جدید مذہب کابانی بنادیا اوریہ بذات خودمولوی قاسم نانوتوی کے نظریہ سے اتناکہ متاثر ہوا کہ قاسم نانوتوی نے نبی آخرالزماں کے بعدنبی پیداہوسکتا کاعقیدہ دیا اورخود اپنی نبوت کااعلان کربیٹھا علماء کرام نے شدت کے ساتھ مخالفت حضور اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام، پیرمہرعلی شاہ،علامہ عبدالعلیم میرٹھی، حضور صدرالافاضل حضورمفتی اعظم ہند نے اس جدید مذہب اورنئے عقائد کی بیخ کنی میں درجنوں کتابیں معرض وجود میں آگئیں، علماء اہلسنت پاکستان نے شدت سے مخالفت کرکے غیرمسلم قراردیاچونکہ انگریزوں کے اشارے پریہ جماعت وجود میں آئی اس لئے ان کا ہیڈ کوارٹر لندن بنانا آج پوری دنیاکے قادیانیوںکامرکز لندن بناہواہے انگریزوں کے اشارے پرقوانین بنائے جاتے ہیں اورمسلمانوں کے صحیح عقائد و نظریات کے خلاف پروپگنڈہ ہوتے رہتاہے۔

 

Menu
error: Content is protected !!